آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > ابو شامل (فہد) سے شناسائی

ابو شامل (فہد) سے شناسائی

سال 2007ء اور 2008ء کو اگر اردو بلاگنگ کا سال قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان دو سالوں میں اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا اور منظرنامہ پر کئی اچھے اردو بلاگرز ابھرے۔ اس سلسلے میں اردو ٹیک کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا ناانصافی ہوگی کہ اردو بلاگنگ کا دائرہ بڑھنے میں اردو ٹیک کا بڑا حصہ ہے۔ اس وقت اردو ٹیک پر بیس کے قریب فعال اردو بلاگرز موجود ہیں۔

گذشتہ سال جب اردو ٹیک کی جانب سے مفت بلاگ بنانے کی سہولت پیش کی گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہی کئی سارے اچھے اور مفید بلاگز سامنے آئے جن کے لکھنے والوں میں سے ایک آج منظرنامہ پر سلسلہ شناسائی میں ہمارے مہمان ہیں۔

خوش آمدید ابوشامل!

کیسے مزاج ہیں؟

@ بفضلِ الٰہی بالکل خیریت سے اور بھرپور رمضان اور بور عید گزارنے کے بعد اب سوچوں میں غرق ہیں کہ کیا کریں؟۔

آپ پیشہ کے لحاظ سے صحافی ہیں، جوان مرد، وجیہہ چہرہ، ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ، ہر ایک سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں اور نپے تلے انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ تاریخ اور جغرافیہ ان کے بے حد پسندیدہ مضامین ہیں جن پر اردو دائرة المعارف (وکی پیڈیا) پر کافی مقالات لکھے ہیں۔ ہر ایک کو اردو وکی پیڈیا پر لکھنے کی دعوت اتنے اصرار کے ساتھ دیتے ہیں جیسے یہ ان کا ذاتی پروجیکٹ ہو۔ مخلص اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ آیئے ان سے بات کرتے ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا؟

@ بس شاہراہ زندگی پر کئی موڑ آتے ہیں، ایسے ہی ایک موڑ پر اچانک بلاگنگ سے واسطہ پڑ گیا بلکہ یوں کہیے کہ شاہراہ زندگی پر رواں ہماری گاڑی کے سامنے ” بلاگنگ” اتنا اچانک آ گئی کہ ہم “حادثے” سے نہ بچ سکے۔ بلاگنگ کی دنیا میں متعارف کروانے والے تھے محب علوی۔ ان کی بھرپور خواہش کے آگے میں نے بھی سرِ تسلیم خم کر دیا اور گزشتہ سال ماہ رمضان (ستمبر 2007ء) میں بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔

اپنا بلاگ لکھنا شروع کرنے سے پہلے دوسرے بلاگرز کو پڑھا کرتے تھے؟

@ ہاں لیکن بہت کم بلاگرز کو پڑھنے کا اتفاق ہوتا تھا، کبھی کبھار افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر جانا ہوتا تھا لیکن باقاعدگی سے بلاگز نہیں پڑھتا تھا۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں؟

@ تکنیکی اعتبار سے میں بالکل کورا تھا اور اب بھی ہوں، اس لیے ابتداء میں بہت مشکلات پیش آئیں۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ پلگ انز کیا ہوتے ہیں؟ تھیم کیسے کام کرتی ہے؟ تصویر اور وڈیو وغیرہ کیسے شامل کی جاتی ہیں؟ اور اسی طرح کے عام نوعیت کے سوالات ذہن میں ابھرتے رہتے تھے۔ اس حوالے سے محب علوی نے بہت رہنمائی کی۔ اس کے بعد عمار، بدتمیز اور دیگر ساتھیوں نے بھی مختلف اوقات پر مشکلات حل کیں۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں؟

@ یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ متاثر میں ہمیشہ طرزِ تحریر سے ہوتا ہوں، اور کبھی کبھار خیالات سے بھی ہو جاتا ہوں۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ بلاگنگ میں آنے سے قبل بہت کم بلاگز دیکھنے کا اتفاق ہوتا تھا لیکن جب خود بلاگنگ شروع کی تو اپنے”پڑوسیوں” کا حال احوال بھی لینا پڑا، یوں کئی بلاگرز سے جان پہچان بڑھی۔ جہاں تک متاثر ہونے والی بات ہے تو تحریری اعتبار سے راشد کامران اور اظہر الحق بہت اعلٰی درجے کے بلاگرز ہیں لیکن دونوں بہت کم لکھتے ہیں۔ جبکہ تکنیکی اعتبار سے ساجد اقبال کا ٹیکنالوجی بلاگ اور نعمان یعقوب کے بلاگز بہت اعلٰی ہیں اور مؤخر الذکر دونوں تحریر پر بھی اپنے کمال کبھی کبھار دکھاتے رہتے ہیں۔ انگریزی بلاگرز میں پاکسانیت پسند ہے۔ چند بلاگز میں مستقل پڑھتا ہوں جن میں ابن ضیاء، ضمیمہ اور شعیب صفدر کی “بے طقی باتیں” شامل ہیں۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں؟

@ اگر کسی خاص موضوع پر لکھنا ہو تو اس کے لیے تو پہلے کچھ مواد اکٹھا کرنا پڑتا ہے اور اس کے مطالعے کے بعد ہی تحریر کا آغاز کرتا ہوں لیکن اگر عام موضوعات پر لکھوں تو پھر ذہن میں بنیادی خیال رکھ کر شروع ہو جاتا ہوں “پھر دیکھیں کہاں تک پہنچے”

اچھا، یہاں بلاگنگ کے سوالات روکتے ہیں، اپنے اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں۔

@ اپنے بارے میں کیا بتاؤں کہ دنیا کا سب سے مشکل کام خود کو سمجھنا ہے اور اس سے زیادہ مشکل کام خود کو بیان کرنا ہے۔ مختصراً یہ کہ آبا و اجداد کا تعلق سندھ کے شمالی ضلع جیکب آباد سے ہے، اور خاندان کی معلوم تاریخ تک ہمارے آبا و اجداد اس علاقے سے باہر نہیں نکلے۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خاندان کی تاریخ بخارا و بغداد کی نہیں بلکہ خالصتاً دیسی تاریخ ہے۔ میں نے بھی زندگی کے ابتدائی ڈیڑھ دو سال اسی شہر میں گزارے۔ پھر تلاش معاش والد صاحب کو کراچی لے آئی اور پھر ہم اسی شہرکی ہنگامہ خیزیوں کی نذر ہو گئے۔ کُل تین بہن بھائی ہیں، چھوٹا سا خاندان ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے دو تین سالوں بعد والدہ نے بالی عمریا میں ہی کھونٹے سے باندھ دیا اور اکتوبر 2006ء میں اللہ نے ایک چاند سا بیٹا دیا جس کا نام “شامل” رکھا۔

جغرافیہ اور تاریخ، دونوں ہی خشک مضامین تصور کیے جاتے ہیں۔ تاریخ تو پھر بھی ایک حد تک دلچسپ مضمون ہے لیکن جغرافیہ۔۔۔۔۔۔ ان سے دلچسپی کیسے پیدا ہوئی اور کیوں؟

@ ہممممم! یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔ تاریخ کو سمجھنے کے لیے جغرافیہ پڑھنا بہت ضروری ہے لیکن میں نے پہلے تاریخ نہیں بلکہ پہلے جغرافیہ پڑھا۔ دراصل بچپن میں میرے پاس جو چند ایک کتابیں تھیں ان میں ایک بہت اعلٰی معیار کی نقشوں کی کتاب بھی تھی۔ بس اس کو گھول کر پی گیا اور جب اس سے بوریت ہونے لگی تو نئی سے نئی نقشوں کی کتب لانے کا شوق ہوا۔ تاریخ کے مطالعے کا آغاز تو بہت پرانی بات نہيں بلکہ شادی کے بعد ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ دوران گفتگو ایک تاریخی حوالے کا ذکر ہوا اور یوں میں اس تاریخی حوالے کے بارے میں معلومات کی تلاش کے ساتھ ساتھ تاریخ میں غرق ہوتا چلا گیا اور جب اکتوبر 2006ء میں اردو وکیپیڈیا میں شمولیت اختیار کی تو بنیادی طورپر انہی دو موضوعات کو اپنایا۔ لیکن اس کے علاوہ سلطنت عثمانیہ، ترکی اور اسلام بھی میرے پسندیدہ موضوعات ہیں ان پر بھی کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔ مختصراً یہ سمجھ لیجیے کہ ایک طالب علم جو کچھ پڑھ رہا ہے اسے وکیپیڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی صحافت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

@ پاکستانی صحافت کو سمجھنا بڑا “اوکھا” کام ہے بلکہ پاکستانی صحافت ہی بڑی “اوکھی” چیز ہے۔ ہمارے ہاں جہاں ہر سطح پر معاملات بگاڑ کی جانب گامزن ہیں ایسے دور میں ذرائع ابلاغ سے یہ امیدیں وابستہ کرنا کہ وہ مملکت خداداد کے حالات کو سدھارنے کے لیے کسی جادوئی چھڑی کا حامل ہوگا، عبث ہے۔ سب سے پہلا مسئلہ تو صحافت کے حوالے سے پاکستان میں اعلٰی و معیاری تعلیم کا نہ ہونا ہے، دوسری جانب نظریاتی آویزشیں بھی معاملات کو بگاڑنے کا باعث بنتی ہیں۔ ایک جانب پاکستان کے اکثر و بیشتر اخبارات سیاسی یا مذہبی جماعتوں یا طبقات کے mouthpieces بنے ہوئے ہيں تو یہی صورتحال مختلف نجی ٹی وی چینلوں کی بھی دکھائی دیتی ہے جن کا بنیادی مقصد صرف اور صرف اشتہارات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہے۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی بھی اصلاحِ عوام کے بجائے ذہنی انتشار پھیلانے کا سبب بن رہی ہے۔ بہرحال اس کے باوجود صحافت ملک کے ان معدودے چند شعبہ جات میں سے ہے جن سے موہوم سی امید ہے کہ وہ ملک میں تبدیلی کے عمل کا ایک اہم محرک ہوگا۔

آپ کی نظر میں صحافت کے شعبہ کی کوئی تین خوبیاں اور تین خامیاں کیا ہیں؟

@ فوائد:

سیاسی و عالمی معاملات پر زیادہ گہری نگاہ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔

سیاست دانوں کا اصل روپ بھی دکھائی دیتا ہے۔

اور موجودہ “media boom” کے باعث اچھی تنخواہ بھی مل جاتی ہے اور اگر آپ آن کیمرہ رپورٹر بن جاتے ہیں تو شہرت بھی ساتھ ساتھ۔

نقصانات:

اگر ابتدا سے ہی واضح نظریات کے حامل نہیں تو نظریاتی آویزشوں کے درمیان بہہ جانے کا خطرہ ہوتا ہے نتیجتاً “معلق شخصیت” !!

غیر اخلاقی عادات میں پڑنے کے خطرات عام افراد سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

آپ “نظام الاوقات” مرتب دے کر اپنی زندگی کو نہیں چلا سکتے۔ آپ کا نظام الاوقات خبروں کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ کوئی اہم واقعہ یا خبر اچانک آپ کے کسی منصوبے کو تلپٹ کر سکتی ہے۔

یہاں ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ ابوشامل کا اصل نام فہد ہے اور ان کے بیٹے شامل کی وجہ سے نیٹ پر ان کی شناخت یا کنیت ابوشامل ہے۔

شامل کے بارے میں کچھ بتائیں، کتنا بڑا ہوگیا؟ کیا کیا بولنے لگا ہے؟ اگر تصویریں بھی ہوں تو زیادہ اچھا ہے۔

@ یہ سوال پڑھ کر ہی چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ہے۔ رواں ماہ (اکتوبر) کے آخر میں 2 سال کا ہو جائے گا۔ چلبلی طبیعت کا سیماب صفت بچہ ہے، ہر وقت کچھ نیا ہونا چاہیے اس کے لیے۔ گزشتہ چند ماہ سے اس کی لغت میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دفتر سے گھر پہنچتے ہی اپنے مخصوص اشاروں + الفاظ کے ذریعے دن بھر کے اہم واقعات کی روداد سناتا ہے۔ آج غبارہ کیسے پھٹا؟ آج چوٹ کہاں اور کیسے لگی؟ وغیرہ وغیرہ

بلاگنگ کی طرف واپس آتے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کیا فائدہ ہوا ہے؟

@ بلاگ پر زیادہ تحاریر تو نہیں لکھ پاتا لیکن “دماغی بلاگنگ” کافی کر لیتا ہوں۔ یعنی چلتے پھرتے اور سفر کے دوران بھی پیش آنے والے واقعہ یا موجودہ مقام کے بارے میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ اس بارے میں لکھتا تو کیا لکھتا؟ کبھی کبھار اخبار کے مطالعے کے دوران کوئی ایسی خبر نظروں سے گزر جاتی ہے جس پر کچھ لکھ ڈالتا ہوں۔ بہرحال اس امر کا مجھے افسوس ہے کہ مصروفیات اور ذہنی عدم یکسوئی کے باعث میں مسلسل نہیں لکھ پاتا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے اور روز بروز ہورہا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

@ ترقی یافتہ ممالک میں بلاگرز کسی ایک موضوع کو چن کر بلاگ کا آغاز کرتے ہیں اور اس سے ہٹ کر کوئی ایک جملہ بھی ان کی تحاریر میں شامل نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے ہمارے یہاں بامقصد بلاگنگ تو نہ ہونے کے برابر ہے بس چوں چوں کے مربے ہیں (تاہم کچھ بہت اچھے بلاگ بھی ہیں)۔ اس حوالے سے میرا پاکستان اور ساجد اقبال کا ٹیکنالوجی بلاگ اچھی کوششیں ہیں جو ہمہ وقت موضوع پر رہتے ہیں۔ البتہ اس ضمن میں افسوسناک بات یہ ہے کہ اچھے لکھاری بہت کم بلاگنگ کی جانب آ رہے ہیں۔ اگر بی بی سی اردو کے کالم نگاروں کی طرز پر ہمارے کالم نگار بھی کچھ ذاتی بلاگ شروع کریں تو شاید اچھی اور معیاری تحاریر بلاگنگ کی دنیا کی زینت بنیں۔ بصورت دیگر جیسا ہے ایسا ہی چلتا رہے گا۔

آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں پاتے ہیں؟

@ اگلے دس سالوں میں خود کو تو 4،5 بچوں کا باپ دیکھتا ہوں 🙂 ۔ اللہ حواس، اعضا اور قویٰ کو سلامت رکھے تو امکان ہے کہ موجودہ ادارے اور عہدے سے بھی بہتر کسی جگہ پر موجود ہوں، ہو سکتا ہے کسی ٹیلی وژن چینل کے نیوز ڈیسک پر۔

اردو بلاگنگ بلکہ بحیثیت مجموعی اردو کمپیوٹنگ کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام سے یہ قطعی امید نہیں کہ اگلے 10 سال تک ایسے افراد پیدا کر لے گا جو اردو سے بے نیاز ہو کر اپنا ناطہ مکمل طور پر انگریزی سے جوڑ لیں گے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ “لسانی مجبوری” کے باعث آج سے دس سال بعد، جب انٹرنیٹ ہماری زندگیوں میں اور زیادہ داخل ہو گیا ہوگا، اردو اور زیادہ اہمیت اختیار کر جائے گی۔

پاکستان اس وقت تبدیلی کی جانب گامزن ہے اور تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مجھے وطن عزیز سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں۔ ضرورت صرف اور صرف درست سمت میں درست رہنمائی کی ہے۔ یہ وہ فوری کشتہ ہے جو وطن عزیز کو دے کر اس کی صحت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ طویل المیعاد منصوبہ میں اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ تعلیم پر توجہ دی جائے۔ 100 منزلہ عمارات کسی ملک کی ترقی کی علامت نہیں ہوتیں بلکہ جامعات و درس گاہیں اس کے روشن مستقبل کی ضامن ہوتی ہیں اس لیے جب تک ہمارا نظام تعلیم درست نہیں ہوتا تب تک ہمارے ایٹمی قوت اور وسیع معدنی و زرعی وسائل و مالی خوشحالی بھی ہمارا کچھ نہیں “بگاڑ” سکتی۔

کیا آپ کے خیال میں اردو بولنے والوں نے اردو کو اس کا جائز مقام دیا ہے؟

@ اردو بولنے والوں سے تو بڑی شکایتیں ہیں مجھے۔ کیونکہ اردو پر زیادہ تر کام غیر اہلِ زبان نے کیا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں اردو کی ترویج کے لیے کافی کام ہوا تھا اور اس زمانے میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے اردو کو بہت ترقی ملی۔ اگر اسی طریق پر اور اسی رفتار سے کام چلتا رہتا تو شاید اردو آج بہت بہتر مقام پر ہوتی۔

تیکنیکی دنیا میں اردو دیگر زبانوں کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے، کیا وجوہات سمجھتے ہیں اس کی؟

@ کیونکہ تکنیکی آدمی نہیں اس لیے میری رائے اہمیت کی حامل نہیں۔ البتہ میرے خیال میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ ممالک جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں تعلیم یافتہ لوگ انگریزی کو اہمیت دیتے ہیں۔ باقی رہ گئے وہ جن کی نظر میں اردو کی اہمیت وہ تکنیک سے نابلد ہیں۔

اردو کے فروغ میں اپنا کردار کیسے بیان کریں گے؟

@ منظرنامہ نے انٹرویو میں شرمندہ کرنے والے سوالات بھی رکھے ہیں؟ بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں لیکن وقتِ فرصت ہے کہاں؟

مستقل کے کیا کیا منصوبے ہیں؟

@ منصوبے بہت اونچے اونچے ہیں۔ Encarta کی طرح اردو میں ایک ایسا دائرہ المعارف (Encyclopedia) بنانے کا خواب ہے جو کمپیوٹر پر نصب کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں ایک بہت اعلٰی قسم کی کمپیوٹری لغت (Dictionary)۔ یہ دونوں وہ منصوبے ہیں جو صرف خواب ہیں یا انہیں تمنائیں کہا جا سکتا ہے، مستقبل میں جب بھی موقع ملا اور اچھے ساتھی ملے ان پر عملی جامہ پہنانا ضروری سمجھوں گا۔

قابل عمل منصوبوں میں گرافک ڈیزائننگ میں کچھ مہارت حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ چھوٹے موٹے کام نمٹا سکوں (شوقیہ)۔

بلاگ کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا تو چاہتا ہوں لیکن اس کے لیے فرصت درکار ہوگی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے باقی سب کچھ چھوڑ کر تمام وقت بلاگنگ کو دوں۔

تیسرا قابل عمل منصوبہ اردو میں ایک اٹلس (نقشوں کی کتاب) مرتب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اگر دو تین افراد میسر آ گئے تو فوری کام شروع کروں گا۔

جو محبان اردو کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کے لیے اور اردو بلاگرز کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

@ انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے بڑی افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود جو رویہ انٹرنیٹ کی اردو برادری میں دیکھنے میں آتا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس میں نئے آنے والے افراد کو گھاس نہیں ڈالی جاتی جس کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں اسے میری التجا سمجھ لیں کہ نئے افراد کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی مدد کریں اور اچھی تحریر کے لیے ان کی رہنمائی بھی کریں۔

اپنے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اردو بلاگرز کو کوئی تحریر لکھتے وقت کیا باتیں پیش نظر رکھنے کا مشورہ دیں گے؟

@ جس بھی موضوع پر لکھیں، اس پر اتنا مواد دیں کہ اس کا حق ادا ہو جائے۔ اگر طوالت کا اندیشہ ہو تو مختلف اقساط میں تقسیم کردیں۔ اور موضوع پر زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں اس سے تحریر میں نکھار بھی پیدا ہوگا۔ (ان تجاویز پر مجھے خود بھی عمل کرنا ہے)

تفصیلی سوالات تو کافی ہوگئے، اب ایک نظر کچھ مختصر مختصر سے سوالات پر۔

پسندیدہ:

کتاب؟

یہ کیا پوچھ لیا کس کس کا نام لوں؟ چند لکھ دیتا ہوں:

محسن انسانیت از نعیم صدیقی

تجدید و احیائے دین از سید ابو الاعلٰی مودودی

اور انسان زندہ ہے از عبید اللہ بیگ

انسانیت موت کے دروازے پر از ابو الکلام آزاد

غبارِ خاطر از ابو الکلام آزاد

گیت؟

موسم بدلا رت گدرائی (امانت علی خان)

فلم؟

کنگڈم آف ہیون (Kingdom of Heaven)

کھانا؟

جو بھی اچھا بنا ہو کھا لیتا ہوں

موسم؟

برسات اور سرما

صحیح یا غلط:

مجھے بلاگنگ کی عادت ہوگئی ہے۔

صحیح

میں بہت شرمیلا ہوں۔

صحیح

مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔

صحیح

میں ایک اچھا دوست ہوں۔

صحیح

مجھے غصہ بہت آتا ہے۔

صحیح

منتخب کریں یا اپنی پسند کا جواب دیں:

پاکستان یا امریکہ؟

پاکستان

ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

ہالی ووڈ (Hollywood)

نہاری یا پائے؟

نہاری

آم یا سیب؟

آم

پسند کی شادی یا ارینجڈ؟

اب کچھ نہیں ہو سکتا 🙁

فورمز یا بلاگ؟

دونوں کا اپنا مقام ہے

چائے یا کوک؟

کوک

کرکٹ یا ہاکی؟

کرکٹ

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام؟

@ اتنے سارے جوابات کے بعد کسی خاص بات یا پیغام کی ضرورت نہیں۔ بس دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

منظرنامہ کے لیے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ نکالنے کا شکریہ۔

2 تبصرے:

  1. اللہ پاک والد محترم کے درجات بلند فرمائے.

    بہت اچها انٹرویو ہے جناب..آپکے بہت ہی سیدهے سیدهے جوابات نے بہت متاثر کیا .اللہ آپ کو اور آپ کے نیک اردوں کو کامیابی عطا کریے ….

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر