آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > رضوان نور سے شناسائی

رضوان نور سے شناسائی

لسلام علیکم

منظرنامہ پر آپ کے میزبان ماوراء اور عمار حاضر ہیں اس امید ہے کہ ساتھ کہ آپ بخیریت ہوں گے۔ سلسلہ ہے شناسائی کا، اور ہمارے آج کے مہمان کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ گو کہ بلاگنگ کم کم ہی کرتے ہیں لیکن آپ اردو محفل پر 2006 میں آئے ۔ آپ بذلہ سنج، ، ہنس مکھ اور خوش گفتار طبیعت کے مالک ہیں۔

رضوان ، محب اور ظفری کو اردو محفل کی تکون کہا جاتا رہا ہے، جہاں یہ تین حضرات اکھٹے ہو جائیں، وہاں کسی کی خیر نہیں ہوتی۔ آپ نے کیا خوب طرزِ تکلم پایا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ 2007میں آپ کو محفل پر بہترین مزاح نگار کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

محفل پر ایک سوال پر رضوان کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔

کیا محب کے لیے آپ نے ذہن میں پہلےسے کوئی خاکہ بنا رکھا تھا؟

جی ہاں
ایک بانکا چھپیلا سا نشیلے نینوں، بلوری آنکھوں والا چُھورا سوچ رکھا تھا۔ جس نے آنکھوں میں کجلا، سر پر چنبیلی کا تیل بمعہ آملہ سبز کے لگا کر پٹے دار زُلفوں کو خوب جما رکھا ہوگا اور اُس پر دوپلی سفید ٹوپی اس طرح آڑی جما رکھی ہوگی کہ اسمیں سے ترچھی مانگ صاف چھُپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں والا معاملہ ہوگا، ایک کان میں عطر خس اور دوسرے میں عطر موتیا سے معطر روئی کے پھوئے اڑس رکھے ہوں گے کان پر تازہ تراشیدہ قلم اٹکائی ہوئی ہوگی اور ایک ہاتھ میں دوات دوسرے میں بیاض تھامے ہوئے ہوگا۔ ململ کا کرتا اور آڑا علیگڑھ کٹ پائجامہ زیب تن کیے پاؤں میں پمپ شوز یا سلیم شاہی جوتی ہوگی۔ گلے میں ایک زنبیل حمائل کر رکھی ہوگی جسمیں لیپ ٹاپ دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھتا ہوگا اور ساتھ ہی اردو محفل کے چھپے ہوئے بہت سے اشتہار تاکہ نئے بٹیرے شکار کیے جائیں۔ لیکن وائے حسرتا جب دیکھا تو وہاں گیٹ سے ایک ہنستا مسکراتا میرے جیسا لڑکا نما آدمی باہر آرہا تھا۔

خوش آمدید رضوان نور۔

@ بہت شکریہ آپ لوگوں کا۔

کیسے مزاج ہیں؟

@ بخیر ہیں

رضوان، پہلے بلاگنگ سے آغاز کرتے ہیں۔

آپ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟

@ اردو محفل پر ہی آشنائی ہوئی بلاگنگ اور بلاگر سے۔ شاکر ، نعمان یعقوب، خاور کھوکھر، ساجد اقبال، شعیب صفدر اور قدیر کے بلاگ شوق سے پڑھتا تھا۔

کب سوچا کہ خود بھی بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟

@ ہاں یہ تحریک بھی بھائی فاروق المعروف محب علوی کی وجہ سے ہوئی گھیر گھار کر لے آئے۔ پہلے پہل بلاگستان پر بلاگ بنایا پھر جانے کیا کھچڑی پکی کہ سارے کا سارا ٹبر اردو ٹیک پر آگیا، قدیر، ساجد، عزت مآب بدتمیز، ماوراء، عمار سب کے سب تھیم “ اردوانے“ میں اور اردو بلاگ کے مسائل حل کرنے میں جُٹ گئے۔ جب اتنے سارے لوگ اردو بلاگرز کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہوں تو مجھے لگا کہ کوئی تو ہو جو ان کو نت نئے مسائل بتا کر حل کرواسکے اس لیے مجھے بلاگ شروع کرنا پڑا اور ابھی تک شروعات ہی ہیں۔

بلاگ کا نام سراب کیوں رکھا؟
@ اس کی وضاحت تو بلاگ پر “ اپنے بارے “ والے صفحے پر کردی ہے۔ مزید یہ کہ بلاگ کو میں اظہاریے کے طور پر لکھنا چاہتا تھا کہ اپنے تجربات بیان کروں گا ان تمام وارداتوں کا جو اکثر پاکستانیوں پر گزرتی ہیں جو دس پندرہ سال ملک سے دور رہ کر واپس آتے ہیں کہ زندگی وہیں سے شروع کریں جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔

بلاگنگ میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟ کیا مراحل طے کیے؟

@ کچھ ایسے مہربان ساتھ تھے جنکا اوپر ذکر کرچکا ہوں انہوں نے میری راہ کے سارے کانٹے چُن دیے اس کے باوجود میری کاہلی ایسی ہے کہ باقاعدگی سے لکھ نہیں پاتا۔
جب کبھی بھی کوئی مشکل ہوئی تو محب ، ساجد اقبال، قدیر اور بدتمیز نے اسے آسان کردیا اس لیے میرے بلاگ کے تمام عیوب و محاسن کے ذمہ دار یہی کرم فرما ہیں۔ اپنا لینا دینا صرف عبارت سے ہے۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ اظہار کا ایک ذریعہ میسر آگیا ہے۔ نئے دوست بنے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شریانوں میں اب کچھ جمع نہیں ہو پاتا- فائدے بہت سے اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن “ اُٹھانے “ کے معاملے میں میرا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے تبھی اپنے کیریئر میں میں کافی پیچھے ہوں۔ ( ناز نخرے)

وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

@ بڑے بڑے نابغے سامنے آئے ہیں اور آتے جا رہے ہیں خاصے متنوع لکھاری لکھ رہے ہیں ہمارا نظامِ شمسی یا وسعتِ نظر صرف اردو سیارہ اور وینس تک محدود ہے جبکہ اردو بلاگرز تو القمر، اردو دنیا سمیت تمام نیٹ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اردو قارئین کا دائرہ بھی وسیع ہو رہا ہے لیکن ابھی تک اردو بلاگرز اپنی کوئی شناخت نہیں بنا سکے ہیں (یا کم ازکم مجھے علم نہیں ) بس اتفاقًا کوئی اردو سائٹ کسی نئے قاری کے ہاتھ آجاتی ہے۔
باقی میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی بلاگرز اپنے تجربات لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں وہ تمام کچھ جو لکھنا چاہیے ذمہ داری کے ساتھ وہ نہیں لکھا جارہا یا نہیں لکھ پایا جاتا۔ بہر حال یہ پورے معاشرے کی برداشت کا معاملہ ہے اور اردو بلاگرز کا خمیر بھی یہیں سے اُٹھا ہے۔

کیا آپ کے خیال میں اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟

@ زبان الگ سے کسی سنگھاسن پر نہیں بیٹھتی اسکا مقام وہی ہوتا ہے جتنی عزت اس زبان کے بولنے والوں کو دی جاتی ہے۔ جو لوگ اردو بولتے ہیں ان کا مقام ہمارے معاشرے اور پوری دنیا میں کیا ہے؟ ہم ابھی تک پاکستان کے رابطے کی زبان اردو ماننے پر تیار نہیں جبکہ یہ پورے جنوب مشرقی ایشیاء بلکہ عرب دنیا اور وسطی ایشیاء میں رابطے کا کام کر رہی ہے۔ یہ عوام کی زبان ہے اور جو مقام عوام کا ہے وہی انکی زبان کو ملا ہوا ہے۔ جس دن عوام اقتدار کے ایوانوں میں پہنچی اس دن اردو کا طوطی بھی عثمانیہ یونیورسٹی والے دنوں کی طرح بولنے لگے گا۔

آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ اپنے آپ کو پچاس سالوں کا دیکھتا ہوں۔ اردو بلاگنگ کی ترقی بالکل اسی طرح ہوگی جس طرح پاکستان میں عطائی پھلتے پھولتے ہیں۔
اور پاکستان جہاں آج ہے یا جو کچھ اس پر بیت چکا ہے اس سے تو بہت بہتر حالات ہوں گے، کیونکہ ابتری کی گنجائش نہیں ہے اور عالمگیری کلیہ بگاڑ کے مطابق بگاڑ کی بھی ایک حد ہوتی ہے پھر سُدھار شروع ہو جاتا ہے۔

بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

@ یہاں سے فرصت ملے تو بال بچوں کو بھی دیکھ لیتا ہوں۔(وہ تو یہی کہتی ہیں) سراب کے علاوہ ایک اور بلاگ بھی پالا ہے بھائی بدتمیز کے تعاون سے اسے تقریبًا روز ہی فیڈ کروانا پڑتا ہے۔

( http://www.urdutech.net/jobs )

مستقبل میں کیا کیا منصوبے ہیں؟

@ کسی مضافاتی علاقے ( مگر ہسپتال قریب ہو ) میں ریٹائر ہو کر زندگی گزاروں بس اسی لیے جان توڑ کام کر رہا ہوں۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ میرے آسرے پر نہیں رہیے گا۔

اب کچھ سوال ہٹ کر۔

کچھ اپنے خاندانی، تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟

@ ایک غریب سے خاندان سے تعلق ہے ١٩٦٥میں والد صاحب پر کوآپریٹو بینک کا قرضہ نہیں چڑھتا تو میں بھی ایک آدھ لوڈنگ ٹرک اور کھاد سیمنٹ کی ایجنسی کا مالک ہوتا اور چنگی ناکے والوں سے سر پھٹول ہو رہی ہوتی اس قرض سے جان چھڑانے کے لیے والد صاحب کراچی آئے محنت مزدوری کی ریڑھی چلائی اور ہمیں پڑھایا لکھایا اور آج اس مقام پر آ پہنچے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت اپنی پہنچ میں ہے اور اپنے آپ کو دنیا کے خوش نصیب انسانوں میں تصور کرتے ہیں۔ والدین نے پال پوس لکھا پڑھا کر ایک عدد بیوی کے حوالے کردیا جس نے اپنا گھر بنوانے کے لیے اینٹ گارا مٹی پتھر ( حقیقتًا ) خود بھی ڈھویا اور مجھ سے بھی ڈھوایا۔

اپنے بچوں کے بارے میں بھی ہمیں کچھ بتائیں۔

@ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ایک چھوٹی بیٹی ابھی کالج میں ہے باقی تینوں یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔

آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟

@ پیدائش میری خوشاب کی ہے لیکن وہاں میں کبھی بھی رہا نہیں۔ تعلیم کراچی سے حاصل کی پھر ملازمت سعودیہ اور قطر میں تھی اب اسلام آباد میں رہائش ہے۔

رضوان، آپ تقریبا ہر وقت سفر میں ہی رہتے ہیں، کچھ بتائیں کہ اب تک کہاں کہاں گئے ہیں؟

@ یہ گزشتہ تین چار سالوں سے ملازمت کی نوعیت کچھ یوں ہو گئی ہے۔ میں ایک آئل کمپنی میں ملازم ہوں اور پہلے پندرہ دن کام پندرہ دن چھٹی ( کمپنی والے چھٹی کہتے ہیں ورنہ مرد بیچارے کو کہاں کی چھٹی؟ ) ہوتی تھی اب ایک ماہ کام ایک ماہ چھٹی۔
سعودیہ میں چھ سال ملازمت کی وہاں سے بذریعہ بس ترکی، اردن اور شام کا سفر کیا بال بچوں کے ساتھ پھر بائی روڈ ہی بحرین گھومے، پھر قطر میں ملازمت رہی اور اب دو پھیرے سنگاپور کے لگائے ہیں، فروری میں کینیڈا اور بریطانیہ کا ارادہ ہے۔

آپ مزاح میں ماشااللہ بہت اچھا لکھتے ہیں، کبھی باقاعدہ کوئی تحریر لکھی، اگر نہیں لکھی تو کیا لکھنے کا کچھ سوچا ہے ؟

@ نہیں بھئی اپنی طرف سے تو میں انتہائی سنجیدگی سے لکھتا ہوں۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟
آبِ گم اور میکسم گورکی کی “ ماں“
2۔ گانا ؟
بہت سے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ پسند تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
پہلے “ ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا“ اچھا لگتا تھا اب “ مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نا مانگ“ گنگناتے ہیں۔
3۔ رنگ ؟
نیلا اور خزاں کے پتوں کا تربوزی سا رنگ (پیلا نہیں)
4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟
بغیر مرچ مصالحوں والی کوئی بھی ڈش بالخصوص “ مَندی“ ( دنبے کے گوشت اور چاول کی عربی ڈش)
5۔ موسم
سرما (کہ پرانی چوٹیں اور یادیں عود آتی ہیں)

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
کسی حد تک درست
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟
غلط
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
غلط
4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟
کسی حد تک درست
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
درست
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
درست
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟
اچھے شوہر کسی کے دوست نہیں رہتے صرف میاں رہ جاتے ہیں۔
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
کسی حد تک درست

دلچسپی:

1۔ شاعری سے؟
فیض احمد فیض اور غالب
2۔ کوئی کھیل؟
اسکواش،
3۔ کوئی خاص مشغلہ؟
آؤٹنگ، واک،

کوئی ایک منتخب کریں :

1۔ دولت، شہرت یا عزت؟
دولت صرف حسبِ ضرورت اور عزت تھوڑی سی ( تینوں کی زیادتی عزاب ہے )

2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟
خلیل جبران

3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟
پسند ہی کو ارینج ہونا چاہیے۔

4۔ مینارِ پاکستان یا ایفل ٹاور؟
جھیل سیف الملوک

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

@ کافی زیادہ ہی پوچھ لیا ہے ۔ بہت عمدہ

رضوان، آخر میں ۔۔۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر