آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > سعادت سے شناسائی

سعادت سے شناسائی

آج سلسلہ شناسائی میں ہمارے مہمان بلاگر سے اردو بلاگنگ میں نئے آنے والے شاید کم ہی متعارف ہوں۔ یہ اگرچہ زیادہ تر انگریزی میں بلاگ کرتے ہیں اور اردو میں کچھ کم لکھا ہے لیکن جتنا لکھا ہے، خوب لکھا ہے۔ اردو نثر کی پختگی اور سماجی حالات پر گہری نظر کا ثبوت ان کی تحریر “ایک بوڑھے آدمی کی سالگرہ” سے ملتا ہے۔

 ہمارے آج کے مہمان بلاگر نے اپنے بلاگ کی پانچویں سالگرہ منائی اپریل میں منائی اور  اس موقع پر لکھی جانے والی تحریر میں نہ صرف اپنی پانچ سالہ بلاگنگ کا جائزہ لیا بلکہ اپنے بلاگ کی ای۔بک بھی جاری کی۔ ان کا بلاگ انتہائی خوبصورت اور بہترین انداز سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یقینا آپ جب وہ بلاگ دیکھیں گے تو یہی خواہش کریں گے کہ آپ کا بلاگ بھی ایسا ہی ہوجائے۔

 بہت ہوا انتظار، اب ملتے ہیں ہمارے آج کے مہمان سے۔

 خوش آمدید سعادت

 @

شکریہ، ماوراء اور عمار۔ آپ کی لکھی ہوئی ابتدئی سطریں پڑھنے کے بعد مَیں ساتویں نہیں تو کم از کم پہلے آسمان پر ضرور پہنچ گیا ہوں۔

سعادت، سب سے پہلے تو ہم آپ سے اردو اور بلاگنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے  بلاگ کب سے لکھنا شروع کیا اور اردو بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟

@

بلاگنگ سے میرا تعارف 2002 کے آخر میں ہوا تھا۔ اپنا بلاگ مارچ 2003 میں ultaseedha.diary-x.com پر لکھنا شروع کیا۔ (ڈائری-ایکس کا تو اب خاتمہ ہو چکا ہے۔) میری پہلی اردو تحریر “The Month” تھی، جو 26 اکتوبر، 2003 کو شائع کی۔

2۔ کیسے خیال آیا تھا بلاگنگ کا؟ اور اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟

@

بلاگنگ شروع کرنے سے پہلے میری ایک چھوٹی سی ذاتی ویب سائٹ تھی، جس پر محض “مجھ سے ملیے” قسم کے چند بچگانہ مضامین تھے۔ اُس ویب سائٹ پر ایک عدد گیسٹ بُک بھی تھی جس میں کبھی کبھار کوئی بھلا مانس پیغام چھوڑ جایا کرتا تھا۔ انہی پیغامات میں سے ایک پیغام ایک بلاگر کا بھی تھا، جو اُن دنوں The Silent Spring Flows کے نام سے ایک ذاتی بلاگ لکھا کرتے تھے۔ میں پہلی مرتبہ اُن کے بلاگ پر پہنچا تو وہاں پر تاریخ درج دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اِس طرح تاریخ وار تحریروں کے مجموعے کو بلاگ کہتے ہیں۔ خیال اچھا لگا تو اپنا بلاگ بھی (یا “جرنل” – جیسا کہ اُس وقت مَیں کہا کرتا تھا) بنا ڈالا۔

اردو میں پہلی تحریر لکھتے ہوئے مجھے یونیکوڈکے نام سے آگاہی تو تھی، لیکن اُس کے مقصد اور اُسے استعمال کرنے کے معاملے میں بالکل کورا تھا۔ چنانچہ اُس وقت کے مشہور طریقے، یعنی تصویری اردو، سے ہی کام چلایا۔ بعد میں زکریا کے بلاگ پر یونیکوڈ اردو لکھنے کے بارے میں معلوم ہوا، لیکن پھر بھی تصویری اردو کو ہی استعمال کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ ڈائری-ایکس پر ٹیمپلیٹس تخلیق کرنے کے حوالے سے خاصی آزادی تھی، لیکن چونکہ میرا علم محدود تھا، اِس لیے اردو فونٹس کے حوالے سے کچھ زیادہ پیش رفت ہو نہیں سکی – اور کچھ مَیں ٹاہوما کو بھی استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا! (میری ابتدائی اردو تحریروں کے عنوانات انگریزی میں اِسی لیے ہیں کیونکہ اردو فونٹس کو، اور تصویری اردو کو بھی، ڈائری-ایکس کے ڈھانچے میں عنوانات کے لیے استعمال کرنا مجھے مشکل لگتا تھا۔) کچھ عرصے کے بعد جب انٹرنیٹ کی خاک چھانی تو CSS کے علم میں تھوڑا اضافہ ہوا، جس کو کام میں لاتے ہوئے مَیں اس قابل ہوا کہ یونیکوڈ اردو میں عنوان بھی لکھ سکوں اور تحریر بھی۔ اِس طرح میری پہلی یونیکوڈ اردو کی تحریر “میں کام کرتا ہوں” تھی، جس کے لیے اُس وقت مَیں نے اردو نسخ ایشیا ٹائپ کو استعمال کیا تھا۔

3۔ آغاز میں کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا ذہن میں کوئی اور مقصد بھی تھا؟

@

کوئی خاص مقصد نہیں تھا (اور دیکھا جائے تو اب بھی میرے بلاگ کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے۔) اُس وقت یہی سوچا تھا کہ ورلڈ وائیڈ ویب پر اپنی موجودگی کا ثبوت ڈھیر سارے ای میل ایڈریسز کے علاوہ اور بھی کچھ ہونا چاہیے۔ آجکل ویب ڈیزائننگ اور ویب پروگرامنگ سے متعلق اپنے محدود شوق پورے کرتا ہوں۔ ساتھ کچھ لکھنے کی مشق بھی جاری رہتی ہے اور کبھی کبھار دل کی بھڑاس بھی نکال لیتا ہوں۔

4۔ آپ نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بلاگنگ کی ہے۔ ذاتی طور پر آپ کو کس زبان میں بلاگنگ کرنا پسند ہے؟

@

یہ اِس بات پر منحصر ہے کہ مَیں لکھنا کیا چاہ رہا ہوں۔ ایسی تحریریں جن میں fictional عنصر زیادہ ہوتا ہے، اُن کے لیے مَیں اردو کو ترجیح دیتا ہوں۔ اسی طرح پچھلے چار سالوں سے 14 اگست کو میری ہر تحریر اردو میں ہوتی ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مَیں اردو میں فِکشن اور 14 اگست کے علاوہ اور کچھ نہیں لکھتا۔ دوسرے موضوعات پر بھی لکھا ہے لیکن اردو میں اُن کی تعداد بہت کم ہے۔ اکثر اوقات انگریزی یا اردو میں سے انتخاب کرتے ہوئے مَیں یہ دیکھتا ہوں کہ جس موضوع یا واقعے کو بیان کرنا چاہ رہا ہوں، اُسے کس زبان میں بہتر طریقے سے پیش کر سکوں گا۔ فی الحال البتہ میرے بلاگ کی “ڈیفالٹ” زبان انگریزی ہی ہے۔

5۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا اصل مقام حاصل کر پائے گی؟

@

اس سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے تو اردو کے اصل مقام کا تعین ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی یا کسی بھی میدان میں ایک زبان کی ترقی کا اندازہ اُس میں موجود متعلقہ مواد کی مقدار اور معیار سے لگایا جاتا ہے، اور اِس حوالے سے ٹیکنالوجی میں اردو ابھی کافی پیچھے ہے۔

6۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

@

اس بارے میں کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ بس شرم سے سَر ہی جُھکا سکتا ہوں۔ (یا محض اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اپنے دوستوں کے کمپیوٹرز پر اردو سپّورٹ انسٹال کرتا پھرتا ہوں۔)

7۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟

@

ہاں اور نہیں۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے پروجیکٹس کا فی الحال تو اللہ ہی حافظ ہے۔ نجی ادارے اور رضا کار تنظیمیں وغیرہ اگرچہ کم اور آہستہ کام کر رہے ہیں، لیکن مستقل بنیادوں پر کر رہے ہیں۔

8 ۔ آپ نے اردو میں کافی اچھا بلاگ کیا ہے۔ مستقبل میں آپ اردو میں بلاگنگ کا ارادہ رکھتے ہیں یا اردو کے حوالے سے کوئی کام کرنا چاہتے ہیں؟

@

شکریہ! مستقبل میں اردو میں بلاگنگ انشاء اللہ جاری ہی رکھوں گا۔ اردو کے حوالے سے کام کرنے کے سلسلے میں کچھ مبہم سے خیالات ہیں تو سہی لیکن حتمی طور پر کچھ کہہ نہیں سکتا۔

9۔ کن انگریزی یا اردو بلاگرز کو زیادہ پڑھتے ہیں؟

@

بہت سارے ہیں۔ کسی ایک کا نام لینا ہو تو All Things Pakistan کو کافی باقاعدگی سے پڑھتا ہوں۔ اردو بلاگرز میں سے جو اردو سیّارہ پر رجسٹرڈ ہیں، اُن کے بلاگز پر آمد و رفت جاری رہتی ہے۔

10۔ سعادت، آپ نے اپنے بلاگ کو اتنے اچھے طریقے سے مینج کیا ہوا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بلاگ کا مالک نہ صرف کافی نفاست پسند ہے بلکہ تیکنیکی معلومات بھی کافی رکھتا ہے۔ آپ اس بارے میں کچھ بتائیں کہ یہ سب کیسے کیا؟

@

نفاست پسند؟! آپ کا یہ جملہ اگر میری امی جی نے پڑھ لیا تو وہ پہلی فرصت میں آپ کو غلط ثابت کرنے کے لیے میرے بیڈ رُوم کی ایک تصویر ارسال کریں گی، کیونکہ وہ اُسے کمرہ کم اور کباڑ خانہ زیادہ سمجھتی ہیں۔ (اور صحیح ہی سمجھتی ہیں!)

خیر، مَیں کچھ زیادہ بہک گیا۔

مجھے ڈیزائن (خصوصاً گرافِک ڈیزائن) سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے، چنانچہ اپنے بلاگ کے ڈیزائن کو بھی دلچسپ بنانے کی کوشش کی۔ اِس معاملے میں بھلا ہو اُن تمام ڈیزائنرز کا جنہوں نے اپنا کام ورلڈ وائیڈ ویب پر مشاہدے کے لیے رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ جیسے سیکھ سکیں۔ باقی رہا مینج کرنے کا معاملہ، تو میرے کمرے کی حالت جیسی بھی ہے، لیکن کمپیوٹر کے ڈیٹا کے معاملے میں مَیں منظّم طریقے سے چلنے کا عادی ہوں۔ تکنیکی معلومات بھی آہستہ آہستہ بڑھتی ہی گئیں، جس کی بہت بڑی وجہ اوپن سورس سافٹ ویئر اور ورلڈ وائیڈ ویب ہے۔ گو مَیں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ میری تکنیکی معلومات کافی کم ہیں۔

11۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

@

یہی کہ اردو لکھتے ہوئے (خصوصاً اصطلاحات کا ترجمہ کرتے ہوئے) اتنے پُر جوش ہرگز مت ہوں کہ وہ اردو کم اور عربی یا فارسی زیادہ لگنے لگے۔ مجھے یاد ہے جب مَیں چھٹی جماعت میں تھا تو میرے ایک سینیئر نے مجھ سے کہا تھا کہ انگریزی کی بجائے اردو میں جغرافیہ پڑھنا ایک عذاب ہے، کیونکہ اردو میں نام بہت مشکل ہوتے ہیں۔ یہ آج سے تقریباً بارہ، تیرہ سال پہلے کی بات ہے، آجکل کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اِس لیے اردو کو جتنا ہو سکے آسان فہم بنایئے، اور اپنا کام مستقل مزاجی سے جاری رکھیے۔

سعادت، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ اور دوسرے پروجیکٹس کے حوالے سے آگاہی ہوئی۔ اب کچھ جان پہچان کے سوالات۔

پہچان:

 

1۔ آپ کا نام؟

سعادت متین

2۔ آپ کی جائے پیدائش؟

راولپنڈی

3۔ آپ حالیہ قیام کہاں ہے؟

اسلام آباد

4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

آجکل کے حالات میں زندگی کا مقصد اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ بس زندہ رہ لوں! باقی رہی خواہش، تو اُس کے بارے میں اب کیا بتاؤں۔

5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟

پس منظر کوئی اتنا خاص نہیں ہے۔ ابّو جی ریٹائرڈ ہیں، اور امی جی خاتونِ خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ رضا کارانہ طور پر معلّمی بھی کرتی ہیں۔ رہی تعلیم، تو کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کیا تھا، اور اب اُسی میں ماسٹرز کر رہا ہوں۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

کوئی ایک نہیں ہے۔ حال ہی میں پسندیدہ بننے والی ایک کتاب مختار مسعود کی “آوازِ دوست” ہے۔

2۔ گانا ؟ بدلتا رہتا ہے۔

آجکل اسٹرنگز کا ہمسفر۔

3۔ رنگ ؟

ہر وہ رنگ جو اپنی جگہ پر موزوں لگے۔

4۔ کھانا  (کوئی خاص ڈش) ؟

لوبیے کا سالن۔

5۔ موسم؟

خزاں (اور چونکہ ہمارے ہاں اکثر خزاں اور سرما گڈ مڈ ہو جاتے ہیں، اِس لیے سرما بھی۔)

6۔ عادت؟

رات کو جلد سونا۔

7۔ رشتہ؟

دوستی کا۔

 

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟

میرے بلاگ پر تحریروں کے درمیانی وقفے کو دیکھا جائے تو اِس کا جواب “غلط” ہی بنتا ہے۔

2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟

بہت نہیں ہوں۔

3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

اکثر تو نہیں، لیکن کبھی کبھار ضرور ہوا۔

4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟

کبھی کبھار۔

5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟

بالکل درست۔

6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟

درست۔

7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟

سُنا یہی ہے۔

8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟

اِس بارے میں کئی متضاد آراء موجود ہیں۔

 

دلچسپی:

1۔ شاعری سے؟

بالکل ہے۔ وہ اور بات ہے کہ “؏ شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے”۔

2۔ کوئی کھیل؟

بچپن میں ہاکی کھیلتا تھا۔ کچھ عرصہ کِک باکسنگ سیکھنے کے دھوکے میں مار بھی کھاتا رہا۔

3۔ کوئی خاص مشغلہ؟

وقت ضائع کرنا۔

 

برا:

1۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟

کوئی نہیں۔

2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟

جب وہ کوئی ایسی بات مجھ سے منسوب کر دیں جو مَیں نے کہی نہ ہو، یا میری کہی گئی بات کو تروڑ مروڑ کر کوئی الگ ہی مطلب اخذ کر لیں۔

3۔ دن کا وقت؟

کوئی نہیں۔

کیسا لگتا ہے؟

جب آپ کی تعریف کی جائے:

اچھا لگتا ہے۔ لیکن یہ بھی سوچتا ہوں کہ اِس تعریف کے قابل ہوں بھی یا نہیں۔

جب بلاگ کی کسی تحریر کو زیادہ پسند کیا جائے:

ایک مرتبہ پھر، اچھا لگتا ہے۔ لیکن مشوروں کا منتظر رہتا ہوں۔

جب کسی تحریر پر ناپسندیدہ / ناگوار تبصرے ہوں:

الحمد للہ ابھی تک تو نہیں ہوئے۔

 

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:

پاکستان یا امریکہ؟

امریکہ کبھی گیا نہیں، اس لیے پاکستان۔

ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

ہالی ووڈ۔

نہاری یا پائے؟

دونوں ہی نہیں۔ منتخب کرنا پڑ ہی جائے تو پائے۔

قائد اعظم یا قائد ملت؟

قائدِ اعظم۔

آم یا سیب؟

ہاہا! سیب!

فیوژن یا جنون؟

دونوں کی اپنی ایک پہچان ہے۔ مجھے البتہ اسٹرنگز زیادہ پسند ہیں۔

پسند کی شادی یا ارینجڈ؟

دونوں کا مِکسچر۔

فورمز یا بلاگ؟

بلاگ۔

چائے یا کوک؟

چائے کی جگہ کافی، کوک کی جگہ فروٹ جوس۔

کرکٹ یا ہاکی؟

آجکل تو دونوں ہی نہیں۔

 

کچھ ہٹ کر:

بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہوئے کبھی  دکھ ہوا یا رونا آیا؟

ابھی تک تو نہیں۔

بلاگ پر کبھی کوئی تحریر لکھ کر اپنے آپ کو شاباشی دینے کا دل چاہا؟

انگریزی میں “The Light Bulb That Never Showed Up” اردو میں “بِلا عنوان“۔

کبھی کسی تحریر کی اشاعت کے بعد یہ سوچا کہ نہ لکھتا تو بہتر تھا؟

ہاں۔ لیکن اُس تحریر کے بارے میں بتاؤں گا نہیں۔

 

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

@

نہ پوچھے جانے والے سوالات کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں، جو پوچھے گئے وہ ہی کافی جامع تھے۔ مزید یہی کہنا چاہوں گا کہ اِس عزت افزائی کا بے حد شکریہ۔ اردو میں میری بلاگنگ نہایت کم ہے، لیکن پھر بھی آپ نے انٹرویو کے قابل سمجھا۔

 

سعادت! آخر میں ۔۔۔ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ منظر نامہ کو دینے کا بہت بہت شکریہ۔

آپ کا بھی بہت شکریہ!

8 تبصرے:

  1. السلامُ عليکُم
    سعادت صاحب کو ميں نے بالکُل نہيں پڑھا تھا ليکن منظر نامے ميں اُن کی ايک تحرير „ايک بُوڑھے آدمی کی سالگرہ„ نے ہی بتا ديا کہ زبردست لکھاری ہيں يقين کريں پُوری تحرير کے خاتمے تک اگر انسان کی دلچسپی ايک سی ہی رہے اور ہم اُس کی سچائيوں کو پُوری شدّو مد سے سمجھ پاۓ تو يہی خُوبی ہے اچھی تحرير اور اُس کی پُختگی کی
    شاباش عمار اور ماوراء بہت ہی اچھا نيکی والا کام کر رہے ہو اتنے لوگوں سے شناسائ کروا رہے ہو نيکی کا ہی کام ہے نا بہت اچھا انٹرويو لگا ہاں ايک بات جسے پڑھ کر آپ ماوراء شايد ہنسوگی کے سعادت صاحب نے جو اپنے بيڈ رُوم کا نقشہ کھينچا تو ميں نے وہ اپنی بيٹی کو سُنايا اور جواب ميں اُس کی زوردار امّی کی آوازآئ اور جب اگلا جُملہ سُنايا تو حيران ہُوئ کہ کيا ساری امّياں ايک سی ہوتی ہيں يعنی مُلا حظہ کريں امّياں
    خُوش رہو
    شاہدہ اکرم

  2. شکریہ منظرنامہ، تمہاری وجہ سے ہمیں سعادت کو جاننے کی سعادت حاصل ہوئی۔
    ایک تکنیکی سوال سعادت بھائی، اردو کیلیے اردو اور انگریزی کیلیے انگریزی فونٹس بین السطور کسی طرح ممکن ہیں، جیسے الٹاسیدھا کی تحریروں میں‌ ہے؟

  3. شاہدہ صاحبہ،
    بے حد شکریہ، آپ نے تحریر پسندکی، اور پھر اتنے خوبصورت الفاظ میں پذیرائی بھی کی۔ ایک اور شکریہ اِس بات کو کنفرم کرنے کا بھی کہ ساری امّیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں!

    افضل صاحب،
    مجھے یقین ہے کہ منظر نامہ پر موتیوں سے شناسائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مَیں البتہ ایک چھوٹا سا کنکر ہوں جس کی بس کچھ عزت افزائی ہو گئی۔

    اسماء،
    بہت شکریہ۔ کم لکھنے میں برکت ہوتی ہے!

    ساجد بھائی،
    آپ نے جو بات پوچھی ہے، اس کے لیے CSS اور HTML کے ساتھ تھوڑا سا کھیلنا ہو گا۔
    فرض کیجیے آپ کے پاس CSS کی دو کلاسِز ہیں، .urdu اور .eng جن میں بالترتیب اردو اور انگریزی کے فونٹس اور دیگر اسٹائلنگ کی تفصیلات درج ہیں۔ اب جہاں کہیں انگریزی میں اردو متن آئے، تو اُسے اِس طرح لکھیے:
    اردو متن
    اِسی طرح اردو میں آنے والے انگریزی الفاظ کو اِس طرح لکھیے:
    English text
    مزید مدد کی ضرورت ہو تو بِلا جھجک رابطہ کر لیجیے گا۔

  4. […] اپریل 2005ء میں ”الٹا سیدھا“ بلاگ کے سعادت متین نے ”میں کام کرتا ہوں“ کے عنوان سے اپنی پہلی یونیکوڈ اردو تحریر لکھ کر اردو بلاگنگ میں قدم رکھا۔ یہ اردو میں بہت کم جبکہ انگریزی میں زیادہ لکھتے تھے۔ یوں تو سعادت اکتوبر 2003ء سے ”اردو پوسٹ“ کر رہے تھے مگر ان کی پہلی اردو پوسٹ یونیکوڈ کی بجائے تصویری صورت میں تھیں۔ پہلے ان کا بلاگ کسی دوسری ڈومین پر تھا، پھر غالباً 2006ء میں موجودہ ڈومین پر منتقل ہو گئے۔ اپنی ڈومین پر منتقل ہوتے ہی انہوں نے تصویری اردو کو یونیکوڈ اردو کر دیا۔ منظر نامہ پر سعادت کا انٹرویو۔ […]

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر