آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > افتخار اجمل سے شناسائی

افتخار اجمل سے شناسائی

آج ہمیں ایک نہایت ہی محترم شخصیت کو جاننے کا موقع ملے گا۔ ہمیں اندازہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ آپ کے بارے میں اگر کچھ کہا جائے تو الفاظ کم پڑ جائیں۔ آپ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ایک پرانے بلاگر۔۔۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بلاگنگ کی۔تو آئیں، نہایت ہی محبت سے بات کرنے والے افتخار اجمل صاحب سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں ۔

خوش آمدید اجمل صاحب

@ شکریہ ۔ قبل اس کے کہ آپ کے سوالات کا جواب دوں میں آپ کے ابتدائیہ کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ انٹریو لینے والے جس کا انٹرویو لینا ہو پہلے اسکے غبارے میں اتنی زیادہ ہوا کیوں بھرتے ہیں ؟ تاکہ کہیں وہ انٹرویو کے دوران گِر نہ جائے ؟ لیکن اگر وہ پھٹ جائے تو ؟

اجمل صاحب سب سے پہلے ہم آپ سے اردو اور اردو بلاگنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے اردو بلاگنگ کب شروع کی؟
@ اُردو کا روزنامچہ میں نے مئی 2005ء کے پہلے ہفتہ میں بلاگر پر شروع کیا تھا جو اب یہاں مُنتقل ہو چکا ہے ۔
http://iftikharajmal.urdutech.com/

 2۔ آپ کو اردو بلاگنگ کا خیال کیسے آیا اور اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟
@ پڑھنے اور لکھنے کا شوق اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بچپن سے ہی مجھ میں ڈال دیا تھا ۔ مجھے کورس کی کتابوں کے علاوہ حفظانِ صحت ۔ معلوماتِ عامہ ۔ تاریخ اور سچے واقعات پر مبنی کُتب پڑھنے کا شوق تھا ۔ میں کچھ نہ کچھ لکھتا بھی رہتا تھا ۔ 1985ء کے آخری رُبع میں کمپیوٹر سے متعارف ہوا تو لکھنا میرے لئے آسان ہو گیا ۔ اُن دنوں پی سی میں ہارڈ ڈرائیو نہیں ہوتی تھی ۔ فلاپی ڈرائیو کمپیوٹر میں نہیں ہوتی تھی بلکہ علیحدہ ہوتی تھی ۔ آئی بی ایم کا رائیٹنگ اسسٹنٹ سب سے اچھی لکھنے کی سافٹ ویئر تھا ۔ اس کے بعد ورڈ پرفیٹ آیا جو طبع 6 تک گیا مگر طبع 5 سب سے اچھی تھی ۔ اس زمانہ [1993ء] میں اُردو عکسی طور پر لکھی جانی شروع ہوئی مگر یہ مشکل اور وقت طلب کام تھا ۔ پھر اُردو لکھنے کی ایک سافٹ ویئر آئی جس کا نام اِن پیج تھا اور بعد میں میں پی پیج رکھا گیا ۔ اسے بھی عکسی طریقہ سے انٹرنیٹ یا ای میل میں منتقل کرنا پڑتا ۔ اس کے بعد ایم ایس ورڈ میں اُردو لکھنا اور منقل کرنا آسان ہو گیا صرف اس کے ایچ ٹی ایم ایل خود بنانے پڑتے تھے ۔ یونی کوڈ کے آنے سے اُردو لکھنا بچوں کا کھیل بن گیا ۔

3۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا؟
@ میں 2002ء کے شروع سے ہی کوشش میں تھا کہ مجھے ویب پر سستی سی جگہ مل جائے جس کی قیمت میں پاکستان میں ادا کرسکوں ۔ اس کے ذریعہ میں پاکستان کی جوان نسل کو سیدھی راہ دِکھانا اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے غلط پراپیگنڈہ کے خلاف آواز اُٹھانا چاہتا تھا ۔ اگست 2004ء میں میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ بلاگر نے مفت جگہ مہیا کی ہے اور اس نے مجھ سے عنوان ۔ آئی ڈی اور پاس ورڈ پوچھ کر میرا انگریزی کا روزنامچہ رجسٹر کر دیا ۔ سو میرا روزنامچہ منافقت ستمبر 2004 کے پہلے ہفتہ میں بلاگر پر شروع ہوا جو کہ اب یہاں ہے اور اس کا عنوان ہے حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔
http://iabhopal.wordpress.com/

4۔ آپ نے انگریزی میں بھی بلاگنگ کی اور اردو میں بھی کر رہے ہیں، ذاتی طور پر آپ کو کس زبان میں بلاگنگ کرنا پسند ہے؟
@ میں نے پہلے انگریزی میں روزنامچہ اسلئے شروع کیا کہ اُن دنوں نہ صرف اُردو لکھنا بہت مشکل تھا بلکہ اگر میں لکھ بھی دیتا تو کوئی اُسے پڑھ نہ سکتا ۔ اسلئے میں نے ابتداء انگریزی سے کی جس میں میرا مقصد زیادہ تر دنیا میں پھیلی منافقت سے پردہ اُٹھانا رہا ۔ جب اُردو لکھنے کا طریقہ میری سمجھ میں آ گیا تو اُردو کو ترجیح دی ۔

5۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا مقام کب اور کیسے حاصل کرسکے گی؟
@ ٹیکنالوجی نے اُردو پر کوئی ظُلم نہیں کیا ۔ ظُلم خود اُردو بولنے والوں نے کیا جن کی اکثریت احساسِ کمتری کا شکار رہی اور اب بھی ہے ۔ کسی زبان کو زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ جو بھی مفید نئی کتاب آئے اُس کا اُردو میں ترجمہ کیا جائے ۔ یہ کام پچھلی آدھی صدی میں نہیں ہوا

6۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
@ جب میں نے اُردو روزنامچہ شروع کیا تو مقصد اُردو کا فروغ نہیں تھا لیکن جلد ہی میں نے ان خطوط پر کام شروع کر دیا ۔ اگر آپ میرے روزنامچہ کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ میں نے کئی بار مشکل انگریزی سے ترجمہ کر کے لکھا ہے ۔ کبھی کبھی مجھے انگریزی لفظ کا ترجمہ کسی بھی ڈکشنری میں نہ ملا اور میں نے اللہ تعالٰی کے دئیے ہوئے دماغ پر زور دے کر ترجمہ خود بنایا ۔

بہت سے بلاگر اور مبصر صحیح اُردو نہیں لکھتے ۔ میں نے بہت پہلے تجویز دی تھی کہ بغیر لکھنے والے کا حوالہ دئیے غلط لفظ کا جسے بھی صحیح معلوم ہو وہ اُردو سیارہ کی انتظامیہ کو بھیج دے اور اُردو سیارہ کی انتظامیہ تحقیق کے بعد صحیح لفظ شائع کرے لیکن میری یہ تجوز صدا بصحرا ثابت ہوئی ۔

7۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟
@ اُردو کے فروغ کیلئے جو کام ہو رہاہے بہت کم ہے ۔ بہت محنت کی ضرورت ہے

8 ۔ مستقبل میں کیا منصوبے ہیں؟
@ تمنا ہے کہ دنیا میں کچھ کام کر جاؤں ۔ اگر کچھ ہو سکے تو خدمتِ انسان کر جاؤں [شاعر سے معذرت کے ساتھ]

9۔ پرانے اور نئے بلاگرز میں کون پسند ہے؟ کسے شوق سے پڑھتے ہیں؟
@ سیرت کے ہم غلام ہیں صورت ہوئی تو کیا ۔ سُرخ و سفید مٹی کی مُورت ہوئی تو کیا ۔ میں غیرمفید افسانوں اور عشقیہ کہانیوں کو پڑھنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں ۔

10۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
@ محنت سے بڑھ کر نہیں کوئی شے ۔ جو تُو کہتا ہے خود کر ۔ دوسرے کو نہ کہہ

اجمل صاحب، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ اور دوسرے پروجیکٹس کے حوالے سے آگاہی ہوئی، ان سوالات کے جواب پڑھ کر یقیناً ہمارے قارئین کو آپ کی ذات کے بارے میں بھی کچھ جاننے کا تجسس ہوا ہو گا،
تو آئیں کچھ منفرد سوالات کرتے ہیں۔

پہچان:
1۔ آپ کا نام؟ میرا نام افتخار اجمل اور کُنیت بھوپال ہے ۔ یعنی افتخار اجمل بھوپال
2۔ آپ کی جائے پیدائش؟ جموں توی ۔ مقبوضہ جموں کشمیر ۔ یہ شہر ریاست کا سردیوں کا صدر مقام تھا اور شائد اب بھی ہے ۔

3۔ آپ کا حالیہ قیام کہاں ہے؟ اپنے گھر میں اور کہاں ۔ ہی ہی ہی ۔ سب سیکٹر ایف 8/1 ۔ اسلام آباد

4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@ اگر سیدھا ایک فقرہ میں پوچھیں تو ۔ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ۔
رہی خواہش تو ۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔ بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے ۔
اللہ کی کرم نوازی ہے کہ خواہش کرنے کی بہت کم ضرورت پڑی البتہ اس عمر میں چار خواہشات ہیں ۔ اگر ہو سکے تو میرے حق میں دعا کیجئے کہ پوری ہو جائیں ۔
اول ۔ میری زندگی میں میری بیٹی اپنے گھر کی ہو کر خوش و خوشحال زندگی بسر کرنے لگے ۔
دوم ۔ پاکستان میں صحیح جمہوریت قائم ہو جائے
سوم ۔ میں اپنی جائے پیدائش دیکھنے آزادانہ طریقہ سے جا سکوں
چہارم ۔ میں کسی پر بوجھ بنے بغیر چلتا پھرتا اس دنیا سے چلا چاؤں ۔

5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟
@ نہ پس ہے اور نہ منظر ۔ جو کچھ ہے وہ میں ہی میں ہوں ۔ اللہ کی ملکیت ہوں ۔ اُسی نے بنایا تو اچھا ہی بنایا ہو گا ۔ اگر دُنیاوی لحاظ سے پوچھیں تو میں ایک مزدور ہوں مالک نہیں ۔ خادم ہوں مخدوم نہیں ۔ ہر حال میں خوش ہوں کبھی رنجور نہیں ۔

عِلم تو ایک سمندر ہے ۔ میں نے اُس میں سے ایک چُلُو بھی لیا تو اُس کی کیا حثیت ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ دو جماعت پاس ہوں اور آگے بڑھنا چاہتا ہوں

پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟ قرآن شریف کہ جو تھوڑی سی مجھ میں انسانیت ہے وہ اسی کی وجہ سے ہے اور جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسی کی رہبری کی بدولت ۔

2۔ گانا ؟
@ ایک گانا جو مُجھے بچپن سے پسند ہے

جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہو گا
دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہو گا
یہ ٹھاٹھ باٹھ تیرا یہ آن بان تیری
رہ جائے گی یہیں پر یہ ساری شان تیری
اتنی ہی ہے مسافر بس داستان تیری
مطلب کی ہے یہ دنیا کیا اپنے کیا پرائے
کوئی نہ ساتھ آیا کوئی نہ ساتھ جائے
دو دن کی زندگی ہے کر لے جو دِل میں آئے

3۔ رنگ ؟ صرف ہلکے رنگ پسند کرتا ہوں سوائے سبز رنگ کے جو ہمارے جھنڈے کا رنگ ہے

4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟ شادی سے قبل والدہ کے ہاتھ کی پکی ۔ شادی کے بعد بیوی کے ہاتھ کی پکی اور آجکل بیوی ۔ بیٹی اور دونوں بہو بیٹیوں کے ہاتھ کی پکی ہر چیز پسند ہے ۔

5۔ موسم ۔ بہار اور سرما ۔

غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟ غلط ۔ مجھے کسی بھی چیز کی عادت نہیں ہے ۔ عادت کے طور پڑھی نماز کا بھی کوئی فائدہ نہیں
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟ دسویں جماعت تک تھا ۔اس کے بعد نہیں
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ غلط
4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟ کبھی کبھی
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟ درست
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ درست
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟ میرے صرف چار دوست ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ میں اچھا دوست نہیں ہوں
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟ غلط ۔ میرے جاننے والے اسی بات پر پریشان رہتے ہیں کہ مجھے غُصہ کیوں نہیں آتا ۔ ہاں کبھی کبھی غُصہ کی ایسی اداکاری کرتا ہوں کہ موجود لوگ سہم جاتے ہیں

آپ کے خیال میں:
1۔ سوال کرنا آسان ہے یا جواب دینا؟ سوال کرنا
2۔ بہترین رشتہ کون سا ہے؟ ماں
3۔ آپ کی اپنی کوئی ایسی عادت جو آپ کو خود بھی پسند ہو؟ میری ایک عادت بچپن سے اب تک ہے اور مجھے بہت عزیز ہے ۔ یہ راز میں افشاء نہیں کرنا چاہتا ۔ والدہ محترمہ کی وفات کے بعد بڑی بہن نے والدہ محترمہ کی میرے متعلق کہی ہوئی ایک بات مجھے بتائی تھی جس سے میں سمجھتا ہوں کہ والدہ محترمہ میری اس عادت کو جان گئی تھیں ۔ میری بیوی یا بچے میری اس عادت کو پہچان گئے ہوں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اُنہوں نے کبھی مجھے اس بات کا احساس نہیں دلایا ۔

دلچسپی:
1۔ شاعری سے؟ صرف حقیقت سے متعلق شاعری سے دلچسپی رکھتا ہوں
2۔ کوئی کھیل؟ عرصہ ہوا سب کھیل چھوڑ دیئے
3۔ کوئی خاص مشغلہ؟ خراب چیزوں کو ٹھیک کرنا میرا مشغلہ ہے ۔ ابھی دو دن قبل بیوی اور بیٹی کے سراپا احتجاج ہونے کے باوجود میں نے ایک چھت کا پنکھا ٹھیک کیا ہے ۔ جب آٹھویں جماعت میں تھا گھر کا ریڈیو ٹھیک کیا اور والد صاحب کا بائیسائکل اوورہال کیا تھا ۔ گھر کی ضرورت کی کچھ چیزیں بھی بنائیں ۔ 1988ء تک اپنی کار کی مینٹننس خود کرتا رہا ۔ پھر محکمہ کا سربراہ بن جانے کی وجہ سے وقت نہ ملتا تھا تو چھوڑ دیا ۔ ریٹائر ہونے کے بعد بیوی نے کہا “خبردار جو گاڑی کو ہاتھ لگایا ۔ جاؤ مستری سے ٹھیک کراؤ”۔ اب مجھے بیوی اور بچوں نے چھوئی موئی بنا دیا ہے ۔ ہفتہ میں کم از کم دو بار اپنی اس عادت کے باعث بیوی بچوں سے میرا مکالمہ ہوتا ہے ۔

بُرا:
1۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟ کوئی بُرا وقت بھی آیا تو میرے لئے کوئی اچھائی چھوڑ گیا
2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟ منافقت ۔ بہتان تراشی اور غیبت
3۔ دن کا وقت؟ ہر لمحہ اچھا ہوتا ہے انسان کی غلط سوچ اُسے خراب بناتی ہے

کیا آپ :
1۔ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا؟
@ مُلک کیلئے میں نے ہمشہ کچھ کر گذرنے کی کوشش کی ۔ اور اللہ کے فضل سے 1972ء میں میرے ہاتھوں سے ایک ایسا کام بھی ہوا جو کوئی پاکستانی تو کیا یورپین اور امریکن بھی نہ کر سکا تھا ۔ آجکل تو یہی کوشش ہے کہ اپنے ہموطنوں کو اپنے وطن سے محبت ہو جائے ۔
2۔ جدیدیت کے قائل ہیں؟ ہاں لیکن وہ جدیدیت نہیں جو پرویز مشرف مُلک میں لایا ۔
3۔ آزادئ نسواں کے حق میں ہیں؟ اللہ نے جو مقام عورت کو دیا ہے اس سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ۔ یہ ایک طویل مضمون ہے ۔ انشاء اللہ کبھی اپنے روزنامچہ میں لکھوں گا ۔

کوئی ایک منتخب کریں :
1۔ دولت، شہرت یا عزت؟ عزت
2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟ علامہ محمد اقبال
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟ ارینجڈ شادی مگر جن کی شادی ہونا ہے اُن کی پسند سے
4۔ مینارِ پاکستان یا ایفل ٹاور؟ مینارِ پاکستان ہے ہماری عظمت کا نشان
6۔ پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟ اپنے وطن سے بڑھ کر دنیا میں نہیں کوئی ٹھکانہ

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔
@ ٹھیک ہی ہے ۔ ویسے جتنا لمبا کھینچنا چاہیں کھینچ سکتے ہیں ۔ بس اتنا کہوں گا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے اچھی ڈرائنگ کی نعمت بھی بچپن ہی عطا کر رکھی تھی ۔ میں اللہ کے فضل سے منٹوں میں کڑھائی اور کشیدہ کاری کے نت نئے نمونے کاغذ پر لکیر دیتا تھا جس کی وجہ سے لوگ بالخصوص خواتین اور لڑکیا ں میری منت سماجت کرتی رہتی تھیں

اجمل صاحب،آخر میں ۔۔۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔
@ ارے ارے ۔ شکریہ تو آپ کا جس نے مجھ کو کسی قابل سمجھا ۔

6 تبصرے:

  1. افتحار اجمل صاحب آپ کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔ اور پاکستان کے بارے میں آپ کے خیالات یعنی پاکستان سے محبت دیکھ کر تو بہت ہی اچھا لگا۔۔۔
    اللہ تعالٰی آپ کو خوش رکھے۔۔۔آمین

  2. السلام علیکم،

    بہت خوشی ہوئی افتخار صاحب ایک بار پھر آپ کے متعلق پڑھ کر۔

    اللہ تعالٰی آپ کو خوش رکھیں اور آپ کی تمام خواہشات پوری فرمائیں، آمین۔

    شاعری سے آپ کو کم کم ہی الفت سہی، لیکن مجھے تو آپ میں‌ ایک شاعر کی پوری خصوصیات نظر آئی ہیں 🙂 مثلاً آپ کا یہ جملہ:

    ایک مزدور ہوں مالک نہیں ۔ خادم ہوں مخدوم نہیں ۔ ہر حال میں خوش ہوں کبھی رنجور نہیں ۔

    کیا قافیے ملائے ہیں 🙂

  3. اسلام علیکم،

    منظرنامہ پر مجھے پہلے دن سے اجمل صاحب کے انٹرویوکا انتظار تھا۔

    ماشاءاللہ بہت اچھا لگا افتخاراجمل صاحب کے بارے میں پڑہ کر۔ اللہ سبحانہ و تعالی اجمل صاحب کی تمام خواھشات پوری کرے۔ امین۔

    اللہ تعالی اجمل صاحب کی عمر میں اور بھی برکت عطا فرمائے اور ان کے قلم میں اور طاقت۔ امین۔

  4. السلامُ عليکُم
    مُحترم اجمل انکل کا انٹرويو پڑھا جسے پڑھنے کے شايد سبھی مُنتظر تھے ميرا پاکستان پر اُن کی تحريريں پڑھی تھيں اور پھر اُن کے بلاگ سے مُتعارف ہُوئ اور پھر اُنہوں نے مُجھے بلاگ بنانے ميں مدددي اُس کے لۓ بہت شُکر گُزار ہُوں اُن کے بلاگ کی خصُوصيّت يہ ہے کہ ہميشہ انسان کُچھ اچھا سيکھتا ہے اس انٹرويو ميں دو باتيں بہت اچھی لگيں ايک يہ کہ
    „عِلم تو ایک سمندر ہے ۔ میں نے اُس میں سے ایک چُلُو بھی لیا تو اُس کی کیا حثیت ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ دو جماعت پاس ہوں اور آگے بڑھنا چاہتا ہوں„
    اور دُوسری يہ کہ
    „قرآن شریف کہ جو تھوڑی سی مجھ میں انسانیت ہے وہ اسی کی وجہ سے ہے اور جو کچھ میں نے سیکھا ہے اسی کی رہبری کی بدولت „
    جو واقعی ايک حقيقت ہے
    ماوراء اور عمّار اس سلسلے کو شُرُوع کرنے کے لۓ ميں ايک بار پھر مشکُور ہُوں کہ اجمل انکل اور باقي اتنے اچھے لوگوں کے بارے ميں جاننے کا موقع ديا ،شُکريہ
    شاہدہ اکرم

  5. آج کئی دنوں کے بعد کچھ اِدھر اُدھر نظر دوڑانے کی فرصت ملی تو یہاں چلا آیا اور اتنے سارے اندر سے خوبصورت خاتون اور حضرات کے خیالات پڑھے ۔ یہ سب قابلِ تعریف ہیں کہ انسان دوسروں کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنی ہی نیت کا اظہار کرتا ہے ۔
    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ سب کو سدا خوش رکھے کہ آپ سب نے میرے لئے نیک دعائیں کیں ۔ خزاک اللہ خیرٌ

  6. […] اردو بلاگنگ میں ایک اہم نام، افتخار اجمل بھوپال یوں تو ستمبر 2004ء سے انگریزی بلاگنگ کر رہے تھے مگر اپریل 2005ء میں اپنی پہلی اردو بلاگ پوسٹ لکھ کر اردو بلاگنگ میں قدم رکھ دیا، ساتھ ہی مئی میں علیحدہ اردو بلاگ بنا لیا اور آج تک خوب جم کر بلاگنگ کر رہے ہیں۔ افتخار اجمل صاحب پہلے بلاگسپاٹ پر بلاگنگ کرتے تھے، پھر بعد میں اپنی ذاتی ڈومین پر منتقل ہوئے۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہیں اور اپنے بے شمار تجربات اور تجزیات سے نئی نسل کو آگاہ کر رہے ہیں۔ فروری 2006ء میں جب گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے پاکستان میں بلاگسپاٹ بند کر دیا گیا اور یہ مسئلہ طول پکڑنے لگا تو اپریل میں افتخار اجمل صاحب نے چیف جسٹس آف پاکستان کو باقاعدہ خط لکھا۔ جس میں انہوں نے حکومتی نااہلی بڑی خوبصورتی سے بیان کی۔ میرے خیال میں ان کا شمار متحرک ترین بلاگران میں ہوتا ہے۔ بلاگنگ کے حوالے سے افتخار صاحب کے خاندان کے پاس کئی اعزاز ہیں۔ ایک تو ان کے بیٹے زکریا اجمل نے اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے بہت کام کیا، دوسرا کسی زمانے میں یہ ایک ہی گھر سے چار بلاگر تھے۔ خود افتخار صاحب، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ افتخار اجمل صاحب کی عمر تقریباً 75 سال ہے اور میرے اندازے کے مطابق اس وقت اردو بلاگستان کے سب سے بزرگ بلاگر ہیں۔ ان کے بیٹے زکریا اجمل اردو بلاگنگ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور اس خاندان کے باقی دو لوگ جو انگریزی میں بلاگنگ کرتے تھے وہ بھی غالباً چھوڑ چکے ہیں۔ منظر نامہ پر افتخار اجمل کا انٹرویو۔ […]

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر