آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > نقطہ نظر > کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی (از محمد وارث)

کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی (از محمد وارث)

میں ‘منظر نامہ’ کو یہ سلسلہ ‘نکتہ نطر’شروع کرنے پر مبارک باد پیش کرتا اور اپنے خیالات  کو یہاں پیش کرنے کا موقع دینے پر ‘منظر نامہ’ کا  شکر گزار بھی ہوں۔ 

سب سے پہلے میں اس موضوع کے عنوان پر یہ کہنا چاہونگا کہ “کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی” سے منظر نامہ کی مراد شاید یہ ہے کہ کیا اردو جو کہ دنیا کی ایک بڑی بولی جانے والی زبان ہے، دنیا کی بڑی زبانوں میں اپنا ایک مقام بنا پائے گی جیسا کہ دوسری بڑی زبانوں کا اس وقت ہے نا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اردو اپنا کوئی کھویا ہوا مقام حاصل کرسکے گی، جیسا کہ بعض احباب کو اس سے مغالطہ ہوا، لیکن مجھے بہتر معلوم ہو رہا ہے اگر ‘مقام’ پر بھی کچھ بات ہو جائے۔

-کیا ‘مقام’ سے مراد اسطرح کا مقام ہے جیسے انگریزی زبان کو اس وقت حاصل ہے تو وہ شاید کبھی حاصل نہ ہوسکے کیونکہ انگریزی اس وقت جو کاروباری یا رابطے کی زبان ہے تو اس میں داخلی عوامل کے ساتھ ایک بہت بڑا ہاتھ خارجی عوامل کا یعنی انگریزوں کی نوآبادیاتی سیاست کا ہے۔

 -اگر ‘مقام’ سے مراد اسطرح کی محبت ہے جیسی بعض قومیں مثلاً جرمن اپنی زبان سے کرتی ہیں کہ انگریزی زبان جانتے ہوئے بھی بات اپنی مادری زبان میں ہی کرتے ہیں تو اس کیلیئے بھی دو چیزیں انتہائی ضروری ہیں، ایک اپنی زبان سے لگاؤ اور دوسری خودداری اور افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے بحیثیت قوم ہم میں دونوں چیزوں کی کمی ہے۔

– اور اگر ‘مقام’ سے مراد اردو کا مستقبل ہے تو وہ روشن ہے اور اس بات کے ساتھ اگر اتفاق نہ بھی کیا جائے  اور یہ کہا جائے کہ مستقبل تاریک ہے تو پھر بھی یہ طے ہے کہ اردو مستقبل قریب تو کیا مستقبل بعید میں بھی ایک مردہ زبان نہیں بنے گی۔ 

اردو ایک بدنصیب زبان

میرے خیال میں اردو ایک انتہائی بدنصیب زبان ہے کہ اسکے بولنے والے ہی اسکے مستقبل سے انتہائی مایوس ہیں جسکی کئی ایک وجوہات ہیں جو کہ کافی حد تک درست ہیں مثلاً:

 – اردو کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے۔

– اردو کی ترویج کیلیئے کی دنیا کی سطح پر نہ سہی، ملکی سطح پر بھی کوئی قابل قدر کام اجتماعی سطح پر نہیں ہو رہا۔

 – ہم محکوم تو رہے ہی ہیں، اب بھی ذہنی طور پر محکوم ہیں، آقا کی زبان ہمیشہ اچھی اور اپنی بری لگتی ہے۔

– ہم ایک غریب ملک ہیں، اور ظاہر کہ فقیر جب بھیک مانگنے جائے گا تو آقا کی زبان بولے گا نہ کہ اپنی، جیسا کہ عموماً کہا جاتا ہے کہ فلاں ملک کا سربراہ انگریزی کو جانتے ہوئے بھی اپنی زبان میں ہی بات کرتا ہے، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسطرح کے ممالک دنیا میں کتنے ہیں اور کیا ان میں ایک بھی ملک ایسا ہے جو کہ ترقی پذیر ممالک میں سے ہے۔

– حکومتی سطح پر بلند و بانگ اعلانات کے باوجود عملی سطح پر کچھ نہیں ہوا، حد تو یہ ہے کہ اردو اب تک پاکستان کی سرکاری اور دفتری زبان کا مرتبہ بھی نہیں حاصل کر سکی۔

ایک نظر ادھر بھی

 لیکن کیا اردو کی صورتحال اتنی ہی تاریک ہے جتنی کہ نظر آتی ہے، ہر گز بھی نہیں:

 – اردو کا عربی رسم الخط ہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے، عربی مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور اردو اس سے مربوط، سو ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

  – اردو زبانوں کی تاریخ میں ایک انتہائی نئی زبان ہے اور ابھی ارتقا کے مراحل میں ہے سو زوال کا سوال نہیں ہے۔ 

– اردو جتنی لچک دار زبان ہے شاید ہی کوئی اور زبان ہو۔ دنیا کی چند ہی زبانیں ایسی ہونگی جن میں دوسری زبانوں کے اتنے الفاظ ‘کھپانے’ کی صلاحیت ہوگی جتنی اردو میں ہے، عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، سنسکرت اور برصغیر کی دوسری علاقائی زبانوں کے بے شمار الفاظ اردو میں مستعمل ہیں اور آئے دن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف زبان وسیع ہو رہی ہے بلکہ سمجھنے، سمجھانے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

  – طبقہ امراء و اشرافیہ بھلے ہی اردو کو ناپسند کریں، زبان کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اور اردو کی یہ جڑیں خوب پھل پھول رہی ہیں، مثال کے طور پر پنجاب کے مختلف شہروں میں ہی دیکھیئے، اپنے بچوں کے ساتھ اردو میں بات کرنا، خواتین کے ساتھ اردو میں بات کرنا، تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ چند سال پہلے تک یہ صورتحال نہیں تھی۔

 – ہر زبان کے محافظ اسکے ادیب و شعراء ہوتے ہیں جو نا صرف زبان کو بگڑنے سے بچاتے ہیں بلکہ اس کو رواج بھی دیتے ہیں، اور اردو کے پاس ایسے شعرا اور ادبا موجود ہیں کہ جن کا کام و کلام اب بھی سند ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔

– کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اردو میں کافی کام ہو رہا ہے، پچھلے چند سالوں میں گو اردو زبان کو نیٹ پر وہ ترقی نہیں ملی جو عربی یا فارسی کو ملی ہے لیکن پھر بھی اگر صرف یہی اعداد و شمار دیکھے جائیں کہ تین چار سال پہلے کتنی ویب سائٹس یا بلاگز اردو میں تھے اور اب کتنے ہیں تو ایک خوشگوار اور روشن منظر ہی نظر آئے گا۔

 میرے نزدیک

 – اردو کا دوسری زبانوں، انگریزی یا عربی و فارسی کے ساتھ تقابل درست نہیں ہے۔

 – اگر سرکاری سطح پر کوئی کام نہیں ہو رہا تو اسکا یہ مطلب کیسے ہے کہ انفرادی سطح پر بھی کوئی کام نہ ہو۔ 

– بجائے مایوس ہونے کہ اپنی اپنی سطح اور مقام پر اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کیلیئے کوشاں رہنا چاہیئے، اردو زبان مردہ ہونے والی نہیں کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

– جتنے بھی احباب جو اردو کیلیئے ‘دردِ دل’ رکھتے ہیں انہیں چاہیئے کہ کم از کم اپنے گھر میں، اپنے کام کرنے کی جگہ اور ارد گرد کے ماحول میں اردو کی ترقی کیلیئے کام کریں، کم از کم اپنے بچوں کے دل میں تو اردو کا چراغ روشن کر ہی سکتے ہیں اور اس ایک چراغ سے مزید کئی چراغ روشن ہونگے، لیکن اگر ماں باپ بھی اپنے بچوں کے سامنے اردو کی برائی کریں گے یا انگریزی کی فضیلت ثابت کریں گے تو بچے اسکا اثر ضرور لیں گے۔

 اور آخر میں منظر نامہ، ساتھی اردو بلاگرز اور اردو کیلیئے دردِ دل رکھنے والے احباب کے نام ساغر صدیقی کے ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں:

 یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں

7 تبصرے:

  1. بہت خوب وارث صاحب۔ اب جو چند دیوانے گھرانے رہتے ہیں وہیں بچے کے زبان و بیان کا خیال رکھا جاتا ہے، ہمارے گھر میں تو بچوں کے please اور thankyou اس طرح کے دیگر تمام الفاظ بولنے پر بھی پابندی ہے کیونکہ ان کے بہت اچھے اردو متبادل موجود ہیں۔ علاوہ ازیں الفاظ کی غلط ادائیگی پر بھی فورا‎ ٹوکا جاتا ہے تاکہ دوبارہ غلطی کا ظہور نہ ہو۔ البتہ اس کے باوجود علمی سطح پر انگریزی کی موجودگی سے انکار نہيں کیا جاتا اس لیے اس کا سیکھنا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال صرف تعلیم تک محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے اسے آپس کی گفتگو کا حصہ نہيں بنایا جاتا۔ اب کیونکہ طبقۂ اشرافیہ اور سرکار کی جانب سے مستقبل قریب میں اردو کی جانب سے نظر التفات ڈالنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر زبان کی اہمیت کو جانیں اور حسب استطاعت اس کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالیں۔

  2. محمد وارث صاحب آپ نے خوبصورتی سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کے کم از کم ایک نکتے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ یہ کے ماضی کی محرومیاں فراموش کرکے اس بات پر دھیان دیا جائے کے نئی صدی میں زبان کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔

  3. وارث نے عمدہ تجزیہ کیا ہے اورمیں اس بات سے متفق ہوں کہ اردو تو ابھی عروج کی طرف بڑھ رہی ہے تو زوال کا سوال کیسا نہ ہی کبھی ایسا دور گزرا ہے جس میں اردو تخت پر براجمان تھی اور اب اس کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے جس کی وجہ سے اس کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔

    اردو کی جڑیں عوام میں ہیں اور نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ ہندوستان میں بھی ہیں اور یہ باوجود نظر انداز کردینے کے وہاں کی چودہ سرکاری زبانوں میں‌شامل ہیں اور ہندوستان میں‌اب بھی اسے مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ ٹی وی اور سینیما کی زبان بھی اردو ہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں اس کی جڑیں گہری تھیں اور گہری رہیں گی۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر