<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: کیا اردو اپنا مقام حاصل کرسکے گی؟ (از: راشد کامران)</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Tue, 24 Jan 2012 10:29:09 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
	<item>
		<title>By: نعمان کی ڈائری - &#187; اردو بلاگستان پر ایک مضمون</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-184</link>
		<dc:creator>نعمان کی ڈائری - &#187; اردو بلاگستان پر ایک مضمون</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 03 Aug 2008 11:29:12 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-184</guid>
		<description>[...] لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: منظر نامہ &#187; Blog Archive &#187; انٹرویوز اپڈیٹ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-183</link>
		<dc:creator>منظر نامہ &#187; Blog Archive &#187; انٹرویوز اپڈیٹ</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Jul 2008 22:01:13 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-183</guid>
		<description>[...]  1۔ راشد کامران 1 [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...]  1۔ راشد کامران 1 [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: rkamran</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-182</link>
		<dc:creator>rkamran</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 May 2008 17:40:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-182</guid>
		<description>فیصل صاحب موضوع پر تبصرے کا شکریہ۔۔ میں نے دوسرے جز میں قومی زبان اردو کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور میں سمجھتا ہوں اردو کو قومی زبان بنانا ہی دراصل جمہوری اصولوں کے منافی تھا کیونکہ یہ اکثریت کی زبان نہیں‌تھی۔ اگر وقت نکال سکیں تو اس پر اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کریں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>فیصل صاحب موضوع پر تبصرے کا شکریہ۔۔ میں نے دوسرے جز میں قومی زبان اردو کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور میں سمجھتا ہوں اردو کو قومی زبان بنانا ہی دراصل جمہوری اصولوں کے منافی تھا کیونکہ یہ اکثریت کی زبان نہیں‌تھی۔ اگر وقت نکال سکیں تو اس پر اپنے خیالات سے ضرور آگاہ کریں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فیصل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-181</link>
		<dc:creator>فیصل</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 May 2008 16:02:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-181</guid>
		<description>ایک ہی بات کہنا چاہونگا کہ اردو کو قومی زبان کس نے بنا دیا؟ ہم میں‌سے کتنے لوگ گھروں میں‌اردو بولتے ہیں اور جب بنگالی اپنی شناخت کیلئے چیخ رہے تھے تو بنگلہ بولنے والے زیادہ تھے یا اردو بولنے والے؟
اردو کا جو مقام آج ہے ہمیشہ سے تھا، ہم نے عربی اور فارسی سے ناطہ توڑ لیا جسکی سزا آج تک مل رہی ہے۔ اردو کی ترقی و ترویج کیلئے پہلے تو اسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا ہو گا، ذرا کسی سندھی، پٹھان بلکہ پنجابی پر بھی اپنی اردو آزمائیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگوں‌نے نزدیک اسکا کیا مقام ہے۔ زبان لوگوں کیلئے ہوتی ہے، لوگ زبان کیلئے نہیں۔ آخری بات کہ اگر اردو کو ہر حال میں‌ترقی دینی ہی ہے تو اسکے لیے بہت سے لوگ، کثیر رقم اور وقت درکار ہو گا کہ دنیا بہت آگے نکل کئی ہے۔ کئی صدیاں‌تو حالیہ علم کے ترجمے میں‌ہی خرچ ہو جائیں گی۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ایک ہی بات کہنا چاہونگا کہ اردو کو قومی زبان کس نے بنا دیا؟ ہم میں‌سے کتنے لوگ گھروں میں‌اردو بولتے ہیں اور جب بنگالی اپنی شناخت کیلئے چیخ رہے تھے تو بنگلہ بولنے والے زیادہ تھے یا اردو بولنے والے؟<br />
اردو کا جو مقام آج ہے ہمیشہ سے تھا، ہم نے عربی اور فارسی سے ناطہ توڑ لیا جسکی سزا آج تک مل رہی ہے۔ اردو کی ترقی و ترویج کیلئے پہلے تو اسے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا ہو گا، ذرا کسی سندھی، پٹھان بلکہ پنجابی پر بھی اپنی اردو آزمائیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ لوگوں‌نے نزدیک اسکا کیا مقام ہے۔ زبان لوگوں کیلئے ہوتی ہے، لوگ زبان کیلئے نہیں۔ آخری بات کہ اگر اردو کو ہر حال میں‌ترقی دینی ہی ہے تو اسکے لیے بہت سے لوگ، کثیر رقم اور وقت درکار ہو گا کہ دنیا بہت آگے نکل کئی ہے۔ کئی صدیاں‌تو حالیہ علم کے ترجمے میں‌ہی خرچ ہو جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-180</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 May 2008 09:50:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-180</guid>
		<description>شکریے کا بہت شکریہ راشد صاحب۔
میرے خیال میں آپ کی بہت ساری باتیں مفروضات پر مبنی ہیں اور بہرحال ایک زوال پذیر قوم اور اس کی زوال پذیر زبان کا دفاع کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔
میرے خیال میں جب اردو کو ہم borrowed language کہتے ہیں تو پھر یہ شکوہ بھی درست نہیں کہ اردو میں شاعری و نثر کی اپنی کوئی صنف نہیں۔ کیونکہ میری ادب پر نظر بہت گہری نہیں اس لیے شاید مثالوں کے ساتھ آپ کو نہ بتا سکوں لیکن آپ کا یہ شکوہ میں بیجا نظر آتا ہے۔
آپ کے نکتہ نمبر 2 کے جواب میں اتنا کہوں گا کہ غالب تو بلاشبہ میرے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن اقبال تو اچھے خاصے خوشحال تھے۔ لیکن غالب طبقۂ غریباں سے ہونے کے باوجود اردو شاعری پر کتنا گہرا اثر رکھتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف طبقہ اشرافیہ ہی نہیں بلکہ اچھا کام بھی زبان اور اس کے چاہنے والوں پر اثرات ڈالتا ہے۔ البتہ یہ تو دائمی تصور ہے کہ دولت مند طبقہ یا بااثر طبقہ کا ہر کام معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے چاہے وہ بودوباش ہو یا وضع قطع یا پھر زبان۔ تیسری بات یہ کہ آجکل اگر شاعر اور مصنف اپنا گھر نہیں چلا سکتا تو اس کا سبب اردو کے ساتھ روا رکھا جانے والا من حیث المجموع ہمارا رویہ ہے۔ حکومتی سطح پر اردو دانوں کی سرپرستی نہیں کی جا رہی تبھی وہ لوگ شاعری چھوڑ کر کلرکی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
جامعہ عثمانیہ کے حوالے سے آپ نے ایک عجیب منطق اختیار کی ہے، برادر پورے 3 سے 4 سال کی تعلیم اردو میں حاصل کی جاتی تھی اور پھر اس کے بعد &quot;صرف انگریزی اصطلاحات&quot; جاننے کے لیے انگریزی زبان کا ایک کورس ہوتا تھا اب آپ 4 سالوں کی تعلیم پر ان 6 ماہ کو اہمیت دیتے ہیں تو اس میں اردو کا قصور نہیں۔ جامعہ عثمانیہ کا کام آج بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اردو وکیپیڈیا پر ایک صاحب استعمال بھی کررہے ہیں لیکن بات وہی ہے کہ بجائے حوصلہ افزائی کہ ہر طرف سے طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ اردو وکیپیڈیا پر نہ سمجھ میں آنے والی اردو استعمال کی جاتی ہے۔
آپ نے اپنی تمام گفتگو کا جو اصل لباب پیش کیا ہے وہی اردو کا اصل مسئلہ ہے اور میں اس سے بالکل متفق ہوں کہ اردو کو اگر دوبارہ زندہ ہونا ہے تو اس کو اپنا تعلق فارسی اور عربی سے جوڑنا ہوگا۔ ایک لشکری زبان لازماً جدید اصلاحات کے لیے انہی زبانوں کی محتاج ہوگی جن سے اس کا خمیر اٹھا ہے اس لیے میری ذاتی طور پر ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ عربی اور فارسی میں ہونے والے وسیع ترین کام سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور ان کی اصلاحات کو بعینہ یا مناسب تبدیلی کر کے اردو میں شامل کر لیا جائے۔
آخر میں آپ سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ ایک مرتبہ اردو وکیپیڈیا کا دورہ ضرور کریں، وہاں اہم ترین علوم کو اردویانے کا کام بہت اعلٰی پیمانے پر کیا جا رہا ہے، خصوصاً طب اور ریاضی میں اچھا خاصا کام کیا گیا ہے۔ آپ درج ذیل ربط سے اردو وکیپیڈيا پر جا سکتے ہیں:
http://ur.wikipedia.org/wiki/</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شکریے کا بہت شکریہ راشد صاحب۔<br />
میرے خیال میں آپ کی بہت ساری باتیں مفروضات پر مبنی ہیں اور بہرحال ایک زوال پذیر قوم اور اس کی زوال پذیر زبان کا دفاع کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔<br />
میرے خیال میں جب اردو کو ہم borrowed language کہتے ہیں تو پھر یہ شکوہ بھی درست نہیں کہ اردو میں شاعری و نثر کی اپنی کوئی صنف نہیں۔ کیونکہ میری ادب پر نظر بہت گہری نہیں اس لیے شاید مثالوں کے ساتھ آپ کو نہ بتا سکوں لیکن آپ کا یہ شکوہ میں بیجا نظر آتا ہے۔<br />
آپ کے نکتہ نمبر 2 کے جواب میں اتنا کہوں گا کہ غالب تو بلاشبہ میرے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن اقبال تو اچھے خاصے خوشحال تھے۔ لیکن غالب طبقۂ غریباں سے ہونے کے باوجود اردو شاعری پر کتنا گہرا اثر رکھتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف طبقہ اشرافیہ ہی نہیں بلکہ اچھا کام بھی زبان اور اس کے چاہنے والوں پر اثرات ڈالتا ہے۔ البتہ یہ تو دائمی تصور ہے کہ دولت مند طبقہ یا بااثر طبقہ کا ہر کام معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے چاہے وہ بودوباش ہو یا وضع قطع یا پھر زبان۔ تیسری بات یہ کہ آجکل اگر شاعر اور مصنف اپنا گھر نہیں چلا سکتا تو اس کا سبب اردو کے ساتھ روا رکھا جانے والا من حیث المجموع ہمارا رویہ ہے۔ حکومتی سطح پر اردو دانوں کی سرپرستی نہیں کی جا رہی تبھی وہ لوگ شاعری چھوڑ کر کلرکی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔<br />
جامعہ عثمانیہ کے حوالے سے آپ نے ایک عجیب منطق اختیار کی ہے، برادر پورے 3 سے 4 سال کی تعلیم اردو میں حاصل کی جاتی تھی اور پھر اس کے بعد &#8220;صرف انگریزی اصطلاحات&#8221; جاننے کے لیے انگریزی زبان کا ایک کورس ہوتا تھا اب آپ 4 سالوں کی تعلیم پر ان 6 ماہ کو اہمیت دیتے ہیں تو اس میں اردو کا قصور نہیں۔ جامعہ عثمانیہ کا کام آج بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اردو وکیپیڈیا پر ایک صاحب استعمال بھی کررہے ہیں لیکن بات وہی ہے کہ بجائے حوصلہ افزائی کہ ہر طرف سے طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ اردو وکیپیڈیا پر نہ سمجھ میں آنے والی اردو استعمال کی جاتی ہے۔<br />
آپ نے اپنی تمام گفتگو کا جو اصل لباب پیش کیا ہے وہی اردو کا اصل مسئلہ ہے اور میں اس سے بالکل متفق ہوں کہ اردو کو اگر دوبارہ زندہ ہونا ہے تو اس کو اپنا تعلق فارسی اور عربی سے جوڑنا ہوگا۔ ایک لشکری زبان لازماً جدید اصلاحات کے لیے انہی زبانوں کی محتاج ہوگی جن سے اس کا خمیر اٹھا ہے اس لیے میری ذاتی طور پر ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ عربی اور فارسی میں ہونے والے وسیع ترین کام سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور ان کی اصلاحات کو بعینہ یا مناسب تبدیلی کر کے اردو میں شامل کر لیا جائے۔<br />
آخر میں آپ سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ ایک مرتبہ اردو وکیپیڈیا کا دورہ ضرور کریں، وہاں اہم ترین علوم کو اردویانے کا کام بہت اعلٰی پیمانے پر کیا جا رہا ہے، خصوصاً طب اور ریاضی میں اچھا خاصا کام کیا گیا ہے۔ آپ درج ذیل ربط سے اردو وکیپیڈيا پر جا سکتے ہیں:<br />
<a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/"  rel="nofollow">http://ur.wikipedia.org/wiki/</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: منظر نامہ &#187; کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟ آخری جز (از: راشد کامران)</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-179</link>
		<dc:creator>منظر نامہ &#187; کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟ آخری جز (از: راشد کامران)</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 May 2008 22:58:57 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-179</guid>
		<description>[...] منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں ، میں‌ نے اردو کی تاریخی پس منظر میں اس مقدمہ کو [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] منظر نامہ میں نکتہ نظر کے موضوع پر اس سلسلے میں اپنی پچھلی پوسٹ میں ، میں‌ نے اردو کی تاریخی پس منظر میں اس مقدمہ کو [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-178</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 May 2008 11:45:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-178</guid>
		<description>سب کچھ پڑھنے کے بعد ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قصور ہمارا ہے زبان کا نہیں ۔ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ دماغ پر سے مغربی تہذیب کا خول اُتر نہیں پاتا ۔
کچھ حقائق  کا اظہار ضروری ہے
ہماری بہت سی عدالتون کی زبان اُردو ہے ۔ درخواستیں اُردو میں دی جاتی ہیں اور بحث بھی اُردو میں کی جاتی ہے ۔
پچھلے نو سال کا حال معلوم نہیں اس سے قبل کے چھبیس سال کم از کم صوبہ سرحد کی اسمبلی میں صرف اُردو ہی بولی جاتی رہی ۔ اس کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں بھی زیادہ تر اُردو بولی جاتی رہی ۔ قومی اسمبلی میں اُردو اور انگریزی دونوں بولی جاتی رہیں ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سب کچھ پڑھنے کے بعد ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قصور ہمارا ہے زبان کا نہیں ۔ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ دماغ پر سے مغربی تہذیب کا خول اُتر نہیں پاتا ۔<br />
کچھ حقائق  کا اظہار ضروری ہے<br />
ہماری بہت سی عدالتون کی زبان اُردو ہے ۔ درخواستیں اُردو میں دی جاتی ہیں اور بحث بھی اُردو میں کی جاتی ہے ۔<br />
پچھلے نو سال کا حال معلوم نہیں اس سے قبل کے چھبیس سال کم از کم صوبہ سرحد کی اسمبلی میں صرف اُردو ہی بولی جاتی رہی ۔ اس کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں بھی زیادہ تر اُردو بولی جاتی رہی ۔ قومی اسمبلی میں اُردو اور انگریزی دونوں بولی جاتی رہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: منظر نامہ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-177</link>
		<dc:creator>منظر نامہ</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 May 2008 11:28:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-177</guid>
		<description>ماشاء اللہ! بہت ہی عمدہ اور معلوماتی تحریر اور اس پر نہ صرف ابوشامل کا جواب خوبصورت ہے بلکہ راشد کامران کی جانب سے اپنے مؤقف کے حق میں مزید دلائل سونے پہ سہاگہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر راشد کامران کی جانب سے سب سے پہلے تحریر کا لکھا جانا  فروغ اردو کے حوالہ سے ان کی سنجیدہ سوچ کا مظہر ہے۔
۔۔۔۔۔
عمار</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ماشاء اللہ! بہت ہی عمدہ اور معلوماتی تحریر اور اس پر نہ صرف ابوشامل کا جواب خوبصورت ہے بلکہ راشد کامران کی جانب سے اپنے مؤقف کے حق میں مزید دلائل سونے پہ سہاگہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر راشد کامران کی جانب سے سب سے پہلے تحریر کا لکھا جانا  فروغ اردو کے حوالہ سے ان کی سنجیدہ سوچ کا مظہر ہے۔<br />
۔۔۔۔۔<br />
عمار</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-176</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 May 2008 16:31:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-176</guid>
		<description>ابوشامل صاحب وقت نکال کر تبصرے کا شکریہ۔۔ معذرت اور بری لگنے والے کوئی بات ہی نہیں اس بلاگ کا مقصد ہی مباحثہ ہے اور اس میں‌ رنگ ہی اس وقت آئے گا جب مختلف الآراء‌ لوگ تبادلئہ خیال کریں‌گے۔۔ کچھ چیزوں‌کی وضاحت کرنا چاہوں‌گا جو میں غالبا مناسب طرح‌ بیان نہیں‌ کرسکا۔

1۔ شاعری کے ذخیرے کی جب ہم بات کرتے ہیں‌تو ہم تک بندی اور نہانے دھونے والے شاعری کی بات نہیں‌کرتے۔۔ آپ شروع سے آخر تک شاعروں کی فہرست نکال لیں۔۔ میر اور غالب سے شروع فیض‌اور فراز پر ختم ہوجائے گی۔۔ اور وہی ہم ابتدائی جماعتوں سے پڑھتے چلے آرہے ہیں۔۔ نثر میں‌ تو ابھی تک یہی طے نہیں‌ہو کے اردو نثر ہوگی کیا۔۔ زیادہ تر خیالات دوسری زبانوں کے مصنفوں‌کے ہیں‌ غزل طرز کی اصل چیز کوئی نہیں۔

2۔ اشرافیہ کی زبان نہ ہونے کی وجہ سے زبان کی ترقی کے لیے درکار وسائل استعمال نہیں‌ہوسکتے۔۔  اقبال، غالب اور وصی شاہ کے حالات بھی دیکھیے اور دوسری زبانوں کے لکھنے والوں‌ کے حالات بھی دیکھیے اور یہ تقابل کریں‌ کے اشرافیہ بہر حال معاشرے پر اثر ڈالتی ہے اور عام لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں۔ ہمارا شاعر اور مصنف تو اپنا گھر نہیں‌چلا سکتا۔۔

3۔ جامعہ عثمانیہ کوئی تھی تو اسکی المنائی کہاں‌گئی؟‌ کیوں طب کو اردو میں‌منتقل نہیں‌کیا گیا؟‌ وجہ سادہ سی ہے کے طب کہیں بہت آگے نکل چکا تھا اور جامعہ عثمانیہ کے طالب علموں کو چھے مہینے انگلستان جانا پڑتا تھا نا کے انگلستان کے طالب علموں کو جامعہ عثمانیہ۔۔ کیونکہ اردو تعلیمی زبان کبھی رہی ہی نہیں۔

4۔ اردو میں‌ پروفیشنل تعلیم اور میدانوں کے لیے اصطلاحات ہی موجود نہیں‌ کام ملنا تو دور کی بات ہے ۔ اردو نیوز چینلز کے میزبانوں کا اردو جاننا غالبا ایک اثتثناء‌ہے بصورت دیگر حالات ہمارے سامنے ہیں۔ سو پچاس نیوز ریڈرز کی جاب کے علاوہ کیا ہوگا؟‌ بینکنگ؟ معاشیات؟‌ آئی ٹی، میڈیکل، میکینیکل؟‌ دوسری انجینرئنگ؟‌ آپ کیسے اردو میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور جاب حاصل کرسکتے ہیں؟‌ جذباتی حد تو کہنا آسان ہوگا۔۔ عملی نہیں ہے۔

اصل مسئلہ جو میں سمجھا ہوں وہ اردو نہیں‌۔۔ اصل مسئلہ ہمارا فارسی اور خصوصا عربی سے ناطہ توڑنا۔۔ کیونکہ علم کا ماخذ یہ زبانیں تھیں نہ کے اردو۔ ہمارا ناطہ عربی سے توڑ‌کر انگریزی سے جوڑ دیا گیا۔۔ چناچہ دوسرا ماخذ انگریزی بن گیا اور وہی اشرافیہ کی زبان اور ہمارے آئین کی زبان۔۔ اردو کبھی علم کا ماخذ‌رہا ہی نہیں۔۔ یہ صرف نوسٹیلجیا ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ابوشامل صاحب وقت نکال کر تبصرے کا شکریہ۔۔ معذرت اور بری لگنے والے کوئی بات ہی نہیں اس بلاگ کا مقصد ہی مباحثہ ہے اور اس میں‌ رنگ ہی اس وقت آئے گا جب مختلف الآراء‌ لوگ تبادلئہ خیال کریں‌گے۔۔ کچھ چیزوں‌کی وضاحت کرنا چاہوں‌گا جو میں غالبا مناسب طرح‌ بیان نہیں‌ کرسکا۔</p>
<p>1۔ شاعری کے ذخیرے کی جب ہم بات کرتے ہیں‌تو ہم تک بندی اور نہانے دھونے والے شاعری کی بات نہیں‌کرتے۔۔ آپ شروع سے آخر تک شاعروں کی فہرست نکال لیں۔۔ میر اور غالب سے شروع فیض‌اور فراز پر ختم ہوجائے گی۔۔ اور وہی ہم ابتدائی جماعتوں سے پڑھتے چلے آرہے ہیں۔۔ نثر میں‌ تو ابھی تک یہی طے نہیں‌ہو کے اردو نثر ہوگی کیا۔۔ زیادہ تر خیالات دوسری زبانوں کے مصنفوں‌کے ہیں‌ غزل طرز کی اصل چیز کوئی نہیں۔</p>
<p>2۔ اشرافیہ کی زبان نہ ہونے کی وجہ سے زبان کی ترقی کے لیے درکار وسائل استعمال نہیں‌ہوسکتے۔۔  اقبال، غالب اور وصی شاہ کے حالات بھی دیکھیے اور دوسری زبانوں کے لکھنے والوں‌ کے حالات بھی دیکھیے اور یہ تقابل کریں‌ کے اشرافیہ بہر حال معاشرے پر اثر ڈالتی ہے اور عام لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں۔ ہمارا شاعر اور مصنف تو اپنا گھر نہیں‌چلا سکتا۔۔</p>
<p>3۔ جامعہ عثمانیہ کوئی تھی تو اسکی المنائی کہاں‌گئی؟‌ کیوں طب کو اردو میں‌منتقل نہیں‌کیا گیا؟‌ وجہ سادہ سی ہے کے طب کہیں بہت آگے نکل چکا تھا اور جامعہ عثمانیہ کے طالب علموں کو چھے مہینے انگلستان جانا پڑتا تھا نا کے انگلستان کے طالب علموں کو جامعہ عثمانیہ۔۔ کیونکہ اردو تعلیمی زبان کبھی رہی ہی نہیں۔</p>
<p>4۔ اردو میں‌ پروفیشنل تعلیم اور میدانوں کے لیے اصطلاحات ہی موجود نہیں‌ کام ملنا تو دور کی بات ہے ۔ اردو نیوز چینلز کے میزبانوں کا اردو جاننا غالبا ایک اثتثناء‌ہے بصورت دیگر حالات ہمارے سامنے ہیں۔ سو پچاس نیوز ریڈرز کی جاب کے علاوہ کیا ہوگا؟‌ بینکنگ؟ معاشیات؟‌ آئی ٹی، میڈیکل، میکینیکل؟‌ دوسری انجینرئنگ؟‌ آپ کیسے اردو میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور جاب حاصل کرسکتے ہیں؟‌ جذباتی حد تو کہنا آسان ہوگا۔۔ عملی نہیں ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ جو میں سمجھا ہوں وہ اردو نہیں‌۔۔ اصل مسئلہ ہمارا فارسی اور خصوصا عربی سے ناطہ توڑنا۔۔ کیونکہ علم کا ماخذ یہ زبانیں تھیں نہ کے اردو۔ ہمارا ناطہ عربی سے توڑ‌کر انگریزی سے جوڑ دیا گیا۔۔ چناچہ دوسرا ماخذ انگریزی بن گیا اور وہی اشرافیہ کی زبان اور ہمارے آئین کی زبان۔۔ اردو کبھی علم کا ماخذ‌رہا ہی نہیں۔۔ یہ صرف نوسٹیلجیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urdu-ka-maqam-rashid/comment-page-1/#comment-175</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 May 2008 11:09:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/20/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%b3%da%a9%db%92-%da%af%db%8c%d8%9f/#comment-175</guid>
		<description>راشد کامران صاحب آپ نے منظر نامہ کی آواز پر جتنی جلدی لبیک کہا اس سے آپ کی نظر میں اس موضوع کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے بہرحال آپ نے موضوع پر گفتگو کا ابھی آغاز کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ گفتگو مزید آگے نکلے گی اور کئی زاویے سامنے آنے کے بعد آپ چند حوالوں سے شاید اپنی رائے بدل لیں۔
اردو کے مقام کے حوالے سے چند نکات پر میں بھی کچھ تحریر کروں گا لیکن فی الوقت آپ کی تحریر تبصرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے چند ایسے نکات اٹھائے ہیں جو مجھے حیرانگی میں مبتلا کر گئے ہیں جیسا کہ آپ نے پہلے ہی پیراگراف میں ایک ایسا جملہ لکھ دیا ہے جس نے مجھے تبصرے پر مجبور کیا کہ
===============================================
اردو اس طرح‌کبھی بھی سرکاری یا دفتری زبان نہیں‌رہی جسطرح اسکے جد امجد عربی یا فارسی اور نہ ہی اس میں ادب کا اتنا تنوع اور وسیع ذخیرہ پایا جاتا ہے جیسا کے بیشتر دوسری زبانوں میں‌ اور جدید دور کے مضامین اور سائنس کے لحاظ سے تو یہ گویا بانجھ ہی شمار ہوگی۔
===============================================
انتہائی حیران کن بات ہے کہ اردو ادب میں جتنا شاعری و نثر کا ذخیرہ ہے اتنا تو اس کی ہم عمر کسی زبان میں موجود نہیں، خصوصاً اسلامی مواد جتنا اردو میں موجود ہے اس کا مقابلہ سوائے عربی اور فارسی کے کوئی زبان نہیں کر سکتی بلکہ اسلامی ادب میں وہ فارسی مواد کے مقابل کھڑی ہے۔ ہاں البتہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جدید دور کے مضامین کے لیے اردو میں مواد بہت کم ہے لیکن اسے بانجھ قرار نہیں دیا جا سکتا، اردو بہت زرخیز زبان ہے بس اس کے لیے کام کرنے والے اپنے ذہنوں کو زرخیز بنائیں۔
===============================================
کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے اسکا اشرافیہ کے اندر سرایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 1739 میں‌ خیال کیا جاتا ہے کے اردو کو درباری یا سرکاری زبان کا درجہ ملا لیکن خوشامدی شاعری یا نوحوں‌یا مرثیوں سے آگے کچھ بھی اس زبان میں‌ تعمیری تخلیق نہ ہوسکا یہاں‌تک کے نوہندوستان میں‌ نو آبادیاتی دور آپہنچا۔
===============================================
کچھ لوگ اسے غریبوں کی زبان کی کہتے ہیں اور کچھ اسے مسلمانوں کو عربوں اور فارسی سے دور کرنے کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ایک سازشی زبان کس طرح قبولیت عام حاصل کر سکتی ہے، سرکاری سطح پر نافذ کی جانے والی زبان غالب اور اقبال تو کجا ایک بشیر بدر اور وصی شاہ بھی پیدا نہیں کر سکتی اس لیے یہ حملہ تو خود ہی ناکارہ ہوتا ہے۔  دوسری جانب میں یہ بات بھی آپ پر واضح کردوں کہ زبان کی اعلٰی سطح پر ترقی کے لیے اس کی اشرافیہ میں پذیرائی ضروری نہیں، اردو اور دیگر تمام زبانوں پر اعلٰی سطحی کام مڈل کلاس کے لوگوں نے کیا۔
مجھے اس بات پر تو بہت ہی زیادہ حیرت ہوئی کہ آپ سرے سے اردو کے تعلیمی زبان ہونے سے ہی انکاری ہیں، محترم! جامعہ عثمانیہ نامی کوئی چیز بھی ہوتی تھی ریاست حیدرآباد میں جہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم تک اردو زبان میں دی جاتی تھی اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد صرف 6 ماہ کے انگریزی زبان کے کورس کے لیے ڈاکٹروں کے انگلستان بھیجا جاتا تھا تاکہ وہ انگریزی اصطلاحات کے بارے میں جان سکیں اور اس کورس کی تکمیل کے بعد انہیں سند سے نوازا جاتا تھا۔ اب ہم خود ہی اپنے ماضی سے ناطہ توڑ لیں اور اس کی تمام نشانیوں کو چھوڑ دیں تو زبان اور ورثے کا کیا قصور؟
اور اردو میں تکنیکی مضامین پڑھانا فی الوقت مشکل تو ضرور نظر آتاہے لیکن اگر سرکاری سطح پر اصطلاحات سازی کے عمل کا آغاز کیا جائے اور انہیں عملاً نافذ کیا جائے تو اگلے 15 سے 20 سالوں کے اندر آپ کو نتائج نظرآئیں گے۔
===============================================
ہمارے یہاں صرف اردو دانی پر ایک چپراسی بھی ملازم بھرتی نہیں‌ہوسکتا زبان کیونکر ترقی کرے؟
===============================================
اس جملے پر تو مجھے بہت زیادہ اعتراضات اور تحفظات ہیں، محترم اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ تنخواہ دینے والے ادارے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ٹی وی چینل اور اخبارات وغیرہ ہیں جو اردو سے نابلد افراد کو کھڑے کھڑے باہر نکال دیتے ہیں اور انہی افراد کی قدر ہوتی ہے جو زبان و بیان کو زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں البتہ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا معیار بھی روز بروز گرتا جا رہا ہے اور انگریزی زدہ اردو کا غلبہ ہے لیکن اس کے باوجود اچھی اردو لکھنے اور بولنے والوں کی قدر ہے۔
ان باتوں کے علاوہ میں آپ کی تمام باتوں سے بالکل متفق ہوں، اگر تبصرے میں کوئی بات بری لگے تو میں بہت معذرت خواہ ہوں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>راشد کامران صاحب آپ نے منظر نامہ کی آواز پر جتنی جلدی لبیک کہا اس سے آپ کی نظر میں اس موضوع کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے بہرحال آپ نے موضوع پر گفتگو کا ابھی آغاز کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ گفتگو مزید آگے نکلے گی اور کئی زاویے سامنے آنے کے بعد آپ چند حوالوں سے شاید اپنی رائے بدل لیں۔<br />
اردو کے مقام کے حوالے سے چند نکات پر میں بھی کچھ تحریر کروں گا لیکن فی الوقت آپ کی تحریر تبصرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے چند ایسے نکات اٹھائے ہیں جو مجھے حیرانگی میں مبتلا کر گئے ہیں جیسا کہ آپ نے پہلے ہی پیراگراف میں ایک ایسا جملہ لکھ دیا ہے جس نے مجھے تبصرے پر مجبور کیا کہ<br />
===============================================<br />
اردو اس طرح‌کبھی بھی سرکاری یا دفتری زبان نہیں‌رہی جسطرح اسکے جد امجد عربی یا فارسی اور نہ ہی اس میں ادب کا اتنا تنوع اور وسیع ذخیرہ پایا جاتا ہے جیسا کے بیشتر دوسری زبانوں میں‌ اور جدید دور کے مضامین اور سائنس کے لحاظ سے تو یہ گویا بانجھ ہی شمار ہوگی۔<br />
===============================================<br />
انتہائی حیران کن بات ہے کہ اردو ادب میں جتنا شاعری و نثر کا ذخیرہ ہے اتنا تو اس کی ہم عمر کسی زبان میں موجود نہیں، خصوصاً اسلامی مواد جتنا اردو میں موجود ہے اس کا مقابلہ سوائے عربی اور فارسی کے کوئی زبان نہیں کر سکتی بلکہ اسلامی ادب میں وہ فارسی مواد کے مقابل کھڑی ہے۔ ہاں البتہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جدید دور کے مضامین کے لیے اردو میں مواد بہت کم ہے لیکن اسے بانجھ قرار نہیں دیا جا سکتا، اردو بہت زرخیز زبان ہے بس اس کے لیے کام کرنے والے اپنے ذہنوں کو زرخیز بنائیں۔<br />
===============================================<br />
کسی بھی زبان کی ترقی کے لیے اسکا اشرافیہ کے اندر سرایت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 1739 میں‌ خیال کیا جاتا ہے کے اردو کو درباری یا سرکاری زبان کا درجہ ملا لیکن خوشامدی شاعری یا نوحوں‌یا مرثیوں سے آگے کچھ بھی اس زبان میں‌ تعمیری تخلیق نہ ہوسکا یہاں‌تک کے نوہندوستان میں‌ نو آبادیاتی دور آپہنچا۔<br />
===============================================<br />
کچھ لوگ اسے غریبوں کی زبان کی کہتے ہیں اور کچھ اسے مسلمانوں کو عربوں اور فارسی سے دور کرنے کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ایک سازشی زبان کس طرح قبولیت عام حاصل کر سکتی ہے، سرکاری سطح پر نافذ کی جانے والی زبان غالب اور اقبال تو کجا ایک بشیر بدر اور وصی شاہ بھی پیدا نہیں کر سکتی اس لیے یہ حملہ تو خود ہی ناکارہ ہوتا ہے۔  دوسری جانب میں یہ بات بھی آپ پر واضح کردوں کہ زبان کی اعلٰی سطح پر ترقی کے لیے اس کی اشرافیہ میں پذیرائی ضروری نہیں، اردو اور دیگر تمام زبانوں پر اعلٰی سطحی کام مڈل کلاس کے لوگوں نے کیا۔<br />
مجھے اس بات پر تو بہت ہی زیادہ حیرت ہوئی کہ آپ سرے سے اردو کے تعلیمی زبان ہونے سے ہی انکاری ہیں، محترم! جامعہ عثمانیہ نامی کوئی چیز بھی ہوتی تھی ریاست حیدرآباد میں جہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم تک اردو زبان میں دی جاتی تھی اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد صرف 6 ماہ کے انگریزی زبان کے کورس کے لیے ڈاکٹروں کے انگلستان بھیجا جاتا تھا تاکہ وہ انگریزی اصطلاحات کے بارے میں جان سکیں اور اس کورس کی تکمیل کے بعد انہیں سند سے نوازا جاتا تھا۔ اب ہم خود ہی اپنے ماضی سے ناطہ توڑ لیں اور اس کی تمام نشانیوں کو چھوڑ دیں تو زبان اور ورثے کا کیا قصور؟<br />
اور اردو میں تکنیکی مضامین پڑھانا فی الوقت مشکل تو ضرور نظر آتاہے لیکن اگر سرکاری سطح پر اصطلاحات سازی کے عمل کا آغاز کیا جائے اور انہیں عملاً نافذ کیا جائے تو اگلے 15 سے 20 سالوں کے اندر آپ کو نتائج نظرآئیں گے۔<br />
===============================================<br />
ہمارے یہاں صرف اردو دانی پر ایک چپراسی بھی ملازم بھرتی نہیں‌ہوسکتا زبان کیونکر ترقی کرے؟<br />
===============================================<br />
اس جملے پر تو مجھے بہت زیادہ اعتراضات اور تحفظات ہیں، محترم اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ تنخواہ دینے والے ادارے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ٹی وی چینل اور اخبارات وغیرہ ہیں جو اردو سے نابلد افراد کو کھڑے کھڑے باہر نکال دیتے ہیں اور انہی افراد کی قدر ہوتی ہے جو زبان و بیان کو زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں البتہ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا معیار بھی روز بروز گرتا جا رہا ہے اور انگریزی زدہ اردو کا غلبہ ہے لیکن اس کے باوجود اچھی اردو لکھنے اور بولنے والوں کی قدر ہے۔<br />
ان باتوں کے علاوہ میں آپ کی تمام باتوں سے بالکل متفق ہوں، اگر تبصرے میں کوئی بات بری لگے تو میں بہت معذرت خواہ ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

