<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: پاکستان کا نظامِ تعلیم اور فروغِ تعلیم میں ہمارا کردار</title>
	<atom:link href="http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/</link>
	<description>اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Tue, 24 Jan 2012 10:29:09 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.1</generator>
	<item>
		<title>By: ماوراء</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/comment-page-1/#comment-259</link>
		<dc:creator>ماوراء</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 18 Jun 2008 01:16:10 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/11/pakistan-education-system/#comment-259</guid>
		<description>اجمل چچا، میں دعا کر رہی ہوں کہ آپ کی طبیعت سنبھل جائے، تاکہ آپ اس بارے میں کچھ لکھ سکیں۔ اس بارے میں بہتر آپ ہی لکھ سکتے ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اجمل چچا، میں دعا کر رہی ہوں کہ آپ کی طبیعت سنبھل جائے، تاکہ آپ اس بارے میں کچھ لکھ سکیں۔ اس بارے میں بہتر آپ ہی لکھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ساجداقبال</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/comment-page-1/#comment-258</link>
		<dc:creator>ساجداقبال</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 16 Jun 2008 04:28:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/11/pakistan-education-system/#comment-258</guid>
		<description>انکل آپ ضرور لکھیں۔ مجھے انتظار رہیگا آپکی تحریر کا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>انکل آپ ضرور لکھیں۔ مجھے انتظار رہیگا آپکی تحریر کا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/comment-page-1/#comment-257</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 15 Jun 2008 07:04:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/11/pakistan-education-system/#comment-257</guid>
		<description>راشد کامران صاحب
میں نے اس کے متعلق لکھنے کا سوچا تھا لیکن پھر ملتوی کر دیا ۔ میری کھُردری باتیں پسند نہیں کی جاتیں ۔ لوگ ملائم باتوں کے عادی ہو چکے ہیں ۔میں نے پچھلے 65 سالوں میں طالب علم کے لحاظ سے چار اور حکومت کے لحاظ سے جتنی حکومتیں اُتنے تعلیمی نظام دیکھے ہیں ۔ یہ مضمون بہت طویل ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ فی الحال تو میں شروع بھی نہیں کر سکتا کیونکہ نزلے نے دبوچا ہوا ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>راشد کامران صاحب<br />
میں نے اس کے متعلق لکھنے کا سوچا تھا لیکن پھر ملتوی کر دیا ۔ میری کھُردری باتیں پسند نہیں کی جاتیں ۔ لوگ ملائم باتوں کے عادی ہو چکے ہیں ۔میں نے پچھلے 65 سالوں میں طالب علم کے لحاظ سے چار اور حکومت کے لحاظ سے جتنی حکومتیں اُتنے تعلیمی نظام دیکھے ہیں ۔ یہ مضمون بہت طویل ہو جانے کا خدشہ ہے ۔ فی الحال تو میں شروع بھی نہیں کر سکتا کیونکہ نزلے نے دبوچا ہوا ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/comment-page-1/#comment-256</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 13 Jun 2008 16:38:35 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/11/pakistan-education-system/#comment-256</guid>
		<description>اجمل صاحب آپ کے تو ذاتی مشاہدے میں‌ بدلتے تعلیمی نظام رہیں‌ ہونگے۔۔ کیوں‌ نہ اس سلسلے میں ابتدا آپ کی طرف سے ہو؟

اسناد کے سلسلے میں میری عرض یہ تھی کے بوعلی سینا اور حکیم لقمان اپنے وقت کے معیارات کے مطابق عالم تھے اور آج کی دنیا کا معیار سند کا حصول ہے۔۔ ہمارے یہاں‌ تعلیم کو غالبا مذاق بنا لیا گیا ہے ورنہ پی ایچ ڈی کرنا آج بھی بچوں کا کھیل نہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اجمل صاحب آپ کے تو ذاتی مشاہدے میں‌ بدلتے تعلیمی نظام رہیں‌ ہونگے۔۔ کیوں‌ نہ اس سلسلے میں ابتدا آپ کی طرف سے ہو؟</p>
<p>اسناد کے سلسلے میں میری عرض یہ تھی کے بوعلی سینا اور حکیم لقمان اپنے وقت کے معیارات کے مطابق عالم تھے اور آج کی دنیا کا معیار سند کا حصول ہے۔۔ ہمارے یہاں‌ تعلیم کو غالبا مذاق بنا لیا گیا ہے ورنہ پی ایچ ڈی کرنا آج بھی بچوں کا کھیل نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.manzarnamah.com/2008/06/pakistan-education-system/comment-page-1/#comment-255</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 11 Jun 2008 10:07:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://focus.urdutech.net/2008/06/11/pakistan-education-system/#comment-255</guid>
		<description>اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا سُورت 39 الزُّمَر ۔ آیت 9  میں فرمان ہے ۔

ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ
کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں؟  بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں

ایک زمانہ تھا جب علم ذہن کی کُشادگی اور ذہنی اور جسمانی تربیت کیلئے حاصل کیا جاتا تھا ۔ پھر علم کو پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا اور ہوتے ہوتے علم کو تمام مادی ضروریات کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ۔ نتیجہ یہ ہو کہ عمدہ ذہن اور محنت کی بجائے کاغذ کی بنی اسناد کا حصول مقصدِ زندگی بن گیا ۔ آج علم کی نہیں بلکہ اسناد کے وزن کی قدر کی جاتی ہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ حکیم لقمان جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا ہے یا ابو علی سینا جو آج کے طِب کے موجد سمجھے جاتے ہیں کے پاس کتنی اسناد تھیں اور وہ کس کس جامعہ میں داخل رہے تھے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا سُورت 39 الزُّمَر ۔ آیت 9  میں فرمان ہے ۔</p>
<p>ھَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ<br />
کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں؟  بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں</p>
<p>ایک زمانہ تھا جب علم ذہن کی کُشادگی اور ذہنی اور جسمانی تربیت کیلئے حاصل کیا جاتا تھا ۔ پھر علم کو پیٹ بھرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا اور ہوتے ہوتے علم کو تمام مادی ضروریات کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ۔ نتیجہ یہ ہو کہ عمدہ ذہن اور محنت کی بجائے کاغذ کی بنی اسناد کا حصول مقصدِ زندگی بن گیا ۔ آج علم کی نہیں بلکہ اسناد کے وزن کی قدر کی جاتی ہے ۔ ذرا غور کیجئے کہ حکیم لقمان جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا ہے یا ابو علی سینا جو آج کے طِب کے موجد سمجھے جاتے ہیں کے پاس کتنی اسناد تھیں اور وہ کس کس جامعہ میں داخل رہے تھے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

