آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > اگست 2008 کے بلاگ

اگست 2008 کے بلاگ

حصہ اول:

“اس ہفتہ کے بلاگ” کے سلسلہ کی پہلی قسط کے ساتھ حاضر ہے عمار اور میرے ساتھ ہیں ماوراء۔

کیا حال ہیں ماوراء؟

ٹھیک ہوں۔۔۔ تم سناؤ عمار!

میں بھی ٹھیک، الحمد للہ۔ سو، تمہارے پاس کون سی تحریر ہے پہلے؟

میں نے جو پہلی تحریر منتخب کی ہے، وہ ابوشامل کی تحقیق ہے جو انہوں نے کولا وار کے خاتمے کے موضوع پر کی ہے اور اس کا عنوان ہے “کولا وار خاتمے کی جانب گامزن“۔ ابوشامل نسبتا نئے بلاگر ہیں لیکن بہت ہی پختہ لکھاری ہیں۔ صحافت کے شعبہ سے ان کے تعلق اور تجربے کا اندازہ ان کی کئی تحاریر سے ہوتا ہے اور یہ تحریر بھی اس کا ایک ثبوت ہے۔ اس میں ابوشامل نے اعداد و شمار اور رپورٹس کی مدد سے بتایا ہے کہ سوفٹ ڈرنکس کے مضر اثرات کے باعث اب یہ صنعت کافی متاثر ہوئی ہے اور کمپنیز اب متبادل کی طرف راغب ہورہی ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

“سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ Beverage Digest کے مطابق امریکہ میں کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔”

آگے چل کر سافٹ ڈرنکس بنانے والے اداروں کے حوالہ سے لکھا ہے:

“انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے “Aquafina” نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “Kinley” لے آیا۔ آخر الذکر Minute maid کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے Tropicana Twister متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب Kurkure جیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔”

تمہارے پاس کون سی تحریر ہے عمار؟

میرے پاس تحریر ہے نعمان کی: “کراچی کی طالبانائزیشن“۔ یہ پاکستان اور خاص کر کراچی کی سیاسی اور علاقائی صورتحال کے حوالہ سے ایک اہم تحریر ہے۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے ایم۔کیو۔ایم کی جانب سے کراچی میں طالبان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مسلسل آواز اٹھائی جارہی ہے۔ نعمان نے اس پر کافی طویل اور سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ نعمان لکھتے ہیں:

” ایم کیو ایم کو پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد پر سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ سراسر ان کے ووٹ بینک کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ دوسرا انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

آگے چل کر لکھتے ہیں:

دوسرا ایشو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹر مذہبی رویہ رکھنے والے لوگوں کی شہر میں آمد سے سنگین امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے جب وہ پہلے ہی غربت، احساس محرومی اور ناانصافی کا شکار ہوں۔ اس وقت کراچی میں یہی ہورہا ہے۔”

مسئلہ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد نعمان اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

“میرا خیال ہے کہ آنے والے قبائلی و دیگر پختونوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنا چاہئے۔ اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے۔ پختونوں کی مرضی سے کراچی کے پہلے سے قائم معیاری مدارس کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں کو ہی ان کے محلوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہے۔ حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔ شہری حکومت کو لینڈ مافیا سے لڑنے کا مکمل اختیار ہونا چاہئے۔جرگوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ اور پختون ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔ جو بھی شہر کو قبائلی علاقہ سمجھنے کی حماقت کرے اور اسے صوبے سے باہر نکال دیا جائے۔”

یہ تحریر جس قدر اہم ہے، اسی قدر متنازعہ بھی۔ اس پر افتخار اجمل، میرا پاکستان اور فیصل کے طویل تبصرے پڑھنا بھی معلومات میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔ جی ماوراء!

بالکل ٹھیک۔ میرے پاس اگلی تحریر اردو بلاگنگ میں نووارد بلاگر عارم پاکستانی کی ہے۔ انہوں نے پچھلے دنوں ہی بلاگ لکھنا شروع کیا ہے اور اس وقت میرے پیش نظر ان کی تحریر “بھیک” ہے۔ اس سے پہلے عارم نے ایک تحریر “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر” بھی بہت خوبصورت لکھی تھی۔ حالیہ تحریر میں انہوں نے اپنے اردگرد کی صورتحال بیان کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک، بھکاریوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

تحریر کے شروع میں عارم لکھتے ہیں کہ پہلے انہیں محلے کی ایک بچی نے تنگ کیا جو ٹماٹر مانگنے آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں ایک ٹیکسٹ موصول ہوا جس میں کسی نے اپنی مجبوری بتاکر کچھ رقم موبائل میں منتقل کرنے کا کہا تھا۔ پھر عارم نے سفر کے دوران نظر آنے والے بھکاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آخر میں اپنی آپ بیتی یوں بیان کرتے ہیں:

“میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک معاشرہ میں کس قدر مختلف مزاج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ تربیت، ماحول اور صحبت کا کتنا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے لیے کسی سے کچھ مانگنا ہمیشہ سے انتہائی مشکل کام رہا ہے، چاہے اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ دوستوں کے مانگنے پر انہیں اپنی چیزیں دے تو دیتا تھا لیکن ان چیزوں کی واپسی کا سوال مجھے شرمندگی کا احساس دلاتا اور نتیجہ یہ نکلتا کہ اگر دوست واپس نہ کرتے تو میں بھی مانگ نہ پاتا اور وہ چیزیں انہی کے پاس رہ جاتیں۔ اور ہاں۔۔۔ لفٹ مانگنا۔۔۔ اکثر لوگ راہ چلتے کسی گاڑی والے سے کچھ راستہ کے لیے لفٹ لے لیتے ہیں لیکن مجھ سے یہ کام کبھی نہیں ہوسکا۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔ کبھی ضرورت پڑتی بھی تو میں بس سوچتا ہی رہتا کہ ہاں، اب جو گاڑی آئے گی، اس کو اشارہ کروں گا لفٹ کے لیے لیکن نہ کرپاتا۔۔۔ ایک، دو بار نہیں، بیسیوں بار یہ تجربہ کرکے دیکھا۔ کسی سے کچھ مانگنا۔۔۔ کسی اپنے جیسے سے کچھ مانگنا بہت برا لگتا ہے نا! اور ہے بھی غلط۔۔۔ شاید لفٹ لینے کی حد تک تو چل ہی جاتا ہو لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں سے مانگنا، دوسروں کی چیزوں پر انحصار کرنا، یہ بالکل بھی اچھی عادت نہیں۔”

ہممم۔۔۔۔ میرے پاس آخری تحریر فیصل کی ہے، موضوع ہے: “ہمارا نیا نوکیا“۔ یہ ایک بے حد معلوماتی تحریر ہے جس میں فیصل نے اپنے لیے ایک فون خریدنے کے تجربے کو بیان کیا ہے۔ یہ اس سلسلہ کی پہلی تحریر ہے جس میں فیصل بتاتے ہیں کہ فون لینے سے پہلے ان کے پیش نظر کیا کیا چیزیں تھے اور کن کن فیچرز کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے فون کا انتخاب کیا۔ لکھتے ہیں:

“میرے زیر نظر کچھ یہ عوامل تھے:

بطور فون عمومی خصوصیات مثلا آواز کی کوالٹی وغیرہ

ای میل خصوصاً پُش ای میل

انٹرنیٹ بذریعہ وائرلیس لین یا وائی فائی

پرسنل انفارمیشن مینیجمنٹ کی اعلی خصوصیات یعنی کیلنڈر، نوٹس، فون ڈائری، وغیرہ

ذاتی کمپییوٹر/ پی سی میں موجود پم مثلاً مائکروسوفٹ آوٹ لک کے ساتھ معلومات یا ڈیٹا کی ترسیل یعنی سنکرونائزیشن

دفتری فائلوں مثلا ایم ایس ورڈ، ایکسل، ایڈوبی پی ڈی ایف، وغیرہ کو پڑھنے، لکھنے اور ترمیم کرنے کی صلاحیت

مکمل کی بورڈ یعنی ایسا کی بورڈ جیسا آپکے کمپیوٹر میں ہے، کچھ مثالیں یہاں دیکھ لیں

سکرین کا سائز اور کوالٹی، دھوپ میں نظر آنے کی صلاحیت

فون کا حجم ، وزن، ظاہری شکل، ٹھوس پن وغیرہ

بعد از فروخت سروس اور برانڈ کا عمومی تاثر، استعمال شدہ فون کی مارکیٹ میں قدر وغیرہ

ڈیٹا ٹرانسفر کے متفرق طریقے مثلاً تار یا بلیو ٹوتھ

قیمت (یقینا یہ ایک اہم نکتہ ہے)

یاداشت/ میموری میں اضافے کی صلاحیت

فون کے استعمال کی آسانی (آئی فون غالبًا سب سے نمبر لے گیا ہے لیکن سمبیان پر چلنے والے فون عموما ونڈوز والوں سے آسان اور سہل خیال کیے جاتے ہیں)

متفرق خصوصیات مثلا کیمرہ، موسیقی، جی پی ایس کی موجودگی

مارکیٹ میں دستیاب سوفٹویر اپلیکیشنز/ اطلاقیوں کی تعداد اور انکی قیمت۔ یہ آپکے فون میں اضافی خصوصیات پیدا کرتے ہیں۔”

ان سب عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصل نے کون سا موبائل فون لیا، اس کے لیے ان کی اگلی تحریر کا انتظار کیجئے۔

جی قارئین! یہ تھی اس سلسلہ کی پہلی قسط۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔ اس میں بہتری کے لیے آپ کی تجاویز اور مشوروں کا ہم کھلے دل سے خیر مقدم کریں گے۔

والسلام۔

حصہ دوم:

منظر نامہ کے تمام قارئین کو ماورا اور عمار کی طرف سے السلام علیکم !

سلسلہ ”اس ہفتے کے بلاگ” کی دوسری قسط کے ساتھ ہم حاضر ہیں، پچھلی قسط پر قارئین کے تبصرات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اس قسط میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں لیکن آپ کی مزید آرا کا ہمیں انتظار رہے گا۔ تبھی ہم اس سلسلے کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔

پچھلا ہفتہ چونکہ پاکستان کا جشن آزادی مناتے ہوئے گزرا ہے، اور اس موقع پر ہر اردو بلاگرز نے اپنے خیالات کا اظہار مختلف انداز میں کیا ہے۔ جہاں بہت سے بلاگرز نے آزادی کے دن کو پرجوش انداز میں منایا تو وہاں کچھ نے پاکستان کے موجودہ حالات پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

تو میری پہلی تحریر بھی اس حوالے سے راشد کامران کی ہے، جس کا عنوان ہے۔ ” مبینہ یوم آزادی ” آپ کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔

”لعن طعن سننا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں خاص طور پر جب میں “مبینہ یوم آزادی“ کا فقرہ استعمال کرتا ہوں تو کئی لوگوں کو پتنگے لگ جاتے ہیں لیکن جو بات ہے سو ہے اس میں کیا ہوسکتا ہے۔ پہلے تو میری یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ تقسیم دراصل ہوئی کب تھی۔ 3 جون 1947، 14 اگست 1947 یا 15 اگست 1947 ؟‌ دو ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے اور یوم آزادی میں فرق کیوں؟‌ درمیانی شب تھی تو 15 اگست ہوا نا ۔۔ دن کا وقت تھا تو بھارتی جھوٹے۔”

اس کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ۔۔۔

” نہ رہنے کی آزادی۔ نہ مذہبی عقائد پر اپنی مرضی سے عمل کرنے کی آزادی۔ نہ الیکشن لڑنے کی آزادی ، نہ نمائندے منتخب کرنے کی آزادی، نہ صدر بنانے کی آزادی، نہ وزیر اعظم بنانے کی آزادی پھر یوم آزادی تو نہ ہوا یہ۔ پہلے آزادی مل تو جائے پھر منائیں یوم آزادی۔۔ جب تک “مبینہ یوم آزادی“۔

راشد کی ہی تحریر پر تبصرات میں کچھ بلاگرز نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ شعیب صفدر نے مختصر

الفاظ میں نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جی عمار، آپ کس تحریر کے بارے میں ہمارے قارئین کو بتانا چاہیں گے

ماورا، میرے پاس بھی اگلی تحریر جشن آزادی سے ہی متعلق ہے۔ خاور کھوکھر کی تحریر ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے، آپ نے اپنی تحریر کا نام ہی ”جشن غلامی” دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

جشن آزادی پر ہر کوئی لکھ رہا ہے اور لوگ بھالے اس دن کو ایک رسم کی طرح منا رہے ہیں
لیکن
ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ مجھے آزدای کا احساس ہی نہیں ہوتا
کیا ہم واقعی ازاد ہیں ؟؟

پھر آپ نے ہمارے سامنے بہت سے سوال رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج جو کچھ ہم کر رہے ہیں کیا آزاد قوموں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے ۔ سوال کچھ اس طرح سے ہیں۔۔۔

اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک پاکستان میں کیا اسلام آزاد ہے؟؟
کیا مسلمان ازادی سے مسجدوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں جیسے کہ مسلمان جاپان میں پڑھ سکتے ہیں؟؟
کیا اس ملک پاکستان میں پاکستانیوں کو روزگار کے ذرائع میسر ہیں ؟؟
کیا ہمیں تحفظ حاصل ہے ؟؟
کیا ہمیں تعلیم کے مواقع میسرہیں ؟؟
کیا ہم اپنی مرضی کے نمائندے چن سکتے ہیں ؟؟
کیا ہمیں اپنے معاشرے کے انتظام میں کوئی کردار حاصل ہے؟؟
کیا ہمارے لیڈر اپنے اپ کو ہم میں سے سمجھتے ہیں ؟؟
کیا ہماری مبینہ حکومتیں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں ؟؟
یارو آزادی ہے کیا ؟؟
اور کیا ہم آزادہیں ؟؟

اور پھر آپ خود ہی لکھتے ہیں کہ ۔۔۔

غلام کی خُو میں اتنے پکے ہو چکے ہیں کہ غلامی کو ہی آزادی کا نام دے دیا ہے ـ
ہم ابھی ازاد ہوئے ہی نہیں ہیں۔
ہمیں ایک اور تحریک آزادی کی ضرورت ہے
مگر
ہمیں احساس تو ہو کہ
ہماری حثیت کیا ہے
قوموں کی برادری میں

اسی تحریر پر راشد کامران کچھ اس طرح کہتے ہیں کہ۔۔۔

ہمارے یہاں جھوٹ بولنے کی آزادی ہے۔
ہمارے یہاں رشوت کے لین دین کی کھلی آزادی ہے۔
ہمارے یہاں سڑک کے کنارے رفع حاجت کی بھرپور آزادی ہے۔
ہمارے یہاں لال بتی کراس کرنے کی مکمل آزادی ہے۔
ہمارے یہاں غیرت اور بے غیرتی کے نام پر انسان قتل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔
ہمارے یہاں جمہوری پارٹیوں میں نامزدگیوں کی آزادی ہے۔
ہمارے یہاں فوج کو کاروبار کرنے کی آزادی ہے۔
ہمارے یہاں ذخیرہ اندوزی اور دہشت گردی کی پوری آزادی ہے۔۔
ہمارے یہاں غیر ملکیوں کو اتنی آزادی ہے کہ ہم نے ان علاقوں کو آزاد علاقے ہی کہنا شروع کردیا ہے۔
شاید اتنی زیادہ آزادی کا جشن مناتے ہیں ہم لوگ ؟

عمار، میرے پاس اگلی تحریر بلکہ نظم کہوں گی، میرا پاکستان کی ہے۔ میرا پاکستان نے آزادی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار ایک نظم لکھ کر کیا۔ جس میں وہ پاکستان کے حکمرانوں سے درخواست کچھ اس طرح کر رہے ہیں۔۔۔

آئیں حکمرانوں سے درخواست کریں کہ وہ آج سے

بکنا چھوڑ دیں گے

بیچنا چھوڑ دیں گے

صرف پیارے وطن کی خاطر

کمیشن لینا چھوڑ دیں گے

صدا بن کے رہیں گے خادم

اپنے گناہوں پہ ہوں گے نادم

جو کچھ اس سے پہلے

غیروں کو بیچا

جو کچھ اس سے پہلے

غیروں سےلیا

سب قومی خزانے میں جمع ہو گا

سفید اس طرح کالا دھن ہو گا

توبہ کریں گے

شکر کریں گے

خدا نے انہیں سیدھی راہ پر چلا دیا

اندھیری رات میں چراغ راہ بنا دیا

ملک ان کی توبہ کے بعد خوشحال ہو گا

عوام کا اعتماد ان پر بحال ہو گا

پھر حقیقت میں ملک آزاد ہو گا

پاکستان کا ہر بچہ تب شاد ہو گا

کاش کے ان سب باتوں کا احساس ہمارے حکمرانوں کو بھی ہو سکے۔

ماورا، اگلی تحریر میرے پاس دریچہ کی ہے، انہوں نے نہایت ہی دلچسپ انداز میں سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے مشرف صاحب کو سالگرہ کی مبارک باد سے لے کر ان کو صدارت کا عہدہ چھوڑنے تک اس خط میں کہا ہے۔

آپ لکھتی ہیں۔۔۔

مشرف انکل!
پہلے تو سالگرہ کی مبارک قبول کیجئے۔ میں نے آپ کو گیارہ اگست کو ہی مبارکباد دینی تھی لیکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی آپکی سالگرہ کے موقع پر تیاریاں دیکھنے میں اتنی محو ہوگئی کہ موقع ہی نہیں ملا۔

خیر ۔ آج آپ کو ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں دیکھا تو خیال آیا کہ میں نے تو آپکو ہیپی برتھ ڈے کہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپکو صحت اور لمبی عمر عطا کرے تاکہ آپ ملک و قوم کے مفاد میں کیے گئے اپنے فیصلوں کے دوررس اثرات دیکھ کر اپنے آپ کو ‘شاباش‘ دے سکیں۔ آمین

پھر سابق صدر کو عہدہ چھوڑنے کے لیے کچھ اس طرح سے کہتی ہیں کہ ۔۔۔۔

ویسے انکل جی آپ نے کتنا عرصہ پاکستان کے لیے اتنے بڑے بڑے کام کیے۔ دو دو عہدوں کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپ کو کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالنا چاہئیے۔ لیکن جب تک آپ اس ایوانِ صدر میں رکے رہیں گے آپ کہاں اپنے آپ کے لئے وقت نکال سکیں گے۔ آپ ایسا کریں کسی پُرفضا مقام پر شفٹ ہو جائیں۔ رہی پاکستان اور عوام کی فکر تو انہیں خود بھی کچھ کرنے دیں۔ سب کچھ آپ کی ذمہ داری تو نہیں ہے۔ ویسے جب آپ تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو مجھے کسی نے کہا کہ ہو سکتا ہے صبح 14 اگست کی مناسبت سے یا ایک دو دن بعد آپ قوم کو کوئی تحفہ دیں کیونکہ آپ کی باڈی لینگوئج اور ٹون کچھ بتا رہی تھی۔ میں نے کہا آپ تو بذاتِ خود ہمارے لیے ایک ‘تحفہ‘ ہیں۔۔مزید کی کیا ضرورت۔ ویسے اگر آپ نے کوئی تحفہ دینا ہوا تو اس کا اعلان کرتے ہوئے اپنا مُکا ہوا میں ضرور لہرائیے گا۔ بہت اچھے لگتے ہیں ایسا کرتے ہوئے۔

ماورا، آپ کے پاس اس ہفتے کی آخری تحریر کون سی ہے۔

عمار، اس ہفتے کا اختتام ایک نہایت ہی خوبصورت نظم، ایک امید اور ایک پیغام سے کرنا چاہوں گی، یہ پیغام سعادت کچھ اس طرح سے دے رہے ہیں۔۔۔

پیغام

اب کے سورج سے ملو تو اُسے یہ کہنا
اپنی کرنوں میں نئی تاب ذرا لیتا آئے
یہ زمیں ڈھونڈتی ہے اک نئی صبحِ روشن
یاس کی چپ لیے ویران ہیں اِس کے گلشن
اِس میں اتری ہے جو ظلمات کی یہ لمبی رات
اپنے ہی اعمال کی ہے شاید مُکافات
پر ہوا جو بھی ہوا، اب نہیں دوہرانا
اب کسی شام کو راتوں میں نہیں بھٹکانا
اب نہیں رات کی تاریکی میں ہم کو رہنا
اب کے سورج سے ملو، تو اُسے یہ کہنا

اردو بلاگنگ نیوز :

ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پچھلے ہفتے اردو بلاگنگ میں ایک اور اردو بلاگر کا اضافہ ہوا۔ ہم اپنے ساتھی ابو کاشان کو اردو بلاگنگ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ ابو کاشان بلاگنگ میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے۔ آپ نے اردو ٹیک پر بھی بلاگ بنایا ہے.

گزرے ہوئے ہفتے میں ہی اردو بلاگر ڈفر نے اپنا نیا بلاگ ترتیب دیا ہے۔ ہم انہیں نیا بلاگ بنانے پر مبارکبار دیتے ہوئے اور امید رکھتے ہیں کہ ڈفر کے بلاگ پر اچھی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔

حصہ سوم:

اس ہفتہ کے منتخب بلاگ پر تبصرہ کے ساتھ منظرنامہ پر آپ کے میزبان حاضر ہیں۔

اس ہفتہ اردو بلاگنگ میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملی ہیں جو بلاشبہ اپنے اندر معلومات اور افادیت رکھتی ہیں۔ کیا خیال ہے ماوراء؟

ہاں عمار، اس ہفتہ اردو بلاگز واقعی کافی فعال رہے ہیں۔ تو کون سی تحریر سب سے پہلے ہے؟

شروع کرتے ہیں دریچہ کے بلاگ سے۔ ان کے بلاگ پر دو نئی تحاریر سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ دلچسپ اور اہم ہیں۔ پہلی تحریر تھی ایس ایم ایس اور مسڈ کالز کلچر۔ یہ تحریر پاکستان میں موبائل فون کے غلط استعمال کے بارے میں عام رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دریچہ نے لکھا ہے کہ کیسے وقت بے وقت مسڈ کالز اور بے معنی ایس ایم ایس بھیج کر تنگ کیا جاتا ہے۔ پھر اسی حوالہ سے اپنی زندگی کے ایک خطرناک تجربہ کا ذکر کیا ہے کہ کیسے اسی مسئلہ کی وجہ سے ان کے ابو کو سخت تکلیف میں طویل وقت گزارنا پڑا۔ درحقیقت یہ انتہائی سبق آموز تحریر ہے۔

دریچہ ہی کے بلاگ پر ایک اور دلچسپ تحریر ہے کیسے کیسے لوگ۔ یہ بلاگ پاکستان اور بیرون پاکستان ٹھگوں اور ناٹک کرکے فراڈ کرنے والوں کے چند واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے ایک فقیر سے لے کر برطانیہ کے ایک انکل تک کے قصے لکھنے کے بعد لکھتی ہیں کہ

“سوچتی ہوں ہم پاکستانی تو فراڈ میں بھی ابھی تک پرانے طریقوں پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔”

جی ماوراء۔۔۔!

جیسا کہ ماہ رمضان المبارک شروع ہوچکا ہے۔ تو قارئین کو ہماری جانب سے ماہ رمضان کی آمد بہت مبارک ہو اور اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے میں ڈھیر ساری عبادت اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین!

ماہ رمضان کے حوالہ سے کافی بلاگز پر مبارکباد کی تحاریر سامنے آئی ہیں لیکن حکیم خالد کے بلاگ پر ایک مفید اور معلوماتی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے جس کا عنوان ہے روزہ شوگر لیول ‘کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے۔ اس میں حکیم خالد نے روزہ کے جسمانی فوائد بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی غذا متوازن رکھنے کے لیے بھی چند باتیں بیان کی ہیں جنہیں ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔

ہاں ماوراء! بالکل۔ اور رمضان کے حوالہ سے تمہارے بلاگ پر بھی اچھی تحریر ہے رمضان مبارک جس میں تم نے ناروے میں موجود مسلمانوں کی رمضان اور روزے کے حوالہ سے سوچ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابوشامل کے بلاگ پر بھی ایک تحریر رمضان مبارک ہے جس میں رمضان کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ آرٹ کا ایک شاہکار بھی موجود ہے۔

عمار! شگفتہ کے بلاگ کا ذکر بھی کرتے چلیں کہ اب کے ان کا بلاگ بھی فعال نظر آیا اور دو دلچسپ تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ پہلی تحریر تھی کوئی ہے جو کہ پکوڑوں سے اپنی رغبت کے اظہار میں تھی جس کے آخر میں شگفتہ لکھتی ہیں:

“تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے clip_image001_thumb1

چاہے مجھے ایمیل کر دیں ، چاہے اپنے بلاگ پر لکھیں
اگر اپنے اپنے بلاگ پر ترکیب لکھیں تو میں پکوڑوں کی خاطر مقابلہ کروانے کو بھی تیار ہوں مقابلہ کا انعام میں منظر نامہ کی جیب سے نکلوانا ہے ان شآءاللہ”

اچھا۔ تو زور کس پر ہوا ماوراء؟ پکوڑوں کی ترکیب پر یا منظرنامہ پر؟ 🙂

اس پر تو شگفتہ ہی کچھ روشنی ڈال سکیں۔

شگفتہ کے بلاگ پر حالیہ تحریر جہیز لکھی گئی ہے جو بیش قیمت جہیز دینے، جہیز کی طلب کرنے اور اس قبیح رسم کے خلاف ہے۔ اس پوسٹ میں شگفتہ ایک شادی کا دلچسپ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ جب دولہا نے عین نکاح سے پہلے اچانک لڑکی والوں سے ایک گاڑی کا مطالبہ کردیا تو نکاح خواں مولانا صاحب نے کیسے اس لڑکے کی درگت بنائی اور اسے اسٹیج سے چلتا کرکے ایک مخلص اور باعتماد لڑکے سے لڑکی کا نکاح کروادیا۔

عمار،تمہارے پاس اگلی تحریر کون سی ہے؟

میرے پاس بدتمیز! یعنی موصوف بدتمیز کی کچھ تحاریر۔ 🙂 ان دنوں ان کے لکھنے کا زیادہ تر رجحان امریکہ میں جاری صدارتی الیکشن کی مہم پر رہا ہے۔ جیسے ایک تحریر Joe Biden ہے جو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اوباما کے وائس پریزیڈنٹ منتخب کرنے پر ہے۔ اس پوسٹ میں بدتمیز نے سینیٹر جو بائیڈن کے بارے میں لکھا ہے اور اوباما کے فیصلہ کا جائزہ لیا ہے۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ سنو، دیکھو، سمجھو اور سیکھو۔ اس میں اوباما اور ہیلری کے مابین پیدا ہونے والی تلخی اور اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے اوباما پر کیے جانے والے حملوں اور ان کے جواب میں اوباما کے پر وقار انداز کے سبب اپنی سوچ بدلنے کا ذکر ہے۔ اسی حوالہ سے ایک اور پوسٹ Gustav بھی لکھی ہے جو جان مکین کے وائس پریزیڈنٹ کے اعلان پر ہے۔ بدتمیز نے جان مکین کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔ آغاز ہی میں لکھتے ہیں:

“بالآخر جان مکین نے اپنی وائس پریزیڈنٹ کا اعلان کر ہی دیا۔ یہ الاسکا کی گورنر سارا پیلن ہیں۔ میں نے اوبامہ کے متوقع امیدواروں کی کوالیفیکیشن لکھی تھی۔ خاتون کی کوالیفیکشن صرف اتنی ہے کہ یہ خاتون ہیں۔ کیا سارا کو منتخب کرنا جان مکین کی شکست خوردگی کا اعتراف ہے کہ وہ اوبامہ سے لڑے بغیر ہی شکست خوردہ محسوس کر رہے ہیں جو ان کو ہیلری کے 18 ملین کی فکر پڑ گئی؟”

جی ماوراء، آپ کے پاس اگلی تحریر کون سی ہے۔

عمار، ابوکاشان ان دنوں اپنے بلاگ پر عمرانیات کے عنوان سے آپ بیتی لکھ رہے ہیں جس کی ابھی تیسری قسط سامنے آئی ہے تاہم یہ اقساط کافی مختصر مختصر ہیں۔ لکھنے کا انداز متاثر کن اور دلچسپ ہے۔ اس کے علاوہ مکی کا بلاگ بھی ان دنوں خاصا فعال نظر آرہا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ مکی اپنے بلاگ پر آزاد مصدر پروگرامز کے بارے میں لکھ رہے ہیں جیسے یہ تحریر ہے کہ VIA کا Xorg ڈرائیور آزاد مصدر۔ ایسے ہی ایک Sun نے Java UI Toolkit آزاد مصدر کردی۔ اسی طرح کی مزید تحاریر بھی مکی کے بلاگ پر پڑھنے کو ملی ہیں جن کا مقصد یقینا صارفین کو آزاد مصدر پروگرامز کی طرف راغب کرنا اور چوری شدہ سافٹ وئیر کے استعمال سے روکنے کا ذہن بنانا ہے۔

جی عمار۔۔۔

میرے پاس ایک آخری چیز ہے ، اور وہ ہے عمیر سلام کی سلام بازار کمیونٹی جس کا ذکر انہوں نے ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو میں بھی کیا تھا۔ ان دنوں یہاں حساس کا سفرنامہ امریکہ کے موضوع پر تحاریر سامنے آرہی ہیں جن کی حال ہی میں تیسری قسط لکھی گئی ہے۔ سلام بازار کمیونٹی فری بلاگ بنانے کی سہولت فراہم کررہی ہے جو کہ خوش آئند ہے تاہم انہیں اردو فونٹس استعمال کرنے چاہئیں یا کم از کم تاہوما تاکہ اردو بلاگز کی تحاریر آسانی سے پڑھی جاسکیں۔

یہ تھیں اگست کے آخری ہفتے کی کچھ منتخب تحاریر۔ اگلی قسط کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے ان شاء اللہ۔

خدا حافظ۔

3 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر