کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی؟

یہ سلسلہ ہے “نکتہ نظر”۔ ہمارا آج کا اور پہلا موضوع اردو کی اہمیت اور اس کے مقام سے متعلق ہے۔ اس بارے میں آپ سب کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی دی جائے گی۔

آپ سب نے زکریا کا انٹرویو پڑھا، زکریا نے اردو کے بارے میں چند ایک ایسی باتیں کی ہیں جو ہم سب کے لیے غور طلب ہیں۔ آج ہم ان ہی کو زیرِ بحث لائیں گے۔ تو آئیں مل کر اس مسئلے کی وجوہات، اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زکریا کا شمار اردو کے اولین بلاگرز میں ہوتا ہے، انھیں اردو سے وابستہ ہوئے چار سال کا عرصہ ہو چکا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں نیٹ پر اردو میں فعال لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے، جبکہ دوسری طرف اسی دورانیہ میں باقی زبانوں جیسے عربی، فارسی وغیرہ میں لاکھوں بلاگز اور سائٹس سامنے آئی ہیں۔

اسی طرح ہمارے بلاگ پر ہی ایک اور بلاگر اکرام صدیقی کا تبصرہ بھی سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بلاگ اور مختلف فورمز پر “اردو بلاگنگ اور ہمارے تجربہ ” پر اپنی تحاریر لکھیں، لیکن زیادہ لوگ اس طرف نہ آ سکے۔ اور ساتھ ہی وہ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں کو کمپیوٹر پر اردو لکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، جس کی وجہ سے اردو کی طرف زیادہ لوگ نہیں آ رہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دشواری کا سامنا ہے یا پھر ہمیں اپنی زبان سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے جس کی وجہ سے اب تک بہت کم لوگ اس طرف آسکے ہیں؟ یا آپ کے خیال میں ایسی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں کہ اب تک اردو کا دائرہ وسیع نہیں ہو سکا۔ ہمیں ایسا کیا کرنا چاہیے یا ایسا کیا کر سکتے ہیں کہ لوگ اردو کی طرف آ سکیں؟ کیا ہمیں مثبت سوچ رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ آئندہ چند آنے والے سالوں میں ہم نیٹ پر اردو کا اپنا اصل مقام حاصل کرتا دیکھ سکیں گے؟ یا پھر اگر دوسری طرف دیکھیں تو ہمارے کچھ بلاگرز ساتھی اردو بلاگنگ شروع کرنے کے بعد چھوڑ چکے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو شاید اصل منزل تک پہنچنے میں ہمیں کئی سال لگ جائیں۔

یہ ایک لمحہء فکریہ ہے۔ ہم سب کو اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچنے اور اس حوالہ سے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ زبان کسی بھی ملک سے متعلق ہوتی ہے، یہ حقیقت کتنی قدیم اور واضح ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ زبان کو مادری زبان بولا جاتا ہے۔ افراد زبان کے صارف بھی ہوتے ہیں اور وارث بھی۔ وہ نہ صرف اپنی زبان کو اگلی نسل کو منتقل کرتے ہیں بلکہ بیرون ملک جانے پر بھی اپنی زبان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔

زبان جب بن رہی ہوتی ہے تو شاید اس عہد کی آبادی کو یہ شعور بھی نہ ہو کہ اس وقت کوئی زبان بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اصلاح زبان کے لیے زبان میں اتنی نشوونما اور ترقی ضروری ہے کہ وہ تخلیقی مقاصد کے لیے بروئے کار لائی جا سکے۔ اور جب تخلیقات کا عمل شروع ہو جائے تو تخلیق کاروں سے لے کر انفرادی طور پر سب کا اس امر پر انحصار ہوتا ہے کہ وہ کب اور کیسے اصلاحی عمل اور زبان کو ترقی دینے کا آغاز کریں۔

اور اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کتنے عرصے میں نیٹ پر اردو کو ترقی دینے میں کامیاب ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس موضوع پر تحاریر ارسال کرنے کی آخری تاریخ 31 مئی ہے۔ ازراہ کرم تحریر پوسٹ کرتے ہوئے زمرہ “نکتہ نظر” منتخب کریں۔

ٹیگ:
  1. اجمل
    May 20th, 2008 at 12:43

    اچھا سلسلہ شروع کیا ہے آپ نے لیکن نمعلوم چل پائے گا یا نہیں ۔ وجہ صرف ایک ہے ۔ ناراض نہ ہو جائیے گا ۔ ہماری قوم کو اپنے آپ سے پیار ہی نہیں ۔ ہم ذہنی طور پر غلام ہیں صرف اُن چِٹی چمڑی والوں کے جن کا تعلق یورپ یا امریکہ سے ہو ۔

  2. ikram
    May 20th, 2008 at 13:14

    اسلام علیکم
    جناب اصل میں مسئلہ ہی یہ ہے کے ایک تو کس بھی ادارے میں کمپیوٹر پر اردو لکھنا نہیں بتایا جاتا اور اگر کوئی بات کرے تو لوگ یہ کہتے ہیں کے بھائی آج کل تو انگلش کا دور ہے آپ کیا اردو کو لے کر بیٹھے ہیں ۔خود میرے ساتھ ایسا ہوا ہے ۔ جب بھی بلاگ کی بات کروں تو سب یہ کہتے ہیں یار یہ اردو ہم سے نہیں لکھی جاتی اور اس کا فائدہ بھی کیا ہے گورنمنٹ کے ہر ادارے میں انگلش ہے اور ہر کا م انگلش میں ہوتا ہے توہم اردو کس لئے کمپیوٹر پر لکھنا سکھیے ۔
    اب آپ ہی بتائیں کے اردو کیسے ترقی کررے ۔جب ملک کا صدر ہی یہ کہتا ہے کے اردو میں انگلش کے الفاظ استعمال کرنے سے کچھ نہیں ہوتا تو قومی زبان پر خاک کام ہوگا۔؟؟؟
    جب تک آپ اسکولوں میں کمپیوٹر پر اردو لکھنا نہیں بتائیں گے ۔ اور تمام سرکاری اداروں کی ویب سائٹ اردو میں نہیں ہونگی ۔
    لوگ اردو کی طرف نہیں آئینگے ۔کیوں کے جب ہر طرف انگلش ہو گی تو اردو کی طرف کون آئے گا ۔ اور جب انگلش بولنے اور لکھنے والے کی قدر اردو والے سے بہت ذیادہ ہو گی تو اردو پر کام کیسے ہو کا۔
    یہاں ایک بات آپ کو بتاوں کے میں بلاگ بنانے کے بارے میں لکھا تو اس کو پڑھ کر کچھ لوگ نے انگلش میں تو بلاگ بنائے پر اردو میں بہت کم میرے ایک دوست کا کہنا ہے کے یار تم نے بہت آسان اردو میں لکھا ہے جس سے بلاگ بنانے میں آسانی ہو ئی ۔
    اس کام مطلب تو یہ ہے کے آسان الفاظ کام استعمال بھی ضروری ہو گیا ہے اردو کی ترقی کے لئے تک کے لے اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کے کے اردو کی ترقی کے لے کیا کیا کام کس کس طرح کرنا ہے ۔

  3. نعمان
    May 20th, 2008 at 17:33

    جو لوگ کہتے ہیں کہ جی پاکستان میں انگریزی ہی ڈی فیکٹو سرکاری اور غیرسرکاری زبان ہے تو وہ لوگ کونسی ستھری انگریزی لکھتے ہیں۔ بلاگ ایک طرح سے اگر سوچ کا اظہار ہیں تو کہا جاتا ہے کہ لوگ عام طور پر اپنی مادری زبان میں ہی سوچتے ہیں۔ اور میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے انگریزی بلاگر انگریزی میں سوچتے ہیں۔ اس لئے ان کے بلاگ نہ مدلل ہوتے ہیں نہ تفریحی اور نہ ہی انہیں پڑھنے میں کوئی لطف آتا ہے۔ اکثر پاکستانی انگریزی بلاگ مغربی بلاگرز کے رویوں اور خیالات کو ہی دہرا رہے ہوتے ہیں۔ یوں کوا جو ہنس کی سی چلتا ہے تو اپنی سے بھی جاتا ہے۔ اور بے حد بھونڈا نظر آتا ہے۔

    تعداد کی بات کررہے ہیں تو انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تعداد تو اسپیم بلاگز کی ہے۔ تعداد ترقی کا اشارہ نہیں۔ ویب پر ترقی کا اشارہ ہونا چاہئے انٹرلنکنگ جو اصل میں انٹرنیٹ کی روح ہے۔ اور اگر آپ اس حساب سے جانچیں تو پاکستان کے انگریزی بلاگز نے بھی کوئی ترقی نہیں کی ہے۔ نہ ہی وہ مین اسٹریم میڈیا پر کسی طرح کا اثر ڈال سکے ہیں اور نہ ہی سماج میں کسی بھی چھوٹی سی تبدیلی کے لئے معاون ثابت ہوسکے ہیں۔

    اس کے برعکس میرا خیال ہے اردو بلاگنگ کافی زیادہ مختلف اور نئے موضوعات پر مبنی ہوتی ہے۔ ایک نیا انداز رکھتی ہے جو انگریزی بلاگنگ کے مروج طریقوں سے مختلف ہے۔ اس کے علاوہ اردو بلاگنگ ایک اچھی طرح سے انٹرلنکڈ کمیونٹی بنتی جارہی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اردو بلاگرز کو اپنے بلاگ بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا کے ذریعے عوام کی توجہ اردو بلاگنگ کی طرف کھیچ سکیں۔ ہم اچھا لکھتے ہیں ہمیں بہتر مارکیٹنگ اور برانڈنگ تکنیکس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

    میرا یہ بھی خیال ہے کہ جتنی زیادہ ریڈر شپ ہوگی اتنا ہی اردو بلاگز کی کوالٹی امپروو ہوگی۔ مسابقت بڑھے گی تو معیار بڑھے گا۔ توجہ ملے گی تو مزید نئے سے نیا کام کرنے کا شوق پیدا ہوگا۔

    طویل تبصرے کے لئے معذرت۔

  4. Umair
    May 20th, 2008 at 22:12

    asal masla urdu ka nahain balkay urdu waloon kee soch ka hai…aksar urdu bloggers mullah type soch rakhtay hain aur cheezoon ku is mehdood point of view say hut kay dhaiknay ku tiar nahain hain…yeah baat bil akhar boring hu jatee hai..

    doosree baat yeha key molvi type bloggers bhee degar molvioon kee tara munafqat ka shikaar hain ju inkee crudness ka mazhar hai…yeah bhee akkhar kaar boring hu jata hai

  5. منظر نامہ
    May 21st, 2008 at 03:25

    اجمل انکل، مایوسی کی باتیں؟ :sad: اجمل انکل۔۔۔ایسی بات بھی نہیں ہے، ابھی بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو اپنے ملک اپنی زبان سے پیار ہے۔ مجھے ہی دیکھ لیں۔ میری انگریزی سے جان جاتی ہے۔بلکہ جب اپنے ملک تھی تو انگریزی سے بہت واسطہ تھا، میرا پسندیدہ مضمون تھا۔ لیکن اب شاید ہی کبھی انگریزی میں بات کی ہو۔ اس لیے امید رکھیں۔ مجھے تو اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ پہلے موضوع پر ہی ہمارے اتنے ساتھیوں نے حصہ لینے کا کہا ہے۔ :smile:
    ۔۔
    اکرام، آپ کی بات بالکل درست ہے، ہمارے ملک میں لوگ انگریزی کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ پڑھے لکھے نہ بھی ہوں، بس انگریزی آتی ہو تو آپ کو پڑھے لکھوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کیسے ٹھیک ہو گا؟ پوسٹ میں بھی ذکر کیا ہے کہ جب زبان بن رہی ہوتی ہے تو ہمیں شعور بھی نہیں ہوتا کہ ایک زبان بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اسی طرح ہم سب مل کر تھوڑی بہت کوشش کرتے رہیں گے تو امید ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا نکلے گا۔ انشاءاللہ۔
    ۔۔
    نعمان، یہ ہوئی نا بات۔ اسی جذبے سے ہم اردو کو آگے لے کر جا سکیں گے۔
    لیکن ہم نہیں کسی کو کہتے کہ وہ اردو میں بلاگنگ کرے یا انگریزی میں۔۔انسان اسی زبان میں بلاگنگ یا بات چیت کرتا ہے، جس میں اسے آسانی اور سہولت محسوس ہو۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جاؤ، مادری زبان ہر جگہ آپ کے ساتھ رہتی ہے اور اسی میں بات چیت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ہم ہر بات بھی کسی اور زبان میں نہیں کہہ سکتے۔
    آپ تو ایک مکمل پوسٹ بلاگ پر لکھ سکتے تھے۔ چاہیں تو اپنا ای میل بھیج دیں آپ کو بلاگ پر آرتھر کی حیثیت سے رجسٹر کر لیا جائے گا۔

    ماوراء

  6. اجمل
    May 21st, 2008 at 08:40

    میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ اُردو یا مُلک سے محبت کرنے والے ختم ہو گئے ہیں ۔ میں نے دس جماعت پڑھوں مین سے اکثریت کی بات کی تھا ۔ نعمان صاہب نے بالکل درست لکھا ہے کہ ہر انسان اپنی زبان میں سوچتا ہے اور صحیح اظہارِ خیال کر سکتا ہے ۔ دوسری طرف انگریزی کے پرستاروں کی اکثریت درست انگریزی نہ لکھتی ہے نہ بولتی ہے

  7. محب علوی
    May 22nd, 2008 at 18:27

    اگر ہم سب یہاں بیٹھ کر ایک دوسری کی زباندانی کا جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ ہم لوگ انگریزی بھی جانتے ہیں اور اردو بھی بلکہ اردو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں اس لیے اسے رابطہ کا ذریعہ بنایا ہے۔ ابھی اس طبقہ تک کمپیوٹر پر اردو کی رسائی ہوئی ہی نہیں ہے جو صرف اردوق جانتا ہے اور انگریزی نہیں اور یقین کریں جب وہ طبقہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ استعمال کرنے لگے گا تو صحیح معنوں میں انقلاب آئے گا اور ہم لوگوں کی کاوشوں کو حقیقی معنوں میں وہی لوگ سراہ سکیں گے کیونکہ وہ جس زبان کو جانتے ہوں گے ہم اس زبان کے استعمال کو بہت آسان بنا کر پیش کر چکے ہوں گے۔

    اس کے علاوہ اب بھی کمپیوٹر استعمال کرنے والی ایک بڑی تعداد اردو کے استعمال سے نا واقف ہے

  8. phototech81
    May 24th, 2008 at 09:40

    اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ
    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    ارے بھائی کوئی اردو بولے یا نا بولے میں‌ تو اردو کو ہی اہمیت دوں گا جہاں دوسرے ممالک کے وزیرِ اعظم تک انگلش زبان سے زیادہ اپنی قومی زبان کو اہمیت دیتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اردو کو اہمیت دینی چاہے لیکن ہمارے ہاں بہت بڑا مسئلہ ہے جیسے اوپر دوستوں نے لکھا ہے کمپیوٹر میں اردو لکھنے کا بہت ہی مسئلہ ہوتا ہے اب آپ دیکھے جب ہم کسی بلاگ پر رائے دیتے ہیں تو رائے والے خانے میں بھی اردو ٹھیک سے لکھی نظر نہیں آتی ہے چھوٹے چھوٹے خانے بنے آتے ہیں کچھ لفظوں کی جگہ اس لے نئے لکھنے والے نیٹ پر اردو کی طرف کم ہی آتے ہیں رومن یا انگلش کی طرف ہی جاتے ہیں
    اردو کے لیے اگر ہم کچھ نہیں کرے گے تو پھر کون کرے گا

    مجھے بہت خوشی ہوئی آپ نے یہ سلسلہ شروع کیا اور اس سلسلہ میں بہت اچھے مضمون سامنے آئے بہت شکریہ

  9. میرا نہیں خیال کہ اردو کو اس کا جائز مقام کبھی مل سکےگا
    کیوں یہاں امجد اسلام امجد ایسے ادب سے روٹی کمانے والے
    اس کے رسم الخط کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑیں ہیں موصوف نے
    ایک کانفرنس میں ہرزہ سرائی فرمائی ہے کہ اردو کے رسم الخط
    سے چونکہ بدیسی لوگ واقف نہیں اس لیئے اسے رومن ہونا چاہیئے۔

  10. خاورچودھری
    Jun 18th, 2008 at 12:44

    مغل صاحب مایوس نہیں‌ہونا چاہیے۔۔۔۔۔اُردو میں دم خم ہوا(اور ہے) تو اس سے اس کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔۔۔۔۔

    یہاں منتظمین سے درخواست ہے کہ نکتہ نظر کی بجائے نقطہ نظر کرلیجیے کہ یہی درست ہے یا پھر زاویہ نگاہ وغیرہ



CommentLuv Enabled