آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > نقطہ نظر > پاکستان کا نظامِ تعلیم اور فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار

پاکستان کا نظامِ تعلیم اور فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار

آج ہم “نکتہ نظر“ میں تعلیم ، پاکستان کے نظامِ تعلیم اور فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار کیا؟ سے متعلق بحث کو شروع کر رہے ہیں۔ جس میں آپ سب کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی دی جائے گی۔ کچھ بلاگرز پہلے سے ہی منظر نامہ پر رجسٹر ہیں، اگر آپ میں سے کوئی اور بھی اس موضوع پر لکھنا چاہے تو اس لنک پر دئیے گئے طریقے سے آپ منظر نامہ پر اپنے آپ کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

تعلیم کا شعبہ ہر معاشرے میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر معاشرہ اس شعبے میں ترقی کو ترجیح دیتا آیا ہے اور تعلیم کے نظام کو بہترین بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ نظام تعلیم کی اصطلاح کو محدود معنون میں ایسے تمام رسمی اداروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہےجو علم اور تہذیبی روایات کو منتقل کرتے ہیں اور افراد کے ذہنی اور اجتماعی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن وسیع تر مفہوم میں رسمی اداروں کے ساتھ اس میں متنوع قسم کے تمام غیر رسمی اداراتی اورغیر اداراتی اثرات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ آج کے دور میں نظام تعلیم کی اصطلاح سے جو تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ کسی کتابی تعریف کا پرتو نہیں ہوتا بلکہ ہم خود جس نظام تعلیم سے گزرے ہیں اور مسلسل گزر رہے ہیں اور مطالعہ و مشاہدہ کی بنا پر جو کچھ جانتے ہیں اس کی بنیاد پر ہمارے ذہن میں تشکیل پاتا ہے اور یہ ایک انتہائی ہمہ گیر تصور ہے۔

جدید دور میں کسی نظام تعلیم کو ریاست سے علیحدہ تصور نہیں کیا جا سکتا ۔اگر کوئی تعلیمی ادارہ یا ادارے ریاست کے تعلیمی نظام سے بالکل آزاد ہو کر کام کرنا چاہیں تو قطع نظر اس کے کہ اس کی افادیت اور اہمیت کیا ہو گی؟

چونکہ منظرنامہ کا مقصد پاکستان اور اس سے متعلق حالات پر بحث کرنا اور ہمارے معاشرے کے مسائل کے حل کی تجاویز آپ لوگوں کے ذریعے سے سامنے لانا ہے۔ تو آئیں آج ہم ایک نہایت ہی اہم موضوع “پاکستان میں شرح خواندگی کا تناسب، پاکستان کا نظامِ تعلیم اور اس کی خرابیوں“ پر بات کرتے ہیں۔ اور اسکے ساتھ ساتھ آپ سب کی تجاویز اس بحث میں بہت اہمیت کی حامل ہوں گی۔ کچھ ایسی تجاویز جن پر آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ یا پھر ہمارے معاشرے میں ایک عام انسان کیسے اچھی تعلیم حاصل کر سکتا ہے، اس کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کن کن مسائل کا سامنا رہتا ہے؟ ہم تعلیم کے فروغ کے لیے کیا کر رہے ہیں یا کیا کر سکتے ہیں؟

یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم خراب ہونے کے ساتھ تعلیم کا شعبہ بھی بے حد کمزور ہے ۔ غریب طبقے کے پاس اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھانے کے بھی وسائل نہیں ہیں۔ اور اس کےبرعکس اگر دیکھا جائے تو امراء اپنے بچوں کو ان سکولوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کا نصاب مغربی تعلیم کے نصاب کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہو اور انگریزی زبان میں پڑھایا جاتا ہو۔ کیا تعلیم ہر کسی کا حق نہیں ہے؟ اگر ہے، تو ہمارے ملک میں اتنا تضاد کیوں اور کس لیے؟ اگر غریب طبقے کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھنے بھی جاتے ہیں تو سرکاری سکولوں کے حالات کیا ہیں، یہ کس کے علم میں نہیں ہے؟ چلیں، اگر سکولوں کی حالت نازک ہو لیکن اگر پڑھائی کا نظام ہی کچھ بہتر ہو تو طلباء ان سکولوں میں بھی جا کر گزارہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اسے بچے کو لائق سمجھا جاتا ہے جو “رٹا“ لگا کر امتحان دے دیتا ہے۔ ہمارے طلباء کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں، بس ساری کتاب کو حفظ کرنا ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا طالب علم عملی زندگی میں ناکام ہو جاتا ہے۔  تعلیمی معیار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہی ہمارا ملک آجتک ترقی نہیں کر سکا۔

سی آئی اے کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی کا تناسب 49.9%ہے۔ مردوں کی شرح خواندگی 63% اور خواتین کی 36% ہے۔ جس کے فرق کوبآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب سب سے زیادہ پڑھا لکھا صوبہ ہے، 1997 میں شرح خواندگی کا ٹوٹل تناسب 47% ، مردوں کا 73% اور خواتین کا 57% تھا۔
سندھ ؛ 46%
صوبہ سرحد ؛ 37%
بلوچستان ؛ 27%.
اگر ہمسائے ملک بھارت میں دیکھا جائے تو شرح خواندگی کا تناسب 61% ہے ۔
چین ؛ 90.9%
ایران؛ 77%

 

  ذرائع :

پاکستان لنک ڈاٹ کام

 سی آئی اے

اس موضوع پر آپ کی طرف سے تحاریر ملنے کی آخری تاریخ بیس جون ہے۔

5 تبصرے:

  1. اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا سُورت 39 الزُّمَر ۔ آیت 9 میں فرمان ہے ۔

    ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ
    کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں

    ایک زمانہ تھا جب علم ذہن کی کُشادگی اور ذہنی اور جسمانی تربیت کیلئے حاصل کیا جاتا تھا ۔ پھر علم کو پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا اور ہوتے ہوتے علم کو تمام مادی ضروریات کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ۔ نتیجہ یہ ہو کہ عمدہ ذہن اور محنت کی بجائے کاغذ کی بنی اسناد کا حصول مقصدِ زندگی بن گیا ۔ آج علم کی نہیں بلکہ اسناد کے وزن کی قدر کی جاتی ہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ حکیم لقمان جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا ہے یا ابو علی سینا جو آج کے طِب کے موجد سمجھے جاتے ہیں کے پاس کتنی اسناد تھیں اور وہ کس کس جامعہ میں داخل رہے تھے ۔

  2. اجمل صاحب آپ کے تو ذاتی مشاہدے میں‌ بدلتے تعلیمی نظام رہیں‌ ہونگے۔۔ کیوں‌ نہ اس سلسلے میں ابتدا آپ کی طرف سے ہو؟

    اسناد کے سلسلے میں میری عرض یہ تھی کے بوعلی سینا اور حکیم لقمان اپنے وقت کے معیارات کے مطابق عالم تھے اور آج کی دنیا کا معیار سند کا حصول ہے۔۔ ہمارے یہاں‌ تعلیم کو غالبا مذاق بنا لیا گیا ہے ورنہ پی ایچ ڈی کرنا آج بھی بچوں کا کھیل نہیں۔

  3. راشد کامران صاحب
    میں نے اس کے متعلق لکھنے کا سوچا تھا لیکن پھر ملتوی کر دیا ۔ میری کھُردری باتیں پسند نہیں کی جاتیں ۔ لوگ ملائم باتوں کے عادی ہو چکے ہیں ۔میں نے پچھلے 65 سالوں میں طالب علم کے لحاظ سے چار اور حکومت کے لحاظ سے جتنی حکومتیں اُتنے تعلیمی نظام دیکھے ہیں ۔ یہ مضمون بہت طویل ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ فی الحال تو میں شروع بھی نہیں کر سکتا کیونکہ نزلے نے دبوچا ہوا ہے

Leave a Reply to اجمل ختم کریں

اوپر