فراز اب ہم میں نہیں۔۔۔

تم بھی رخصت ہوئے جاتے ہو فراز
کون دے پرسہ مجھے، کون دلاسہ دے گا

25 اگست 2008 کو اردو دنیا کے مشہور شاعر احمد فراز ہم سب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے اور اسطرح اردو ادب کا ایک اہم ترین باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

احمد فراز کی وفات پر ہمارے بہت سے ساتھیوں نے مختلف انداز میں اظہار افسوس اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ م م مغل صاحب نے انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ پیش کیا، جو کہ احمد فراز کی سوانحی خاکی پر مشتمل ہے۔

’’ احمد فراز‘‘ ایک سوانحی خاکہ

احمد فراز (سید احمد شاہ) 14 جنوری 1931 کو صوبہء سرحد کے بالائی علاقے نوشہرہ (اٹک) میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ’’اسلامیہ ہائی اسکول‘‘ کوہاٹ میں حاصل کی ، جبکہ بی اے کی سند ’’ایڈورڈ کالج‘‘ پشاور سے حاصل کی۔ بعد ازاں ، فراز نے پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کی سند حاصل کی۔زمانہ طالب علمی (نویں دسویں جماعت) میں ہی فراز نے غزلیں اور نظمیں کہنا شروع کردی تھیں اور جب وہ کالج پہنچے تو پشاور کے ادبی حلقوں میں بحیثیت پہلے ہی شاعر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔
فراز نے معاشی حوالے سے یکے بعد دیگرے کئی ملازمتیں اختیار کیں، سب سے پہلے ریڈیوپاکستان میں بطور پروڈیوسر کام کیا، بعد ازاں انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں بحیثیت اردو و فارسی کے لیکچرار کے کسبِ معاش کیا، اس کے بعد وہ پاکستان نیشنل سینٹر میں صدر ہدایتکار (پریذیڈنٹ ڈائریکٹر) رہےاور تفویض کی گئی ذمہ داریاں کماحقہ ادا کرنے پر ’’ پاکستان اکادمی ادبیات ‘‘ کے چئیر مین کے منصب ِ اعلی پر فائز ہوئے اورپاکستان کے ثقافتی ورثہ کے چئیرمین منتخب ہوئے ساتھ ہی’’قومی اساسِ کتب ‘‘ (نیشنل بک فاؤنڈیشن) کے چیئر مین بھی رہے۔
شعری سفر اختیار کرنے کے بعد کچھ ہی عرصے میں فرازمعروف ترین و متبادل شاعر کے طور پر جانےجانے لگے اور وہ بھی فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب ایسی نابغہ روزگار ہستیوں کے ہوتے ہوئے۔فراز مملکتِ اردو ادب کے واحد شاعر تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں بے پایاں عالمگیر شہرت حاصل کی، فراز کے اسالیبِ شعری کی خاص بات زندگیوں پر براہِ راست اثر پزیری، بلاواسطہ اور آلودگیِ نشیب سے مبّرا سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جمالیاتی شاعرانہ اظہارہے۔
فراز، فیض احمد فیض اور ساحر لدھیانوی کی طرح اپنے عام قارئین اور ادبی فہم رکھنے والوں کے دلوں میں یکساں دھڑکتے تھے، جب وہ ترقی پسندی کی تحریک میں پوری طرح منہمک تھے تو ان کے شعری اظہار میں قدرتی سماجی سیاسی شعور بھی ضوفشاں نظر آنے لگا، پاکستان جیسے معاشرے کے تناظر میں جہاں عوام واقدار قتل ہوتا ہے وہاں ترقی پسندی اور سیاسی بصیرت پر مبنی اسلوب اپنی نفی کردینے کے مترادف ہے فراز دل جمعی سے اپنا اسلوب نکھارتے رہے اور استحصالی طبقے کیلئے آواز بلند کرتے رہے، اب ان کی شاعری میں (اداریاتی استعماروں کے خلاف)’’ اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ رویہ پروان چڑھ رہا تھا، فراز معاشرتی المیہ پر ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے ہمیشہ کا بیر رکھتے تھے، فراز، فیض کی طرح شعری اظہار کے تناظر میں اپنے اسلوب پر سختی سے کاربند رہے اور اظہار کو نعرے بازی سے پاک رکھتے ہوئے کیفیات کے مدھر سروں کو تاثرات کاجامہ پہناتے رہے، وہ فلسفہ اور منطقی پیرائے میں توازن کے فن سے بخوب واقف تھے۔
احمد فراز کی جو کتب منصہِ شہود پر آئیں ہیں ان میں:
تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، جاناں جاناں، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں،
نابینا شہر میں آئینہ، پس انداز موسم، خوابِ گل پریشاں ہے اور پیماں ، شامل ہیں۔
احمد فراز کو ان کی زندگی میں ‘‘آدم جی ایوارڈ ‘‘ (پاکستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ)، اباسین ایوارڈ، فراق گورکھپوری ایوارڈ، ٹاٹا ایوارڈ، اکادمی ادبی ایوارڈ ، کینیڈا سے نوازا گیا۔ سابق آمر مشرف نے انہیں ہلالِ امتیاز عطا کیاتو انہوں لینے سے انکار کردیا۔
(
ترجمہ : م۔م۔مغل)

فراز کی مکمل سوانحی خاکہ یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اردو بلاگرز میں سے محمد وارث کی تحریر جنگل اداس ہے آہ احمد فراز کے نام سے سامنے آئی۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

اقلیم سخن کا نامور شاعر جس نے ایک عرصے تک اردو شاعری کے چاہنے والوں کے دلوں پر راج کیا، بالآخر سمندر میں مل گئے، بقول قاسمی

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤنگا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤنگا

فراز کی شاعری انسانی جذبوں کی شاعری ہے وہ انسانی جذبے جو سچے بھی ہیں اور آفاقی بھی ہیں، فراز بلاشبہ اس عہد کے انتہائی قد آور شاعر تھے۔ فراز کی زندگی ایک پہلو انکی پاکستان میں آمریت کے خلاف جدوجہد ہے، اس جدوجہد میں انہوں نے کئی مشکلات بھی اٹھائیں لیکن اصول کی بات کرتے ہی رہے۔ شروع شروع میں انکی شاعری کی نوجوان نسل میں مقبولیت دیکھ کر ان کی شاعری پر بے شمار اعتراضات بھی ہوئے، انہیں ‘اسکول کالج کا شاعر’ اور ‘نابالغ’ شاعر بھی کہا گیا۔ مرحوم جوش ملیح آبادی نے بھی انکی شاعری پر اعتراضات کیئے اور اب بھی انگلینڈ میں مقیم ‘دریدہ دہن’ شاعر اور نقاد ساقی فاروقی انکی شاعری پر بہت اعتراضات کرتے ہیں لیکن کلام کی مقبولیت ایک خدا داد چیز ہے اور فراز کے کلام کو اللہ تعالٰی نے بہت مقبولیت دی۔ انکی شاعری کا مقام تو آنے والا زمانے کا نقاد ہی طے کرے گا لیکن انکی آخری کتاب “اے عشق جنوں پیشہ” جو پچھلے سال چھپی تھی، اس میں سے ایک غزل لکھ رہا ہوں جو انہوں نے اپنے کلام اور زندگی کے متعلق کہی ہے اور کیا خوب کہی ہے۔

کوئی سخن برائے قوافی نہیں ‌کہا
اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں‌ کہا

ہم اہلِ صدق جرم پہ نادم نہیں رہے
مر مِٹ گئے پہ حرفِ معافی نہیں‌ کہا

آشوبِ‌ زندگی تھا کہ اندوہِ عاشقی
اک غم کو دوسرے کی تلافی نہیں‌ کہا

ہم نے خیالِ یار میں کیا کیا غزل کہی
پھر بھی یہی گُماں‌ ہے کہ کافی نہیں کہا

بس یہ کہا تھا دل کی دوا ہے مغاں کے پاس
ہم نے کبھی شراب کو شافی نہیں کہا

پہلے تو دل کی بات نہ لائے زبان پر
پھر کوئی حرف دل کے منافی نہیں کہا

اُس بے وفا سے ہم نے شکایت نہ کی فراز
عادت کو اُس کی وعدہ خلافی نہیں کہا

ہر ذی روح کو اس دارِ فانی سے کوچ کرنا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے لیکن کچھ انسان ہوتے ہیں جن کے جانے سے چار سُو اداسی پھیل جاتی ہے اور یہی کیفیت کل سے کچھ میری ہے۔ غالب کے شعر پر بات ختم کرتا ہوں

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

اسی طرح طارق کمال نے اپنے خیالات کا اظہار نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں کیا ہے۔

خواب مرتے نہیں!

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا سبھی رنگ اتار کے شہر کا
کوئی شخص تھامرے شہر میں کسی دور پار کے شہر کا
کسی اور دیس کی اور کو سنا ہے فراز چلا گیا
سبھی دکھ سمیٹ کے شہر کے سبھی قرض اتار کے شہرکا


فرازبھی چلاگیا۔میر،غالب،اقبال‘فیض‘منیرسب چلے گئے۔منوں مٹی کے اندرسوئے ان کے جسم بھی ایک دن مٹی ہوجائیں گے لیکن وہ زندہ رہیں گے۔ ان کے مزار پر پھولوں کی کوئی چادر چڑھے نہ چڑھے‘ وہ سرخ گلابوں کے طشت کی طرح ہمارے چار سو مہکتے رہیں گے۔ ان کے سرہانے کوئی چراغ جلے نہ جلے‘ وہ ہمارے دل و دماغ کے کسی نہ کسی طاق میں شمع بن کر جگمگاتے رہیں گے۔ شاعر مرجاتا ہے لیکن شعر زندہ رہتا ہے۔ اس لئے کہ وہ دلوں کے تار چھیڑتا ‘ فکر کے دریچے کھولتا ‘ جذبوں کی آنچ کو تیز کرتا ‘ خیال کی صورت گری کرتا ‘احساس کو اظہارکے سانچے میں ڈھالتا‘ان کہی کوزبان دیتا‘ آرزوکولفظ کاپیکرعطاکرتا‘دردسے لذتیں کشیدکرتا‘دکھوں کوفریاد کی لے دیتا اور بنجر آنکھوں میں شاداب منظروں کے خواب سجاتاہے۔خواب وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بوڑھے ہوتے ہیں نہ مرتے ہیں۔ شاعر مر بھی جائے تواس کے بوئے ہوئے خوابوں کی سرسبز فصل لہلہاتی رہتی ہے۔یہی خواب بڑے بڑے قلعے سر کرنے ‘ خود سر آمروں سے ٹکرانے اور سنگلاخ پہاڑوں سے دودھ کی نہریں بہا لانے کا جنون عطا کرتے ہیں۔

فراز کی شاعری رومانویت کے گداز میں گندھی ہونے کے باوجود مزاحمت کی توانا للکار بھی رکھتی تھی۔ ضیاالحق عہد میں اس کی ایک نظم نے ایوانوں میں آگ سی لگادی ۔ اسے گرفتار کرلیا گیا۔ جلد ہی رہائی مل گئی لیکن وہ نظم مخصوص حلقوں تک ہی محدود رہی۔ تاہم اُن کی نظم ”محاصرہ“ کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ مشرف کی آمریت کے خلاف ایک جنگی ترانہ بن گئی۔ عمر اور بیماری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فراز ججوں کی بحالی کی تحریک کے ہراول دستے میں رہا، میں نے اسے بارہا احتجاجی مظاہروں میں دیکھا جہاں اس کا جوش و جذبہ جوانوں کو بھی مات کرتا تھا۔وکلاء کے لانگ مارچ والی شام میں اور حامد میر اکٹھے تھے جب احمد فراز ہمیں ملا۔ بے کراں ہجوم کو دیکھتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کھلی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ گلنار ہورہا تھا۔ اس کے ماتھے سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے اور اس کی آنکھوں میں ”تیرے خواب“ تعبیر کی تنویر سے جگمگااٹھے تھے۔

احمد فراز کا انٹرویو آپ بی بی سی اردو پر پڑھ سکتے ہیں۔

“دکھوں کے باوجود لوگوں نے بہت پیار دیا ہے۔”

فرزانہ نیناں کی احمد فراز کے ساتھ ایک یادگار تصویر جو کہ ناروے کے شہر اوسلو میں عالمی مشاعرے کے وقت لی گئی۔


م م مغل اور فرزانہ خان کا ہمارے ساتھ تعاون کرنے کا خصوصی شکریہ۔

ٹیگ:
تا حال بلا تبصرہ