آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > عارف انجم سے شناسائی

عارف انجم سے شناسائی

آج سلسلہ شناسائی میں ہمارے مہمان بلاگر عارف انجم ہیں۔ آپ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بلاگنگ کر رہے ہیں۔ آپ نے bilingual تھیمز کے بارے میں بھی بلاگ پر لکھا جس سے یقینا ہم سب بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ”ضمیمہ” سے پہلے آپ ”اک افسانہ زندگی” پر لکھتے رہے ہیں۔ آپ کا تعلق صحافت سے بھی ہے۔ تو آئیں مزید جاننے کے لیے عارف سے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔

 

خوش آمدید عارف
@
شکریہ ۔۔۔۔ سب سے پہلے آپ کی ذرہ نوازی کا شکریہ۔ ورنہ جتنا کم میں لکھتا ہوں اس سے مجھے خود اپنے بلاگر ہونے پر شبہ ہوتا ہے اور میں نے سوچا نہیں تھا کہ انٹرویوز کے اس سلسلے میں میرے شامل ہونے کی نوبت آئے گی۔

عارف، سب سے پہلے تو ہم آپ سے اردو اور بلاگنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

 

1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟ اور اردو بلاگ پہلی بار کب لکھا؟
@
بلاگنگ میں نے 2004 کے وسط میں شروع کی تھی اور پہلا بلاگ بنایا تھا بلاگ سپاٹ پر۔ یہ انگریزی میں تھا اور شاید ایک آدھ تحریر ہی میں نے وہاں لکھی کیونکہ اس وقت میں کسی بلاگنگ نیٹ ورک کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ لیکن اس طرح کم از کم مجھے معلوم ہوگیا کہ بلاگ کسے کہتے ہیں۔ اردو میں بلاگ 2005 ء میں بنایا۔

2۔ بلاگنگ کا خیال کیسے آیا؟ اور اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟
@
2004 ء کے اس پہلے بلاگ کے بعد نسبتاً سنجیدگی سے اور بالخصوص اردو میں بلاگنگ کا خیال ذکریا اور اسما مرزا کے بلاگز اور آصف کی ویب سائیٹ کو دیکھ کرآیا۔ بلاگنگ میں میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے بلاگ سپاٹ پر کمنٹس کا طریقہ پسند نہیں ہے۔ یہ کام کو کافی مشکل بنا دیتا ہے۔ میں نے تلاش شروع کی اور Blogsome.com پربلاگ بنانے کی کوشش کی اور کچھ کوشش کے بعد اک افسانہ زندگی بنایا۔

3۔ آغاز میں کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا ذہن میں کوئی اور مقصد بھی تھا؟
@
اک فسانہ زندگی بناتے وقت میں نے خود کو گمنام رکھا اور سوچا کہ اس طرح زیادہ بے لاگ طریقے سے بلاگ لکھ سکوں گا لیکن میری ازلی غیر مستقل مزاجی یہاں بھی در آئی۔

4۔ آپ نے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بلاگنگ کی ہے۔ ذاتی طور پر آپ کو کس زبان میں بلاگنگ کرنا پسند ہے؟
@
سچ یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں لکھنا آسان اور اچھا لگتا ہے لیکن میری انگریزی کی تحریریں کم ہی پڑھی جاتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ میں کبھی انگریزی بلاگنگ کے کسی نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہوا۔

5۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا اصل مقام حاصل کر پائے گی؟
@
اردو کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے صرف ایک درست قدم کی ضرورت ہے اور وہ ہے تیز رفتار نوری نستعلیق فونٹ کی تخلیق۔ ویسا فونٹ جو ان پیج میں استعمال ہوتا ہے۔ ایسے فونٹ بن تو چکے ہیں لیکن کھلے بندوں دستیاب نہیں۔ جس دن یہ فونٹ عام فراہم کردیا گیا اردو بہت آگے چلی جائے گی۔ سرقہ شدہ ان پیج اور ونڈوز کو چھوڑ کر لوگ یونیکس جیسے اوپن سورس پلیٹ فارم اور اوپن سورس سافٹ استعمال کرنا شروع دینگے اور بھی ان گنت فائدے گنوائے جا سکتے ہیں۔

6۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
@
یہ سوال پوچھ کر آپ نے مجھے شرمندہ کردیا۔ پچھلے سال اوپن آفس کیلئے اردو املا پڑتال کی تیاری پر کام شروع کیا گیا جس کی afx قواعد کی فائل بنانے میں کافی کامیابی بھی ہوئِی شارق اس سلسلے میں میری مدد بھی کر رہے تھے لیکن ایک بار جو ہارڈ ڈسک اڑ گئی تو دوبارہ کام شروع نہ کرسکا۔

7۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟
@
سرخ فیتہ ہٹ جائے تو کافی اطمینان بخش کام ہوسکتا ہے۔ محسن حجازی اورسولنگی صاحب جیسے لوگ کی کوششیں افسر شاہی جب ناکام بنا دیتی ہے تو پھر کیا کریں۔

8۔ کن انگریزی یا اردو بلاگرز کو زیادہ پڑھتے ہیں؟
@
اردو میں بدتمیز، افتخار اجمل انکل کو اور انگریزی میں زیک کا بلاگ۔

9۔ عارف، آپ نے اپنے بلاگ کا ایک پروفیشنل انداز میں سیٹ اپ کیا ہے۔ اور ورڈ پریس تھیمز پر بھی لکھا ہے۔ آپ اس بارے میں کچھ بتائیں کہ یہ سب کیسے کیا؟
@
پی ایچ پی سے معمولی واقفیت کی بنا پر اور ورڈ پریس کوڈیکس کو سمجھ سمجھ کر۔ یہ سب ہرگز مشکل نہیں، بس ضروری ہے کہ آپ ورڈ پریس کوڈیکس کے بارے میں معلومات کو بغور پڑھیں۔

10۔ عارف، آپ کا تعلق صحافت سے ہے، اپنے اس کیرئیر کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟
@
مجھے بچپن میں کہانیاں لکھنے کا شوق تھا، اگرچہ فکشن رائٹنگ اور صحافت دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن جب 17 سال کی عمر میں بوجوہ مجھے ملازمت تلاش کرنا پڑی اور ایک اخبار میں ملازمت ملی تھی کہانی لکھنے کا یہی فن کام آیا یعنی میں ایک تیار شدہ کاپی رائٹر تھا اور یوں ملازمت کیلئے اہل قرار پایا۔ پھر نیوز سینس بڑھا اور گاڑی چلتی جا رہی ہے۔

11۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
@
اردو کی ترویج کیلئے کوشاں لوگ مجھ سے کئی درجے بہتر لوگ ہیں تو کوئی ناصحانہ پیغام تو نہیں ہوسکتا بس ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

 

عارف، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ اور دوسرے پروجیکٹس کے حوالے سے آگاہی ہوئی۔ اب کچھ جان پہچان کے سوالات۔

 

پہچان:
1۔ آپ کا نام؟

عارف انجم
2۔ آپ کی جائے پیدائش؟
3۔ آپ حالیہ قیام کہاں ہے؟
4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

.علم حاصل کرنا، حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کرنا۔ خواہش کسی برطانوی یونیورسٹی سے اعلی ڈگری کا حصول
5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟

پس منظر: ایک سیدھا غیر سیاسی، نسبتاً مذہبی گھرانا۔ تعلیم: او لیول اور اے لیولز کے بعد کئی سال یوکے جانے کی ناکام کوششوں سے تھک کریہاں سے ہی ڈگری حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہوں۔

 

پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

قرآن پاک اور ڈکشنری
2۔ گانا ؟

کوئی خاص نہیں۔
3۔ رنگ ؟

نیلا
4۔ کھانا(کوئی خاص ڈش)؟

اچھی بنی ہوئی کوئی بھی ڈش
5۔ موسم؟

بہار
6۔ عادت؟

روز کچھ نہ کچھ پڑھنا
7۔ رشتہ؟

وہ جو ابھی بنا نہیں، شریک حیات کا

 

غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟ غلط ۔۔۔ کاش ہوجاتی
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟  زیادہ نہیں۔
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟  کبھی کبھی
4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟ غلط
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟ درست
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ درست
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟ درست
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟ غلط

 

دلچسپی:
1۔ شاعری سے؟ نہیں
2۔ کوئی کھیل؟ اب تو کوئی نہیں
3۔ کوئی خاص مشغلہ؟ پڑھنا،

 

برا:
1۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟ کسی خاص لمحے کو یاد کرنا مشکل ہے۔
2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟ ایفائے عہد نہ کرنا۔
3۔ دن کا وقت؟ شام

 

کیسا لگتا ہے؟
جب بلاگ کی کسی تحریر کو زیادہ پسند کیا جائے: ظاہر ہے اچھا لگتاہے۔
جب کسی تحریر پر ناپسندیدہ / ناگوار تبصرے ہوں: اظہار رائے کی آزادی کا قائل ہوں۔

 

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:
پاکستان یا امریکہ؟ پاکستان
ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟ دونوں
نہاری یا پائے؟ دونوں نہیں،
قائد اعظم یا قائد ملت؟ قائد اعظم
فیوژن یا جنون؟ شہزاد رائے
پسند کی شادی یا ارینجڈ؟ ارینجڈ لڑکے لڑکی کی پسند سے، یا لڑکے لڑکی کی پسند کے بعد والدین کی رضا مندی سے
فورمز یا بلاگ؟ بلاگ
کرکٹ یا ہاکی؟ ہاکی

 

کچھ ہٹ کر:
بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہوئے کبھی دکھ ہوا یا رونا آیا؟ نہیں،
بلاگ پر کبھی کوئی تحریر لکھ کر اپنے آپ کو داد دینے کا دل چاہا؟ داد تو نہیں، اچھی تحریر پر اطمینان قلب ہوتا ہے۔
کبھی کسی تحریر کی اشاعت کے بعد یہ سوچا کہ نہ لکھتا تو بہتر تھا؟ جی ہاں اور وہ حذف کردی تھی۔

 

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔
@
جی ہاں میرے چشمے کا نمبر، دانتوں کی تعداد، جوتے کا سائز وغیرہ وغیرہ پوچھنا رہ گیا ہے۔ 😛

 

عارف! آخر میں ۔۔۔ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ منظر نامہ کو دینے کا بہت بہت شکریہ۔

8 تبصرے:

  1. عارف آپ کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی۔

    سرخ فیتے اور افسر شاہی کے مقاصد ہمیشہ چھوٹے اور معمولی ہوتے ہیں اور ان کوتاہ اندیش لوگوں کے سبب ہی اس ملک کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن ہمارے ایک بزرگ نے کیا خوب تبصرہ کیا تھا کہ میں نے بڑی بڑی کرسیوں پر بہت چھوٹے چھوٹے لوگ بیٹھے دیکھے ہیں۔ اس بارے میں میرا ارادہ ہے کہ اپنے تجربات و مشاہدات اپنی سوانح عمری میں تفصیل سے لکھوں۔ خیر یہ ایک طویل موضوع ہے، اس پر پھر کبھی سہی۔

    تاہم نوری نستعلیق کے بارے میں آپ نے فرمایا تو اس ضمن میں بتاتا چلوں کہ اس پر کچھ کام ہورہا ہے اور کچھ پیش رفت بھی ہے اور اس بارے میں میرا وژن یہ ہے کہ اسے مائیکروسافٹ کے ٹولز سے آزاد رکھا جائے کیونکہ ان ٹولز میں آنے والی تبدیلیاں بعدمیں چل کر اثرانداز ہوتی ہیں اور میں external influence یا خارجی اثرات کو کم سے کم اس طویل المیعاد اور دورس نتائج کے حامل منصوبے کے لیے قبول نہیں کرسکتا۔ دیگریہ منصوبہ انٹرنیٹ پر اردو زبان کی بقا کی جنگ ہے۔

    پاک نستعلیق میں بھی میری سعی یہی تھی کہ اسے انتہائی ہلکا پھلکا اور lean and mean رکھا جائے اور آہستہ آہستہ اس کی استعداد کار کو بڑھایا جائے لیکن صدافسوس کہ اس پر بوجوہ جن کی طرف آپ بھی اشارہ کر چکے ہیں، کام آگے نہیں بڑھایا جا سکا تاہم وہ تجربہ بھی میرے ساتھ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہےکہ یہ کوشش بالکل بے کار بھی نہیں گئی میں ایک سہانی صبح بیڈ ٹی کے ساتھ اخبار جہاں میں ائیر ترکی کا پورے صفحے کا رنگین اشتہار دیکھ چکا ہوں جو کہ پاک نستعلیق سے عبارت تھا! اس کے بعد اسلام آباد میں کسی جگہ پوسٹر بھی دیکھے ہیں، روزنامہ جنگ میں بھی ائیر ترکی کا اشتہار دیکھ چکا ہوں۔

    طویل تبصرے کے لیے معذرت، میں بہت کم ہی بلاگز پر جاتا ہوں تاہم یہاں اردو کے تکنیکی حوالوں سے آپ کی گفتگو مجھے کھینچ لائی۔

    والسلام،
    محسن حجازی

  2. کہا جاتا ہے کہ صحافی بعض اوقات خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں ۔ مفادات کے حصول کے لیے بلیک میلنگ کا الزام بھی عام طور پر لگایا جاتا ہے۔
    آپ کا کیا کہنا ہے ؟

  3. محسن آپ کی خوشی پر مجھے خوشی ہوئی۔

    بدتمیز: برطانیہ آسان ترین لگتا ہے۔

    انسان: خبروں کو توڑ مروڑ کر تو اکثر ہی پیش کیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ کا اعزاز کچھ لوگ ہی حاصل کرپاتے ہیں، اکثریت ایسا نہیں کرتی لیکن بلیک میلنگ سے بھی زیادہ بری چیز لفافہ جرنلزم ہے، جس کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر