آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > نقطہ نظر > فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار اور پاکستان کا نظامِ تعلیم (از ایم بلال)

فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار اور پاکستان کا نظامِ تعلیم (از ایم بلال)

 سب سے پہلے میں منظر نامہ کا شکریہ ادا اور مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے اتنا اچھا سلسلہ شروع کیا۔   

   تعلیم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی مذہب، معاشرہ یا ملک ہو ہر کوئی تعلیم کی طرف زور دیتا ہے۔ اسلام نے بہت زیادہ تعلیم پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت محمدﷺ کی طرف پہلی وحی بھیجی تو وحی کا پہلا لفظ ہی “پڑھ” تھا۔ ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی کام کی شروعات صرف اور صرف تعلیم سے ہی ہو سکتی ہے اور کوئی کام تعلیم کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ مختلف آیات اور احادیث میں تعلیم کی اہمیت واضع الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔۔۔

رہی بات پاکستان کے نظامِ تعلیم کی تو جب سے ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ تاریخ کھول کر دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ آج تک پاکستان میں کوئی ایک معیاری تعلیمی نظام رائج ہی نہیں ہو سکا۔ ہر حکومت تعلیم کے فروغ کے لئے نئے سے نئے تجربے کرتی ہے جو کہ پہلے نظام سے بھی برے نتائج لاتا ہے لیکن اصل مسئلے کی طرف نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی حل سوچا جاتا ہے۔میری نظر میں پاکستان کے نظامِ تعلیم کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں۔

  • اپنی زبان سے دوری

  • طبقاتی تفریق

  • ریسرچ اور معیارِ تعلیم کا فقدان

ہمارے نظامِ تعلیم میں سب سے بڑا مسئلہ اپنی قومی زبان اردو سے دوری ہے۔ ہم انگریزی کو اعلٰی مرتبہ کی زبان سمجھ بیٹھے ہیں اور ہاتھ دھو کر انگریزی کی اندھی تقلید اور اردو کے دشمن ہو چکے ہیں۔ ہمارے عام لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ انگریزی عالمی زبان ہے اس لئے اسے اپنانا چاہئے۔ ویسے بھی جدید ٹیکنالوجی نے انگریزی میں ترقی کی ہے اس لئے جدید ٹیکنالوجی کو پڑھنے کے لئے انگریزی بہت ضروری ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ اگر جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے انگریزی ہی ضروری ہے تو باقی ترقی یافتہ ممالک جنہوں نے اپنی قومی زبانوں میں ترقی کی ہے وہ انگریزی کے بغیر ترقی کیسے کر گئے ہیں۔ دنیا کے زیادہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے نہ کہ کسی دوسری زبان میں۔ انسان ہمیشہ اپنی زبان میں ہی سوچتا ہے۔ اگر آج پاکستان میں نظامِ تعلیم کی زبان اردو کر دی جائے تو ایسے ایسے شاہکار ہوں جن کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ میرے ایک چھوٹے سے سروے کے مطابق دیہاتی بچے جو پڑھ نہیں پاتے اور پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اُن میں سے تقریباً 95 فیصد صرف انگریزی کی وجہ سے چھوڑتے ہیں۔ اگر آپ میٹرک میں فیل ہونے والے طلباء کا جائزہ لیں تو اُن میں سے تقریباً 80 فیصد انگریزی کے مضمون میں فیل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انٹرمیڈیٹ کا حال بھی عجیب ہی ہے۔ ایک طالب علم ساری زندگی اردو میں پڑھتا ہے پھر اچانک کالج پہنچ کر سب کچھ اردو کی بجائے انگریزی میں ہو جاتا ہے تو اسے ٹیکنیکلی سمجھ تو سب آ جاتی ہے لیکن انگریزی کی وجہ سے وہ لکھ نہیں پاتا۔ جن کی میرے پاس میرے ساتھ کالج میں پڑھنے والے کئی طالب علموں کی مثالیں موجود ہیں۔ قومی زبان کے علاوہ دوسری زبان میں تعلیم کی وجہ سے کئی طالب علم کم نمبر لیتے ہیں یا فیل ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دل چھوڑ  دیتے ہیں اور تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد گریجوایشن آتی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے آرٹس کے طالب علم جو فیل ہوتے ہیں اُن میں 97 فیصد صرف انگریزی میں فیل ہوتے ہیں اور یہاں ایک بات مشہور ہے کہ آرٹس کا طالب علم صرف انگریزی پر دن رات کھپاتا ہے کیونکہ انگریزی لازمی ہے۔ہمیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ ہمیں بنیادی طور پر کسی طالب علم کا علم دیکھنا چاہئے نہ کہ کسی بیگانی زبان میں مہارت۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انگریزی بالکل نہیں پڑھنی چاہئے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ سارا نظامِ تعلیم اردو میں ہو تاکہ ایک عام طالب علم بھی آسانی سے علم حاصل کر سکے اُس کے علاوہ جو انگریزی یا کوئی بھی دوسری زبان سیکھنا چاہے ضرور سیکھے بلکہ علم میں اضافے کے لئے جتنی چاہے زبانیں سیکھے۔۔۔ کتنے افسوس کی بات ہے بلکہ شرم کا مقام ہے کہ گریجویشن میں سائنس یا آرٹس میں انگریزی لازمی ہے اور ہماری قومی زبان اردو صرف اس لئے ہے کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھے نہیں تو رہنے دے۔۔۔

ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ طبقاتی تفریق ہے جو قومی زبان اردو اور انگریزی کو بنیاد بنا کر ہی ڈالا گیا ہے۔ پرائیویٹ ادارے کاروباری ذہن کے پیشے نظر انگریزی میں تعلیم دینے کو ترجیع دیتے ہیں اور امراء کے بچے انہیں پرائیویٹ اداروں میں پڑھتے ہیں اور غریب گورنمنٹ کے اداروں میں دھکے کھاتے ہیں۔ یہاں سے ہی طبقاتی تفریق ڈال دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی گورنمنٹ کالج یا یونیورسٹی میں غریب کا بچہ دن رات کی سر توڑ محنت کے بعد میرٹ پر آ کر داخل ہوتا ہے اور امیر کا بچہ سلف فنانس جیسی چیز جیب میں ڈالے داخل ہو جاتا ہے۔ یوں یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ غریب طالب علم طالب علم ہے اور امیر حکمران جو پیسے سے کہیں بھی داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ اداروں کا معیار اتنا اچھا نہیں جتنا پرائیویٹ کا اچھا ہے۔ چونکہ پرائیویٹ میں فیس بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے غریب کی پہنچ سے دور اور امیر وہاں تعلیم حاصل کرتا ہے یوں امیر کا معیار غریب سے بلند سمجھ لیا جاتا ہے۔ بات سیدھی سی ہے عام طور پر غریب کا بچہ ماسٹر کر کے کلرک بنتا ہے اور امیر کا ماسٹر کر کے افسر۔۔۔ اسی طبقاتی تفریق کی وجہ سے سفارش اور رشوت کے ذریعے امیروں کو نوکریاں ملتی ہیں لیکن غریب اس سے محروم رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے غریب بچوں اور جوانوں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ تعلیم حاصل کر کے بھی ہمیں کچھ نہیں ملنا اس لئے بہتر ہے کہ جلد ہی اسے چھوڑوں اور کوئی مزدوری کرو۔۔۔

       پاکستان کے نظامِ تعلیم میں ایک بیماری یہ بھی ہے کہ یہاں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی طالب علم نے کتنی کتاب اپنے ذہن میں نقش کی ہے اور یہ کتنا لکھ سکتا ہے۔ عام طور پر چھٹی جماعت سے لے کر گریجویشن تک امتحانات میں یہ ہی دیکھا جاتا ہے کہ کوئی طالب علم ایک خاص وقت میں کتنا لکھ سکتا ہے۔ جو جتنا زیادہ لکھتا ہے اسے اتنے ہی نمبر ملتے ہیں۔ ہمارا معیار علم کی بجائے لکھنے کی رفتار بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ دیکھا جائے کہ ایک طالب علم کتنا علم رکھتا ہے۔ لیکن یہاں زیادہ سے زیادہ لکھنے اور خوبصورتی کے نمبر ہوتے ہیں۔ اب ایک طالب علم بہت ذہین ہے وہ ایک اچھا سکالر بن سکتا ہے لیکن اُس کی لکھنے کی رفتار یا لکھائی خوبصورت نہیں تو بس اسے اسی بات کی سزا دی جاتی ہے کہ تم تیز اور خوبصورت لکھ نہیں سکتے اس لئے تم کسی کام کے نہیں۔۔۔ مزید ہماری اعلٰی تعلیم میں سب سے بڑا مسئلہ ریسرچ سے دوری ہے۔ کتابیں یاد کرنا اور پھر انہیں امتحانات میں لکھ دینا ہی معیار سمجھ لیا ہے اور ریسرچ کا شوق اور فائدہ بتایا ہی نہیں جاتا۔ سنی سنائی بات پر یقین ہی سب کچھ ہے یہاں۔۔۔

      ان سب باتوں کے علاوہ پاکستان کے باقی اداروں کی طرح نظامِ تعلیم میں بھی بے شمار کمزوریاں ہیں۔ جن میں اساتذہ کی تربیت، آئے دن نصاب کی تبدیلی، جدید سہولیات کی کمی، عملی تربیت، تجربہ گاہ کی کمی، تجربہ گاہ میں معیاری سامان کی کمی، امتحانات کا نظام، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا غلط استعمال، رشوت، سفارش اور ان جیسی بے شمار کمزوریاں۔۔۔

      اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے تو ہمیں سب سے پہلے نظامِ تعلیم کی طرف دیوانہ وار توجہ دینی ہو گی۔ یہ کام حکومت بھی کرے اور ہمارے صاحبِ حیثیت لوگ بھی۔ ہم سب کو انفرادی طور پر تعلیم عام کرنے اور نظامِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے کوشش کرنی ہو گی۔ حکومت کا انتظار کئے بغیر جو جتنی طاقت رکھتا ہے اتنا کام کرنے کے لئے میدان میں کود پڑے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جو جتنی طاقت رکھتا ہے اتنا کام کرے اور مختلف سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں تعلیمی مقابلے کرائیں۔ غریب طالب علموں کے اخراجات جو اٹھا سکتا ہے اٹھائے۔ اگر کوئی سکول یا کالج بنا سکتا ہے تو بنائے اور معیاری اور سستی تعلیم دے تاکہ غریب آسانی سے پڑھ سکے۔ تعلیمی ماحول کو عام کیا جائے۔ بچوں اور نئے طالب علموں کی بہتر سمت میں رہنمائی کرنے، ریسرچ کا جذبہ پیدا کرنے میں خاص طور پر توجہ دینی ہو گی۔ انٹرنیٹ جیسے میڈیا پر کھیل کود کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلیمی مواد اردو میں مہیا کیا جائے۔ یوں تو کئی باتیں ہیں جو تعلیم کے فروغ کے لئے کرنی ہیں لیکن میں بس اتنا کہتا ہوں جو جتنا کر سکتا ہے وہ اتنا کرے لیکن ابھی سے میدانِ عمل میں کود پڑے اور ذمہ داری قبول کرے۔ اس طرح ہم بہتر لوگ پیدا کر سکیں گے جو ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔۔۔

دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو تعلیم کی روشنی پھیلانے کی توفیق دے۔۔۔آمین

ایم بلال

میرا بلاگ

 mbilal.paksign.com 

4 تبصرے:

  1. بلال صاحب کا پورا آرٹیکل حقائق پر مبنی ہے اور انہوں نے مرض کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے۔ دراصل نظام تعلیم کی درستگی کیلیے حکومت کی نیت ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ جب تک حکومت غیروں کی پالیسیوں پر عمل کرکے اپنے عوام کے بارے میں‌سوچنا شروع نہیں کرے گی نظام تعلیم غیروں کے مفادات کو پورا کرتا رہےگا۔

  2. ایم بلال صاحب آپ نے اچھی طرح موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ کم و بیش یہی کچھ مسائل ہیں۔۔ نشاندہی بھی ہوگئی ہے لیکن ایک جامع اور مربوط پالیسی اور مجموعی طور پر تعلیم کے معاملے میں عدم دلچسپی نے مسائل مزید گھمبیر کردیے ہیں ۔۔ بہر حال جنگی بنیادوں پر اب بھی تعلیم کو سلسلے میں کام نہ کیا گیا تو پھر آگے آنے والے دنوں میں حالات اور خراب ہوں گے اور اگر کبھی مغربی ممالک نے‌ ہمارے طالب علموں پر اپنے دروازے بند کردیے تو اس خلا کو پورا کرنے کا ہمارے پاس قطعی کوئی متبادل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر