آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > اکتوبر 2008 کے بلاگ

اکتوبر 2008 کے بلاگ

منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم!

ماہ اکتوبر میں اردو بلاگنگ میں کافی سرگرمی نظر آئی، کئی نئے بلاگرز اردو بلاگنگ کی طرف آئے اور کچھ نئی سائٹس کا اجرا ہوا۔ مزید کیا کیا ہوا۔ آئیے اس پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔

معاشرہ و سیاست:

ستمبر کے آخر میں خورشید آزاد نے مئیریٹ ہوٹل پر ہونے والے دھماکے پر “ہماری غلط فہمی و خوش فہمی” سلسلے کا آغاز کیا۔ اور بیس اکتوبر تک اس کی سات قسطیں سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسط میں خورشید اردو بلاگرز پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

“آج کل اردو بلاگ کی دنیا اور انٹرنیٹ پر ایک بحث ہورہی ہے جس میں اپنی اپنی دور کی کوڑیاں لا کر یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میرئیٹ ہوٹل بم دھماکہ دراصل پاکستان کے خلاف کوئی سازش تھی۔”

ان کے خیال میں ایسی باتیں کر کے ہم غیر منطقی قسم کی افوائیں پھیلائیں رہے ہیں۔

پھر وہ ہماری غلط فہمی یا خوش فہمیوں کے بارے میں کچھ ایسے کہتے ہیں۔

جہاں تک میرئیٹ ہوٹل بم دھماکے کاسوال ہے میں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میریٹ ہوٹل بم دھماکہ امریکی سازش ہے یا یہ حملہ امریکہ نے کرایا ہے یہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں یہ ہماری عادت بن چکی ہےکہ ہمیشہ اپنی کوتائیوں اور اپنے قومی فرائض سے چشم پوشی کرکےہر معاملے میں “دال میں کچھ کالا” ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان غیرمنطقی نام نہادحقائق کو ایک عذر کے طورپرپیش کرتے ہیں اپنی ناکامیوں اور کوتائیوں کا۔

ہماری غلط فہمی و خوش فہمی
بھائیو آج کل انٹرنیٹ کےعلاوہ پاکستانی ٹی وی پروگراموں میں بھی پاکستان کی حالت پر زبردست بحث مباحثہ ہوتا ہے جسنے مجھے پریشان کردیا ہے اورسوچنے پرمجبور کردیاہے کہ۔۔۔۔۔

ہم کیا ہیں؟ ؟
پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا؟؟
اس دنیا میں ہماری حیثیت کیا ہے؟؟
اقوامِ عالم میں ہمارا رتبہ کیا ہے؟؟
ہماری مالی و فوجی طاقت کیا ہے؟؟

اسی طرح خورشید نے اپنی ان سات قسطوں پر مشتمل سلسلے میں مختلف موضوعات کو زیر بحث لایا ہے۔

ایم بلال نے ایک تحریر “اسلامی جمہوریہ پاکستان سے آباؤاجدادی جمہوریہ اقتدارستان (تبدیلی نام)” کے نام سے لکھی۔ جس میں وہ حکومت پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ

“ہمارے معاشرے میں اتنی خرابی پیدا ہوگئی ہے کہ ہم کوئی کام خود سے کرتے تونہیں لیکن اپنی بات دوسروں پر ٹھونستے ضرور ہیں۔ جیسے بچے کا نام اُس کے رشتہ دار ٹھونستے ہیں اسی طرح ہماری حکومت خود سے کچھ کرنے کی بجائے عوام کی محنت یا گذشتہ حکومت کے اچھے کاموں پر اپنا نام ٹھونستی ہے بلکہ حکومت تو اس سے بھی ایک قدم آگے نکل گئی ہے۔ وہ تو پہلے سے بنی ہوئی چیزوں اور اُن کے رکھے ہوئے ناموں کو تبدیل کر کے اپنی مرضی کے نئے نام ٹھونس رہی ہے۔ نوا ب شاہ کا نام تبدیل کر کے بینظیر بھٹو شہید رکھ دیا ہے۔ سیدنواب شاہ کی روح کے ساتھ عجیب مذاق کیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سید نواب شاہ کی طرح زرداری صاحب خود سے ساڑھے چھ سو ایکڑ زمین غریبوں کو شہر بسانے کے لئے دیتے پھر اُس شہر کا جو چاہے نام رکھتے۔ چاہے بینظیر بھٹو شہید رکھتے یا زرداری ٹا ؤن رکھتے ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا بلکہ خوشی ہوتی۔ ایک اور نام ٹھونس دیا گیا ہے۔ اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا نام بینظیر بھٹو شہید کر دیا گیا ہے۔ ویسے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک نئا ایئر پورٹ بنایا جاتا پھر اُس کا نام بینظیر بھٹو شہید رکھا جاتا۔”

“سنا ہے اس میدان میں وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ اب تو صوبہ سرحد کی حکومت بھی اتر چکی ہے اور پشاور ایئر پورٹ کا نام بھی تبدیلی کے مراحل میں ہے۔ نئانام باچا خان(غفار خان) کے نام پر رکھا جا رہا ہے۔”

اور آخر میں آپ اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

“اگر ایسے ہی نام تبدیل ہوتے رہے اور ہر اقتدار میں آنے والے نام ہی تبدیل کرتے رہے تو لگتا ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب مزارِ قائد اور علامہ اقبال کے مقبرے تک کا نام اپنے آبا ؤاجداد کے نام سے تبدیل کر دیا جائے گا بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام آبا ؤاجدادی جمہوریہ اقتدارستان ہو جائے گا۔”

افتخار اجمل نے “ثقافت اور کامیابی” تحریر لکھی، جس میں انہوں نے ہمارے معاشرے کی چند برائیوں کو سامنے لایا ہے، جسے ہمارے معاشرے میں ثقافت کا نام دیا جانے لگا ہے۔  آپ لکھتے ہیں کہ

“ثقافت کا غوغا تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی کہ ثقافت ہوتا کیا ہے اور نہ کسی کو معلوم ہے کہ ہماری قدیم تو بہت دُور کی بات ہے ایک صدی قبل کیا تھی ۔ ثقافت [culture] کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

1 ۔ خوائص یا خصوصیات جو کسی شخص میں اس فکر یا تاسف سے پیدا ہوتی ہے کہ بہترین سلوک ۔ علم و ادب ۔ ہُنر ۔ فَن ۔ محققانہ سعی کیا ہیں
2 ۔ وہ جو علم و ادب اور سلوک میں بہترین ہے
3 ۔ ایک قوم یا دور کے تمدن ۔ تہذیب یا شائستگی کی شکل
4 ۔ دماغ کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ترقی ۔ نشو و نما ۔ تکمیل یا اصلاح
5 ۔ کسی گروہ کا ساختہ رہن سہن کا طریقہ جو نسل در نسل چلا ہو
6 ۔ طور طریقہ اور عقائد جو کسی نظریاتی گروہ یا صحبت کی نمایاں صفت ہو”

اس کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔

“پچھلی چند دہائیوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ثقافت شاید ناچ گانے اور بے حیائی کا نام ہے ۔ اس میں پتگ بازی اور ہندوآنہ رسوم کو بھی ہموطنوں نے شامل کر لیا ہے ۔ شادیاں ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں ہوتی ہیں ۔ شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کا قابلِ اعتراض بلکہ فحش گانوں کی دھنوں پر ناچنا شادیوں کا جزوِ لاینفک بن چکا ہے جو کہ کھُلے عام ہوتا ہے ۔”

شاکر عزیز نے ایک بہترین تحریر “جرم” لکھی، جو ہمارے معاشرے کی بے بسی کی عکاسی کر رہی ہے۔

معلومات:

راشد کامران نے لینکس سے متعلق ایک نہایت ہی بہترین اور معلوماتی مضمون لکھا۔ جس کا عنوان ہے “لینکس کا انتخاب کیسے کریں؟

بدتمیز نے گوگل ایڈسینس سے متعلق ایک معلوماتی تحریر”جاگو جگاؤ” لکھی، جو بہت سوں کے لیے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اور اسی سے متعلقہ دوسری تحریر “ایڈ سینس سینس“۔

جہانزیب نے اپنی تحریر “حکومتِ پاکستان” میں حکومت پاکستان کی ویب سائٹ اور صوبوں کی سائٹس پر انگریزی یا اردو زبان کے اختلاف کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ

“کچھ معلومات کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل مجھے حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ پر جانے کا اتفاق ہوا، ایک تو وہی گِھسا پٹا اعتراض جو میرے جیسے عوام اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ویب سائٹ مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے، اردو میں حکومت ،حکومتی اداروں یا سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔”

“حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ کے سرور امریکہ میں ہیں جو کہ میرے لئے حیران کن بات ہے ۔ پھر فرداً فرداً ہر صوبے کی ویب سائٹ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ سوا صوبہ پنجاب کے باقی تمام صوبوں کے سرور بھی امریکہ میں موجود ہیں ۔ البتہ صوبہ بلوچستان کی ویب سائٹ میں کچھ حد تک تصویری اردو میں تھوڑا بہت مواد بھی موجود ہے ۔”

شاعری:

نعمان علی نے ایک غزل لکھی تو نہایت ہی خوبصورت انداز میں کہی گئی ہے۔

روز ارادہ کرتا ھوں پر کبھی پورا نہیں کرتا

روز ارادہ کرتا ھوں پر کبھی پورا نہیں کرتا
عجیب آدمی ھوں خود پر بھروسا نہیں کرتا

۔۔۔۔۔۔۔۔

نشے میں آکر تو گوہر،سبھی لڑکھڑاتے ھیں
مین اُس جام کا قائل ھوں جو بہکایا نہیں کرتا

میرا جہاں نے ایک نظم پوسٹ کی۔

An Evening – The reply…اک شام ڈھلے – جواب

ہاں یاد مجھے ہے مینہ کا زور
وہ کالی گھٹا ، بادل گھنگور
اس جیون کی سب پیاس لئے
تیرے دو نینوں کی آس لئے
تیرے دروازے دستک دی تھی
اک شام ڈھلے

مزید پڑھئیے۔۔۔

آپ بیتی:

میرا پاکستان نے اپنے گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے تحریر لکھی، “کاش وہ وقت پھر لوٹ آئے” آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ

“اب جب ہم پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی روٹین کیساتھ کام کر کر کے اکتا جاتے ہیں تو ہمیں وہ دن بہت یاد آتے ہیں اور معلوم ہونے کے باوجود کہ وہ دن لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر بھی ان دنوں کے لوٹ آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ کیونکہ تب نہ بم دھماکے ہوتے تھے، نہ راہ چلتے کوئی لوٹ لیا کرتا تھا، نہ گاڑیوں کی بھرمار تھی، نہ سکول بنجر تھے اور نہ سیل فون اور کمپیوٹر تھے۔ ہر کسی کے پاس وقت ہی وقت تھا اور اتنا وقت تھا کہ یار دوست بہت سارا وقت اکٹھے گزارا کرتے تھے۔”

اور آپ اپنی ایک اور تحریر “ناکامی کے اسباب” میں لکھتے ہیں ہوئے آخر میں چند اچھے مشورے دئیے ہیں

    • “کبھی شارٹ پلاننگ مت کرو اور ہمیشہ دور کی سوچو۔
    • پہلی نوکری تبھی چھوڑو جب دوسری جوائن کرنے کا سو فیصد ارادہ بن جائے۔
    • ہو سکے تو سب سے پہلے اپنی منزل کا تعین کر لو اور پھر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کرو۔
    • اوائل عمری میں ہی کڑی محنت کر لو تا کہ عمر کے آخری حصے میں اس کا پھل کھا سکو۔”

شگفتہ نے اپنی ایک استاد کے بارے میں ایک تحریر لکھی، جس کا نام “مسز حاج” ہے۔ آپ آخر میں لکھتی ہیں

“بچپن میں پتہ نہیں کہاں پڑھا یا سن لیا تھا کہ اچھے استاد بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں تب فورا دعا مانگ لی تھی کہ اچھے استاد ہمیں بھی ملیں ، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کتنی بڑی غلطی کی تھی یہ دعا کر کے۔ اچھے استاد اچھے بے شک ہوں پر ظالم بھی ہوتے ہیں ، یہ تعلیم دیتے ہیں تربیت بھی کرتے ہیں لیکن ہماری سوچ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بس چلے تو ہمارے دل میں بھی قبضہ کر لیں ۔”

اسی طرح عمار نے بھی اپے بچپن کا ایک قصہ لکھا، جس میں وہ راستہ بھول جاتے ہیں۔ “قصہ راہ بھٹکنے کا” آپ آخر میں لکھتے ہیں کہ

“والدین کو چاہیے کہ کبھی اس طرح اپنے بچے کو ایک دفعہ راستہ بتاکر نہ چھوڑیں اور نہ ہی بچپن سے اس کے دل میں زیادہ خوف بٹھائیں کہ باہر کی دنیا اتنی خطرناک ہے، کوئی بھی تمہیں پکڑ کر لے جائے گا۔ بلکہ بہتر ہوگا اگر اسے حفاظتی اقدامات اور تدابیر ذہن نشین کرائی جائیں۔ ورنہ کل کو کسی اور بلاگ پر بھی ایسی ہی کہانی پڑھنے کو مل سکتی ہے۔”

اردو بلاگنگ اور تکنیکی معلومات:

ابو شامل نے اپنی تحریر “بلاگرز کے لیے اہم پلگ انز” میں چند ضروری پلگ انز کے بارے میں لکھا ہے، جس سے نئے آنے والے مستفید ہو سکتے ہیں۔

نیوز اپڈیٹس:

  1. ساجد اور عمار نے مل کر اردو ماسٹر کا آغاز کیا۔ جہاں آپ تکنیکی مسائل کا حل جان سکیں گے۔
  2. نعمان علی نے اپنا بلاگ اردو ٹیک سے منتقل کیا۔ نیا ایڈریس ہے: http://noumanali.com –  آجکل آپ پطرس کے مضامین اپنے بلاگ پر پوسٹ کر رہے ہیں۔
  3. رومی نے بلاگنگ میں قدم رکھا اور ان کے بلاگ کا پتہ ہے:http://moashrah.blogspot.com/ – بلاگ سپاٹ سے پہلے انہوں نے ورڈ پریس پر بھی بلاگ بنایا تھا: http://moashrah.wordpress.com/
  4. خواجہ بھی اردو بلاگنگ میں آئے۔ ان کے بلاگ “شاہین کی پرواز” کا پتہ:http://khawaja.urdutech.net
  5. عبدالقدوس کا نیا بلاگ: http://abdulqudoos.info/
  6. والڈ لائف سے متعلق ایک منفرد بلاگ سامنے آیا، اگر عزیز امین اسے جاری رکھ سکے تو۔ پتہ درج ذیل ہے:http://wildlifelovers.urdutech.net/
  7. عمار نے اردو ٹیک سے اپنا بلاگ منتقل کیا۔ نیا ایڈریس ہے: http://ibnezia.com/blog – اس کے ساتھ ساتھ عمار نے “مہم ایک بلاگر – ایک کتاب” میں حصہ لیتے ہوئے “مونٹی کرسٹو کا نواب” ناول پیش کیا۔
  8. مکی نے کتاب “وقت کا سفر” پیش کی۔
  9. ڈفر نے ڈفرستان میں ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جس کا نام ہے ” آج کا سوال“۔ جس میں وہ بلاگرز سے ایک سوال پوچھا کریں گے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر