آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > شاکر عزیز سے شناسائی

شاکر عزیز سے شناسائی

منظرنامہ کے قارئین کو محبتوں بھرا سلام پہنچے۔
سلسلہ “شناسائی” کے ساتھ میزبان ماوراء اور عمار حاضر ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔

ساتھیو! جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو زبان کو فروغ دینے کی کاوشوں کا علم پاکستان کے مشہور، تاریخی اور قدیم شہر فیصل آباد کے ایک نوجوان کو ہوا تو جیسے اسے جنت مل گئی۔ اردو محفل میں شمولیت اختیار کی، پھر اردو بلاگ سیٹ کیا۔ سچ کہیں تو ان کا اردو محفل اور اردو بلاگنگ کی طرف آنا اردو سے محبت کرنے والوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ اس پرجوش نوجوان نے اپنے ہم وطنوں کو ان کی اپنی زبان یعنی اردو میں نہ صرف اپنے بلند خیالات سے آگاہ کیا بلکہ تیکنیکی معاملات میں مدد بھی فراہم کی۔ اردو بلاگ کی تشکیل کے مراحل کو آسان انداز میں سکھایا اور کئی سوفٹ وئیر کو اردو قالب میں ڈھالنے کے لیے نمایاں کام کیے۔
اس نوجوان کا جوش صرف ٹیکنالوجی کی حد تک نہیں، اپنی قوم اور ملک کے لیے بھی تھا۔ سیاسی معاملات میں اس نے خود کو صرف جوشیلی باتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ جب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو آمریت کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تو یہ نوجوان اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اکیلا سڑک پر احتجاجی پلے کارڈ لیے کھڑا رہتا۔ اپنی زبان سے محبت ہی کا نتیجہ تھا کہ بی۔کام کی پڑھائی کے بعد اس نے اپنا رخ “لسانیات” کی طرف کرلیا۔

آج ہم اسی نوجوان سے بات چیت کریں گے۔ ہمارے آج کے مہمان ہیں شاکر عزیز۔

خوش آمدید شاکر!
بہت شکریہ

کیسے مزاج ہیں؟
الحمد اللہ

  1. اردو بلاگنگ کب شروع کی تھی اور کیسے؟

بلاگنگ 2005 کے آخر میں شروع کی تھی۔ اکتوبر میں۔

2. تو ابتداء میں کن مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ کہاں کہاں سے مدد لی؟

ابتداء میں بلاگ بلاگسپاٹ پر بنایا تھا جو گوگل کی بلاگنگ سروس ہے۔ تھیم کا مسئلہ کھڑا ہوگیا جس کے لیے نبیل نقوی اور قدیر احمد نے مدد کی۔

3. کیسے خیال آیا تھا اردو بلاگنگ کا اور کیا مقصد ذہن میں تھا؟ صرف بلاگ لکھنے کا یا اردو کے فروغ میں کردار ادا کرنے کا بھی خیال تھا؟
اس وقت لگا یہ فیشن میں شامل ہے سو میں نے بھی ایک بلاگ شروع کردیا۔ قدیر کا بلاگ تھا، زیک کا، نبیل کا اور خاور کھوکھر کا ان کی تحریریں اپیل کرتی تھیں سو میں بھی آگیا اس فیلڈ میں۔

4. سوفٹ وئیر کی دنیا میں جتنا کام دوسری زبانوں میں ہورہا ہے، کیا آپ کے خیال میں اردو کبھی اس مقام کو پہنچ پائے گی؟
ضرور پہنچ پائے گی۔ اردو کو ابھی کمپیوٹر پر آئے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے۔

5. کہتے ہیں کہ اردو ایسی زبان ہے جسے اس کے اپنے دیس سے نکال دیا گیا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور ہم کیا کرسکتے ہیں؟

اردو کبھی بھی وہ درجہ حاصل نہیں کرسکی جو ہم آج اسے دینےکی باتیں کرتے ہیں۔ یعنی سرکاری و دفتری زبان۔ اردو ہمیشہ سے ایک عوامی زبان رہی ہے اور عوام میں ہی پروان بھی چڑھی۔ سرکار نے تو کبھی اس کی پرورش کی سنجیدہ کوششیں کی ہی نہیں۔ نہ دو سو سال پہلے مغلوں نے اور نہ اب دیسی گوروں نے۔

6. اب تو آپ ونڈوز پر لینکس کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی خاص وجوہات سے قارئین کو بھی آگاہ کریں نا۔
وجوہات یہ ہیں کہ لینکس زیادہ سیکیور ہے۔ وائرس اور ہیکنگ کا ڈر خاصا کم ہے۔ مفت ہے اور آزاد مصدر ہے یعنی آپ قانونی طور پر اسے مفت استعمال کرسکتے ہیں اور اس کی سی ڈی دوسروں کو تقسیم کرسکتے ہیں۔ جبکہ ونڈوز کے ساتھ ایسا نہیں۔

7. اردو کے فروغ کے لیے اپنا کردار کیا دیکھتے ہیں؟ مستقبل میں اس حوالہ سے کیا ارادے ہیں؟
اردو کے فروغ کے لیے بس کبھی کبھی ابال اٹھتا ہے تو کچھ ہوجاتا ہے۔ ورڈپریس کا ترجمہ کیا تھا کبھی جو اب اپڈیٹ مانگتا ہے۔ پچھلے دنوں اردو ویب لائبریری کے لیے ایک اردو ایڈیٹر بنایا تھا تاکہ ٹائپنگ آسانی سے ہوسکے۔ تو ایسے ابال اٹھتے ہی رہیں گے۔ خاصے پلان ہیں مستقبل کے لیے۔ اب جبکہ سی شارپ پر کچھ نہ کچھ دسترس ہے تو اردو کے لیے لینکس پر بھی سافٹویر ڈویلپ کرنا پسند کروں گا۔ اردو لسانیات میں اپنی کسی ڈگری کا ریسرچ ورک کرنے کی آرزو ہے تاکہ اردو کا بھلا بھی ہوجائے اور میرا بھی۔ دیکھئیے کب ہوتا ہے یہ سب۔

8. پرانے اور نئے بلاگرز میں کون پسند ہے؟ کسے شوق سے پڑھتے ہیں؟
افتخار اجمل، ڈاکٹر راجہ افتخار، خاور کھوکھر کی تحاریر اچھی ہوتی ہیں۔ قدیر بھی اچھا لکھتا ہے لیکن بھاگ جاتا ہے آج کل تو۔ بدتمیز کی ٹیکنالوجی پر پوسٹس اور امریکہ کی لوکل زندگی پر تحاریر سے خاصا مرعوب ہوجاتا ہوں۔ راہبر اپنے بلاگ پر اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی پھلجھڑیاں چلاتا رہتا ہے جنھیں پڑھ کر اچھا لگتا ہے۔ ایک بلوچ بھائی ہیں جیوانی سے وہ بھی اچھا لکھتے ہیں اگر کبھی آجائیں تو۔ باقی سارے اچھے ہیں اگر متواتر لکھتے رہیں تو۔

جیسا کہ امتحانات میں اکثر دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک تفصیلی سوالات کا اور ایک مختصر سوالات کا۔ تفصیلی سوالات کا حصہ یہاں مکمل ہوا۔ اب ایک نظر مختصر سوالوں کی طرف۔

 

پہچان:

مکمل نام؟
محمد شاکر عزیز

جائے پیدائش؟
فیصل آباد

حالیہ قیام؟
فیصل آباد

زندگی کا مقصد؟
اپنے ملک و قوم اور اپنے لیے کچھ کرسکوں

خاندانی اور تعلیمی پس منظر؟
خاندان پاکستان کا ایک متوسط گھرانا۔ تعلیم بی کام کے بعد ایم ایس سی اپلائڈ لنگوئسٹکس کا طالب علم۔ کمپیوٹر میں غیر نصابی شدھ بدھ یعنی بغیر سند کے۔

پسندیدہ:
کتاب؟
علیم الحق حقی کی عشق کا عین اور عشق کا ش

گیت؟
جو اچھا لگ جائے۔

فلم؟
ہر وہ فلم جو پسند آجائے۔

کھانا؟
سب چلتا ہے۔

موسم؟
جب اندر کا موسم خوشگوار ہو تو ہر موسم ہی اچھا لگتا ہے۔

صحیح/ غلط:

مجھے بلاگنگ کی عادت ہوگئی ہے۔
عادت ہوجاتی ہے لیکن کبھی کبھی۔

میں بہت شرمیلا ہوں۔
کہنے والے منہ پھٹ کہتے ہیں۔

مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔
جب موڈ ہو تب ڈھیر ساری ورنہ چپ۔

میں ایک اچھا دوست ہوں۔
دوستوں کا دوست ہوں۔

مجھے غصہ بہت آتا ہے۔
کبھی کبھار بہت آتا ہے۔

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:

پاکستان یا امریکہ؟
برا کوئی بھی نہیں ہوسکتا ہے کل امریکہ جانا پڑ جائے لیکن آنا تو پاکستان میں ہی واپس ہے۔ سو پاکستان کچھ زیادہ امریکہ باقی ممالک کی طرح مناسب سا

ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
جس کی فلم ہاتھ آجائے۔

نہاری یا پائے؟
پائے پنجاب کا کھانا ہے اس لیے۔

قائد اعظم یا قائد ملت؟
لیڈروں کی چھوڑیں جی۔ جو مرگئے وہ بھی کچھ نہیں کرسکتے جو جیتے ہیں وہ بھی لاچار ہیں۔

آم یا سیب؟
جو مل جائے۔

فیوژن یا جنون؟
گانا پسند آنا چاہیے۔

پسند کی شادی یا ارینجڈ؟
وقت بتائےگا۔

فورمز یا بلاگ؟
دونوں۔

چائے یا کوک؟
جو مل جائے۔

کرکٹ یا ہاکی؟
کرکٹ

 آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام؟

پیغام وہی کہ خوش رہیں، خوش رکھیں وغیرہ وغیرہ۔ مختصر سی زندگی میں ایک بات نوٹ کی ہے جس کے پاس ہنر ہوتا ہے وہ کبھی مار نہیں کھاتا۔ چاہے وہ موچی ہے، راج مستری ہے یا کوئی سبجیکٹ سپیشلسٹ۔ اپنی فیلڈ میں اتنی مہارت پیدا کرلیں کہ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔
اور آپ کا شکریہ اب میں بھی اپنے آپ کو بلاگنگ کا بابا سمجھنے لگوں گا 😉

 

شاکر، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ پر انٹرویو دینے کا بہت شکریہ۔

8 تبصرے:

  1. شاکر کا انٹرویو پڑھ کر اچھا لگا.. واقعی ملنگ آدمی ہیں.. دل میں ملنے کا اشتیاق ہے.. مگر ابھی ملوں گا نہیں کیونکہ کچھ سوچ رکھا ہے.. میرے خیال میں ابھی بہت سارے ایسے سوالات تھے جو پوچھے جاسکتے تھے مگر پوچھے نہیں گئے اس لیے کچھ تشنگی سی محسوس ہوئی.. منظرنامہ کے سرکرداؤں کو سوالات کے سلسلے میں ابھی مزید کچھ ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے..

  2. مورخه دو اگست دوهزار آٹھ کو مشرقی جاپان کے شہر اویاما کے اوشن میں مجھے میری
    اس پوسٹ پر
    جاپان مین مسلم لیگ نون کے کرتا دھرتاؤں نے مجھے دھمکیاں دی هیں
    کہتے هیں که هم تمهارے گھر والوں کو اٹھوالیں گے ـ
    کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے!ـ آپ صاحبان کا ؟؟
    سچ لکھنے پر ؟؟
    لکھنے والوں کی تنقید ضرور سننا چاهوں گا میں اپنی اس تحریر پر ـ

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر