آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > قدیر احمد سے شناسائی

قدیر احمد سے شناسائی

السلام علیکم۔۔۔! ایک بار پھر “منظرنامہ” پر اردو بلاگرز سے شناسائی کے سلسلہ میں حاضر ہیں ایک نئے مہمان بلاگر کے ساتھ۔
ہم ہیں آپ کے میزبان، ماوراء اور عمار اور سلسلہ “شناسائی” میں ہمارے آج کے مہمان ہیں معروف اردو نوجوان بلاگر قدیر احمد۔

خوش آمدید قدیر۔۔۔!
میری آمد اور دید سے اکثر لوگ خوش ہی ہوتے ہیں ۔

کیا حال ہیں؟
فعل حال ، ملک کا حال کا یا میرا حال؟ جو بھی ہو ان میں سے فی الحال کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ میں اندرونِ سندھ اور اپنے آبائی شہر تلمبہ کے پندرہ روزہ دوروں سے ابھی لوٹا ہوں اور چار جون کو میرے امتحان ہیں ، خود سوچیے کیا حال ہو سکتا ہے ۔

قارئین! قدیر احمد کا شمار اردو کے اولین بلاگرز میں ہوتا ہے۔ اولیاء کی سرزمین ملتان میں رہتے ہیں۔ گو کہ 22 سالہ نوجوان ہیں لیکن ان کی تحاریر اور سوچ میں پختگی ہے۔ ایک عرصہ سے لکھ رہے ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں۔
جی اور قدیر احمد صرف ایک بلاگر ہی نہیں بلکہ پی۔ایچ۔پی فورمز کو سب سے پہلے اردو میں ڈھال کر پہلے اردو فورم “اردو محفل” کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں ان کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
یہ مختلف وجوہات کی بنا پر دو بار بلاگنگ چھوڑنے کا بھی اعلان کرچکے ہیں لیکن بلاگنگ سے زیادہ دور نہیں رہ پاتے اور دوبارہ تعلقات استوار کرلیتے ہیں۔
یہ کس طرح بلاگنگ کی طرف آئے، کس سے متاثر تھے، بلاگنگ کیوں کرتے ہیں، آیئے ان سے پوچھتے ہیں۔

1۔ قدیر! اردو بلاگنگ کب شروع کی تھی؟
میں نے پہلی تحریر جنوری 2005 میں لکھی تھی ۔

2۔ کیسے خیال آیا تھا اردو بلاگنگ کا اور کیا کچھ مسائل تھے اس وقت؟
اس وقت مجھے صرف اِن پیج سے آگاہی تھی ۔ میں چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ کسی بھی ٹیکسٹ ایڈیٹر میں اردو لکھی جا سکے ۔ تلاش کرتے کرتے میں بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر پہنچا اور دیکھا کہ وہاں اردو تصویری شکل کی بجائی ٹیکسٹ یعنی عبارتی صورت میں لکھی جا رہی ہے ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بی بی سی والے اردو کیسے لکھتے ہیں ، چنانچہ میں نے تلاش شروع کر دی اور زکریا اور دانیال کے بلاگوں پر جا پہنچا ۔ وہاں سے مجھے پتہ چلا کہ یونیکوڈ کے ذریعے اردو لکھنا کتنا آسان ہو گیا ہے ۔ اردو بلاگروں میں میرا نمبر شاید چوتھا یا پانچواں ہے ۔ اس وقت مسائل کچھ خاص نہیں تھے۔ بلاگر کی سروس موجود تھی جس میں ڈیزائن بنانا بہت آسان تھا ، ورڈپریس کے بلاگ اتنے زیادہ نہیں تھے ، اکثر بلاگ بلاگر پر ہی تھے ۔

3۔ اب کیا سوچتے ہو؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا خاص کر اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر ہے یا کوئی خاص پیغام دینا چاہتے ہو؟
جب میں نے بلاگنگ شروع کی تو اس وقت میرا مقصد ایک اچھا مصنف بننا تھا ۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ خیالات بدلتے گئے ۔ اردو میں اس لیے لکھتا ہوں کہ مجھے اس سے محبت ہے اور اس میں اپنا مافی الضمیر درست طور پر بیان کر سکتا ہوں ، لہٰذا اردو کا فروغ اولین ترجیح ہے ۔ اس کے علاوہ جو کام میں خصوصی طور پر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور اردو کے ذریعے ملک و قوم کی فلاح کے لیے کام کیا جائے اور جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے ایک اچھا معاشرہ اور ترقی یافتہ قوم تشکیل دی جائے ۔

4۔ پچھلے دنوں شاید بلاگنگ چھوڑ بھی دی تھی، دو ایک بار۔ کیا وجہ تھی؟
دو سال پہلے اس لیے چھوڑ دی تھی کہ کچھ لوگوں نے میری ذات پر شدید تنقید کی تھی ، اس وقت میں بہت جذباتی ہوتا تھا اس لیے غصہ کھا گیا ۔ چند ماہ قبل انٹرنیٹ چھوڑنے کا اعلان ایک واقعہ کی وجہ سے کیا تھا جس نے مجھے شدید صدمہ پہنچایا تھا ۔ اس واقعہ کا تعلق انسانی رویوں سے تھا ۔ پھر بلاگنگ کی طرف اس لیے واپس آ گیا کہ انسانوں اور خاص طور پر “نام نہاد” مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے رویوں کو ٹھیک کروں ۔

5۔ وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے، کیسا دیکھتے ہو؟ نئے آنے والے بلاگرز سے کتنی امیدیں ہیں؟
ماشاءاللہ اردو بلاگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔ مگر ان میں باقاعدگی نہیں ہے ۔ نیز نئے آنے والے لوگ بہت زیادہ امیدیں لگا کر آتے ہیں کہ وہ چند تحریریں لکھیں گے اور دھوم مچ جائے گی اور ان کی تحریروں پر تبصروں کی بھرمار ہو جائے گی ۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ بلاگنگ کو چھوڑ جاتے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہیں ۔ تبصروں کی اہمیت اتنی نہیں ہوتی کہ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے لکھنا چھوڑ دیا جائے ۔ اپنے بلاگ پر “کاؤنٹر” لگائیں اور دیکھیں کہ ان کے بلاگ پر کتنے لوگ آتے ہیں ، پھر وہ تبصروں کو بھول جائیں گے ۔ ہر کام آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہماری احساسِ کمتری کی شکار قوم سمجھتی ہے کہ اردو میں لکھنا غیر ترقی یافتہ ہونے کی نشانی ہے ، اس لیے وہ اردو چھوڑ کر خراب انگریزی اور رومن اردو میں بلاگنگ شروع کر دیتے ہیں ، یہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس پر میں الگ سے تحریر لکھوں گا ۔

6۔ پرانے بلاگ لکھنے والوں میں کون پسند ہے اور نئے لکھنے والوں میں کسے شوق سے پڑھتے ہو؟ کوئی پسند آتا ہے یا صرف اپنا ہی لکھا بہترین لگتا ہے؟
پرانے لکھنے والوں میں سب ہی پسند ہیں ، انحصار اس پر ہوتا ہے کہ ان کی تحریر کس موضوع پر لکھی گئی ہے اور اس میں میری دلچسپی کی شے کتنی ہے ۔ کسی ایک کا نام نہیں لے سکتا ، سب اپنی جگہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔ نئے لکھنے والے باقاعدگی سے نہیں لکھتے بہرحال ان میں کئی اچھا لکھ رہے ہیں ۔ ایسی بات نہیں ہے کہ مجھے صرف اپنا لکھا ہی اچھا لگتا ہے ، جس کی تحریر پسند آتی ہے ، اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔

7۔ کیا خیال ہے، ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا مقام کب اور کیسے حاصل کرسکے گی؟
اس کا انحصار اردو بولنے والوں اور اس کے لیے کام کرنے والوں پر ہے ۔ جس رفتار سے پروگرامز کو لوکیلائز یعنی مقامیانے کا کام کیا جا رہا ہے ، امید ہے کہ جلد ہی اردو اپنی شناخت قائم کرنے میں قائم ہو جائے گی۔

8۔ اردو کے فروغ کے لیے آپ سے اگر آپ کا کردار پوچھا جائے تو؟
بس ٹھیک ہی ہے ، مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں ۔ میں نے پی ایچ پی بی 2 اور 3 اور ایس ایم ایف کا بیشتر ترجمہ کیا ، 2005 میں اردو ٹیکنالوجی اخبار کا اجراء کیا جو اردو میں پہلا ٹیکنالوجی اخبار ہے ۔ کچھ لوگوں کو اردو بلاگ بنا کر دیے اور کئی کی رہنمائی کی ۔ مگر ایک خلش ہے کہ ذاتی مصروفیات اور مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے میں کئی کام کرنے سے محروم رہا ۔ اصل مسئلہ پیسہ ہے ، ارادہ ہے کہ ضروری وسائل اکٹھے کر کے اپنے خیالات کو عملی شکل دوں ۔

9۔ اچھا، ایک سوال کچھ ہٹ کر بھی ہوجائے۔ کچھ اپنے بارے میں تفصیل سے بتاؤ۔ کیا کرتے ہو؟ کتنا پڑھا ہے؟ آگے کیا ارادہ ہے؟
مجھے ذاتیات پسند نہیں 😛 ۔ چلو بتا دیتا ہوں ۔ میں ایک عام سا دردمند دل رکھنے والا اوسط ذہن کا مالک لڑکا ہوں ۔ آج تک لفنگوں والا کوئی کام نہیں کر سکا (جس کا شدید قلق ہے) ۔ بچپن میں بہت سہیلیاں تھیں، اب ایک بھی نہیں ہے ۔ بی ایس سی ڈبل میتھ اور فزکس کے ساتھ کی ۔ اب ACCA میں ٹانگ پھنسا رکھی ہے۔ کمپیوٹر اور بلاگنگ میں غرق ہونے کی وجہ سے کچھ تعلیمی نقصان بھی ہوا جس کا ذکر نہیں کروں گا ۔ بزنس سٹڈیز میں کچھ کرنے کا ارادہ ہے ۔ ملک و قوم کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتا ہوں ، عملی طور پر اپنے لوگوں کا معیارِ زندگی اور سوچ کو پختہ کرنا چاہتا ہوں ۔ شاید کبھی سیاست میں آ جاؤں ، اپنے شہر کا میئر بن کر اسے اسلام آباد بنانا چاہتا ہوں ۔

10 ۔ آج کل کیا پروجیکٹس چل رہے ہیں؟
حال ہی میں اپنے پیسوں سے Tuzk.net رجسٹر کروائی ہے ، اس پر کچھ کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ آئیڈیے میرے پاس بہت ہیں مگر ان کی تکمیل تبھی ہو سکے گی جب میرے پاس وسائل ہوں گے ۔

11۔ اردو بلاگرز یا جو افراد اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کے لیے کوئی پیغام؟
لکھنا نہ چھوڑیے ، فیڈ بیک نہ ملے تو اس کو گولی مار کر کام کرتے رہیے ، یہ نہ دیکھیے کہ آپ کا ساتھ کوئی نہیں دے رہا ۔
——————————–
یہ تو ہوئے کچھ پروفیشنل سوالات۔ ظاہر ہے قارئین کو تجسس ہوتا ہے کہ وہ جسے پڑھتے ہیں، وہ خود کون ہے، کیسا ہے؟ تو کیا خیال ہے؟ کچھ منفرد سوالات ہوجائیں۔ امید ہے انجوائے کریں گے سب۔

آپ کون؟
میں اللہ کا بندہ ۔ نام قدیر احمد ۔ کام کچھ بھی نہیں ۔ فراغت سے تھک جاؤں تو کچھ پڑھ لیتا ہوں ۔ ورنہ ہم ہیں اور چارپائی ۔ اب تک تین چارپائیاں توڑ چکا ہوں ۔ پانچ بہنوں کا ایک بھائی ہوں ۔ امورِ خانہ داری میں ماہر ہوں ، گھر سے باہر کے سارے کام میرے ذمہ ہیں ۔ مخاطب کسی بھی عمر و جنس کا ہو ، اکتانے نہیں دیتا۔ فری سٹائل گفتگو و حرکات کرتا ہوں ۔ بننے کی کوشش نہیں کرتا ۔ بولنے کے بعد سوچتا ہوں ۔ لڑکیوں کی نفسیات سمجھتا ہوں ، لڑکوں کی رگوں سے واقف ہوں ۔ حقوقِ انسانی کو اہمیت دیتا ہوں ، چھوٹی چھوٹی باتیں نوٹ کرتا ہوں ۔ مشاہدہ قوی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ذات پات پر یقین نہیں رکھتا ، اپنے نام کے ساتھ رانا لگانا پسند نہیں کرتا ، ویسے میرے خاندان کی ذات “راجپوت جنجوعہ” ہے ۔

1۔ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
1986 میں کراچی میں پیدا ہوا ۔ بڑی منتوں مرادوں اور چار بہنوں کے بعد نزول ہوا ، ایک نیک بزرگ کی دعا اور اللہ کی مہربانی سے ۔ دراصل ملک و قوم کو ایک مخلص ناصح اور مصلح کی ضرورت تھی ، اس لیے میں تشریف لایا ۔ انشاءاللہ قوم کو مایوس نہیں کروں گا 😛 ۔

2۔ موجودہ رہائش؟
ملتان میں ۔ مگر یہاں کی دھول اور گرمی سے بہت تنگ ہوں ۔ پورے سال میں صرف تین دفعہ بارش ہوتی ہے ، یعنی صبر کا پھل نہیں ملتا ۔ کسی سرسبز پہاڑی علاقے میں رہنا چاہتا ہوں ۔

3۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ، کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
میری زندگی کا مقصد؟ آہ۔۔۔۔ اس سوال نے مجھے کئی سالوں سے تنگ کر رکھا ہے ، کئی لوگوں سے یہ سوال کیا ہے اور ان سے مختلف جوابات لیے ہیں ، مگر دل ہے کہ مانتا نہیں ۔ بہرحال ، خواہش یہ ہے کہ پاکستان کو ترقی کے لحاظ سے امریکہ کے برابر کھڑا کیا جائے ۔

بہترین:
1۔ دوست ؟ شاہ صاحب ، خان صاحب ، رانا صاحب
2۔ چھٹیاں؟ چھٹیاں ہی چھٹیاں ۔ میں کون سا پڑھنے والا بچہ ہوں 😛 ۔
3۔ رشتہ؟ والدین اور بہنیں ۔

برا:
1۔ دن کا وقت؟ جب بجلی موجود نہ ہو ۔
2۔ ہفتے کا دن؟ کوئی نہیں ۔
3۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟ جب مجھے فوج میں کمیشن دینے سے انکار کیا گیا۔

آخری:
1۔ لڑائی؟ عملی لڑائی کبھی نہیں ہوئی ۔ منہ ماری دو سال قبل ہوئی ۔
2۔ چھٹیاں کب منائیں؟ صحیح معنوں میں 2001 میں ، جب ہم سب گھر والے کشمیر اور شمالی علاقوں کی طرف گئے ۔ ویسے ابھی کل ہی سندھ اور تلمبہ کے سفر سے واپس آیا ہوں ۔

آج:
1۔ یہ انٹرویو دیتے ہوئے کیا سوچ رہے ہیں؟ آج تحریر میں شگفتگی نہیں آ سکی ۔ پتہ نہیں کیوں دماغ کچھ ڈھیلا سا ہے ۔
2۔ ناشتہ یا کھانے میں کیا کھایا؟ روزانہ کی طرح انڈہ اور چائے ۔

کل:
1۔ کوئی خاص پلان، کہ کیسے گزاریں گے؟ چار جون کو پیپر ہے ، سارے پلان فیل ہو چکے ہیں ، اب تو پڑھنا ہی پڑے گا ۔
2۔ کل کے دن کی کوئی بری بات؟ کل دوپہر کو مجھے بہت نیند آ رہی تھی کیونکہ سفر سے تھکا ہوا آیا تھا ، اس کے باوجود دو کمپیوٹر ٹھیک کرنے پڑے ۔

پسندیدہ:
1۔ کتاب: قرآن مجید
2۔ گانا: کوئی ایک ہو تو بتاؤں
3۔ رنگ: پتہ نہیں

ابھی:
1۔ موڈ؟ نارمل
2۔ کسی کو یاد کر رہے ہیں؟ آہ ۔۔۔۔۔۔۔
3۔ کچھ خاص چیز جس کا دل کر رہا ہو؟ ایک ارب ڈالر

غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟ درست
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟ ففٹی ففٹی
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ غلطی پر افسوس ہوتا ہے
4۔ مجھے فون پر باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟ قطعاً نہیں
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟ درست
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ درست
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟ درست
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟ ففٹی ففٹی

جوش و خروش:
1۔ کیا کسی نے کبھی آپ کو سرپرائز پارٹی دی؟ نہیں
2۔ کیا آپ جلدی جوش میں آ جاتے ہیں؟ پہلے آتا تھا ، اب نہیں ۔
3۔ کس کے لیے آپ سب سے زیادہ پرجوش ہوتے ہیں؟ میں کیوں بتاؤں 😛
4۔ اگر آپ ملین ڈالرز جیتیں تو آپ کی پہلی سوچ کیا ہو گی؟ ایک خوبصورت و پرسکون گھر جس میں وسیع لان ہو ۔

کوئی ایک منتخب کریں:
1۔ سموسہ، پکوڑا یا کباب؟ شامی کباب
2۔ بالی وڈ، لالی وڈ یا ہالی وڈ؟ ووڈ کو چھوڑیے ، یہ سٹیل کا زمانہ ہے ۔
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟ پسند کی ارینجڈ شادی
4۔ قلفی یا آئس کریم؟ آئس کریم قلفا فلیور
5۔ مینارِ پاکستان یا ایفل ٹاور؟ مینار اپنا ہی اچھا
6۔ پاکستان، امریکہ یا سوئزرلینڈ؟ سب سے پہلے پاکستان
7۔ بلاگنگ یا فورم؟ بلاگنگ
8۔ سنجیدہ تحریر یا مزاحیہ تحریر؟ ایسی مزاحیہ تحریر جس میں سنجیدگی چھپی ہو ۔

18 تبصرے:

  1. بہت خوب، قدیر بھائی کا انٹرویو بہت شاندار رہا، ایسے ہی انہوں نے ایک جگہ کہہ دیا ہے کہ دماغ کچھ ڈھیلا ہے لیکن انٹرویو بہت خوب دیا ہے، چند سوالوں کے جوابات ایسے ہیں کہ اس سے لگتا ہے کہ اسکریو بہت ٹائٹ ہیں 🙂 جیسے:

    دراصل ملک و قوم کو ایک مخلص ناصح اور مصلح کی ضرورت تھی ، اس لیے میں تشریف لایا

    سارے پلان فیل ہو چکے ہیں ، اب تو پڑھنا ہی پڑے گ

    بالی وڈ، لالی وڈ یا ہالی وڈ؟ ووڈ کو چھوڑیے ، یہ سٹیل کا زمانہ ہے ۔

  2. اچھا انٹرویو ہے طویل اتنا کہ پڑھتے پڑھتے تھک کر راستے ہی میں لیٹ گیا ۔
    قدیر صاحب کی خدمت مین عرض ہے کہ
    ہے زندگی کا مقصد اورون کے کام آنا

    جب اس کی سمجھ آ جائے گی تو پھر چارپائیاں توڑنا چھوڑ دیں گے اور جوتے جلد جلد گھسنے لگیں گے 😆

  3. ہم نعمان کی بات سے متفق ہیں۔ قدیر کبھی کبھی مذاق میں‌سنجیدہ بات کرجاتے ہیں اور کبھی سنجیدہ مذاق۔ فی زمانہ مزاح کو سمجھنا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے یعنی کبھی کبھی مذاق مذاق میں‌آدمی اپنا اچھا خاصا نقصان کر بیٹھتا ہے۔

  4. بہت شاندار۔ قدیر نے واقعی ”جوانوں“ والا انٹرویو دیا ہے۔
    قدیر آپکو مشورہ ہے کہ مئیر بن کر ملتان کو اسلام آباد بنانے کا بالکل نہ سوچیں، اسکے جتنے نقصانات ہیں‌اسکے مقابلے میں فائدے بہت کم۔ 😀
    اللہ آپکو اپنے نیک ارادوں میں کامیاب کرے۔ اٰمین

  5. شکریہ آپ سب کا 😀

    جب میں اس انٹرویو کے جوابات لکھ رہا تھا تو دماغ واقعی بہت ڈھیلا تھا کیونکہ بہت تھکا ہوا تھا ، مگر جلد جواب اس لیے دیے کہ عمار اور ماوراء نے نیا سلسلہ شروع کیا ہے تو ان کی حوصلہ افزائی ہو ۔

    تنوع ایک ایسی شے ہے جو انسان کو اکتانے نہیں دیتی ۔ اس لیے سنجیدہ مذاق یا مذاق نما سنجیدگی اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بہترین ہے ۔

  6. قدیر کا جوانوں والا انٹر ویو پڑھ کر خوشی ہوئی۔

    ویسے قدیر اب بھی بہت جوشیلا ہے اور جوش میں کبھی اچھے اور کبھی غلط کام کر جاتا ہے مگر جوش سے باز نہیں آتا ہے۔

    سب سے پہلے پاکستان کیا مشرف کی طرح قدیر 😉

  7. محب: خوش ہونے کے لیے شکریہ 😳
    باقی رہی جوش کی بات ، وہ کبھی کبھی آ جاتا ہے ، لیکن آج کل تو اچھے کاموں کے لیے ہی استعمال ہو رہا ہے ، غلطی کی نشاندہی اچھی بات ہے مگر اس کا تذکرہ بہت زیادہ ہونے لگے تو بے اثر ہو جاتی ہے ۔

    سب سے پہلے پاکستان کی بات دل سے کی ہے ، پرویز مشرف سیاست کے لیے کرتا ہے ۔

  8. قدير صاحب کا انٹرويو کافی بھر پُور قسم کا تھا اتنی کم عُمری ميں اتنی توانائياں آ ج کل کے نوجوانوں ميں کم ملتی ہيں اور شايد اس طرح کی توانائيوں کی ہی اس وقت ضرُورت ہے اس انٹرويو کی سب سے اچھی بات جو مُجھے لگی وہ يہ تھی کہ
    „لکھنا نہ چھوڑیے ، فیڈ بیک نہ ملے تو اس کو گولی مار کر کام کرتے رہیے ، یہ نہ دیکھیے کہ آپ کا ساتھ کوئی نہیں دے رہا „
    زبردست بات ہے گو گولی مارنے والی بات الگ ہے ليکن بات يہ ہے کہ مُثبت کام اگر آپ کر رہے ہيں تو کسی کی بھی تنقيد کا بُرا نا مانيں بلکہ يہ سوچيں کہ ہو سکتا ہے اس ميں ميری کوئ بھلائ پوشيدہ ہو گی اصلاح اورتنقيد کو خندہ پيشانی سے برداشت کرنا بہترين ردّ عمل ہے بہر حال بہترين انٹرويو تھا، شُکريہ
    شاہدہ اکرم

  9. اللہ اللہ یہاں تو ایک سے بڑ کا ایک ہے بہت خوب جناب پڑھ کر بہت مزہ آیا آپ کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا اور یہ جان کر کے اردو کے لیے بہت کام کر رہے ہیں بہت خوشی ہوئی اللہ تعالیٰ جان جی آپ کو کامیاب کرے آمین

  10. زبردست قدیر!!!
    یار تم تو بالکل میرے ہم عمر ہو۔ مگر یقین کرو انداز تحریر سے کافی “”بڑے‘‘ لگتے تھے۔ ویسے ہو تو بہت ’’بڑے‘‘ :!!razz:
    نہیں یار! ۔۔۔۔۔۔۔۔بڑا مزا آیا انٹرویو پڑھ کر!۔۔۔۔۔۔۔بڑا ہی اچھا سلسلہ ہے یہ انٹرویوز کا!۔۔۔۔۔۔۔انٹرویو کرنے والے اور دینے والے دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں!
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قدیر میاں کو ان کے نیک مقاصد میں کامیابی عطا ہو! ۔۔۔آمین!

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر