آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > شعیب صفدر سے شناسائی

شعیب صفدر سے شناسائی

آداب۔۔۔ تسلیمات!
منظرنامہ پر سلسلہ شناسائی میں آپ کے میزبان ماوراء اور عمار حاضر ہیں اس امید کے ساتھ کہ آپ سب بخیریت ہوں گے۔
ہماری اردو بلاگنگ کی دنیا میں ایک بلاگر کا تعلق وکالت کے پیشے سے ہے۔ ان کی حاضر جوابی، برجستگی، بذلہ سنجی، خوش مزاجی اور نکتہ دانی کا بڑا سبب شاید ان کا پیشہ رہا ہو لیکن یہ سب اب ان کے مزاج کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ عرصہ سے لکھ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ورڈ پریس کا ورژن اپ۔گریڈ کرنے کی کوششوں میں ان کی ڈیٹابیس کو نقصان پہنچا اور یوں ماضی میں لکھی ان کی تحاریر اب وجود نہیں رکھتیں۔ ہم نے ان سے انٹرویو کے لیے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے پہلے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیا بلاگ بن جائے، اس کے بعد اس طرف آئیں گے۔ بلاگ بنا تو یہ طے کیا کہ ایک ملاقات پر (لسی کے گلاس کے ساتھ) انٹرویو بالمشافہ لیا جائے اور جب ہم بالمشافہ انٹرویو کی تیاری کرکے پہنچے تو موصوف نے فرمایا کہ نہیں، بالمشافہ کیا لینا، ویسے ہی ٹھیک ہے، سوالات بھیج دینا۔
جی ہاں، ہمارے آج کے مہمان ہیں، جناب شعیب صفدر۔

خوش آمدید شعیب۔
@ شکریہ! منظر نامہ کے میزبانوں کا، میں مشکور ہوں آپ کا! جن الفاظ میں تعارف کروایا ہے میں آپ کا مزید مشکور ہوں۔ ویسے ماضی کی کئی تحریریں یہاں وجود رکھتی ہیں۔

ہم اب تک اگرچہ بلاگنگ کے بارے میں سوالات سے ابتداء کرتے آئے ہیں لیکن آپ ہمیں پہلے اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیں۔
@ تعلیم کا یہ ہے کہ ماسٹر (بین الااقوامی تعلقات)کر چکا ہو، (خاتون اَن پڑھ ہو کر بھی ماسٹر کر سکتی ہے ہم مرد نہیں، ہاں ہم ماسٹرنی کر سکتے ہیں)۔ اب لاء میں ماسٹر (ایل ایل ایم) کا ارادہ ہے۔ پھر دیکھے گے کیا کیا جائے۔ خواہش تو پی ایچ ڈی (پھیرا ہوا دماغ نہیں) کی بھی ہے!

اگر وکیل نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟ کوئی دوسرا آپشن بھی تھا ذہن میں؟
@ بھائی وکالت آخری آپشن تھا میرے لئے! مگر میرے لئے وکالت پہلا و آخری آپشن والد صاحب کا تھا۔ میں فوج میں جانا چاہتا تھا، اس لئے انٹر بھی پی اے ایف کالج سے کیا،مگر فوج نے آئی ایس ایس بی میں جھنڈا دیکھا دیا، پھر ہم نے اپنا رُخ پولیس کی طرف کیا وہاں بھی فائنل انٹرویو میں انگھوٹھا دیکھا دیا گیا! ان دو جگہوں کے علاوہ ہم نے ہوائی میزبان بننے کی کوشش کی وہاں بھی انہوں نے چونی اٹھوائی۔ ان تین کوششوں کے بعد ہم نے والد کی خواہش کو اپنی مجبوری جانا اور وکیل بن گئے! اور اگر وکیل بھی نہ بنتا تو سیاست دان بن جاتا۔ 🙂

اس پیشہ کی کوئی تین خوبیاں اور تین خامیاں بتائیں۔
@ خوبیاں:
اول معاشرے کو قریب سے دیکھنے و سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ دوئم سیاسی و سماجی شعور حاصل ہوتا ہے۔ سوئم مذہبی و ملکی قانون سے واقفیت کی بناء پر اپنے حقوق و فرائض سے آگاہی ہونے کے سبب اپنی حدود و طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
خامیاں:
اول بندہ وکیل بن جاتا ہے۔
دوئم لا محدود دعا سلام ہونے کی بناء پر آپ گھر و خاندان کو کم وقت دیتے ہو۔
سوئم اس پیشے میں برائی کا روڈ میپ معلوم ہو (مل) جاتا ہے، اس بناء پر اخلاقی طور پر کمزور پڑنے پر آپ شباب و کباب تک رسائی بھی آرام سے حاصل کر سکتے ہیں!

اچھا۔ شعیب! اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے کچھ بتایئے۔
@ جی میں اچھا ہوں، تب ہی آپ نے اچھا شعیب لکھا ہے ناں! خاندانی پس منظر یہ ہے کہ والد صاحب ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں روہیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تحصیل ڈسکہ میں ہے۔ وزیرآباد سے سمبڑیال آتے ہوئے سمبڑیال موڑ سے پہلے یہ گاؤں آتا ہے۔ جاٹ ہوں گھوت گھمن ہے! ابو پی آئی اے میں آفیسر انجیئر ہیں اور وہ کراچی آ گئے تھے اس لئے اپنی پیدائش کراچی کے علاقے لیاری کی ہے۔ معاشی اعتبار سے ایک متوسط فیملی سے تعلق ہے۔

بلاگ کا کب اور کیسے پتا چلا؟
@ بلاگ کا پتا تو بلاگ شروع کرنے کے بعد چلا، مذاق نہیں کر رہا۔ میں آصف کا بلاگ پڑھتا تھا مگر مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ بلاگ و ویب سائیٹ میں کیا فرق ہے، مختلف فری ہوسٹ پر مختلف تجربات کرتا رہتا تھا۔

کب خیال آیا کہ اب خود بھی بلاگ لکھنا چاہئے اور بلاگنگ کی ابتداء میں کیا کیا مراحل طے کیے؟
@ اوپر بیان کیا، بلاگ کا مجھے ابتدا میں نہیں پتا تھا! باقی پاکستانیوں کی طرح میرے پاس بھی وقت برباد کرنے کو بہت تھا! ایسے میں بلاگر پر بھی ایک اکاؤنٹ بنا دیا! ایک پوسٹ بھی دے ماری! مگر اپنی ایک پوسٹ پر ایک تبصرہ نے ابھارا کہ اپنی بات کہنی چاہئے یوں دوسروں کی سوچ جانچنے کا موقع بھی ملے گا اوریوں باتیں کہنے(لکھنے) کے لئے بلاگ کا آغاز کر دیا!
ابتدا میں بلاگ پر صرف تحریر ہی اردو میں دیکھائی دیتی تھی لہذا ہم نے بلاگ کا لباس (ٹیمپلیٹ) اردوانے کی کوشش کی جس میں کامیاب ہوا! پھر اردو بلاگ پر نبیل کا بنایا ہوا اردو ویب پیڈ انٹیگریٹ کرنے میں کامیاب ہو گیا! یوں دوسرے الٹے سیدھے تجربے بھی کرتا رہا! اور یہ سلسلہ چل نکلا۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کیا فائدہ ہوا ہے؟
@ اپنے فائدے کی بات کرو تو مجھے ذاتی طور پر بات لکھنے کا کچھ کچھ طریقہ (سلیقہ نہیں کہوں گا) آ گیا ہے! اس کے علاوہ مطالعہ و مشاہدے کی عادت مزید پختہ ہو گئی ہے کہ کسی موضوع پر لکھنے کے لئے مطالعہ و مشاہدہ ضروری ہے ناں۔ اس کے علاوہ آپ جیسے دوست ملے ہیں اور ایک لا اُبالی بھائی بھی ملا ہے!

جب آپ نے بلاگ لکھنا شروع کیا تو کس سے متاثر تھے؟ کن بلاگرز کو پڑھا کرتے تھے؟
@ میں نے بتایا کہ میں آصف کا بلاگ پڑھتا تھا مگر میں کسی سے یو ں متاثر نہ تھا کہ اُسے دیکھ کر بلاگ بناؤ۔ اچھی تحریر مجھے متاثر کرتی ہے جس بھی بلاگ کی ہو جو لکھنے والے کے انداز ، معلومات یا خیالات کے اعتبار سے انوکھی ہو (انگریزی یا اردو دونوں) ۔ ایسی تحریروں کو میں دو سے تین بار پڑھتا ہوں ورنہ ایک بار بھی مکمل نہیں پڑھتا!

وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟
@ موجودہ منظر بہت بہت حوصلہ افزاء ہے! نئے آنے والے بلاگر تکنیکی اعتبار اور اندازِ تحریر دونوں اعتباز سے بہت اچھے اور مجھ جیسے بندے سے کافی آگے ہیں جو اردو بلاگنگ کے لئے خوش آئیند ہے! تعداد میں اضافہ بہت سُست ہے مگر جو آ رہے ہیں وہ بہت پختہ ہیں۔

کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں؟
@ سیاسی، سماجی و معاشعرتی موضوعات پر مبنی بلاگ میرے پسندیدہ ہیں، مزاح و اچھی شاعری بھی چونکہ لطف دیتی ہیں لہذا ایسی پوسٹ بھی پڑھتا ہوں۔

آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ سب کو کامیاب! خود کو، اردو بلاگنگ کو اور وطن عزیز کو! اب کامیاب کو بیان کرنے کا مت کہئے گا!

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اردو کو اردو بولنے والوں نے اس کا جائز مقام دیا ہے؟
@ ہم اردو بولنے والے ہیں! ہم نے نہیں دیا اس کو اس کا جائز مقام، صاف سی بات ہے اب تک ہم اس کے مقام کا تعین نہیں کر سکے تو جائز مقام تو دور کی بات ہے!

ملک کو درپیش بڑے بحرانوں میں عدلیہ کا بحران بھی کافی اہم ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں اسے اور کیا امیدیں ہیں مستقبل میں؟
@ یہ سوال تو ایک مکمل پوسٹ میں بھی نہیں سما سکتا آپ چند سطروں میں جواب کے خواہش مند ہیں! یہ دراصل عدلیہ کا بحران نہیں انصاف کا بحران ہے! اگر انصاف ہوا تو بحران باقی نہیں رہے گا ورنہ وہ ہی جو شہزاد رائے کہہ رہا ہے کہ “چند لوگوں نے لے لی ہے قوم کی” اب وہ قسمت ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سماجی کاموں سے بھی کافی دلچسپی ہے آپ کو، اس حوالہ سے اب تک کی کوششوں پر کچھ روشنی ڈالئے۔
@ یہ سوال غلط ہو گیا ہے! یہ بتانے کے نہیں کرنے والے کام ہوتے ہیں!

آگے کیا کیا منصوبے ہیں؟ کیا خواب سجائے ہیں؟ شادی کا کب تک ارادہ ہے؟ ؛)
@ آگے تو وکالت میں نام پیدا کرنے کی خواہش ہے! ابھی (ایک ماہ قبل) جب تمام گھر والے عمرہ کرنے گئے تھے تو ہم نے اُن سے بھی یہ ہی کہا تھا کہ دعا کرنا قانون سمجھ جاؤں اور وکالت میں نام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔ باقی شادی کرنا تو سنت ہے یہ بھی کر لیں گے کہ ذرا “اُن” کی تعلیم (ایم بی اے) مکمل ہو جائے۔

جو محبان اردو کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ان کے لیے اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ انگریزی چونکہ ہمیں آتی نہیں اس بناء پر ہم بھی خود کو محبان اردو کہلوانا چاہتے ہیں مگر درحقیقت ہم اُردو کے مجبوری کے محبوب ہیں دراصل اردو ہماری محسن ہے۔ حقیقت میں موجود محبان اردو کسی پیغام کے محتاج نہیں!

تفصیلی سوالات تو کافی ہوۓ۔ ایک نظر چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف۔

پسندیدہ:
کتاب؟
مذہبی کتب میں قرآن پاک (ویسے جو بھی پڑھنے کو مل جائے۔ میں نے ساٹھ فیصد کتابیں مانگ کر پڑھی ہیں!)
گیت؟
یہ موسم یہ مست نظارے
پیار کرو تو اِن سے کرو
فلم؟
پالکی (پاکستانی)
کھانا؟
بریانی!
موسم؟
پانچواں محبت کا! (ویسے گرمی کا موسم غریب کا موسم کہلاتا ہے)

صحیح/ غلط:
مجھے بلاگنگ کی عادت ہوگئی ہے۔ صحیح
میں بہت شرمیلا ہوں۔ لڑکوں میں غلط، لڑکیوں میں صحیح
مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔ صحیح
میں ایک اچھا دوست ہوں۔ غلط
مجھے غصہ بہت آتا ہے۔ صحیح

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:
پاکستان یا امریکہ؟
پاکستان
ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
صرف ووڈ (لکڑی) تاکہ ہالی و بالی ووڈ والوں کی پٹائی کر سکو!! (انتہا پسند مت کہہ دینا اب جناب)
نہاری یا پائے؟
نہاری
قائد اعظم یا قائد ملت؟
تفریق مشکل ہے!
آم یا سیب؟
دونوں!
فیوژن یا جنون؟
معتدل
پسند کی شادی یا ارینجڈ؟
ارینجڈ ہی پسند کی شادی ہو!
فورمز یا بلاگ؟
بلاگ
چائے یا کوک؟
لسی!
کرکٹ یا ہاکی؟
کرکٹ!

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام؟
علم حاصل کریں اور اسے پھیلائیں۔

منظرنامہ کے لیے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ نکالنے کا شکریہ۔

2 تبصرے:

  1. […] موجودہ اردو بلاگنگ میں ایک اہم نام، شعبہ وکالت سے منسلک کراچی کے شعیب صفدر گھمن نے فروری 2005 میں ”بارھواں کھلاڑی“ اور ”دو شعر“ لکھ کر اپنی اردو بلاگنگ کا آغاز کیا۔ جنوری 2007ء تک تو بلاگ لکھتے رہے مگر پھر تقریباً ڈیڑھ سال لکھنا چھوڑ دیا اور آخر کار اگست 2008ء کو دوبارہ لکھنے لگے اور (اپڈیٹ نمبر 3) شروع سے لے کر ابھی تک لکھ رہے ہیں۔ جنوری 2007ء سے اگست 2008ء تک اپنی ڈومین پر منتقل ہونے کا ناکام تجربہ اور اپنا مواد ضائع کرنے کے بعد واپس اپنے پرانے بلاگسپاٹ والے بلاگ پر آ گئے۔ شعیب صفدر گھمن نے سب سے پہلا بلاگسپاٹ کا اردو ٹیمپلیٹ بنایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے اردو ٹیمپلیٹ تیار کیا تو مختلف یاہو گروپس اور انگریزی فورموں پر ان کے ٹیمپلیٹ کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ منظرنامہ پر شعیب صفدر کا انٹرویو۔ […]

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر