آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > نقطہ نظر > ہائے رے بجلی از راشد کامران

ہائے رے بجلی از راشد کامران

یہ بھلے وقتوں کی بات ہے، بھلے وقتوں سے مراد کوئی بارہ، پندرہ برس پہلے کا تذکرہ ہے ، اب یہ گمان نہ کر بیٹھیے گا کہ ہم فرعون کے بھانجوں کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیلا کرتے تھے۔ خیر اُس وقت بجلی کا استعمال برقی قمقمے روشن کرنے سے زیادہ کا نہ تھا، میلاد محرم بھی آج کل کے حساب سے سوچیں تو کافی “گرین“ قسم کے ہوا کرتے تھے اور ٹی وی نگوڑ مارا تو بڑا مقامی مقامی سا تھا۔ شام کو بسم اللہ سے شروع اور رات گیارہ بجے فرمان الٰہی پر ختم۔ قصہ مختصر اس منحوس جنم جلی بجلی پر انحصار بس اتنا سا تھا کے اِدھر گئی اُدھر مٹی کے تیل کے دیے روشن یا غریب کی قسمت جیسی ایک لالٹین کو شعلہ دکھا دیا۔ چھوٹا سا گھر تھا، تھوڑی روشنی بھی بہت ہوا کرتی تھی کہ عام گھروں میں رت جگوں کا چلن ابھی معمول کی بات نہ تھی ۔ ہائے ہائے! کیا سادہ زندگی تھی جب بجلی جانے کی دعائیں مانگا کرتے تھے، اولاً تو پڑھائی کی چھٹی، دوم گلی میں ہلڑ بازی اور چھپن چھپائی کس کو بری لگتی ہے۔ ٹیلیویژن بھی بس چوتھی اولاد کی طرح دیکھا دیکھا نا دیکھا نا دیکھا۔ ہاں ڈرامے طویل دورانیے کے ہوا کرتے تھے، ہمارے جیسے لوگوں کی کہانیوں پر مبنی، قلیل دورانیے کی ڈھیں ڈھیں ڈُش ڈُش ابھی وبا نہیں بنی تھی۔

خدا جانے سیدوں کی بدعا کا اثر تھا کے موئے یہودیوں کی سازش، امریکی امداد اور بجلی، طاعون کی طرح پورے معاشرے کو نگل گئے۔ اے لو! بھیا امریکی امداد اور بجلی کا تعلق کیوں نہیں ہے؟‌ دونوں ہوں تو دھڑکا لگا رہتا ہے جانے کم بخت کب چلی جائیں، اور نہ ہوں تو “اب کے ساون گھر آجا“ کی مثال۔ خدا لگتی کہتا ہوں، لگی لپٹی کی عادت نہیں اب تو سانس لینے کے لیے بھی بجلی کے محتاج ہوگئے ہیں‌۔ دل پر ہاتھ رکھوں، رہا تو ہم سے بھی نہیں جاتا اس قاتل کے بغیر۔ لیکن بے رخی کی بھی حد ہوتی ہے، اتنے نخرے تو امراؤ جان کے بھی کسی نے نہیں اٹھائے۔ میاں پرانے آدمی ہیں لیکن جدید کھلونوں کا شوق عمر دیکھتا ہے کیا؟ خیر سے آٹھ دس برقی کھلونوں کے مالک ہیں، اب آپ ہی سوچیں کھلونے ہوں تو کھیلنے کو دل تو مچلتا ہے نا؟ پر یہ ہیں کہ روٹھی رہتی ہیں، دوسرے برس کی منگتیر کی طرح۔

ارے میں تو کہتا ہوں بہت ہوا۔ سوچتا ہوں صاحب لوگوں کے بنگلے کے پچھواڑے کٹیا ڈال لیتے ہیں اُنہیں بجلی کی کیا کمی۔ اتنی بجلی تو اپنی جیب میں رکھے پھرتے ہیں جتنی ہمارے جیسے قلندر زندگی بھر استعمال بھی نہ کرسکیں۔ خدا غارت کرے ان فرنگیوں کو، ارے کافروں جب جدید چیزیں بنانی ہی ٹہریں تو کچھ بغیر بجلی کے بھی بنالو، لیکن کہاں! مسلمانوں کا بھلا تو تم فرنگیوں سے دیکھا ہی نہیں جاتا، کوئی بڑھکوں سے چلنے والی مشین بناؤ تو جانیں، پھر کہیں گے پھیکی رنگت کی جے۔

10 تبصرے:

  1. اجمل صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہر انسان کے اندر ایک ماما عظمت موجود ہوتی ہے کبھی کبھی اسکو بولنے کا موقع مل جاتا ہے :str

    خاور صاحب شکریہ ۔ بس کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے انداز بدل لیتے ہیں

    ساجد صاحب پسندیدگی کا شکریہ۔

  2. :by آداب جناب؛
    محترم، شادی کے بعد تو آپ کا طرز بیاں کچھ زیادہ ہی نکھار گیا ہے۔ اور ساتھ میں‌ شادی سے پہلے کا دکھ بھی بیان کر دیا ہے۔ بہرکیف اچھا لکھا ہے پسند آیا

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر