آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > نومبر 2008 کے بلاگ

نومبر 2008 کے بلاگ

منظر نامہ کے قارئین کے لیے نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔

معاشرہ و سیاست:

عارف انجم نے اپنی ایک عمدہ تحریر ”اس کی تشنگی کا سامان کر“ میں انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس کے ایک مضمون کے بارے میں لکھا ہے، جو کہ مرد اور عورت کے بارے میں ہے۔

انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس اپنے ایک Essay میں کہتے ہیں کہ عورتیں اسی طرز پر زندگی گزارنا چاہتی ہیں جو ان کے مردوں کو پسند ہو لیکن کئی مرد خود کاٹھ کے اُلو ہوتے ہیں اور سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کیسی عورت پسند ہے، کبھی وہ طرح دار خاتون کے دیوانے ہوں گے تو کبھی سادگی پر مر مٹیں گے، اسی الجھن میں وہ بے پیندے کے لوٹے کی طرح ڈگمگاتے پھرتے ہیں۔

آپ لارنس کے مضمون پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے بعد آخر میں آپ مرد اور عورت کے رشتے اور زندگی کو درست انداز میں گزارنے کے لیے آسان حل یہ بتاتے ہیں کہ:

اپنے گھر کے لیے وہ طرز زندگی منتخب کیا جائے جس کی ساری گائیڈ لائنز اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رکھ دی ہیں اور جس کے عملی نمونے حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے فراہم کردیئے ہیں۔ یہ پیٹرن صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ خود مرد کے لیے بھی ہے۔ اس طرح وہ نت نئی خواہشات کے پیچھے بھی نہیں بھاگے گا۔

بچے گود لینے کا رجحان کہاں کہاں اور کیسا ہے، اس موضوع پر لکھا ہے میرا پاکستان نے۔ تحریر کا عنوان ہے ”بچہ گود لینا“۔ آپ لکھتے ہیں کہ

جب تک ہم پاکستان سے باہر نہیں نکلے تھے ہمیں بچہ گود لینے کی افادیت کا اندازہ نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے ہم نے صرف اپنے عزیزواقارب کو عام پاکستانیوں کی طرح اپنے بہن بھائیوں کے بچے گود لیتے دیکھا تھا مگر کسی کو یتیم بچہ گود لیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

یعنی پاکستان میں یتیم بچوں کو گود لینے سے لوگ جھجھکتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس دوسرے ممالک میں ایسانہیں ہے۔

لیکن جب ہم نے پاکستان سے باہر قدم رکھا اور گوروں کو کالے، چینی اور میکسیکن بچے گود لیتے اور انہیں اپنی خوشی سے پالتے دیکھا تو پتہ چلا کہ بچہ گود لینا خود ایک عبادت ہے۔ ویسے تو قرآن اور حدیث میں واضح ارشاد ہے کہ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو مگر ہم جس طرح کے مسلمان ہیں اس کی بھی حکم عدولی کر جاتے ہیں۔

شب نے اپنی ایک تحریر ”نیکی بھی مشکل“ میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح چوری کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں اور آج کے دور میں نیکی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

ہمارے ملک میں جسے دیکھو، حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر خود کو تمام ذمہ داریوں سے بری سمجھتا ہے۔ اسی اہم موضوع پر پاکستانی نے ایک تحریر لکھی، جس میں آپ کہہ رہے ہیں کہ ”حکمرانوں کو نہیں عوام کو جگائیں“۔

اس وقت تمام بلاگرز کے قلم موتی بکھیر رہے ہیں مجھے ان کے الفاظ سے مکمل اتفاق ہے۔ ان سے ایک شکایت بھی ہے اور وہ شکایت یہ ہے کہ آپ اکثر حمکران ٹولے کو جھنجھوڑتے نظر آتے ہیں، سارے گلے شکوے بھی اسی سے کرتے ہیں، لیکن افسوس ہمارے حکمران طبقے میں عمل کا فقدان ہے اور ان کے اندر کا انسان مر چکا ہے، یقیناََ مردے کبھی واپس نہیں آتے بلکہ وہ تو جاگنے کے لئے صرف قیامت کے منتظر ہوتے ہیں۔ آپ ان مردوں کو جگانے کے لئے اپنے قلم کی سیاہی کیوں ضائع کر رہے ہیں۔ آپ حکمرانوں کی بجائے عوام کو جھنجھوڑیں، انہیں جگائیں، کیونکہ عوام کے اندر ابھی بیدار ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ صرف ان کے لاغر جسموں میں کرنٹ دوڑانے کی ضرورت ہے۔

امید بہار۔۔۔ نام سے اگرچہ معنی یہ نکلتے ہیں کہ بہار کی امید ہے لیکن اپنی تحریر پاکستانیوں کے لیے پیغامِ نصیحت میں پاکستانیوں کو صاف صاف پیغام دیا ہے کہ

اس ملک میں ایماندار اور قابل لوگوں کے لئے ترقی کے تمام رستے ہر عہد حکومت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے بند ہیں۔ پاکستان کو صرف گندے، نااہل، اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے فوجیوں، سیاستدانوں، ججوں، افسروں اور صحافیوں کی ضرورت ہے۔

راشد کامران کا نام دنیائے اردو بلاگنگ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کے خوبصورت اور دلچسپ اندازِ بیان کے سبھی معترف ہیں۔ آپ کی حال ہی میں لکھی جانے والی تحریر ”گندا بچہ“ گو کہ سیاسی ہے لیکن بہت ہی لطیف پیرائے میں۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ

پرائمری اسکولوں میں کلاس میں کم از کم ایک بچے کے لیے گندا بچہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسکول میں‌ہونے والی ہر شرارت کا الزام اسی گندے بچے پر لگایا جاتا تھا چاہے اس بچے کا اس میں دور کا بھی ہاتھ نہ ہو۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال بالکل ایسے ہی گندے بچے کی ہے جس پر دنیا میں ہونے والی ہر دہشت گردی اور تباہی کا الزام لگا دیا جاتا ہے اور لوگ اس پر بغیر کسی چوں چراں اور تحقیق کے ایمان بھی لے آتے ہیں۔

آگے چل کر پاکستان کی سیاسی قیادت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

گندا بچہ بننے کا یہ نقصان تو اٹھانا ہی ہوتا ہے لیکن اس وقت میرا مسئلہ پاکستان میں‌قیادت کا فقدان ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے تو میں زرداری اور گیلانی کی جوڑی کو ایک پرائمری اسکول چلانے کا اہل بھی نہیں‌ سمجھتا ملک تو بڑی دور کی بات ہے اور جس طرح‌ ہمارے وزیر اعظم بیانات بدلتے ہیں اتنی جلدی تو کوئی گرمی میں‌کپڑے بھی نہیں بدلتا۔ خدانخواستہ بھارت کے سیاستدان کسی مہم جوئی پر نکل کھڑے ہوتے ہیں اور بھارتی فوج اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اجتماع منعقد کرلیتی ہے تو ہمارے صدر آپ کو نیویارک میں اور وزیر اعظم غالبا چین میں‌دستیاب ہوں‌گے۔

معلومات

مکی نے انٹرنیٹ پر آپ کی تحریر کو چوری سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی معلوماتی پوسٹ کی ہے۔۔ ”انٹرنیٹ کے چور“۔

آپ لکھتے ہیں کہ :

– مضامین کاپی کرنے سے آپ:

1- جن لوگوں کے آپ نے مضامین چرائے ہیں ان کے ساتھ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں.

2- گوگل کا اعتبار کھودیتے ہیں.

3- دوسروں پر ثابت کرتے ہیں کہ آپ بے وقوف ہیں اور آپ کا دماغ سوچنے اور کچھ ایجاد کرنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہے.

4- یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ سست ہیں اور کوئی محنت کرنے کے قابل نہیں.

– لوگ آپ کا احترام کریں گے اگر:

1- اگر آپ ان سے ان کے مضامین اپنی ویب سائٹ پر نقل کرنے کی اجازت طلب کریں.

2- مضمون کاپی کرنے کی بجائے آپ اس کا ربط اپنی ویب سائٹ پر دے دیں.

3- مباحثہ کی غرض سے مضمون کے کچھ حصے کا مصدر کے ذکر کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اقتباس کر لیں جو آپ کی سنجیدگی کی دلیل ہوگی.

جہانزیب اشرف معروف اردو بلاگر ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ورڈ پریس کے سانچے بنانے کا طریقہ بھی سکھایا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے امریکی جرگے کے حوالے سے ایک بے حد معلوماتی، تفصیلی اور اپنے ذاتی تجربے پر مبنی ایک تحریر بعنوان ”امریکی جرگہ“ لکھی ہے۔ تحریر کرتے ہیں کہ

فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی انصاف میں کلیدی حثیت ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں لیکن نا مکمل ہے۔

آگے چل کر آپ ٹرائل جیوری اور گرینڈ جیوری کے بارے میں تفصیل لکھتے ہیں جو نہ صرف معلوماتی بلکہ بے حد دلچسپ بھی ہے۔

پاک فیکٹ حال ہی میں سامنے والا ایک معیاری اور اپنی نوعیت کا منفرد ﴿شاید پہلا﴾ بلاگ ہے جس میں میڈیا پر آنے والی خبروں، کالم اور ان سے متعلقہ امور پر تنقید، تبصرے اور معیاری تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں خبریت کا فقدان کس قدر ہے اور کس طرح اشتہارات سے خانہ پری کی جاتی ہے، اس کا اندازہ پاک فیکٹ کی ایک مختصر مگر جامع تحریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ عنوان ہے: پاکستانی اخبارات میں ’خبریت‘ کا فقدان- ایک تنقیدی جائزہ۔

عادل نے تصاویر کی آن۔لائن ایڈینگ کے لیے کچھ سائٹس اپنے بلاگ کی ایک پوسٹ میں لکھی ہیں۔ عنوان ہے: اپنی تصویروں سے آن لائن کھیلنے کی کمال سائٹس۔

وارث نے اپنی ایک تحریر میں اردو بلاگرز سے درخواست کی ہے کہ تمام اردو بلاگرز بلاگ ایگریگیٹرز پر اپنا بلاگ رجسٹر کروائیں۔ تحریر میں انہوں نے مخلتف ایگریگیٹرز کا ذکر بھی کیا ہے۔

آپ بیتیاں

ماں۔۔۔ کس قدر عظیم ہستی ہے شاید ہم اس کا اندازہ ہی نہیں کرپاتے۔ ہاں، تھوڑا بہت اندازہ تب ہوتا ہے، جب یہ عظیم ہستی ہم سے بچھڑ جاتی ہے۔ اپنی ماں کے بارے میں کئی قیمتی یادیں اپنے بلاگ پر ہم سے بیان کیں شاہدہ اکرم نے۔ تحریر کا عنوان تھا ”وہ ایک دن“۔ تحریر کا آغاز افسانوی انداز میں کرتی ہیں لیکن ابتدائی پیرا میں جو درد موجود ہے، وہ بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لکھتی ہیں:

کہنے کو سب دِن ايک سے ہوتے ہيں ليکِن زِندگی ہے نا تو سب کے لیے سب دِن ايک سے نہيں ہوتے وقت جو ہميشہ سب کو اپنے رنگ دِکھاتا ہے کبھی وہی وقت کسی ايک کے لِۓ اِنتہائ خُوشی کا ہوتا ہے اور وُہی دِن کِسی کے لِۓ دُکھوں کی سوغات اور يادوں کے پٹارے ميں سے عجيب عجيب اور پياری پياری کِن مِن کرتی يادوں کی بُوندوں بھری برساتيں لے کر آتا ہے چارنومبر کا دِن جو ميرے نا چاہنے کے باوجُود ہر سال آتا ہے اور ہميشہ آتا ہی رہے گا ليکِن ناجانے کيُوں ميرادِل چاہتا ہے يہ دِن کيلينڈر سے غائب ہو جاۓ جانتی ہُوں ايسا ہو نہيں سکتا پھر بھی تمنّا کرنے ميں کيا حرج ہے؟ آج چارنومبر نہيں ہے گُزر چُکا ہے وُہ دِن کہ اُس دِن ميں چاہ کر بھی کُچھ نہيں کر پاتی۔

آگے چل کر اپنی والدہ اور ان کی انتقال پُرملال سے متعلق اپنی یادیں بیان کرتی ہیں تو نہ صرف قاری کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں بلکہ احساس ہوتا ہے جیسے لکھتے ہوئے شاہدہ صاحبہ کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔

ہمارے تعلیمی اداروں کا معیار اب کس صاحبِ نظر سے پوشیدہ ہے؟ شاکر کی تحریر ”سر جی“ بھی آجکل کے طلبا اور سکولوں کی عکاسی کر رہی ہے۔ جس میں آپ امتحانات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

یہ حقیقت ہے کہ بی اے تک ایسے ٹوٹکے چلتے ہیں۔ ایک خواب نامی مضمون میں ایکسیڈنٹ کو گھسیڑ کر دو مضمون بنا لیے جاتے ہیں۔ میں سڑک کے کنارے جارہا تھا کہ میں نے ایک بس کو آتے دیکھا۔ پھر ایکسیڈنٹ ہوا اور پھر آخر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا پتا چلا یہ تو خواب تھا۔ اب اگر خواب والا آجائےتو سارا لکھ دو ورنہ آخری حصہ نکال دو۔ خط ایک ہوتا ہے، لیکن اس کا مضمون ایسا مبہم ہوتا ہے کہ پندرہ بیس عنوانات تلے آجاتا ہے۔ شاگرد خوش ہوجاتے ہیں، استاد کو پیسے مل جاتے ہیں اور پرچے بھی پاس ہوجاتے ہیں۔

آپ بیتیاں:

آپ بیتیوں میں ہمارے سامنے جو تحاریر موجود ہیں، ان میں ایک تحریر میرا پاکستان کی ہے جس کا موضوع ہے ”قلم، دوات اور تختی“۔ اس تحریر میں انہوں نے اپنے بچپن کی یادیں بیان کی ہیں جب بال پوائنٹ کا رواج نہیں تھا اور قلم، دوات استعمال کیے جاتے تھے۔

امن کی تحریر ”یادداشت“ نہ صرف آپ بیتی ہے بلکہ ورڈ پریس کی ایک تھیم کو اردو قالب میں ڈھالنے کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کا اچھا جائزہ پیش کرتی ہے۔

افتخار اجمل صاحب کے بلاگ پر 6 نومبر 1947ء کو ہونے والے قتل عام سے متعلق تحریر کئی افسوس ناک واقعات اور انکشافات سے پردہ اٹھاتی نظر آئی۔ موضوع تھا: نام نہاد امن کے پجاریوں نے چند گھنٹوں میں ایک لاکھ مسلمان قتل کئے

شعر و ادب

وارث نے فیض احمد کی چوبیسویں برسی کے موقع پر فیض احمد فیض کی فارسی نعت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔

آپ لکھتے ہیں کہ :

فیض کے کلیات “نسخہ ھائے وفا” میں شامل آخری کتاب “غبار ایام ” کا اختتام فیض کی ایک خوبصورت فارسی نعت پر ہوتا ہے اور شاید کلیات میں یہ واحد نعت ہے۔ بہت دنوں سے ذہن میں تھا کہ اس نعت کو لکھوں اور آج فیض کی برسی کے موقعے پر اس خوبصورت نعت کر مع ترجمہ پوسٹ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

اے تو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تو
آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تو

اے کہ آپ (ص) کا ہر دکھی دل میں ٹھکانہ ہے، میں نے بھی آپ کے لیے ایک اور سرائے بنائی ہے یعنی کہ میرے دکھی دل میں بھی آپ کا گھر ہو جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شعیب نے اپنی ایک عمدہ غزل اور فلیش پوسٹ کیا۔

غزل کا پہلا شعر کچھ یوں ہے۔۔۔

میرے پیار کے جذبے پر یہ غصے کا اظہار کیوں؟

مجھ سے ملنے سے اے ہمدم کرتا ہے انکار کیوں؟

 

 

بقیہ غزل اور فلیش یہاں ملاحظہ کیجیے۔

 

دانائی کی باتیں

اجمل صاحب اپنی پوسٹ قانونِ قدرت میں پوچھ رہے ہیں کہ:

سیب یا ناشپاتی میں آٹھ دس تخم یا بِیج ہوتے ہیں اور ایک درخت پر سو سے پانچ سو تک سیب یا ناشپاتیاں لگتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنے زیادہ بیج کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں بہت کم کی ضرورت ہوتی ہے ؟

اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی تحریر میں اس کا جواب کچھ یوں دے رہے ہیں

دراصل اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی ہمیں بتاتا ہے کہ سب بیج ایک سے نہیں ہوتے ۔ کچھ اُگتے ہی نہیں ۔ کچھ پودے اُگنے کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور کچھ صحیح اُگتے ہیں اور پھل دیتے ہیں ۔ اِس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ۔۔۔مزید پڑھیے۔۔۔

اکرام نے اپنی ایک تحریر میں اقوال لکھے:

جو شخص نگاہ کی التجا نہ سمجھے اس کے سامنے زبان کو شرمندہ مت کر۔

دینا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح اور سب سے آسان کام نکتہ چینی ہے ۔

انسان خود نہیں اسکا کردار عظیم ہوتا ہے۔

خاموش انسان پہاڑ کی مانند رعب دار ہوتا ہے ۔

 

 

 

 

مزید پڑھیے۔۔۔

چلتے چلتے

آخر میں کچھ بلاگز پر نظر ڈالتے چلیں۔

نعمان علی باقاعدگی سے معروف مزاح نگار پطرس بخاری کے فن پارے پیش کرتے رہے۔

میرا پاکستان ماہ نومبر کے سب سے زیادہ فعال بلاگر رہے۔

اردو لطائف پر مسلسل اچھے اور دلچسپ اردو لطائف پڑھنے کو ملے۔

اردو ماسٹر قدرے سست رفتاری سے مگر باقاعدگی سے جاری رہا اور کئی مفید اور معلوماتی اسباق سامنے آئے۔

یہ تھے ماہ نومبر 2008ء کے منتخب بلاگز کا مختصر سا جائزہ۔ امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا۔ اگر کوئی بلاگر سمجھتا ہے کہ اس کی تحریر بھی ہمیں شامل کرنی چاہیے تھی اور نہیں کی تو وہ ہم سے شکایت کرسکتا ہے۔ :﴾ اگرچہ تمام بلاگز کی فہرست مہیا کرنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جتنے اہم اور اچھے بلاگز ہماری نظر سے گزریں، ہم انہیں اپنی تحریر میں لے آئیں۔

اجازت دیجیے اس دعا کے ساتھ کہ جہاں رہیں، خوش رہیں اور منظرنامہ کے تمام قارئین کو عید الاضحٰی بہت بہت مبارک ہو۔

2 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر