اردو بلاگز، بلاگ ایگریگیٹر

Jul 16th, 2010 | مرسل منظر نامہ

اردو بلاگستان کی ترویج میں بلاگ ایگریگیٹرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انگریزی اور دوسری زبانوں کے لیے ٹیکنوراٹی اور اور بلاگ کیٹلاگ جیسے بڑے ایگریگیٹر دستیاب ہیں وہاں اردو بلاگستان کی ترویج کے لیے بلاگ ایگریگیٹر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ماورائی فیڈر اور اردو سیارہ جیسے بلاگ ایگریگیٹر بھی موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی چند ایک نئے بلاگ ایگریگیٹر کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی تھی کہ پہلے سے موجود بلاگ ایگریگیٹر کی اپنی ایک خاص پالیسی ہے۔ کوئی بلاگر کوئی پالیسی پسند کرتا ہے تو کوئی کچھ اور اس لئے اگر اس میدان میں مزید بلاگ ایگریگیٹر شامل ہو جائیں تو جس کو جس بلاگ ایگریگیٹر کی پالیسی پسند ہو وہ اپنی پسند کا بلاگ ایگریگیٹر استعمال کرے اور اردو بلاگستان کی رونق برقرار رہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اردو بلاگز ایگریگیٹر کی تشکیل کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

میرے اور آپ کے بیچ ہم آہنگی کی ضرورت

May 22nd, 2010 | مرسل منظر نامہ

میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا ہے، چاہے مجھے اور آپ کو محسوس ہو یا نہیں، چاہے میں اور آپ چاہیں یا نہیں۔

ذرا ٹھہریں، انٹرنیٹ کی دنیا سے ہٹ کر اپنے اردگرد کی دنیا کا جائزہ لیں۔ آپ کے آس پاس لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو آپ سے مماثلت رکھتے ہوں گے، کچھ بہت زیادہ اور کچھ بے حد معمولی سی۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کی شخصیت کے بالکل برعکس ہوں گے۔ اور کیوں نہ ہوں کہ ہر ایک کی شخصیت، ہر ایک کا خاندان، ہر ایک کا گھریلو ماحول، ہر ایک کا پس منظر، سبھی کچھ مختلف ہے۔ تو کیا آپ اپنے مخالفوں کو جینے کا بھی حق نہیں دیتے؟ کیا اُن کی جائز بات بھی نہیں سنتے؟ کیا ہر وقت اُن سے جھگڑتے رہتے ہیں؟

اچھا، یہ تو ابھی کی بات ہے جب آپ گھر سے باہر کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور جہاں مختلف پس منظر کے حامل لوگوں سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔ ذرا ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں جب آپ کی زندگی کا دائرہ صرف گھر اور خاندان والوں کے گرد گھومتا تھا۔ مشترکہ روایات، مشترکہ پس منظر، مشترکہ ماحول، لیکن کیا اس کے باوجود کہیں آپ کا اپنے خاندان یا اپنے ہی گھر میں کسی بات پر اختلاف نہیں ہوا؟ کسی نکتے پر عدم اتفاق نہیں پایا گیا؟ تو کیا آپ نے قطع تعلق کرلیا؟ ناطے توڑ لیے؟ یقیناً نہیں۔

ہم جس ماحول میں بھی رہیں، جیسے حالات میں بھی گزر بسر کریں، بحیثیت انسان ہم میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو سمجھ سکتے ہیں، بدلتے ماحول میں خود کو ڈھال سکتے ہیں، مختلف الخیال لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔ اور جس طرح یہ اصول آپ کی حقیقی زندگی پر منطبق ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت اور ضرورت ہے۔

منظرنامہ کی جانب سے ایک سلسلہ ’’نقطۂ نظر‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت کسی ایک موضوع پر بلاگرز اظہارِ خیال کرتے تھے۔ یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے بیچ ہم آہنگی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور اس کو کتنا اہم سمجھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کیا ہم آہنگی کسی قدر پائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ ہمیں کہاں اور کیا تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس پر آپ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔

تحریر کی اشاعت کا طریقہ:
فی الحال منظرنامہ پر مصنفین کو رجسٹر نہیں کیا جارہا لہٰذا آپ اس موضوع پر اپنی تحریر اپنے ہی بلاگ پر شائع کریں۔ آپ کے بلاگ پر پوسٹ ایڈیٹر کے نیچے ایک ٹیکسٹ فیلڈ Send Trackbacks کے نام سے ہوگی، وہاں آپ منظرنامہ کی اس تحریر کا ربط ڈال دیں گے تاکہ اس موضوع پر آنے والی تمام تحاریر کا ربط اس تحریر کے تبصروں میں ظاہر ہوتا رہے اور قاری اس سلسلے کی ہر کڑی سے باخبر رہے۔ شکریہ۔

ازراہِ کرم ذاتیات سے گریز کریں۔

اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

May 3rd, 2010 | مرسل منظر نامہ

تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔
الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی، اس مہینے اختلافات اور احتجاج (جمع احتجاجات؟) کے باوجود پاکستان کے صوبۂ سرحد کا نام بدل کر صوبۂ خیبر پختونخواہ رکھ دیا گیا اور اسی مہینے ایک سنسنی خیز داستان کا انجام شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی میں صورت میں ہوا۔ تاہم اس مہینے اردو بلاگنگ کے دائرے میں کیا ہلچل رہی، اس کا کچھ ذکر ہے فی الوقت ہمارا موضوعِ سخن۔
مزید پڑھیں۔۔۔

خرم ابنِ شبیر سے شناسائی

Apr 21st, 2010 | مرسل منظر نامہ

منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔
سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے گا اور خاص طور مُسدّسِ حالی جیسے کام سے تو یقینا واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے بلاگ سےصاف اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اردو نثر سے بھی خاص لگاؤ ہے اور اساتذہ کا احترام آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں تو آپ ایک دو بار اپنا نام تبدیل کر چکے ہیں جیسے خرم شہزاد خرم سے اب خرم ابن شبیر بن چکے ہیں۔لیکن بلاگ کا عنوان تبدیل کرنے میں شاید کچھ زیادہ ہی جلدی دیکھاتے ہیں۔ کئی تبدیلیوں کے بعد آج کل ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان اپنائے ہوئے ہیں۔ آپ نئےبلاگر ہیں نہ بہت پرانے۔ تقریبا تین چار سال سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔ اردو بلاگنگ ویب سائیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے آپ کے پرانے بلاگز سے شروع کی تحاریر کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ آج کل آپ نے اپنی ذاتی ڈومین پر بلاگ بنا رکھا ہے۔ ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کے پرچم تلے آج کل آپ کے ہی بلاگ پر شاہدہ اکرام اور محمد رضوان بھی آپ کے ساتھ مل کر لکھ رہے ہیں۔
یہ تو تھا خرم ابن شبیر کا ایک مختصر تعارف اب مزید جاننے کے لئے ان سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔۔۔

مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

Apr 11th, 2010 | مرسل منظر نامہ

nاپریل 2008ء میں جب منظرنامہ کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (عمار اور ماوراء کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے انٹرویوز لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو مشترکہ موضوعات دیے جائیں گے۔ بعد ازاں ایک اور سلسلے کا اضافہ ہوا جس کے تحت پہلے ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے منتخب بلاگز پر تبصرے شائع کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ توقع سے زیادہ پسند کیا گیا لیکن ہم دونوں میزبانوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اسے قارئین کے اصرار اور ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری نہ رکھا جاسکا۔

تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے بھلادیا ہے۔۔۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ منظرنامہ کو بیدار رکھا جائے۔ مزید باتوں میں الجھے بغیر آئیے ماہِ مارچ 2010ء کے اردو بلاگز میں سے کچھ منتخب تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں۔

کیوں نہ جعفر سے شروع کریں۔ یہ اُن اردو بلاگرز میں سے ہیں جو باقاعدگی سے بلاگ کرتے ہیں اور ان کی تحاریر پسند کی جاتی ہیں، اُن پر ہونے والے تبصروں کا تو پوچھئے ہی نہیں۔ جعفر کی ایک تحریر ’’میرا پسندیدہ شاعر‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ علامہ اقبال کی ہمہ جہتی شاعری کی منفرد خصوصیت اجاگر کرتے ہوئے جعفر رقم طراز ہیں:

۔۔۔علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے “اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو” گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے “نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر” کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے “ذرا نم ہو تویہ مٹی” کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے “بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے” کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے “سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ” گاتے رہے۔ فوج والے “شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن” کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔۔۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

محبت کا کھوتا جعفر ۔۔۔ مطلب جعفر کی لکھی تحریر ’’محبت کا کھوتا‘‘ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کے طرزِ نگارش کی خوب صورت اور پُرمزاح نقل ہے۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ

اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی، چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور آنکھوں کے گوشے انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے یوں گویا ہوا: اس محبت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سکول میں پڑھتا تھا تو ہمسایوں کی لڑکی سے محبت ہوئی۔ پر وہ کٹھور ہمیشہ بھائی جان ہی کہتی رہی۔ کالج گیا تو شاعری کا شوق ہوگیا۔ فراز سے فیض تک سب کو گھول کے پی لیا۔ لیکن محبت ہونی تھی نہ ہوئی۔ جس لڑکی کی طرف بھی محبت کی نظر ڈالی، اس نے یا تو دھتکار دیا یا پھر ’’بھائی جان‘‘ کہہ کے کاری وار کیا۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

اردو بلاگستان کے منظرنامے کا ذکر ہو اور ڈفرستان کی ڈفریاں رہ جائیں، ایسا کیسے ممکن ہے۔ ’’ڈیل کرلیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں پردیس میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمان افروز گفتگو کا دلچسپ ذکر کرنے کے بعد فکر انگیز اختتام یوں ہوتا ہے کہ

محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں۔“

(مکمل تحریر پڑھیں)

ابوشامل اردو بلاگنگ میں ایک سنجیدہ اور علمی لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخ کے موضوعات پر اکثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی ایک شخصیت ابنِ فرناس ثانی کے حوالے سے اپنی تحقیقی تحریر میں بیان کرتے ہیں کہ

مسلم تاریخ کے روشن ابواب میں سے ایک عباس ابن فرناس بھی ہے جو اندلس کی اُن سینکڑوں نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھا جنہوں نے ’’دورِ ظلمت‘‘ (Dark Age) میں یورپ میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایسے محیر العقول کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے ان کا نام آج بھی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

اس کے علاوہ ہندوستان کی ایک معروف تجارتی کمپنی کی چائے کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام میں فکر و شعور بیدار کرنے کی کوشش پر بھی ایک تحریر میں ابوشامل نے اُن تمام اشتہارات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو: اُٹھو نہیں، جاگو!

کزن میرج ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں ایک خاص سوچ گھر کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بدتمیز کی تحریر ’’ابنِ صفی کے دیوانے‘‘ میں برسبیلِ تذکرہ ایک بات یوں آگئی کہ

امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔ کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔

اس پر افتخار جمل بھوپال کی دو تحاریر ’’کزن میرج‘‘ اور ’’کزن میرج۔ایک ڈاکٹر کا تبصرہ‘‘ معلوماتی ثابت ہوسکتی ہیں۔

گذشتہ عرصے میں امریکہ اور چند دیگر یورپی ممالک میں حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اسکریننگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے بے شمار خدشات کا اظہار کیا گیا اور یہ نظام اعتراض کا نشانہ بنا۔ سینئر بلاگرز میں سے ایک، شعیب صفدر ایڈووکیٹ نے اپنی تحریر ’’تحفظ و برہنگی‘‘ میں اس موضوع پر کچھ گفتگو کی ہے۔ روابط سے مزین ہونے کے باعث یہ تحریر خاصی معلوماتی ہے۔ لکھتے ہیں:

دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں!

(مکمل تحریر پڑھیں)

اب اپنا رُخ کرتے ہیں شعر و سخن کی طرف۔ محمد وارث اپنے بلاگ کے ذریعے سخن شناسوں کی تشنگی بجھانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ دیگر شاعرانہ کلام کے ساتھ ساتھ ممتاز شاعر جگر مراد آبادی کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ پیش کی۔ رقم طراز ہیں:

جگر مُرادآبادی کا شمار غزل کے آئمہ میں سے ہوتا ہے، فقر و فاقہ و مستی میں زندگی بسر کی اور یہی کچھ شاعری میں بھی ہے۔ کسی زمانے میں ان کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا اور ہر طرف جگر کی غزل کی دھوم تھی۔ انکے کلیات میں انکا کچھ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ انکے مجموعے ’’شعلۂ طور‘‘ سے ایک فارسی غزل کے کچھ اشعار ترجمے کے ساتھ “’’تبرک‘‘ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر جب سے سننے میں آئی ہے، ہر محفل میں یہ موضوع ضرور زیرِ بحث آتا ہے۔ بلاگرز نے بھی اس پر دلچسپ تحاریر کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا۔ مختصراً اس پر بھی ایک نظر:
جعفر: ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال)
شعیب صفدر: بڑا کھلاڑی کون؟
عنیقہ ناز: واہ شعیب ملک، آہ ثانیہ مرزا

گذشتہ کچھ عرصے میں اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ نئے آنے والے بلاگز میں سے ایک ’’پھپھے کٹنی‘‘ کافی منفرد رہا اور اردو بلاگنگ میں پہلی بار ان موضوعات پر کھل کر لکھا گیا جن سے اب تک چند وجوہات کی بِنا پر گریز کیا جاتا رہا۔

فی الوقت اس مختصر جائزے کے ساتھ اجازت۔ امید ہے کہ اگلی بار کچھ تفصیل سے لکھا جاسکے گا ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

ٹیگ:

ہفتہ بلاگستان ایوارڈز نتائج

Mar 10th, 2010 | مرسل شگفتہ

السلام علیکم

ہفتہ بلاگستان ای بک کے بعد ہفتہ بلاگستان ایوارڈز نتائج ۔ اللہ تعالی کی مدد سے ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے سلسلہ کو شکل دینا ممکن ہو سکا ۔ اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں ووٹنگ کے نتائج دلچسپ رہے اور دو عنوانات “بچپن” اور “مزاح” پر ٹائی آ جانے کی وجہ سے ٹائی بریک مرحلہ کے لیے ووٹنگ ہوئی ۔
ہفتہ بلاگستان ایوارڈز ووٹنگ کے مراحل میں آپ سب کا تعاون حاصل رہا علاوہ ازیں ووٹنگ کے دو مراحل کی انجام دہی میں بالترتیب ماوراء اور سعود ابن سعید کی محنت پس پردہ موجود ہے ، ہفتہ بلاگستان ایوارڈز گرافکس فہیم اسلم نے ڈیزائن کیے ہیں اور ایوارڈز گرافکس کی تیاری میں سعود ابن سعید کا اہم تعاون حاصل رہا۔ ہفتہ بلاگستان ایوارڈز پہلے مرحلہ کے اور ٹائی بریک مرحلہ کے نتائج بالترتیب اس طرح رہے .

پہلا مرحلہ :
پہلے مرحلہ میں رزلٹ اسکرین شاٹ

اردو بلاگنگ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : ڈفر اعظم کے بائیس نکات ( ۴ ووٹ)

باورچی خانہ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : یوم باورچی خانہ ( ۵ ووٹ)

بچپن : (کل ووٹ : ۲۳)
ٹائی تحریر : ایک دلدوز واقعہ از جعفر ( ۳ ووٹ)
ٹائی تحریر : بچپن ہی پچپن از عمر احمد بنگش ( ۳ ووٹ)

تعلیم : (کل ووٹ : ۲۳) منتخب تحریر : تعلیمی نظام اور شگفتہ ( ۵ ووٹ)

ٹیگ : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : ٹیگو ٹیگ از جعفر ( ۵ ووٹ)

ٹیکنالوجی : (کل ووٹ : ۲۰) منتخب تحریر : سائبر احتیاط از راشد کامران ( ۱۰ ووٹ)

فوٹو گرافی : (کل ووٹ : ۲۲) منتخب تحریر : فوٹو گرافی از ماوراء ( ۵ ووٹ)

مزاح : (کل ووٹ : ۲۳)
ٹائی تحریر : کھلا خط بنام سہراب مرزا از جعفر ( ۴ ووٹ)

ٹائی تحریر : انا للہ و انا الیہ راجعون از سیدہ شگفتہ ( ۴ ووٹ)

ٹائی تحریر : اچانک بوڑھا از راشد کامران ( ۴ ووٹ)

ٹائی تحریر : لیلی کی ٹویٹ اور مجنوں کا بلاگ از راشد کامران ( ۴ ووٹ)

ٹائی بریک مرحلہ :

ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے ٹائی بریک مرحلہ کے لیے ریٹنگ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا اس مرحلہ میں کل انتیس افراد نے ووٹ کاسٹ کیے اور نتائج درج ذیل رہے ۔

نتائج

بچپن :
منتخب تحریر : بچپن ہی پچپن از عمر احمد بنگش ( ۹۵ ستارے)

مزاح :
منتخب تحریر : انا للہ و انا الیہ راجعون از سیدہ شگفتہ ( ۹۲ ستارے)

ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے سلسلہ کا یہ آغاز تھا ، اس سلسلے میں آپ سب کا تعاون حاصل ہوا اس کے لیے آپ سب کا بہت شکریہ امید ہے کہ آئندہ اس سلسلہ کو بہتر بنانے میں آپ سب کا تعاون حاصل رہے گا. منظرنامہ ٹیم کی جانب سے آپ تمام ایوارڈز یافتگان کو آپ کی تحاریر منتخب کیے جانے پر بہت بہت مبارک ہو۔

اپڈیٹ: تمام ایوارڈز گرافکس دوسرے سرور پر اپلوڈ کردی گئی ہیں۔ ایوارڈ یافتگان یہ گرافکس اپنے بلاگ پر ظاہر کرسکتے ہیں۔

ٹیگ:

ہفتہ بلاگستان ای بک : اجراء

Feb 16th, 2010 | مرسل شگفتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

“خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اچھا لگتا ہے جب اس خواب کو تعبیر کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ تعبیر حاصل ہو جائے ، ہفتہ بلاگستان بھی ایک ایسا ہی خواب تھا جس کی تعبیر اس وقت اس ای بک کی صورت ہمارے سامنے ہے ۔ مجھے یہ ای بک پیش کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے ، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ہفتہ بلاگستان کے کامیاب انعقاد میں تمام اہم بلاگرز کے حصہ لیا اور بہت سے نام اس کامیابی میں شامل رہے ۔ ہفتہ بلاگستان کی تجویز پیش کرنے کے بعد ہفتہ بلاگستان کے انعقاد کےحوالے سے آرا و گفتگو سے لے کر اس ای بک کی تیاری اور پیش کرنے کے مرحلہ تک بہت سے ناموں کی رہنمائی اور مدد شامل رہی ، میں آپ سب کا فردا فردا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ”

==============================
.

السلام علیکم

اچھا جناب بالآخر اپنی ذمہ داری سے سرخرو ہونے کا لمحہ آن پہنچا ہے اور آج ہفتہ بلاگستان کی ای بک کا اجرا ہو رہا ہے ۔ درج بالا اقتباس اس “دیباچہ” سے لیا گیا ہے جو ای بک میں شامل ہے ۔ ای بک میں ان تمام تحاریر کو شامل کیا گیا ہے جو “ہفتہ بلاگستان” میں پیش کی گئیں ۔ ان تمام تحاریر کو اب آپ یکجا مطالعہ کر سکیں گے ۔ علاوہ ازیں ای بک میں کچھ نیا بھی پڑھنے کو ملے گا :

مقدمہ از زیک
دیباچہ از سیدہ شگفتہ
ایک تاثراتی تحریر “جملہ معترضہ” از نایاب
ای بک سرورق : ریحان علی
ای بک تشکیل : نایاب
ہفتہ بلاگستان ای بک خطاطی : عمار ابن ضیا کے والد محترم
واٹر مارک : حمزہ ، نایاب
گراف (ہفتہ بلاگستان میں بلاگرز کی شرکت) : نایاب
جدول (ہفتہ بلاگستان میں بلاگرز کی شرکت) : نایاب

ہفتہ بلاگستان ای بک کی تیاری میں کئی ماہ کی مسلسل محنت ، رات رات بھر جاگنا ، کئی کئی گھنٹوں پر محیط طویل ڈسکشنز ، متعدد ڈرافٹس اور فائنل ڈرافٹ کا انتظار پسِ پردہ شامل ہیں ۔ اس تمام سلسلہ میں علمی و اخلاقی لحاظ سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو موقع ملا ۔ ای بک تشکیل میں بہت سے ناموں کو متعدد و مختلف مواقع پر زحمت دینے کی ضرورت پیش آئی ۔ آپ سب کا مثبت ریسپانس تمام عرصہ میں ہمت و حوصلہ قائم رکھنے کا سبب بنا ۔ ہفتہ بلاگستان انعقاد اور ای بک تشکیل محض ایک ایونٹ ہی نہیں بلکہ ایک آغاز ہے ، اس آغاز کا پس منظر مختصر طور پر ای بک میں بھی ذکر کیا گیا ہے تاہم نکات کا احاطہ نہیں کیا گیا تاکہ آغاز کے بعد یہ سفر آگے کی جانب طے کیا جا سکے ۔ ہفتہ بلاگستان ای بک اجرا کے بعد ۔ ہفتہ بلاگستان ایوارڈز اجرا کا مرحلہ ہونا ہے اس حوالے سے جن محترم ناموں کی مدد اور رہنمائی حاصل رہی ان کا ذکر ایوارڈ اجرا کے موقع پر ۔ ایوارڈز اجرا کے بعد ایک سرپرائز مرحلہ بھی ہے اس مرحلہ کی تفصیل بعد میں ذکر کرنا ہے سرپرائز مرحلہ میں بھی کچھ محترم ناموں کی مدد اور رہنمائی حاصل رہے گی وہ نام کون سے ہوں گے ان کا ذکر بھی ابھی سرپرائز رہنے دیتے ہیں اور اس سے پہلے ایک نظر”ہفتہ بلاگستان ای بک” دیکھتے ہیں ۔

ای بک کی تشکیل کی ذمہ داری بنیادی طور پر جن دو ناموں نے اٹھائی دونوں ہی اس میدان سے متعلق نہیں ہیں لہذا ای بک میں اغلاط خارج از امکان نہیں ہیں ۔ ای بک کے حوالے سے آپ سب اپنی آرا و نظر پیش کر سکتے ہیں ، خوش آمدید ۔

اللہ تعالی کا احسان ہے کہ اس ذمہ داری کو انجام دینا ممکن ہو سکا .
آپ سب کا شکریہ

ای بک اس ربط سے ڈاؤنلوڈ کیجیے ۔
فائل سائز : KB 5882

ٹیگ:

ہفتہ بلاگستان ایوارڈز : آخری مرحلہ

Jan 25th, 2010 | مرسل شگفتہ

السلام علیکم

اچھا جناب اللہ تعالی کا شکر ہے کہ انتظار ختم ہوا اور ہفتہ بلاگستان ای بک کا فائنل ڈرافٹ تیار ہو چکا ہے ۔ منظرنامہ ایوارڈز یافتگان کو ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور ہفتہ بلاگستان ای بک کے اجرا کے موقع پر “ہفتہ بلاگستان ایوارڈز” کا مرحلہ بھی اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

“ہفتہ بلاگستان ایوارڈز” کی ووٹنگ کا اہم مرحلہ طے کیا جا چکا ہے تاہم اس مرحلہ میں نتائج کے مطابق دو کٹیگریز میں ووٹنگ ٹائی پر آ کر رکی تھی اور اب وقت ہے کہ اس ٹائی کا فیصلہ کر لیا جائے ۔ اس سلسلے میں ایک ٹائی بریکر فارم تشکیل دیا گیا ہے ۔ اس فارم میں دو کٹیگریز شامل ہیں۔ پہلی کٹیگری بعنوان “یوم بچپن” میں دو بلاگرز کی تحاریر پر ٹائی ہے جبکہ دوسری کٹیگری بعنوان “یوم مزاح” میں بلاگرز کی چار تحاریر پر ٹائی ہے ۔ آپ سب کو اس سلسلے میں دعوت ہے کہ آپ اپنے ووٹ سے ان دونوں کٹیگریز میں جداگانہ طور پر تمام تحاریر میں سے کسی ایک تحریر کو منتخب ہونے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ یہ ووٹ فارم ریٹنگ طریقہ کار پر مشتمل ہے اور آپ سب کسی بھی کٹیگری میں موجود تمام تحاریر کو ریٹ کر سکتے ہیں ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے آپ کو رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے تاہم ایمیل لکھنا ضروری ہے ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کی آخری تاریخ ماہ جنوری ۲۰۱۰ کے آخر تک ہے ۔

اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اس ربط پر کلک کیجیے ۔

آپ سب کا شکریہ

اپڈیٹ :

ووٹ کے دورانیہ کو بڑھا دیا گیا ہے .

ٹیگ:

منظرنامہ ایوارڈ 2009: نتائج اور اجراء

Jan 11th, 2010 | مرسل منظر نامہ

منظرنامہ کے قارئین کو سلام
اللہ کے فضل و کرم سے منظرنامہ ایوارڈز 2009کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس سلسلے کو ایوارڈز کے چناؤ سے لے کر نامزدگیوں اور پھر ووٹنگ تک کے مراحل سے گزارا گیا۔ تین ایوارڈز کا فیصلہ آپ سب کی مشاورت کے بعد کیا گیا اور پھر آپ سب کے تعاون سے ہی نامزدگیوں کا مرحلہ بھی بہت اچھے طریقے سے اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ اس کے بعد ووٹنگ کا مرحلہ آپ سب کے تعاون سے شروع ہوا تھا اور اب بخیروعافیت اپنے انجام تک پہنچا گیا ہے۔ منظرنامہ کو آپ سب کے تعاون کے علاوہ ایوارڈز گرافکس کی تیاری کے لئے ابو شامل صاحب اور خاور بلال صاحب کا تعاون حاصل رہا اس کے علاوہ ووٹنگ کے لئے اردو لاگ اور اردو لاگ کے ایڈمن ابن سعید صاحب کا تعاون رہا۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اس بار ووٹنگ کے لئے ریٹنگ کا طریقہ رکھا گیا تھا اس لئے جس نے سب سے زیادہ ستارے حاصل کئے ہیں وہی ایوارڈ کا حق دار ہے۔

منظرنامہ ایوارڈ 2009 کے نتائج کچھ یوں رہے

ٹوٹل 71 لوگ اردو لاگ پر رجسٹرڈ ہوئے. لیکن 60لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔

بہترین بلاگ کے لئے
ڈفر کو 195 ستارے، ابو شامل کو 178 ستارے اور راشد کامران کو 164 ستارے ملے۔
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا “بہترین بلاگ” ایوارڈ ڈفر کو جاتا ہے۔۔۔


ڈفر صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔
<a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"><img title="ManzarNamah Awards 2009 (Best Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-blog.jpg" alt="" /></a>

فعال ترین بلاگ کے لئے
افتخار اجمل کو 165 ستارے، عنیقہ ناز کو 112 ستارے اور میرا پاکستان کو 157 ستارے ملے۔
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا “فعال ترین بلاگ” ایوارڈ افتخار اجمل کو جاتا ہے۔۔۔


افتخار اجمل صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔
<a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"><img title="ManzarNamah Awards 2009 (Active Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-active-blog.jpg" alt="" /></a>

2009 کا بہترین نیا بلاگ کے لئے
خرم بشیر بھٹی کو 125 ستارے، جعفر کو 182 ستارے اور عنیقہ ناز کو 142 ستارے ملے۔
یوں منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کا بہترین نیا بلاگ” ایوارڈ جعفر کو جاتا ہے۔۔۔


جعفر صاحب ایوارڈ گرافکس کو اپنے بلاگ پر لگانے کے لئے درج ذیل کوڈ کاپی کریں۔
<a href="http://www.manzarnamah.com/2010/01/awards09-result-and-release/"><img title="ManzarNamah Awards 2009 (Best New Blog)" src="http://www.manzarnamah.com/wp-content/uploads/2010/01/manzarnamah-awards-2009-best-new-blog.jpg" alt="" /></a>

منظرنامہ ایوارڈز 2009 کے سلسلے کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے منظرنامہ ٹیم آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔
تمام ایوارڈز حاصل کرنے والوں کو منظرنامہ ٹیم کی طرف سے بہت بہت مبارک ہو۔
ہم یعنی منظرنامہ کی پوری ٹیم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی منظرنامہ کو آپ سب کا تعاون یونہی حاصل رہے گا اور آپ سب اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے کوشاں رہیں گے۔
شکریہ

سال 2010

Jan 1st, 2010 | مرسل شگفتہ

السلام علیکم

آج سے نئے عیسوی سال کا آغآز ہو رہا ہے ، تمام منظرنامہ ٹیم کی جانب سے ہم سب نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ نئے سال میں ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس قوت ، ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کر سکیں گے جس کی ہمیں کما حقہ ضرورت ہے اورنہ صرف عمومی زندگی میں بلکہ انٹرنیٹ دنیا میں بھی رواداری و ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ علمی و تحقیقی سطح پر کچھ نئے افق تلاش کر سکیں گے ۔ آئیے ہم سب مل کر نئے سال کو خوش آمدید کہیں ۔

ٹیگ: