آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > نقطہ نظر > کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ (از:ابوشامل)

کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ (از:ابوشامل)

منظر نامہ کا یہ کہنا ہے کہ زبان کی تخلیق کے وقت افراد کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی زبان کسی تخلیقی عمل سے گزر رہی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ زبان کے مرتے وقت بھی یہی نظریہ کارفرما ہوتا ہے اور اُس وقت بھی زبان غیر محسوس طریقے سے اپنی “موت” کی جانب رواں ہوتی ہے۔
ویسے زبان کے ختم ہونے کا عرصہ بہت طویل ہوتا ہے اور یہ عمل واضح طور پر پیش ہوتا دکھائی نہیں دیتا لیکن روبہ زوال زبان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر جدید اصلاحات ناپید ہوں اور اس کے بولنے والوں میں “لسانی تعصب” نہ پایا جاتا ہو۔ ویسے تو “تعصب” ایک منفی لفظ ہے لیکن زبان کے ساتھ اس کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اسی کی وجہ سے فارسی اور ترکی بولنے والوں نے اپنی زبانوں کو عروج تک پہنچایا ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے پاکستان و ہندوستان کے کروڑوں باسیوں کو ایک لڑی میں پرونے والی زبان “اردو” ہی ہے جو اُن کے لیے رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ جدید عہد میں جہاں رابطے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، اس صورتحال میں رابطے کی اِس زبان سے ہمارا اجتماعی اظہار لاتعلقی اور اس کی ترقی سے صرفِ نظری افسوسناک ہے۔
اردو کی ترقی، چاہے حقیقی دنیا میں ہو یا انٹرنیٹ کی دنیا میں، کے حوالے سے میرا یک نکاتی اور واضح ترین موقف یہ ہے کہ جب تک اردو کو پاکستان میں سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہوگی تب تک اردو روبہ زوال رہے گی بلکہ ہر گزرتے روز کے ساتھ اس کے زوال میں مزید تیزی آتی جائے گی۔
حالانکہ اردو یا اس سے ملتی جلتی زبانیں جیسے ہندی وغیرہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں بولی جاتی ہيں لیکن اردو کے مستقبل کے حوالے سے تمام امیدیں پاکستان سے وابستہ کرنے کی میری نظر میں صرف ایک وجہ ہے کہ یہ امر تو سب پر واضح ہے کہ اردو کے حوالے سے پاکستان کو جو ممتاز مقام حاصل ہے وہ دنیا میں کسی اور ملک کو حاصل نہیں اور اردو ادب کے عہد حاضر و ماضی قریب کے تمام بڑے ناموں میں سے بیشتر اسی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے اس لیے پاکستان میں اردو کی ترقی ہی دراصل دنیا بھر میں اردو کی ترقی ہے اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کو جو مقام بھی حاصل ہے اس میں سب سے بڑا حصہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو بولنے والوں کا ہے حالانکہ ہندوستان کی چند گوہر ہائے نایاب شخصیات نے بھی اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کیں اور ان کے کارنامے سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد کا تعلق پاکستان سے ہے اور دیگر ممالک کے اردو بولنے والے بھی ٹیکنالوجیکل بنیادو ں پر اردو میں کسی جدت کے لیے پاکستان کے نوجوان ماہرین اور پاکستانی اداروں کی جانب ہی دیکھتے ہیں جس کا واضح اظہار ادارۂ تحقیقات اردو ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔
پاکستان میں ماضی قریب کی اور موجودہ حکومتوں کی پالیسی یہی رہی ہے کہ اردو کی سرپرستی کریں گے نہ اسے پھلنے پھولنے دیں گے اور نتیجہ اردو کی زبوں حالی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ ذرائع ابلاغ جہاں ملازمت کے حصول کے لیے اردو کی قابلیت کو معیار بناتا ہے وہیں ملازمت کے حصول کے بعد جانتے بوجھتے ان امور پر نظر نہیں رکھتا نتیجہ ان کے پیش کردہ پروگراموں میں بولی جانے والی زبان سے لگایا جاسکتا ہے جسے نہ پوری طرح اردو کہا جا سکتا ہے اور نہ انگریزی۔ اسی لیے حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ایسی اصلاحات کو انگریزی میں پیش نہ کرے جن کا اردو متبادل موجود ہے۔ علاوہ ازیں اردو کی ترقی کے لیے اپنے ادارتی صفحات اور ہفتہ وار جرائد میں سفارشات اور عملی اقدامات وضع کریں۔

اب منظر نامہ کے چند سوالات کے جوابات:

س: انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دشواری کا سامنا حقیقت یا بہانہ؟
ج: عذر لنگ ۔

س: انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا دائرہ وسیع نہ ہو پانے کی وجوہات؟
ج: بلاگنگ اور فورمز کے بارے میں نہ جاننا یا ان میں دلچسپی نہ رکھنا سب سے اہم وجوہات ہیں۔ البتہ مجھے اس امر کی بھی خوشی ہے کہ اردو میں جتنا بھی کام ہے بیشتر انتہائی معیاری ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان کا انگریزی دان طبقہ اتنا معیاری کام پیش نہیں کر سکا جتنا اردو برادری نے کیا ہے۔

س: دائرہ وسیع کرنے کے لیے اقدامات و تجاویز؟
ج: اپنے قریبی وہ تمام دوست احباب اور عزیز جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں انہیں اردو فورمز کی جانب راغب کرنا، بلاگنگ کے لیے اس لیے نہیں کہوں گاکہ تحریر ایک خداداد صلاحیت ہے اور ہر شخص تحریر کا فن نہیں جانتا البتہ تکنیکی صلاحیتوں اور اپنے شعبے کی مہارتوں پر وہ مختلف فورمز پر اظہار خیال بھی کر سکتا ہے اور دوسرے لوگوں سے مستفید بھی۔ اس کا ایک حل تو یہ دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حل مناسب تشہیر ہے اور میرے خیال میں ہماری ویب جیسی ویب سائٹوں کی بڑے پیمانےپر اشتہاری مہم کے نتیجے میں اب ممکن ہے کہ اردو کو اگلے چند سالوں میں بڑی افرادی قوت ملے۔ امید پر دنیا قائم ہے۔

س: کیا اگلے چند سالوں میں اردو انٹرنیٹ پر اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟
ج: ہاں جس طرح کی انگریزی زدہ گلابی بلکہ لال اردو بولی جارہی ہے اگر وہ معیار ہے تو بہت ترقی کرے گی لیکن زبان و بیان کی درستگی کے ساتھ ایسا ہونا تب تک ممکن نظر نہیں آتا جب تک اس کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات نہ کیے جائیں۔

8 تبصرے:

  1. اس “خطرہ” کی بو آپ کو کیسے آ گئی؟ ایسی کوئی بات نہیں تھی، راشد بھائی بہت شاندار لکھتے ہیں، مختلف نقطۂ نظر بیان ہونے سے ہی کسی موضوع کا احاطہ ہو سکتا ہے، ان کی کئی باتوں سے متفق تھا جس کی کچھ جھلک آپ کو میری تحریر میں نظر آئی ہوگی۔ اپنے تبصرے میں بھی میں نے کہہ دیا تھا کہ اس پر میں اپنی تحریر لکھوں گا جو اب آپ کے سامنے حاضر ہے۔ تبصرے کا شکریہ۔

  2. ابو شامل صاحب‌۔۔ خاکسار کی تعریف کا شکریہ۔۔ ٹوٹی پھوٹی اردو ادھر ادھر سے جوڑ لیتے ہیں‌ بس۔

    ایک طرح سے دیکھیں‌ تو ہم ایک ہی موقف کے حامی ہیں‌ یعنی اردو کی ترقی کے لیے سرکاری سرپرستی اور سرکار دراصل اشرافیہ ہی ہوتی ہے۔۔ وزیر مشیر تو آنی جانی چیزیں ہیں‌اصل سرکار ہوتی ہے نوکر شاہی ۔۔ اور نوکر شاہی کے نزدیک اردو کی حیثیت ایک بوڑھی طوائف سے زیادہ کچھ نہیں‌۔

    پاکستان کے طرف دیکھنے کا مقصد یہ ہے کے عربی اسکرپٹ‌ میں لکھی جانے والی اردو اب صرف پاکستان میں ہی رائج ہے ۔۔ کیونکہ اردو کے ساتھ سیاسی سطح پر دو اسکرپٹ میں تقسیم کرنے کا جو ہاتھ ہوا ہے اور فارسی زدہ اور سنسکرت زدہ اردو کو اردو اور ہندی کے ناموں کے ساتھ رائج کرنے کی وجہ سے بھی اسکی ترقی متاثر ہوئی ہے۔

    بہر حال اردو بلاگنگ شاید عروج کی جانب بہترین قدم ہے کیونکہ گوگل ریڈی اور کوئی چیز شاید ہی اردو میں دستیاب ہے۔

  3. بہت خوب ابو شامل۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک سرکاری طور پر اردو کے لیے موءثر اقدامات نہیں کیے جائیں گے، تب تک اردو ترقی نہیں کر سکے گی۔

    میں تو سوچ رہی ہوں کہ میں سرکار کے نام ایک خط لکھتی ہوں۔ جس میں ہم سب کے نام موجود ہوں، اور ہم احتجاجاً اس میں لکھیں کہ اردو کو مکمل طور پر سرکاری زبان کی حیثیت دی جائے۔ 😀

    ماوراء

  4. ابُو شامل صاحب کی تحرير بہت زبردست لگی ليکن يہ لائنز حاصل تحرير لگيں
    „منظر نامہ کا یہ کہنا ہے کہ زبان کی تخلیق کے وقت افراد کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی زبان کسی تخلیقی عمل سے گزر رہی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ زبان کے مرتے وقت بھی یہی نظریہ کارفرما ہوتا ہے اور اُس وقت بھی زبان غیر محسوس طریقے سے اپنی “موت” کی جانب رواں ہوتی ہے۔„
    اور دُوسری بات کہ اُردُو انٹرنيٹ ميں لکھنا دُشواری حقيقت يا بہانہ اور جواب عُزر لنگ زبردست جواب تھا کہ اگرآپ کسی چيز کی خواہش رکھتے ہوں تو پھر کوئ بات نا مُمکن نہيں ہو سکتی بس کوشش شرط ہے ايسے ميں فروغِ اُردُو کے لۓ کوششيں کرنے والے قابل تحسين ہيں گو آٹے ميں نمک کے برابر ہوں ليکن بات قابلِ غور يہ ہے کہ آٹے ميں نمک خواہ چُٹکی بھر ہی کيوں نا ہو ليکن اُسی سے ذائقے ميں فرق بھی تو آتا ہے آپ سب کی کوششوں کو سلام
    خير انديش
    شاہدہ اکرم

  5. ہم چھوٹے لوگ ہیں مگر ہمارے غرور بڑے ہیں…. ہم دوکان والے سے بات تو اردو میں ہی کریں گے مگر اگر اسی دکاندار سے انگریز انگریری میں بات کرے تو ہم اسکے لیئے انگریزی بولنے لگ جائیں گےــــ انگریز اسلئے آگے ہے کہ نہ وہ کسی سے کمتر ہے نہ اسکی زبان نہ ہی وہ ایسا سمجھتا ہے….. ہم آج دوراہے پر اسلیئے ہیں کہ ہم ایسا سمجھتے ہٰں مگر ہماری زبان بھی کسی سے کم نہیں ہے …….

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر