آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > راشد کامران سے شناسائی

راشد کامران سے شناسائی

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔

اردو بلاگز پڑھنے والے قارئین یقینا اس مصرعہ سے بخوبی واقف ہوں گے کہ یہ صرف ایک مصرع ہی نہیں بلکہ اردو کے ایک معروف بلاگ کا عنوان بھی ہے۔ آج اسی بلاگ کے لکھاری ہمارے مہمان ہیں۔ ان کی تحریروں میں پختگی پائی جاتی ہے۔ مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔ مذہب، سیاست، عالمی، سماجی اور قومی مسائل، طنز و مزاح، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر کئی موضوعات پر تحاریر کو آپ نے اپنے بلاگ کی زینت بنایا ہے۔ ان کا شمار یقینا بہترین اردو بلاگرز میں ہوتا ہے۔ جی ہاں، آج سلسلہ شناسائی میں ہمارے مہمان ہیں، راشد کامران۔

خوش آمدید راشد کامران

شکریہ۔۔ اور اتنے اچھے الفاظ میں متعارف کروانے پر میں مزید مشکور ہوں ورنہ میں تو ایک عام سا بلاگر ہوں

راشد، سب سے پہلے تو ہم آپ سے اردو اور بلاگنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے بلاگ کب لکھنا شروع کیا اور اردو بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟

@

نومبر 2004 میں بلاگنگ شروع کی تھی، قریبا ایک سال بعد اردو بلاگنگ کی طرف مائل ہوا اور پہلا بلاگ 13 ستمبر، 2005 کو لکھا ۔۔ یہ رہا اسکا لنک

http://ublog.urdu-blog.com/_post.aspx?postID=2

2۔ بلاگنگ کا خیال کیسے آیا؟ اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟

@

یونیورسٹی کے دنوں‌ میں تکنیکی مضامین پر بلاگز دیکھ دیکھ کر خود بھی شوق جاگا اور پھر اردو بلاگنگ کی طرف بھی آگئے۔ مسائل وہی عمومی تھے فانٹس، یونیکوڈ وغیرہ وغیرہ لیکن مسائل حل کرنے والے بھی میدان میں موجود تھے چناچہ جلد ہی یہ ایک دلچسپ میدان بن گیا۔

3۔ ابتداء میں صرف بلاگ لکھنے کا خیال تھا یا ذہن میں کوئی اور مقصد بھی تھا؟

@

اردو بلاگز کی ابتدا میں صرف اور صرف مزاح لکھنے کا ارادہ تھا لیکن جیسے جیسے بات آگے بڑھی نئے میدان کھلتے گئے لیکن اب بھی طنزومزاح اور ٹیکنالوجی ہی میری اولین ترجیح ہے۔

4۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا اصل مقام حاصل کر پائے گی؟

@

میں اس سوال کو تھوڑے مختلف انداز میں دیکھتا ہوں ۔۔ جس جس انداز میں اردو بولنے والے ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتے جائیں گے اسی انداز میں زبان بھی زبان کا مقام بھی متعین ہوتا جائے گا۔۔ جیسے سائنس کے اولین دنوں کی اصطلاحات عربی، پھر لاطینی اور پھر انگریزی ۔۔ کچھ بعید نہیں کل چائینیز، پھر ہندی اور اردو بھی ۔۔ یہ ہمارے اوپر ہے کے ہم اردو کے لیے کس مقام کا تعین کرتے ہیں۔

5۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو؟

@

مختصر بیان تو “کچھ بھی نہیں“‌ 🙂 ایک بلاگنگ ویب سائٹ ورڈ پریس سے پہلے۔ کچھ فانٹس اور ختم شد. ویسے اپاچی لیوسین میں اردو پراسیسنگ کا اضافہ کیا ہے۔ رولز انجن مکمل ہوجائے تو انشاء اللہ پراجیکٹ کا حصہ بنانے کی درخواست کروں گا۔

6۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟

@

کافی وسیع سوال ہے ۔۔اگر اردو کا مکمل میدان مراد ہے تو میرا خیال ہے مجرمانہ حد تک غفلت برتی جارہی ہے ۔۔ انفرادی سطح پر ہی ہے جو بھی سامنے ہے۔۔ اور کتاب پڑھنے اور لکھنے کا تو جیسے رواج ہی نہیں رہا۔۔ اور اگر ٹیکنالوجی اور اردو کے حوالے سے سوال ہے تو کارپوریٹس جو “اردو“ سے پیسے بنا رہی ہیں وہ اردو کا حصہ نہیں نکال رہیں‌۔۔

7۔ اردو بلاگرز میں کس کو زیادہ پڑھتے ہیں؟

@

اردو بلاگرز میں سب کو پڑھتا ہوں۔۔ جس دن جو بلاگ شائع ہوتا ہے میں اسے پڑھتا ہوں۔ ہاں اگر پوچھیں کے انتظار کس کا کرتا ہوں تو افضل جاوید(میرا پاکستانافتخار اجمل اور (بد)تمیز صاحبان کے بلاگز کا انتظار رہتا ہے۔

8۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

@

بس یہی کہنا ہے کے آپ لوگ اردو بلاگنگ کے بانیان میں سے ہیں ۔۔ تاریخ میں اتنی اہمیت ہی بہت ہوا کرتی ہے چناچہ لگے رہیں۔

9۔ بلاگ پر کوئی تحریر لکھنے سے پہلے اسے کن مراحل سے گزارتے ہیں؟

@

کوئی خاص طریقہ نہیں۔۔ کبھی لکھا اور شائع کردیا، کبھی لکھا اور ضائع کردیا اور کبھی سوچا لیکن لکھا نہیں۔۔

راشد، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ وغیرہ کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ اب کچھ سوال آپ کے متعلق۔

 

پہچان:

1۔ آپ کا نام؟

راشد کامران

2۔ آپ کی جائے پیدائش؟

کراچی پاکستان

3۔ آپ حالیہ قیام کہاں ہے؟

لاس اینجلس، ریاست (ہائے)‌ متحدہ امریکہ

4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

بس ایک خواہش ہے کے اپنی زندگی میں پاکستان کو ایک باوقار اور ترقی یافتہ مملکت دیکھ سکوں تاکہ پھر کسی کو اپنا گھر مستقل چھوڑ کر نہ جانا پڑے

5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟

 ایک عام سا پاکستانی۔۔ عام سے شوق اور بڑے بڑے خواب۔ میں نے کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کررکھا ہے ۔۔ فاسٹ اور پھر محمد علی جناح یونیورسٹی سے ایم ایس کرنے کی کوشش کی لیکن دل نہیں لگا۔۔ اب زندگی میں تھوڑا ٹہراؤ آیا ہے تو دوبارہ تعلیم کے حصول کا ارادہ ہے۔۔

 

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

راجہ گدھ (بانو قدسیہ)

2۔ گانا ؟

کوئی ایک نہیں بدلتا رہتا ہے ۔۔ آج کل ہپ ہاپ گانے سر فہرست ہیں

3۔ رنگ ؟

نیلا

4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟

شدید بھوک میں کچھ بھی

5۔ موسم

معتدل

 

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟

درست

2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟

شادی کے دن کوشش تو کی تھی

3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

کبھی کبھی جب میں سڑک پر ریس لگاتا ہوں

4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟

اگر موضوع پسند کا ہو اور مخاطب بھی باتیں کرنے کا شوقین ہو

5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟

دو دفعہ درست

6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟

یقیناَ

7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟

یہ تو دوست درست بتا سکتے ہیں۔ کوشش تو کرتا ہوں

8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟

آتا تھا ۔۔ اب نہیں

9۔ میں اچھا بلاگر ہوں؟

ہی ہی ہی ہی

 

آپ کے خیال میں:

1۔ سوال کرنا آسان ہے یا جواب دینا؟

اچھا اور مناسب سوال کرنا زیادہ مشکل ہے

2۔ بہترین رشتہ کون سا ہے؟

خالق کے بعد بے شک والدین کا

3۔ آپ کی اپنی کوئی ایسی عادت جو آپ کو خود بھی پسند ہو؟

تبدیلی کی خواہش رکھنے کی عادت

 

دلچسپی:

1۔ شاعری سے؟

بہت زیادہ۔

2۔ کوئی کھیل؟

پہلے کرکٹ اور فٹبال۔۔ اب باؤلنگ اور فوزبال

3۔ کوئی خاص مشغلہ؟

فلم بینی

 

برا:

1۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟

جب گن پوائنٹ پر میری پہلی محبت میری نئی نویلی گاڑی چھینی گئی ۔۔

2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟

پاس

3۔ دن کا وقت؟

پانچ بجے شام (صرف جمعہ کے دن )

 

کیسا لگتا ہے؟

جب آپ کی تعریف کی جائے:

کیا شرمانے والے سوال کا جواب دوبارہ دیا جاسکتا ہے؟

جب بلاگ کی کسی تحریر کو زیادہ پسند کیا جائے:

اچھا لگتا ہے کے چلو کچھ تو اچھا کیا 🙂

جب کسی تحریر پر ناپسندیدہ / ناگوار تبصرے ہوں:

اگر اختلافی رائے ہو تو یہی تو بلاگز کا حسن ہو۔۔ اگر بے سروپا یا یتیم تبصرہ (بغیر نام کا) ہو تو عجیب لگتا ہے کے اتنی بولڈ رائے اور بندہ غائب 🙂

 

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:

پاکستان یا امریکہ؟

امریکہ (وجہ آزادی)

ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

ہالی وڈ (تخلیقی عمل)

نہاری یا پائے؟

دونوں

قائد اعظم یا قائد ملت؟

دونوں نہیں‌ (آزادی کا اظہار)

آم یا سیب؟

آم

فیوژن یا جنون؟

فیوژن (پختگی)

پسند کی شادی یا ارینجڈ؟

ارینجڈ (فرار کے راستے بند سب پر)

فورمز یا بلاگ؟

بلاگز (مکمل آزادی اظہار رائے)

چائے یا کوک؟

چائے (کافی ملا کر)

کرکٹ یا ہاکی؟

کرکٹ

 

کچھ ہٹ کر:

– بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہوئے کبھی اداس ہوئے یا رونا آیا؟

ہاں ۔۔ پھول جیسی معصوم چھ چھ سال کی بچیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے تو اپنے انسان ہونے پر رونا آتا ہے۔۔ اس پر ایک بلاگ لکھا تھا لیکن وہ صرف بھڑاس نکالنے کے لیے تھا لہذا شائع نہیں کیا۔

– کبھی کوئی تحریر لکھ کر اپنے آپ کو داد دینے کا دل چاہا؟

ایک تحریر لکھی تھی “گدھے“‌ گو کے استاد پطرس کا چربہ سا ہی ہے لیکن دل خوش ہوا تھا لکھ کر

– کبھی کسی تحریر کی اشاعت کے بعد یہ سوچا کہ نہ لکھتا تو بہتر تھا؟

میرا نہیں خیال۔۔ کبھی کبھار کچھ ایسا ہوجاتا ہے کے شاید کچھ مختلف فکر کے لوگوں‌کو ناگوار گزرتا ہو لیکن بہر حال نکتہ نظر ہی تو ہے۔

 

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

@

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے ؟‌

 

راشد،آخر میں ۔۔۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔

خوش نصیبی مکمل طور پر میری ہے ۔۔ آپ لوگوں کا شکریہ

11 تبصرے:

  1. برادرم راشد سے ایک دہای سے زیادہ کی دوستی کے باوجود بھی یہ اپنے تخلیخی عمل اور علم کی نا امتنہای طلب اور جستجو سے ہمیشہ مجھے محو حیرت ہونے پر مجبور رکھتے ہیں۔ راشد کی تحریر میں شگفتگی اور لطیف طنز کا وہ امتزاج موجود ہے جو کہ بڑےادیبوں کا شیوہ رہا ہے۔ مغربی اور مشرقی تہزیب و تمدن کی سمجھ، اس پر گہری ناقدانہ نظر اور تبدیلی کے انجذاب کی جو صلاحیت ان کی نثر میں نظر آتی ہے درحقیقت ان کی متحرک زندگی کا جز اور ثمرہ ہے۔

    اللہ کرے زور قلم اور

  2. راشد کامران میرے پسندیدہ بلاگرز میں سرفہرست ہیں۔ لکھنے کا انداز سب سے جدا ہے جس کے پیچھے سے عمیق مطالعہ جھانکتا ہے اور ان کا مشاہدہ بھی بہت اعلی ہے۔ ان کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا۔ منظرنامہ کا بہت شکریہ۔

  3. تمام لوگوں کی حوصلہ افزائی کا بے حد مشکور ہوں‌۔۔

    افضل صاحب‌ ۔ آپ حضرات کی آن لائن صحبت ملی ہے تو بس تھوڑا بہت لکھنا شروع کردیا ہے۔ کوشش ہوگی کے تواتر سے لکھوں۔

    ساجد صاحب‌ کم لکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں‌۔۔ بس جب موقع ملے کوشش کرتا ہوں کے آپ سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ شیر کرلیا جائے۔

    بدتمیز صاحب۔۔ امریکہ اور امریکی تو ویسے ہی ہم سب کے بھائی ہیں‌۔۔ کیونکہ بڑے بھائی کو چننے کا ح

  4. حق کہاں‌ ملتا ہے۔۔

    عدنان بھائی ۔۔ آپ کی ذرہ نوازی ہے ۔۔

    عمران سیٹھ ۔۔ شکریہ۔

    ابوشامل صاحب‌۔۔ حوصلہ افزائی کے لیے نہایت مشکور ہوں‌۔۔ خوبصورتی تو ویسے بھی دیکھنے والے کی آنکھ میں‌ہوتی ہے۔۔ آپ ماشا اللہ خود اچھے لکھاری ہے۔

  5. السلامُ عليکُم
    ماوراء اور عمّار کی ہر کوشش ايک لاجواب کوشش ہے ہر بلاگر اپنی ايک الگ شخصيّت رکھتا ہے اپنی ذات ميں ايک نگينہ ڈُھونڈنے کا يہ کام آپ دونوں نے کيا ہے ،راشد کامران صاحب کا انٹرويو بہترين لگا اور سعادت صاحب کی „ ايک بُوڑھے آمی کی سالگرہ” کی طرح راشد صاحب آپ کی زبردست ليکھ گدھے پڑھی ايسا لگا پطرس کو خراجِ تحسين پيش کرتے کرتے آپ نے ايک کلاسيک تخليق کرديا ہو تحرير کی پُختگی زبردست ہے مُجھے پُوری تحرير ہی بہت اچھی لگی ليکن يہ جُملہ حاصلِ تحرير ہے
    „ليكن مغرب ميں مذہبي گدھوں كي وہ ’ٹور‘ نہيں جو ہمارے يہاں ملتي ہے، اس معاملے پر مغربي مذہبي گدھوں ميں كافي اشتعال پايا جاتا ہے ليكن ’گدھا اشتعال‘ پر كون كان دھرتا ہے „
    راجہ گِدھ ميرا بھي آل ٹائم فيورٹ ہے
    باقی لوگوں کی طرح آپ کے کم لکھنے کی شکايت ہے وجہ بتانا پسد کريں گے کيا؟
    خير انديش
    شاہدہ اکرم

  6. راشد صاحب آپ کے بارے میں جان کر بڑا اچھا لگا۔۔لیکن کچھ کچھ :usflag ہونا بس ٹھیک لگا۔۔۔ویسے کتنے مزے کی بات ہے ہر پاکستانی (عام و خاص) امریکہ جانا چاہتا ہے کسی نہ کسی حوالے سے امریکہ کو پسند بھی کرتا ہے لیکن خود امریکہ پاکستان آنا چاہتا ہے۔۔ہے نا مزے کی بات :d

  7. شاہدہ اکرم صاحبہ آپ کی پسندیدگی پر نہایت مشکور ہوں‌۔۔ راجہ گدھ بلاشبہ جدید اردو میں‌ ایک بڑا ناول ہے۔۔ کم لکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں‌۔۔ بس جب موقع ملتا ہے ایک پوسٹ‌ داغ دیتا ہوں۔ آپ کے بلاگ کا مجھے تھوڑا تاخیر سے پتہ چلا لیکن اب تواتر سے پڑھتا ہوں

    امن صاحبہ شکریہ ۔۔ یہ تو ایک حقیقت ہے کے ہر پاکستانی امریکہ آنا چاہتا ہے ۔۔ اپنے ٹیلینٹ کی پذیرائی کے لیے غالبا۔ یا پھر آزادی کا اصل مفہوم جاننے کے لیے ۔۔ چھوڑیں‌ علحیدہ بحث‌ہے :dsadsad:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر