<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: کیا اردو اپنا مقام حاصل کر سکے گی (از محمد وارث)</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Tue, 24 Jan 2012 10:29:09 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
	<item>
		<title>By: منظر نامہ &#187; Blog Archive &#187; انٹرویوز اپڈیٹ</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-236</link>
		<dc:creator>منظر نامہ &#187; Blog Archive &#187; انٹرویوز اپڈیٹ</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Jul 2008 21:58:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-236</guid>
		<description>[...] ابو شامل 3۔ محمد وارث 4۔ ایم [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] ابو شامل 3۔ محمد وارث 4۔ ایم [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محمد وارث</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-235</link>
		<dc:creator>محمد وارث</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Jun 2008 02:29:05 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-235</guid>
		<description>بہت شکریہ آپ کا اجمل صاحب، بہت خوشی ہوئی آپ کی رائے جان کر اور میں‌ آپ کی بات سے بالکل متفق ہوں کہ اردو ضرور ترقی کرے گی۔

شکریہ محب۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت شکریہ آپ کا اجمل صاحب، بہت خوشی ہوئی آپ کی رائے جان کر اور میں‌ آپ کی بات سے بالکل متفق ہوں کہ اردو ضرور ترقی کرے گی۔</p>
<p>شکریہ محب۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محب علوی</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-234</link>
		<dc:creator>محب علوی</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 May 2008 20:22:19 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-234</guid>
		<description>وارث نے عمدہ تجزیہ کیا ہے اورمیں اس بات سے متفق ہوں کہ اردو تو ابھی عروج کی طرف بڑھ رہی ہے تو زوال کا سوال کیسا نہ ہی کبھی ایسا دور گزرا ہے جس میں اردو تخت پر براجمان تھی اور اب اس کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے جس کی وجہ سے اس کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔

اردو کی جڑیں عوام میں ہیں اور نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ ہندوستان میں بھی ہیں اور یہ باوجود نظر انداز کردینے کے وہاں کی چودہ سرکاری زبانوں میں‌شامل ہیں اور ہندوستان میں‌اب بھی اسے مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ٹی وی اور سینیما کی زبان بھی اردو ہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں اس کی جڑیں گہری تھیں اور گہری رہیں گی۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>وارث نے عمدہ تجزیہ کیا ہے اورمیں اس بات سے متفق ہوں کہ اردو تو ابھی عروج کی طرف بڑھ رہی ہے تو زوال کا سوال کیسا نہ ہی کبھی ایسا دور گزرا ہے جس میں اردو تخت پر براجمان تھی اور اب اس کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے جس کی وجہ سے اس کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔</p>
<p>اردو کی جڑیں عوام میں ہیں اور نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ ہندوستان میں بھی ہیں اور یہ باوجود نظر انداز کردینے کے وہاں کی چودہ سرکاری زبانوں میں‌شامل ہیں اور ہندوستان میں‌اب بھی اسے مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ٹی وی اور سینیما کی زبان بھی اردو ہی ہے جس کی وجہ سے عوام میں اس کی جڑیں گہری تھیں اور گہری رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-233</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 May 2008 11:01:03 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-233</guid>
		<description>بہت خوب ۔ آپ کی اس تحریر ہی نے ثابت کر دیا ہے کہ اُردو یتیم نہیں ہے اور اس کے محافظ اور خیر خواہ موجود ہیں ۔ پھر اُردو کیوں ترقی نہ کرے گی ؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت خوب ۔ آپ کی اس تحریر ہی نے ثابت کر دیا ہے کہ اُردو یتیم نہیں ہے اور اس کے محافظ اور خیر خواہ موجود ہیں ۔ پھر اُردو کیوں ترقی نہ کرے گی ؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محمد وارث</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-232</link>
		<dc:creator>محمد وارث</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 May 2008 05:20:07 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-232</guid>
		<description>شکریہ ابو شامل صاحب۔

شکریہ راشد صاحب، واقعی یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترقی کیلیئے کچھ نہ کچھ مل جل کر ضرور کرنا چاہیئے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شکریہ ابو شامل صاحب۔</p>
<p>شکریہ راشد صاحب، واقعی یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترقی کیلیئے کچھ نہ کچھ مل جل کر ضرور کرنا چاہیئے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-231</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 May 2008 16:41:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-231</guid>
		<description>محمد وارث صاحب آپ نے خوبصورتی سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کے کم از کم ایک نکتے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ یہ کے ماضی کی محرومیاں فراموش کرکے اس بات پر دھیان دیا جائے کے نئی صدی میں زبان کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محمد وارث صاحب آپ نے خوبصورتی سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کے کم از کم ایک نکتے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ یہ کے ماضی کی محرومیاں فراموش کرکے اس بات پر دھیان دیا جائے کے نئی صدی میں زبان کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابوشامل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/05/urud-ka-maqam-waris/comment-page-1/#comment-230</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 May 2008 12:01:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/05/30/urud-ka-maqam-waris/#comment-230</guid>
		<description>بہت خوب وارث صاحب۔ اب جو چند دیوانے گھرانے رہتے ہیں وہیں بچے کے زبان و بیان کا خیال رکھا جاتا ہے، ہمارے گھر میں تو بچوں کے please اور thankyou اس طرح کے دیگر تمام الفاظ بولنے پر بھی پابندی ہے کیونکہ ان کے بہت اچھے اردو متبادل موجود ہیں۔ علاوہ ازیں الفاظ کی غلط ادائیگی پر بھی فورا‎ ٹوکا جاتا ہے تاکہ دوبارہ غلطی کا ظہور نہ ہو۔ البتہ اس کے باوجود علمی سطح پر انگریزی کی موجودگی سے انکار نہيں کیا جاتا اس لیے اس کا سیکھنا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال صرف تعلیم تک محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے اسے آپس کی گفتگو کا حصہ نہيں بنایا جاتا۔ اب کیونکہ طبقۂ اشرافیہ اور سرکار کی جانب سے مستقبل قریب میں اردو کی جانب سے نظر التفات ڈالنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر زبان کی اہمیت کو جانیں اور حسب استطاعت اس کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت خوب وارث صاحب۔ اب جو چند دیوانے گھرانے رہتے ہیں وہیں بچے کے زبان و بیان کا خیال رکھا جاتا ہے، ہمارے گھر میں تو بچوں کے please اور thankyou اس طرح کے دیگر تمام الفاظ بولنے پر بھی پابندی ہے کیونکہ ان کے بہت اچھے اردو متبادل موجود ہیں۔ علاوہ ازیں الفاظ کی غلط ادائیگی پر بھی فورا‎ ٹوکا جاتا ہے تاکہ دوبارہ غلطی کا ظہور نہ ہو۔ البتہ اس کے باوجود علمی سطح پر انگریزی کی موجودگی سے انکار نہيں کیا جاتا اس لیے اس کا سیکھنا بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کا استعمال صرف تعلیم تک محدود رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے اسے آپس کی گفتگو کا حصہ نہيں بنایا جاتا۔ اب کیونکہ طبقۂ اشرافیہ اور سرکار کی جانب سے مستقبل قریب میں اردو کی جانب سے نظر التفات ڈالنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر زبان کی اہمیت کو جانیں اور حسب استطاعت اس کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

