nاپریل 2008ء میں جب منظرنامہ کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (عمار اور ماوراء کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے انٹرویوز لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو مشترکہ موضوعات دیے جائیں گے۔ بعد ازاں ایک اور سلسلے کا اضافہ ہوا جس کے تحت پہلے ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے منتخب بلاگز پر تبصرے شائع کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ توقع سے زیادہ پسند کیا گیا لیکن ہم دونوں میزبانوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اسے قارئین کے اصرار اور ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری نہ رکھا جاسکا۔
تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے بھلادیا ہے۔۔۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ منظرنامہ کو بیدار رکھا جائے۔ مزید باتوں میں الجھے بغیر آئیے ماہِ مارچ 2010ء کے اردو بلاگز میں سے کچھ منتخب تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں۔
کیوں نہ جعفر سے شروع کریں۔ یہ اُن اردو بلاگرز میں سے ہیں جو باقاعدگی سے بلاگ کرتے ہیں اور ان کی تحاریر پسند کی جاتی ہیں، اُن پر ہونے والے تبصروں کا تو پوچھئے ہی نہیں۔ جعفر کی ایک تحریر ’’میرا پسندیدہ شاعر‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ علامہ اقبال کی ہمہ جہتی شاعری کی منفرد خصوصیت اجاگر کرتے ہوئے جعفر رقم طراز ہیں:
۔۔۔علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے “اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو” گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے “نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر” کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے “ذرا نم ہو تویہ مٹی” کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے “بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے” کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے “سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ” گاتے رہے۔ فوج والے “شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن” کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔۔۔
(مکمل تحریر پڑھیں)
محبت کا کھوتا جعفر ۔۔۔ مطلب جعفر کی لکھی تحریر ’’محبت کا کھوتا‘‘ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کے طرزِ نگارش کی خوب صورت اور پُرمزاح نقل ہے۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ
اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی، چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور آنکھوں کے گوشے انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے یوں گویا ہوا: اس محبت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سکول میں پڑھتا تھا تو ہمسایوں کی لڑکی سے محبت ہوئی۔ پر وہ کٹھور ہمیشہ بھائی جان ہی کہتی رہی۔ کالج گیا تو شاعری کا شوق ہوگیا۔ فراز سے فیض تک سب کو گھول کے پی لیا۔ لیکن محبت ہونی تھی نہ ہوئی۔ جس لڑکی کی طرف بھی محبت کی نظر ڈالی، اس نے یا تو دھتکار دیا یا پھر ’’بھائی جان‘‘ کہہ کے کاری وار کیا۔
(مکمل تحریر پڑھیں)
اردو بلاگستان کے منظرنامے کا ذکر ہو اور ڈفرستان کی ڈفریاں رہ جائیں، ایسا کیسے ممکن ہے۔ ’’ڈیل کرلیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں پردیس میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمان افروز گفتگو کا دلچسپ ذکر کرنے کے بعد فکر انگیز اختتام یوں ہوتا ہے کہ
محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں۔“
(مکمل تحریر پڑھیں)
ابوشامل اردو بلاگنگ میں ایک سنجیدہ اور علمی لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخ کے موضوعات پر اکثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی ایک شخصیت ابنِ فرناس ثانی کے حوالے سے اپنی تحقیقی تحریر میں بیان کرتے ہیں کہ
مسلم تاریخ کے روشن ابواب میں سے ایک عباس ابن فرناس بھی ہے جو اندلس کی اُن سینکڑوں نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھا جنہوں نے ’’دورِ ظلمت‘‘ (Dark Age) میں یورپ میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایسے محیر العقول کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے ان کا نام آج بھی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے۔
(مکمل تحریر پڑھیں)
اس کے علاوہ ہندوستان کی ایک معروف تجارتی کمپنی کی چائے کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام میں فکر و شعور بیدار کرنے کی کوشش پر بھی ایک تحریر میں ابوشامل نے اُن تمام اشتہارات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو: اُٹھو نہیں، جاگو!
کزن میرج ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں ایک خاص سوچ گھر کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بدتمیز کی تحریر ’’ابنِ صفی کے دیوانے‘‘ میں برسبیلِ تذکرہ ایک بات یوں آگئی کہ
امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔ کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔
اس پر افتخار جمل بھوپال کی دو تحاریر ’’کزن میرج‘‘ اور ’’کزن میرج۔ایک ڈاکٹر کا تبصرہ‘‘ معلوماتی ثابت ہوسکتی ہیں۔
گذشتہ عرصے میں امریکہ اور چند دیگر یورپی ممالک میں حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اسکریننگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے بے شمار خدشات کا اظہار کیا گیا اور یہ نظام اعتراض کا نشانہ بنا۔ سینئر بلاگرز میں سے ایک، شعیب صفدر ایڈووکیٹ نے اپنی تحریر ’’تحفظ و برہنگی‘‘ میں اس موضوع پر کچھ گفتگو کی ہے۔ روابط سے مزین ہونے کے باعث یہ تحریر خاصی معلوماتی ہے۔ لکھتے ہیں:
دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں!
(مکمل تحریر پڑھیں)
اب اپنا رُخ کرتے ہیں شعر و سخن کی طرف۔ محمد وارث اپنے بلاگ کے ذریعے سخن شناسوں کی تشنگی بجھانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ دیگر شاعرانہ کلام کے ساتھ ساتھ ممتاز شاعر جگر مراد آبادی کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ پیش کی۔ رقم طراز ہیں:
جگر مُرادآبادی کا شمار غزل کے آئمہ میں سے ہوتا ہے، فقر و فاقہ و مستی میں زندگی بسر کی اور یہی کچھ شاعری میں بھی ہے۔ کسی زمانے میں ان کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا اور ہر طرف جگر کی غزل کی دھوم تھی۔ انکے کلیات میں انکا کچھ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ انکے مجموعے ’’شعلۂ طور‘‘ سے ایک فارسی غزل کے کچھ اشعار ترجمے کے ساتھ “’’تبرک‘‘ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔
(مکمل تحریر پڑھیں)
شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر جب سے سننے میں آئی ہے، ہر محفل میں یہ موضوع ضرور زیرِ بحث آتا ہے۔ بلاگرز نے بھی اس پر دلچسپ تحاریر کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا۔ مختصراً اس پر بھی ایک نظر:
جعفر: ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال)
شعیب صفدر: بڑا کھلاڑی کون؟
عنیقہ ناز: واہ شعیب ملک، آہ ثانیہ مرزا
گذشتہ کچھ عرصے میں اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ نئے آنے والے بلاگز میں سے ایک ’’پھپھے کٹنی‘‘ کافی منفرد رہا اور اردو بلاگنگ میں پہلی بار ان موضوعات پر کھل کر لکھا گیا جن سے اب تک چند وجوہات کی بِنا پر گریز کیا جاتا رہا۔
فی الوقت اس مختصر جائزے کے ساتھ اجازت۔ امید ہے کہ اگلی بار کچھ تفصیل سے لکھا جاسکے گا ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
ٹیگ: