آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > دسمبر 2008 کے بلاگ

دسمبر 2008 کے بلاگ

منظر نامہ کے قارئین کو السلام علیکم،

دسمبر 2008 میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

معاشرہ و سیاست:

کراچی کے ناساز حالات کے حوالے سے اجمل صاحب نے اپنی تحریر “جل کے دل خاک ہوا” میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں

تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟

مزید پڑھیں۔۔۔

جاوید اقبال نے ایک تحریر “بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے” لکھی، جس میں وہ اپنے ساتھ پیش آنے والی روداد سنا رہے ہیں کہ آجکل لوگ کن کن طریقوں سے بھیک مانگ رہے ہیں۔

میرا پاکستان کی تین تحاریر جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کر رہی ہیں۔ پہلی پوسٹ” امن نایاب ہو گیا” جس میں آپ لکھتے ہیں کہ:

جس دور میں ہم تیس سال قبل جوان ہوئے وہ امن کا دور تھا۔ آپ کو راہ چلتے کوئی نہیں لوٹتا تھا ہاں دھوکے، فریب اور چالاکی سے آپ سے رقم ہتھیا لینی دوسری بات تھی مگر کبھی کسی نے اسلحے کے زور پر نہیں لوٹا تھا۔ اس وقت ہتھیار صرف سیاسی لیڈروں یا مقامی بدمعاشوں کے محافظوں کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے۔ آج تو دولہا بھی تب تک سہاگ رات نہیں مناتا جب تک چھت پر چڑھ کر درجن بھر فائر نہ کر لے۔

یہ سب ہوا کیسے؟ دراصل جس تیزی سے پاکستان کی آبادی بڑھی، اسی تیزی کیساتھ ہماری حکومتوں کی نیتیں بدلیں۔ پہلے حکمران آج کے یورپی ممالک کی طرح بڑے بڑے ڈاکے ڈالا کرتے تھے مگر عام پبلک کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ آج کے حکمران ذکوۃ تک ہڑپ کر چاتے ہیں۔ اس افراتفری میں حکمرانوں نے اگلی ٹرم کے انتخابات جیتنے کی فکر چھوڑ رکھی ہے۔ اب وہ موجودہ ٹرم کو ہی غنیمت سمجھ کر لوٹ مار میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ انہیں عوام کی پرواہ رہی ہے اور  نہ آخرت کا خوف۔

مزید پڑھیں۔۔۔

اس کے علاوہ  “کیسے کیسے لوگ – شرافت” اور “کہاوت اور حقیقت” میں بھی “میرا پاکستان” نے معاشرے میں موجود برائیوں اور خامیوں کا ذکر کیا ہے۔

طنزومزاح

راشد کامران نے “قصہ چہار جرنیل” میں پہلے جرنیل کی بپتا نہایت ہی دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔آغاز کچھ اس طرح سے کرتے ہیں:

اب آغاز قصے کا کرتا ہوں‌ ذرا کان دھر کر سنو۔ سیر میں‌ چہار جرنیل کی یوں‌لکھا ہے اور کہنے والے نے کہا ہے کہ مملکت خداداد کے باشندوں کا تھا یہ کمال۔ بھیجے میں بھرے بھس دھرے عقل ٹخنوں میں یوں جرنیل کو بٹھا کاندھوں‌ پر بنایا مالک کل سیاہ و سفید کا۔ اس کے وقت میں رعیت برباد، جمہوریت بیوہ۔ چور اچکے، صبح خیزیے، بے پیندے کے لوٹے یوں خوش کہ اپنا کوئی مختار کل۔ راہی مسافر کی کیا مجال جو شکر اچھالتے جاتے ہر چوک پر پوچھا جاتا منہ میں دانت کتنے ہیں‌ اور کہاں‌کو جاتے ہو۔

مزید پڑھیں۔۔۔

محب علوی نے کافی عرصے بعد بلاگ پر تحریر لکھی،  آپ نے عراقی صحافی کے صدر بش کو جوتا مارنے پر کچھ اس طرح لکھا:

بش نے کمال مہارت سے جھک کر خود کو جوتا لگنے سے بچا لیا مگر منتظر نے بھی دوسرا جوتا تیار رکھا ہوا تھا اور عرب بلاغت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے  دوسرا جوتا بش کی طرف پھینکا اور کہا

’یہ عراقی بیواؤں، یتیموں اور عراق کے تمام ہلاک شدگان کی طرف سے ہے۔‘

شومئی قسمت کہ دوسرا جوتا بھی بش کو نہیں لگا گو کہ دوسری دفعہ بش جھکا نہیں، شاید اسی دن کے لیے بش  نے بیس بال سیکھی تھی۔

مزید پڑھیں۔۔۔

بلو بلا نے ایک تحریر لکھی، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ “راولپنڈی بن گیا وینس” اب راولپنڈی وینس کیسے بنا۔ ان کی تحریر ملاحظہ کریں:

گزشتہ ادوار میں محترم شیخ رشید احمد صاحب سمیت مختلف وزراء اور سیاسی شخصیات اس بات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ راولپنڈی کو پیرس بنا دیں گے۔ کچھ نہ سمجھ میں آنے والی ناگزیر وجوہات کی بناء پر پیرس کی بجائے نگاہِ انتخاب وینس پر جا ٹکی ہے۔ شاید حکمرانوں کے نزدیک وینس پیرس کی نسبت زیادہ رومانٹک شہر ہے۔ اس لئے انہوں نے راولپنڈی شہر کو پیرس کی بجائے وینس بنا دیا ہے۔ تمام سڑکوں اور گلیوں کو کھود کر پانی کھڑا ہونے کی خصوصی گنجائش پیدا کی گئی ہے ۔

مزید پڑھیں۔۔۔۔

سارہ پاکستان نے پاکستان اور بھارت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر لکھی، ” موہن جی آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔

مگر موہن جی ہمیں آپ سے ایک شکایت ہے ،آپ نے دیکھا نا کہ ہمارے لوگ آپ کے بیانات کی وجہ سے کس قدر جوش میں‌آگئے تھے۔۔۔۔اپنے وطن کی حفاظت کے لیے پرعزم۔۔۔بس آپ کے اعلان جنگ کا انتظار تھا ہم آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتے۔۔۔۔۔مگر موہن جی آپ نے ہمیں تب کیوں نہ للکارا جب آپ کا ملک دنیا میں ایک بڑی اکناماک پاور بننے کے سفر پر نکلا تھا۔۔۔۔ایسے بیانات اور اعلان جنگ کا عندیہ آپ نے تب کیوں نہ دیا جب آپ کے ملک کی ثقافت کو ہم اپنانے جارہے تھے۔۔۔ہمارے گھر گھر میں‌آپ کی ثقا فت کا اہم جز ،رقص پہنچ گیا اور ہم اسے اپنی ہی ثقا فت کہنے پر اصرار کرنے لگے۔۔۔۔

مزید پڑھیں۔۔۔

عید بیتی:

دسمبر میں چونکہ عید بھی تھی۔ ساجد نےبلاگرز کو ٹیگ کیا، جس میں بلاگرز کو اپنے اپنے علاقے کے بارے میں بتانا تھا کہ وہاں عید کیسے منائی جاتی ہے۔

ابو شامل نے “عید نامہ” میں کافی تفصیل سے لکھا کہ کراچی میں عید کیسے منائی جاتی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:

کراچی میں عید قرباں کی تمام تر رونقیں اور چہل پہل مویشی منڈیوں کے دم سے ہے۔بڑی مویشی منڈی تو سہراب گوٹھ میں عارضی طور پر قائم ہوتی ہے جبکہ ملیر کی مویشی منڈی سال بھر موجود رہتی ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑي مویشی منڈی واقع سہراب گوٹھ کراچی کی ایک خاص بات یہاں کا ‘وی آئی پی پویلین’ ہے جہاں شاید دنیا کے مہنگے ترین جانور لائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔۔۔

اس کے علاوہ فرحت نے برطانیہ میں عید سے متعلق لکھا۔ آپ لکھتی ہیں کہ:

چونکہ عید کا دن بھی ورکنگ ڈے ہی ہوتا ہے اس لئے عید منانے کے انداز بھی مختلف ہیں۔

سکولوں میں چھٹی تو نہیں ہوتی لیکن مسلم اکثریت والے علاقوں میں کچھ مقامی سکول (عام طور پر پرائمری) مسلم طلبا کو چھٹی دے دیتے ہیں۔ لیکن سیکنڈری سکولز، کالجز یا یونیورسٹیز میں معمول کی کلاسز ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں۔۔۔

راشد کامران نے عید کے حوالے سے ایک نہایت ہی دلچسپ تحریر “قربانی کی کھالیں ہمیں دیں ۔۔۔۔ ورنہ؟“لکھی۔ جس میں آپ لکھتے ہیں کہ :

عید قرباں ویسے تو کئی حوالوں سے منفرد ہے خاص کر شہری لوگ ایک آدھ دن کے لیے جانوروں سے تھوڑا قریب ہوجاتے ہیں‌ اور تازہ گوشت کا مزہ بھی چکھ لیتے ہیں۔ عید پر سب سے بڑا مسئلہ قربانی کے جانور کی خریداری سمجھا جاتا ہے لیکن میرے لیے چرم قربانی اس سے کہیں‌ بڑا مسئلہ ہے۔ سلسلہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ آپ سارا دن کے تھکے ماندے جانور کی خریداری کے بعد گھر پہنچتے ہیں کہ اچانک گھر کے دروازے پر دستکوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے غیر منظم کارکنان آپ کی گائے پر بری نظریں ڈالتے آپ کے گھر کا طواف کرنا شروع کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔۔۔

معلوماتی تحاریر:

پاکستانی نے المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کے مسئلے پر ایک جائزہ لیا۔ جس میں آپ کہتے ہیں کہ :

١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔

مزید پڑھیں۔۔۔

صدر پاکستان  آصف علی زرداری نے فرانس کے اخبار “لی فیگارو” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا کہ

“پاکستان ایشیا کا مرد بیمار ہے، اس لیے یورپی ممالک اس کی مدد کریں”

جس پر ابو شامل نے اپنی تحریر “ایشیا کا مرد بیمار” میں لکھا کہ

یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی سربراہ نے اپنے ملک کے لیے “مردِ بیمار” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس سے قبل موصوف بھارتی طیاروں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے “تکنیکی غلطی” قرار دینے اور جماعت الدعوۃ جیسی جماعتوں پر بے محل پابندیاں لگانے کے اقدامات جیسی صریح غلطیاں کر چکے ہیں جس کی کسی سربراہ سے توقع نہیں کی جا سکتی۔

آپ نے اپنی تحریر میں “مرد بیمار” کی اصطلاح کا تاریخی پس منظر بھی پیش کیا۔  مزید پڑھیں۔۔۔۔

زین نے “میرا شہر” کوئٹہ پر ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے کوئٹہ کی تاریخ بھی بیان کی ہے۔

کوئٹہ سرحد کے قریب واقع شہر ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان سفر کرنے والے کاروان یہاں سے گزرتے ہیں ۔ یہاں مرسم موسم سرما میں برف چار سوں نور کی چادر بچھا دیتی ہےجس سے وادی پر پری کا گماں ہونے لگتا ہے اور پوری وادی سفیدی میں لپٹ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں۔۔۔

ایم بلال نے  ایک کلیدی تختہ بنایا۔ جسے آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلال نے ونڈوز ایکس پی اور ونڈوز وسٹا میں اردو کی تنصیب کا طریقہ بھی پوسٹ کیا۔ جو کہ نئے آنے والوں کے لیے نہایت ہی مفید معلومات ہو سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ بلال نے ایک کتابچہ بنایا ہے۔ جس میں انہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لئے معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ اسے پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ بھی کر سکتے ہیں۔

منظر نامہ نیوزَ:

نئے اردو بلاگ:

  1. بلو بلا: http://www.billubilla.com
  2. سارہ پاکستان: http://sarapakistan.blogspot.com/
  3. نیا بلاگ ایگریگیٹر:http://blogs.tuzk.net/

  • اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر تبصروں سے متعلق ایک مضمون روزنامہ جسارت کراچی کے سنڈے میگزین میں شائع کیا گیا۔ اشاعت 30 نومبر 2008ء۔ جس کا ذکر ابو شامل نے اپنے بلاگ پر کیا۔

9 تبصرے:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر