آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > "میرا پاکستان" سے شناسائی

"میرا پاکستان" سے شناسائی

آج ہم جن کے بارے میں جاننےجا رہے ہیں، آپ ایک پرانے بلاگر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک اردو بلاگر بھی ہیں، آپ پاکستان کی سیاست پر خاص نگاہ رکھتے ہیں، اسی لیے آپ کے بلاگ پر زیادہ تر سیاست کے بارے میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ آپ کافی محتاط طبیعت کے مالک ہیں۔ تو آئیں میرا پاکستان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

  خوش آمدید میرا پاکستان

شکریہ

افضل صاحب، سب سے پہلے آپ سے اردو اور اردو بلاگنگ کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔

 1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے اردو بلاگنگ کب شروع کی؟

 @ جولائی 2005 میں ہم نے پہلی پوسٹ اپنے بلاگ پر لکھی۔ پہلا بلاگ بنانے میں قدیر احمد نے ہماری رہنمائی کی۔

2۔ آپ کو اردو بلاگنگ کا خیال کیسے آیا اور اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟

@ عرصے سے اردو میں اپنی سائٹ بنانے کا پروگرام تھا اور اس کیلیے یہ ڈومین ہم نے کئی سال سے رجسٹر کرا رکھا تھا مگر پروگرامنگ کی سدھ بدھ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام التوا میں پڑا ہوا تھا۔ ایک دن اردو سائٹ بنانے کی جستجو میں قدیر احمد کا بلاگ نظر آیا اور جھٹ سے ان کی مدد مانگ لی۔ پھر انہوں نے پہلے اس بلاگ کو بلاگ سپاٹ پر سیٹ کیا اور بعد میں ورڈ پریس پر۔ اب ہم قدیر احمد اور دوسرے اردو بلاگرز کی رہنمائی سے اس قابل ہو چکےہیں کہ ورڈ پریس کے تھیم کو اردو میں منتقل کر سکتے ہیں۔ ہمارا موجودہ تھیم اس کی ایک مثال ہے۔

3۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا؟

@ سوچا یہی تھا کہ اپنے خیالات کو کسی ایک جگہ اکٹھا کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ہمارے زمانے کو ہماری آنکھ سے دیکھ سکیں۔ خواہش تو یہی ہے کہ اردو بلاگنگ پھلے پھولے کیونکہ پاکستانیوں کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ سے استفادہ حاصل نہیں کررہی۔ دوسرے ابھی پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ جونہی انٹرنیٹ کی سہولت کیبل کی طرح سب لوگوں کو میسر آگئی اردو بلاگنگ خود بخود فروغ پا جائے گی۔ لیکن ہمارے دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ تب تک کہیں دیر نہ ہوجائے اور اردو بولنے والے میڈیا کے دباؤ میں آکر انگریزی کو ہی نا اپنا لیں۔

4۔ آپ کے بلاگ کا نام ”میرا پاکستان” ہے، یہ نام رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں کیا تھا؟

@ دراصل ہم دیار غیر میں رہنے والے دوسرے پاکستانیوں کی طرح پاکستان کی موجودہ حالت پر کڑھتے رہتے تھے اور خواہش رکھتے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے۔ اسی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلیے ہم نے اپنے بلاگ کا نام میرا پاکستان رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے لیے “ہم” کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور اس سے مراد صرف اپنی ذات نہیں بلکہ ہم جیسے خیالات رکھنے والے کروڑوں پاکستانی ہوتے ہیں۔

5۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا مقام کب اور کیسے حاصل کرسکے گی؟

@ اردو تبھی اپنا مقام حاصل کرپائے گی جب اردو بولنے والوں کو ٹیکنالوجی میسر ہو گی۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہمیں ڈر ہے کہ کہیں اردو بولنے والوں کو ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہونے میں دیر نہ ہو جائے اور تب تک انگریزی اردو پر حاوی نہ ہو جائے۔ کیونکہ اس وقت ہمارا اپنا میڈیا اردو کو چھوڑ کر انگریزی کی طرف سفر شروع کر چکاہے۔ مغربی چینل جلتی پر تیل کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ دوسرے ہماری حکومت کو بھی اردو کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ بجٹ انگریزی میں پیش کرتے ہیں، پرائمری میں انگریزی کی تعلیم لازمی قرار دے رہے ہیں اور اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ اسی لئے ہمیں اردو کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔

6۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

@ ہمارا کردار اردو کے فروغ میں صرف اتنا ہی ہے کہ ہم تواتر سے لکھ رہے ہیں اور ہو سکتا ہے اس سے متاثر ہو کر ہمارے قارئین بھی اردو میں انٹرنیٹ پر لکھنا شروع کردیں۔ اس کے علاوہ ہم نان ٹیکنیکل آدمی انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں۔

7۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟

  @ نہیں بہت محدود ہے اور موجودہ انگریزی کی یلغار اردو کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

8۔ مستقبل میں کیا منصوبے ہیں؟

 @کھچوے کی چال چلتے ہوئے اپنی ہمت کے مطابق جو ہو سکا کرتے رہیں گے۔ اس وقت کوئی خاص منصوبہ اپنے ذہن میں نہیں ہے۔

9۔ پرانے اور نئے بلاگرز میں کون پسند ہے؟ کسے شوق سے پڑھتے ہیں؟

@جو سب کا جواب ہے وہی ہمارا بھی جواب ہے یعنی سب لوگ اپنی اپنی انفرادیت میں لاثانی ہیں اور ہم سبھی کو پڑھتے ہیں۔

 10۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

@ مستقل مزاجی کسی بھی مشن کی کامیابی کیلیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ وہ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں جو جلدباز ہوتے ہیں اور اگر ان کا منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو نہ پہنچے یا راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے تو ہمت ہار جاتے ہیں۔ جس طرح بچہ چلنے میں کئی ماہ لگا دیتا ہے، طالبعلم پہلا سبق یاد کرنے میں کئی دن لگاتا ہے اسی طرح سب کاموں کیلیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کوئ بھی کام شروع کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچیں لیکن جب کام شروع کردیں تو پھر اسے انجام تک پہنچا کر دم لیں۔

افضل صاحب، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ اور دوسرے پروجیکٹس کے حوالے سے آگاہی ہوئی، ان سوالات کے جواب پڑھ کر یقیناً ہمارے قارئین کو آپ کی ذات کے بارے میں بھی کچھ جاننے کا تجسس ہوا  ہو گا،تو آئیں کچھ منفرد سوالات کرتے ہیں۔

پہچان:

1۔ آپ کا نام؟

افضل جاوید
2۔ آپ کی جائے پیدائش؟

لالہ موسٰی ضلع گجرات پنجاب
3۔ آپ حالیہ قیام کہاں ہے؟

کینیڈا
4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا، اپنے بچوں کو عملی زندگی میں کامیاب دیکھنا، اور محتاجی سے آزاد زندگی گزارنا۔ خواہش ہے کہ پاکستان کو اپنی زندگی میں آزاد ملک کے طور پر دیکھیں۔

5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟

یونیورسٹي ٹیکسلہ سے مکینکل انجنیرنگ، نیویارک سے ماسٹرز اور کینیڈا کے پروفیشنل انجنیر

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

کلیات اقبال
2۔ گانا ؟

وقت کیساتھ ساتھ پسند بدلتی رہتی ہے۔ یہ گانا ہمیں ایک وقت میں بہت پسند تھا۔ ہم تم ہوں گے بادل ہو گا، رقص میں سارا جنگل ہو گا۔
3۔ رنگ ؟

آسمانی
4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟

ماش کی دال
5۔ موسم ؟

جنگل میں بارش کا موسم

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟ ہاں
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟ تھے مگر اب نہیں
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ ہاں
4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟ تھوڑا سا
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟ ہاں
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ صرف انٹرنیٹ پر
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟ معلوم نہیں مگر کوشش پوری ہوتی ہے کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ دیں۔
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟ آتا ہے مگر قابو سے باہر نہیں ہوتے
9۔ میں محتاط (ریزرو) طبیعت کا مالک ہوں؟ ہاں

 

آپ کے خیال میں:

1۔ سوال کرنا آسان ہے یا جواب دینا؟

دونوں آسان ہیں اگر عقل مند سے واسطہ پڑا ہو اور مشکل جب بیوقوف پلے پڑ جائے۔
2۔ بہترین رشتہ کون سا ہے؟

پیار کا
3۔ آپ کی اپنی کوئی ایسی عادت جو آپ کو خود بھی پسند ہو؟

کسی بھی ماحول میں ایڈجسٹ کر لینا۔

دلچسپی:

1۔ شاعری سے؟ ہاں
2۔ کوئی کھیل؟ پہلے ہاکی تھی اب کرکٹ، باسکٹ بال اور آئس ہاکی
3۔ کوئی خاص مشغلہ؟ بچوں کیساتھ وقت گزارنا

برا:

1۔زندگی کا کوئی لمحہ؟

جب ایک قریبی عزیز نے بداعتمادی کا اظہار کیا۔
2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟

خودپسندی ہمیں پسند نہیں۔
3۔ دن کا وقت؟

تپتی دوپہر

 

کیا آپ :

1۔ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا؟

” ملک کی خدمت کا جذبہ ہے مگر بچوں کی پرورش نے پاؤں پکڑ رکھے ہیں اور دوسرے اس وقت ہم میں اتنی استطاعت بھی نہیں ہے
2۔ جدیدیت کے قائل ہیں؟

ہاں مگر اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے
3۔ آزادئ نسواں کے حق میں ہیں؟

ہاں
کوئی ایک منتخب کریں :

1۔ دولت، شہرت یا عزت؟

دولت کیونکہ آجکل دولت سے ہی شہرت اور عزت ملتی ہے۔
2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟

علامہ اقبال
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟

پسند کی شادی مگر حد میں رہتے ہوئے۔
4۔ مینارِ پاکستان یا ایفل ٹاور؟

مینار پاکستان کیونکہ جیسا بھی ہے اپنا تو ہے۔
6۔ پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟

پاکستان کیونکہ جو مزہ اپنے گھر میں ہوتا ہے دوسروں کے گھر میں نہیں یہ بات ہم نے دیار غیر میں رہ کر سیکھی ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

آپ نے سب کچھ پوچھ لیا اب مزید کہنے کو کچھ نہیں بچا۔

 

افضل صاحب، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔

11 تبصرے:

  1. السلامُ عليکُم
    ايک اور اچھا انٹرويو پڑھنے کو ملا ، ماوراء اور عمار نے جس کام کا بيڑہ اٹھايا ہے وہ تو اس کے لۓ شاباشی کے حقدار ہيں ہی کہ ہميں اُن کی ہی بدولت اتنے ٹيلينٹڈ لوگوں سے ملنے کا موقع ملا ميرا پاکستان ايک دفعہ ميں نے آپ کے بلاگ پر ہی آپ سے کہا تھا کہ يقينی آپ کا کوئ اچھاسا نام بھی ہوگا ليکن ميرا پاکستان نام جو آپ نے رکھا وہ اپنے آپ ميں اتنا پيارا نام ہے کہ انسان اپنی پہچان خُود ہوجاۓ يعنی
    جو نام وُہی پہچان پاکستان پاکستان
    بہت اچھا لگا افضل بھائ آپ کا انٹرويو بی بی سی کے بعد آپ کے بلاگ پر لکھا اور وہيں سے بلاگ بنانے کی تحريک ہُوئ ،اور دل چاہا کہ ميں بھی بلاگرز بہن بھائيوں ميں شامل ہوجاؤں ،مُحترم اجمل انکل،شگُفتہ ،ماورااور عمار سب نے ميری ہر قدم پر مدد کی جس کے لۓ ميں تہہ دل سے شُکر گُزار ہُوں يہی بات کہ ہم خواہ کتنے بھی عجيب ہوں اندر سے وُہی پيارے پاکستانی ہيں جو ايک دُوسرے کی مدد کرکے خُوش ہوتے ہيں اس انٹرويو ميں جو بات مُجھے سب سے اچھی لگی
    „مستقل مزاجی کسی بھی مشن کی کامیابی کیلیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ وہ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں جو جلدباز ہوتے ہیں اور اگر ان کا منصُوبہ جلد پایہ تکمیل کو نہ پہنچے یا راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے تو ہمت ہار جاتے ہیں۔ جس طرح بچہ چلنے میں کئی ماہ لگا دیتا ہے، طالبعلم پہلا سبق یاد کرنے میں کئی دن لگاتا ہے اسی طرح سب کاموں کیلیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کوئ بھی کام شروع کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچیں لیکن جب کام شروع کردیں تو پھر اسے انجام تک پہنچا کر دم لیں۔„
    بہترين صلاح ہے آپ کي يہ آج کي نسل کے لۓ کيُونکہ بچے آج کے چند قدم چل کر سامنے سے ويسا ہی رسپانس نا ملنے پر تھکنے لگتے ہيں اور يہ کوئ بہت اچھی بات نہيں ہے ايک بہترين سلسلے کے لۓ شُکريہ
    شاہدہ اکرم

  2. ہم تم ہوں گے ، بادل ہوگا
    یہ گانا مجھے بھی پسند ہے ۔ مگر اس میں ایک مصرع ایسا ہے کہ ہنسی چھوٹ‌جاتی ہے ۔ وہ مصرع ہے ۔۔۔
    وصل کی شب اور اتنی کالی ۔۔۔
    ایسا لگتا ہے کہ شاعر کہنا چاہ رہا ہو “وصل کی شب اور اتنی کالی بیوی”
    :hahah

  3. اجمل صاحب کی بات درست ھے۔ ھم انتظامیھ سے درخواست کرتے ھیں کھ وھ ھمارے جواب میں‌ترمیم کرکے اسے صرف “تپتی دوپھر” لکہ دیں۔
    شاھدھ اکرم صاحبھ عزت افزائی کا شکریھ
    قدیر صاحب آپ کی بات کا مزھ آگیا۔ ویسے ہجر کی شب کالی ہوتی ہے وصل کی نہیں۔

  4. افضل صاحب‌ میرے پسندیدہ بلاگرز میں‌ سے ایک ہیں‌اور میں‌عرصے سے ان کے بارے میں‌پڑھنا چاہ رہا تھا۔۔ منظر نامہ کا یہ سلسلہ اچھا ہے اور اسطرح‌ اردو بلاگرز ایک دوسرے کو مزید جان پارہے ہیں‌۔

  5. افضل صاحب، میں خود بھی آپ کے بارے میں جاننا چاہتی تھی لیکن آپ کی محتاط طبیعت کی ہی وجہ سے مجھے آپ کے بارے میں زیادہ نہیں علم تھا۔ لیکن کچھ جاننے کا تجسس تھا، جو اس انٹرویو کے ذریعے سے دور ہو گیا۔ انٹرویو دینے کا بہت شکریہ۔ اور ایک اور بات کہ آپ تو اپنے علاقے کے ہی ہیں۔ :smile

  6. میرا پاکستان: شاعر بھی تو اسی بات کو رو رہا ہے کہ وصل کی شب تو اتنی کالی نہیں ہوتی ، یہ کیسے ہو گئی؟
    یہ وصل دراصل فریقین کے اماں ابا کی اجازت کے بغیر منعقد ہوا ، یعنی چوری چھپے کسی منڈیر کے پیچھے ، تو شب نے تو کالا ہونا تھا :kool

  7. […] جولائی 2005ء میں ”میرا پاکستان“ کے عنوان سے افضل جاوید صاحب نے ”حلف نامہ“ لکھتے ہوئے اپنے اردو بلاگ کا آغاز کیا۔ یہ بھی اپنی بلاگنگ کی شروعات سے لے کر آج تک باقاعدگی سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔ ان کا شمار آج کے ان اہم بلاگروں میں ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں خوب جم کر بلاگنگ کر رہے ہیں۔ فروری 2006ء میں بی بی سی اردو کے زمرہ ”آپ کی آواز“ میں ریبا شاہد نے اپنی ایک تحریر میں میرا پاکستان کا ذکر باقاعدہ لنک اور ایک پوسٹ کا اقتباس دے کر کیا۔ منظر نامہ پر افضل کا انٹرویو۔ […]

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر