بلاگنگ کیوں؟ از راشد کامران
منظر نامہ اپنی طرز کا ایک منفرد سلسہ ہے جس میں اردو بلاگرز کو مختلف موضوعات پر لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ موضوعات پر بلاگرز کو لکھنے کی دعوت دی جاچکی ہے اور بشمول خود میرے کئی دوسرے بلاگرز اپنے اظہاریے منظر نامہ کی زینت بنا چکے ہیں۔ گو کہ ابھی تک اس سلسے میں وہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا جسکی امید کی جاتی رہی ہے لیکن منظر نامہ میںاس بار “بلاگنگ کیوں؟”کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس بات کی قوی امید ہے کہ کئی دوسرے بلاگرز اس انتہائی دلچسپ سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
سوال بڑا دلچسپ ہے۔ بظاہر سادہ لیکن دماغ میں پیچیدہ سوچوں کا ایک جم غفیر اکھٹا کرنے کے لیے کافی۔ اتنے وسیع موضوع پر بلاشبہ ایک سے زیادہ آراء ہوں گی چناچہ عمومی نکتہ نظر کے بجائے اسے آپ “میںبلاگنگ کیوں کرتا ہوں” کی عینک سے دیکھے گئے منظر کی روداد گردانیے۔
بلاگنگ آزادی اظہار رائے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو ایک گھٹن زدہ ماحول میں طویل عرصہ زندگی گزارنے والے انسان کی زندگی میں نعمت کا درجہ رکھتی ہے چناچہ میری نظر میںبلاگنگ کا اولین مقصد اپنے سب سے پہلے حق یعنی سوچنے، سمجھنے اور اظہار کرنے کی آزادی کا لطف لینا ہے۔ بات جب عمومی اظہار کی ہوتو پھر موضوعات میںبھی تنوع آجاتا ہے اور بلاگ افقی طور پر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔
بلاگنگ کا دوسرا اہم سبب اپنا علم اور تجربات دوسروںتک پہنچانا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر علم اور تجربات دوسروںتک پہنچانا اولین ترجیح ہو تو پھر موضوعاتی بلاگ وجود میںآتا ہے اور عمودی طور پر پھیلنا شروع کردیتا ہے جسکی کئی مثالیں آپ کو بلاگستان میںنظر آسکتی ہیں۔ محمد علی مکی اور میرا پاکستان کے بلاگز کو آپ موضوعاتی یا عمودی بلاگ کی مثالوںکے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔
بنیادی طور پر میں متوازی سچائیوںکے فلسفے کا قائل ہوں اور بلاگنگ میں اس فلسفے کی عملی شکل میرے لیے ایک اہم کشش کا باعث ہے۔ بلاگنگ مجھے میرے ہم خیال اور میری سوچ سے اختلاف رکھنے والے لوگوںسے گفتگو کا موقع فراہم کرتی ہے جو اصلاح کا ایک بہت بہترین ذریعہ ہے اور “برقی معاشرتی تعلقات” کا سب سے بڑا ماخذ۔ بلاگنگ میرے لیے محبت، نفرت، شدت اور تمام دوسرے انسانی جذبات کے اظہار و اخراج کا سب سے مثبت ذریعہ ہے اور شاید ایک عام انسان کے لیے اپنے بعد اپنی میراثچھوڑجانے کا ایک انوکھا انداز۔