آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > بلاگنگ > اردو بلاگنگ کا منظرنامہ از نبیل حسن نقوی

اردو بلاگنگ کا منظرنامہ از نبیل حسن نقوی

السلام علیکم،
کچھ روز قبل منظر نامہ کی جانب سے اردو بلاگرز کو اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ نکات کے حوالے سے اظہار خیال کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ راشد کامران اور افضل صاحب پہلے ہی اس بارے میں اظہار خیال کر چکے ہیں۔ اسی دوران فیصل نے بھی ایک اردو بلاگنگ کے فروغ کے اعتبار سے ایک نہایت عمدہ تجویز موضوعاتی بلاگنگ کی پیش کی ہے۔ زیر نظر مضمون میں میں اردو بلاگنگ کے بارے میں انہی نکات کے حوالے سے چند گزارشات پیش کروں گا۔ اردو بلاگنگ یا بالعموم پاکستان اور انڈیا کے بلاگنگ سین کے حوالے سے میرے پاس کوئی مستند اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ میں اس سلسلے میں اپنے اندازے سے ہی کام چلاؤں گا۔ اگر کسی دوست کے پاس بہتر حوالہ جات موجود ہوں تو وہ حقائق کی درستگی میں میری مدد کر سکتے ہیں۔

میرے اندازے کے مطابق اردو بلاگنگ کا آغاز تقریباً چھ سال قبل ہوا تھا۔ عمیر سلام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انٹرنیٹ کا پہلا اردو بلاگ سیٹ اپ کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی سائٹ کو چھوڑ کر انٹرنیٹ پر تحریری شکل میں اردو تقریباً ناپید تھی۔ اگرچہ اس وقت بھی اردو کے حوالے سے متعدد ویب سائٹس موجود تھیں، لیکن ان سب پر تصویری یا رومن (انگریزی حروف میں لکھی گئی) اردو کا استعمال مروج تھا۔ تصویری یا رومن اردو کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور اردو سے محبت کرنے والے انہی فارمیٹس کو استعمال کرکے کسی طور انٹرنیٹ پر اردو کی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں۔ لیکن جہاں گزشتہ ایک عشرے سے یونیکوڈ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریری شکل میں عربی اور فارسی مواد پر مشتمل ہزاروں ویب سائٹس وجود میں آ گئیں تھیں، وہاں انٹرنیٹ پر اردو مواد کی کمیابی اردو دان طبقے کے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ ایسے میں اردو بلاگز کے منظر عام پر نمودار ہونے سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اس طرح کم از کم کسی طور انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی ایک راہ نکل آئے گی۔

چھ سال کا عرصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایک طویل مدت ہے اور اتنے عرصے میں کئی ٹیکنالوجیز کا استعمال متروک ہوجاتا ہے اور بے شمار نئے معیارات اور ایجادات سامنے آجاتی ہیں۔ چھ سال کے عرصے میں دنیا بھر میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کا استعمال نہایت تیزی سے بڑھا اور اس کا اثر پاکستان اور انڈیا پر بھی پڑا ہے جہاں بہت سے لوگوں نے ڈائل اپ کی جگہ ڈی ایس ایل کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کنکشنز کی بینڈ وڈتھ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ویب پر ملٹی میڈیا مواد بھی کثرت سے پیش کیا جانے لگا ہے اور یوٹیوب سمیت متعدد ویڈیو ہوسٹ منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوشل نیٹورکنگ سائٹس کی مقبولیت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ وقت گزرنے اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ سے وابستہ توقعات بھی کچھ بدل گئی ہیں۔ شروع میں کسی اردو بلاگ کا آغاز ہونا اور فعال رہنا ہی غنیمت جانا جاتا تھا، لیکن اب اردو بلاگرز سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنے بلاگ پر فکر انگیز اور معلوماتی تحاریر پیش کریں گے۔ اور گزشتہ کچھ عرصے میں اس اعتبار سے مثبت پیشرفت بھی ہوئی ہے اور کئی اچھے ادبی اور معلوماتی اردو بلاگ لکھے جانے لگے ہیں۔

اگر گزشتہ چھ سال میں بلاگنگ کے ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ جہاں انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز کی تعداد لاکھوں، بلکہ ملینز کے اعتبار سے بڑھی ہے، وہاں ابھی تک اردو بلاگز کی تعداد غالباً 100 بھی نہیں ہے۔ اس میں فعال اور غیر فعال بلاگ دونوں شامل ہیں۔ اگر صرف پاکستان کے بلاگنگ سین کا جائزہ لیا جائے تو میرے اندازے کے مطابق انگریزی بلاگ لکھنے والی پاکستانی بلاگرز کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ میری نظر میں اردو بلاگنگ کے خاطر خواہ انداز میں ترقی نہ کرنے کی پہلی بنیادی وجہ خالصتاً تکنیکی ہے۔ میں ایک مرتبہ پہلے بھی متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ جب تک کمپیوٹر پر اردو کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سا سلوک کیا جائے گا، انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج ایک خواب ہی رہے گا۔ اگرچہ کہنے کو مختلف آپریٹنگ سسٹمز میں اردو لکھنے پڑھنے کی سپورٹ موجود ہے لیکن ایک عام یوزر کے لیے آپریٹنگ سسٹم پر اردو کی سپورٹ فعال کرنا اور اس کے بعد اردو کی بورڈ انسٹال کرنا آسان مراحل ثابت نہیں ہوتے۔ ویب بیسڈ اردو ایڈیٹر اور ورڈپریس کے اردو ورژن کی دستیابی سے انٹرنیٹ پر اردو کا استعمال اور اردو میں بلاگ لکھنا قدرے آسان ضرور ہو گیا ہے لیکن حقیقی معنوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو کو فروغ اسی وقت حاصل ہوگا جب آپریٹنگ سسٹمز میں اردو کی سپورٹ آؤٹ آف دی باکس موجود ہوگی۔

انٹرنیٹ پر اردو کے پیچھے رہ جانے کی ایک اور بڑی اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگوں کو اردو کم کم ہی آتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اردو کو بطور اختیاری مضمون ہی پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے بھی انہیں اردو پر کم دسترس حاصل ہوتی ہے۔ اور انڈیا میں اردو کی حالت اس سے بھی زیادہ پتلی ہے۔

اردو بلاگز کی سست رفتار گروتھ کی ایک اور بڑی وجہ انٹرنیٹ پر اردو مواد کو شائع کرنے میں درپیش دشواری بھی رہی ہے۔ زیادہ تر اردو بلاگر بلاگسپاٹ یا ورڈپریس کے سٹائل میں تبدیلی کرکے انہیں اردو کے سانچے میں ڈھالنے کے بعد اردو بلاگ پبلش کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس طرح اردو بلاگنگ بڑی حد تک کمپیوٹر لٹریٹ طبقہ تک محدود رہی ہے۔ اسی لیے خاص ایک اردو بلاگ ہوسٹنگ سروس کی ضرورت ہمیشہ محسوس ہوتی رہی ہے جہاں اردو بلاگرز کو بنا بنایا اردو بلاگ مل جائے اور جہاں وہ بغیر کسی دقت کے اردو لکھ سکیں اور شائع کر سکیں۔ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ اردو بلاگ ہوسٹ سامنے بھی آئے ہیں لیکن شاید ان سائٹس کے منتظمین اس قسم کی سروس کے لیے درکار ریسورسز کا درست طور پر ادراک نہیں کر سکے اور اب تک جتنے بھی اردو بلاگ ہوسٹ سامنے آئے ہیں، ان سب میں کم از کم ایک مرتبہ تمام بلاگز کا ڈیٹا کرپٹ یا ضائع ہو چکا ہے۔ اس قسم کی صورتحال بھی اردو بلاگرز کے لیے نہایت حوصلہ شکن ثابت ہوتی رہی ہے۔ اس لیے میری نظر میں اردو بلاگنگ کو فروغ دینے اور اس کی کریڈیبلیٹی بحال کرنے کے لیے ایک پائیدار اردو بلاگ ہوسٹنگ سروس بہت ضروری ہے۔ موجودہ اردو بلاگ ہوسٹنگ سائٹس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا بہتر ادراک کریں۔

اردو بلاگز کے فیڈ ایگریگیٹر

زکریا نے پہلی مرتبہ اردو سیارہ کے نام سے اردو بلاگز کا ایک فیڈ ایگریگیٹر سیٹ اپ کیا تھا۔ اردو سیارہ کی بدولت تمام اردو بلاگرز کی تحاریر کو ایک جگہ پر پڑھنا ممکن ہو گیا۔ اردو سیارہ نے اردو بلاگنگ کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعد میں اردو ٹیک وینس اور چند دوسرے فیڈ ایگریگیٹر بھی بنائے گئے۔ عام طور پر اس طرح کے فیڈ ایگریگیٹرز میں بلاگ پوسٹس کی ایک یا دو سطریں نظر آتی ہیں اور باقی پوسٹ پڑھنے کے لیے متعلقہ بلاگ پر ہی جانا پڑتا ہے۔ لیکن چونکہ اردو بلاگز کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے، اس لیے اردو بلاگز کے فیڈ ایگریگیٹر قدرے بڑا اقتباس یا پھر پوری پوسٹ شامل کرتے رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ سامنے آیا ہے کہ اردو سیارہ اور اس طرح کی دوسری سائٹس فیڈ ایگریگیٹر سے زیادہ ایک فورم کی شکل اختیار کر گئی ہیں، یا کم از کم اردو بلاگرز انہیں اسی انداز میں دیکھتے ہیں۔ منظرنامہ کی ایک پوسٹ پر ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے اسی بات کی نشاندہی کروائی تھی کہ اردو بلاگر قارئین سے زیادہ اب ایک دوسرے کے لیے لکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات قابل غور ہے۔ حال ہی میں اردو سیارہ میں ایک بلاگ کی شمولیت کے حوالے سے کچھ شکایات سامنے آئی تھیں، وہ بھی غالباً اسی وجہ سے تھیں کہ شاید اردو بلاگر اردو سیارہ اور اردو ٹیک وینس کو محض فیڈ ایگریگیٹر کی بجائے ایک فورم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اردو بلاگنگ کے فروغ کے لیے تجاویز

میں یہاں اردو بلاگنگ کو فروغ دینے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں چند تجاویز بھی پیش کروں گا۔ اس سلسلے میں میری پہلی تجویز یہ ہے کہ لوگوں کو اردو بلاگنگ کی طرف لانے کی فعال کوشش کی جائے۔ اس کی مثال اردو ٹیک پر محب علوی کا لوگوں کو اردو بلاگنگ کی طرف لانا ہے جس کے نتیجے میں کئی بہترین اردو بلاگ وجود میں آئے ہیں۔ میرے خیال میں انہی لائنز پر چلتے ہوئے مشہور پاکستانی بلاگرز، جو کہ انگریزی میں بلاگ لکھتے ہیں، کو اردو بلاگ لکھنے کی دعوت دی جانی چاہیے۔ مغربی میڈیا کے اکثر کالم نویس اور تجزیہ نگاروں کی اپنی ویب سائٹس اور بلاگ موجود ہیں جبکہ اردو میں اس طرح کی کوئی ویب سائٹس یا بلاگ دیکھنے کو نہیں ملتے۔ میرے خیال میں اگر مشہور کالم نویسوں کو اردو بلاگ لکھنے پر آمادہ کیا جائے تو اس سے بھی اردو بلاگنگ کی مقبولیت اور کریڈیبیلیٹی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں میری مشہور کالم نگار اوریا مقبول جان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں نے انہیں اردو بلاگ لکھنے کا کہا تھا اور انہوں نے اس میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔ میرے خیال میں کچھ کالم نویس خواتین و حضرات کو محض بلاگ ہی نہیں بلکہ علیحدہ ڈومین اور ویب سپیس آفر کی جانی چاہیے۔ اگر شروع میں کچھ اردو کالم نویس حضرات نے بھی بلاگ لکھنا شروع کر دیا تو اس سے باقی صحافیوں کو بھی تحریک ملے گی۔ اردو بلاگ ہوسٹنگ سائٹس کے منتظمین کو اس جانب بھی توجہ کرنی چاہیے۔

موضوعاتی بلاگ

آخر میں میں موضوعاتی بلاگ لکھنے کی تجویز کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ یہ تجویز فیصل نے پیش کی تھی اور میری دانست میں یہ ایک نہایت عمدہ تجویز ہے، اگرچہ اس بارے میں کچھ غلط فہمی بھی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ موضوعاتی بلاگنگ کی تجویز کا مقصد اردو بلاگنگ کو کسی ضابطے کے تحت لانا نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک تجویز ہے کہ ایسے اردو بلاگ سیٹ اپ کیے جائیں جہاں کسی ایک خاص موضوع پر معلوماتی تحاریر شائع کی جائیں، اور بہتر یہ ہوگا اگر کسی ایک موضوع میں دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات ایک ہی بلاگ پر اپنی تحاریر شائع کریں۔ اس طرح اردو بلاگنگ کا ایک بہت تعمیری استعمال سامنے آئے گا۔ اردو میں موضوعاتی بلاگ پہلے سے موجود ہیں۔ اردو ویب بلاگ اس کی سب سے پرانی مثال ہے جہاں اردو کمپیوٹنگ سے متعلقہ موضوعات پر مبنی تحاریر پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ منظرنامہ اور اردو ماسٹر بھی موضوعاتی بلاگ ہیں۔ ایسے بے شمار موضوعات ہیں جن پر بلاگ لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں حالات حاضرہ سے لے کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات شامل ہیں۔ میرے ذہن میں اردو ٹائپوگرافی کے حوالے سے ایک بلاگ کا آئیڈیا بھی موجود تھا جہاں اردو فونٹ سازی کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ٹائپوگرافی کے ماہرین کو اس موضوع پر ایک بلاگ ضرور سیٹ اپ کرنا چاہیے۔

اس مضمون میں میں نے انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ میں اردو بلاگنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور اردو بلاگنگ کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ دوستوں کو یہ تجاویز پسند آئیں گی اور اس سلسلے میں میں آپ کی جانب سے بھی تجاویز کا منتظر رہوں گا۔
خیر اندیش
نبیل حسن نقوی

21 تبصرے:

  1. ایک اچھا مضمون! بہترین انداز میں اردو بلاگنگ کے ارتقاء پر روشنی ڈالی اور اچھی تجاویر پیش کیں!
    موضوعاتی بلاگ بنانے کی ابھی شرط نہ رکھی جائے – یہ ابھی ضروری نہیں!
    باقی میری نعمان سے بات ہوئی تھی پچھلے دنوں کہ اگر ایک اچھی کوشش کی جائے تو بلا گ اسپاٹ ایک اچھا پلیٹ فارم بن سکتا ہے اردو بلاگرز کے لئے کوشش کرنے پر!

  2. بہت اچھی تحریر ہے
    صحافی حضرات کو بلاگنگ کی طرف راغب کرنے والی تجویز عمدہ ہے اگر اس پر عمل ہو سکے تو کافی فائدہ ہو سکتا ہے اردو بلاگنگ کو۔ موضوعاتی بلاگنگ میری دانست میں قبل از وقت مطالبہ ہے۔ اردو بلاگرز کی گنی چنی تعداد سے یہ توقع نہیں‌کرنی چاہئے۔
    ایک بار پھر کہوں‌گا کہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے

  3. شعیب صفدر اور ڈفر: پسندیدگی کا شکریہ۔ میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ موضوعاتی بلاگنگ محض ایک تجویز ہے نا کہ کوئی شرط یا مطالبہ۔ اور جیسا کہ بالا کی تحریر میں پیش کی گئی مثالوں سے ثابت ہوتا ہے، یہ کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے۔

  4. نہایت عمدہ اور جامع مضمون ہے۔ آپ کی زیادہ تر تجاویز نہ صرف یہ کہ قابل عمل ہیں بلکہ فوری طور پر ان پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اردو کالم نگاروں کے حوالے سے البتہ میرے کافی تحفظات ہیں کیونکہ بارہا کوشش کرنے کے باوجود کہیں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ پھر بلاگنگ میں کی جانے والی فوری تنقید، تائید اور تصیحح‌ میرا نہیں‌خیال کے اردو کے بیشتر کالم نگاروں‌ کے مزاج سے میل کھاتی ہے۔

  5. شکریہ راشد۔
    آپ کی بات درست ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ کالم نویس خواتین و حضرات بلاگنگ کے پوٹینشل کا ادراک کر پائیں۔ محفل فورم پر تو کچھ صحافی اپنے کالم بھی پوسٹ کرتے ہیں۔ میں اس سال پاکستان گیا تو اس سلسلے میں کچھ کرنے کی کوشش کروں گا۔

  6. بہت ہی عمدہ مضمون ہے۔ میں یہاں ایک اور چیز کی طرف آپ لوگوں کی توجہ دلانا چاہوں گا۔ کچھ عرصہ قبل اردو ویب نے ایک سوفٹویر اردو پریس کے نام سے جاری کیا تھا۔ افسوس کہ اس کے بعد سے اس کی کوئی خبر نہیں کہ اس کے نئے ورژن کب آرہے ہیں آئندہ کے لئے اس کے کیا منصوبہ جات ہیں۔ وغیرہ۔

  7. نعمان: مضمون پسند کرنے کا شکریہ۔ دراصل میں کئی پراجیکٹس پر کام کر رہا ہوں، اس لیے اردو پریس کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ بہرحال میں اردو پریس 2.7 کی تیاری پر کچھ عرصے سے کام کر رہا ہوں۔ یہ شاید کافی پہلے تیار ہو جاتا، لیکن میں اس میں کچھ اضافی فیچرز شامل کرنا ‪ چاہتا ہوںجیسے کہ بائی لنگوئل تھیم وغیرہ۔ اسی لیے کچھ دیر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ابھی ورڈپریس کا اردو ترجمہ بھی اپڈیٹ نہیں ہوا ہے۔ اگر کچھ دوست اس کام میں میرا ساتھ دیں تو اسے جلد مکمل کیا جا سکتا ہے۔ تم اس ڈیویلپمنٹ کو محفل فورم پر ٹریک کر سکتے ہو۔

  8. چلیں جناب ایسا کرتے ہیں شروعات ہم لوگ ہی کر لیتے ہیں۔ میں فوری طور پر تمام مادی چیزوں‌۔ ویب سائٹ رجسٹریشن، ہوسٹنگ اور بیک اپ وغیرہ کی ذمہ داری طویل مدت کے لیے قبول کرنے کو تیار ہوں اور ساتھ ساتھ لکھنے کے لیے بھی۔ سب سے اہم چیز لکھنے والے ہیں اس لیے پہلے یہ طے ہوجائے کہ کون کون ہفتے میں‌کم از کم دو مضامین لکھ سکتا ہے تو فوری شروعات ہوسکتی ہیں اور آہستہ آہستہ باہمی مشورے سے اس کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے اور ایسے لوگ جو اردو پیپر پر لکھنے کو ترجیح‌دیتے ہیں‌ان کے مضامین بھی ہم خود ٹائپ کر کے شائع کرسکتے ہیں۔

  9. شعیب نے اوپر میری ایک اور تجویز کا بھی ذکر کیا ہے کہ ہم بلاگر کے پلیٹ فارم کو نظر انداز کررہے ہیں۔ اگر ہم بلاگر پر بھی کام کریں تو اردو کے لئے ریلائیبل ویب ہوسٹ موجود ہے۔

    موضوعاتی بلاگنگ ۔ اگر ٹیکنالوجی وغیرہ پر لکھنا ہے تو میں ہفتے میں ایک مضمون لکھ سکتا ہوں۔

    اردو پریس کی آخٌری ترجمے کی پرانی فائل بھیج دیں تو میں اسے اپڈیٹ کرسکتا ہوں۔

  10. نعمان، مجھے ورڈپریس کے ترجمے کو اپڈیٹ کرنے میں جلد تمہاری مدد کی ضرورت پڑے گی۔ میں نے محفل فورم پر تمہاری تجاویز پڑی ہیں اور میرا بھی یہی خیال ہے کہ ورڈپریس کا سادہ اردو پیکج ہی تیار کر لینا چاہیے۔

    جہاں تک موضوعاتی بلاگ کا تعلق ہے تو میں بھی آئی ٹی کے موضوعات پر لکھنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر کوئی ٹیوٹوریل بلاگ شروع کیا جائے تو میں اس کام میں شریک ہو سکتا ہوں۔ ویسے تو اس مقصد کے لیے اردو ماسٹر پہلے سے موجود ہے۔ اس پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔

  11. میرے خیال میں ابھی موضوعاتی بلاگ پر کام نہ کیا جائے۔ بلکہ جو پہلے سے موجود ہیں انہی پر اپنی تحاریر شائع کریں۔ یہ ابھی زیادہ بہتر رہے گا۔
    نبیل آپ جو ورڈ پریس کے اردو ترجمہ پر کام کررہے ہیں وہ مکمل ہو جائے تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ بلاگنگ کے حوالے سے کیونکہ اس سے پہلےجو ورڈ پریس کا ترجمہ ہوا تھا وہ کافی پرانا ہو گیا ہے۔ ابھی ایک نئی ورڈپریس اردو ترجمہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔

  12. مین سوچ رہا ہوں کہ اپنے بلاگ پر ایسا ربط فراہم کر دوں جہاں پر تمام کے تمام اردو بلاگرز کی فہرست موجود ہو۔ انشاء اللہ مجھے موقع مل گیا تو میں ضرور کروں گا۔ جہاں پر چھوٹے سے چھوٹا اردو بلاگر موجود ہو گا۔

  13. برادرم نبیل آپکی تحریر بہت فکر انگیز ہے، اردو بلاگنگ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ابھی طفولیت میں ہے اور یقیناً آپ نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے، ابھی تک اردو کے متعلق بے شمار کمپیوٹر صارفین کی معلومات صرف ‘ان پیج’ تک ہیں، اور اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں‌کہ اکثریت کو یہ بھی علم نہیں کہ کمپیوٹر پر ان پیج کے بغیر بھی اردو لکھی جا سکتی ہے! اولین ذمہ داری تو یہی بنتی ہے کہ احباب کم از کم اپنے اردو گرد اور ملنے جلنے والوں‌کو کمپیوٹر پر اردو کے استعمال کے متعلق بتائیں اور انہیں اس طرف راغب کریں۔ شمع سے شمع جلانے کا عمل ہے، انشاءاللہ اردو ضرور ترقی کرے گی!

  14. بہت عمدہ مقالہ ہے۔
    میں اس ضمن میں ذاتی طور پر کوشش کر رہا ہوں۔ انڈیا میں اردو میں لکھنے والوں کی تعداد بےشک کم ہوتی جا رہی ہے پھر بھی اردو رسائل و اخبارات کی کافی سے زیادہ تعداد اطمینان کا باعث ہے۔ میری کوشش ہے کہ منتخب اخبارات / مضمون نگاران / تجزیہ نگار کی تحریروں کا خلاصہ مختلف موضوعات کے تحت پیش کیا کروں۔ اس سے یہ بھی واضح ‌ہو سکتا ہے کہ سرحد کےاس پار لکھنے والوں کے کیا رویے اور کیا ترجیحات ہیں؟

  15. بہت اچھا مضمون ہے۔

    اردو کالم نگاروں اور صحافیوں کو اردو بلاگنگ کی جانب راغب کرنا بہترین تجویز ہے۔

    بی بی سی اردو بلاگ پر وسعت اللہ خان، حسن مجتبٰی، محمد حنیف وغیرہ بلاگنگ کررہے ہیں اور بہت اچھا کررہے ہیں۔

    مجھچے کوئی وجہ نظر نہیں آرہی کہ پاکستان کے مشہور کالم نگار اور صحافی بلاگ لکھنے میں دلچسپی نہ لیں، بلکہ یہ انتہائی حیرت کی بات ہے طلعت حسین، حامد میر، پی جے میر، افتخار احمد، ڈاکٹر شاہد مسعود وغیرہ جیسے نئے زمانے کے اینکر اور ارشاد احمد حقانی جیسے مشہورعوامی کالم نگار بلاگنگ کی طرف ابھی تاک نہیں آئے۔

  16. موضوعاتی بلاگ یقینا اردو بلاگنگ کی ترویج کا باعث بنیں گے۔ اردو بلاگ عام طور پر ذاتی بلاگون کے زمرے میں ہی آتے ہیں کیونکہ وہ ہم لوگوں‌کی ذاتی آرا و خیالات تک ہی محدود ہیں’ جو قطعا ایک بری بات نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت یے کہ اردو بلاگنگ دنیا میں معلومات کا فقدان ہے۔
    میرا اپنے بلاگ پر ڈیفنس اور ملڑی کے متعلق ایک زمرہ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔اگرچہ میری دلچسپی زیادہ پاک فضائیہ میں ہے اس لیے شروع مٰین کوشش کروں گا کہ ُپاک فضائیہ سے متعلق نیٹ پر جو مواد انگریزی میں پڑا ہے اسے اردو میں ترجمہ کروں اور شائع کروں ۔ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی عسکری قوت کے بارے میں بہت سے اچھے اور معیاری ویب سائیٹس اور فورم ہین مگر ان میں انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے اور اکثر لوگ خالصتا انگریزی عسکری اصطلاحات کو سمجھنے مین ناکام رہتے ہین اس لیے پاکستان کے عسکری حالات سے لاعلم رہتے ہیں ۔ میں قطعاٰ کوئی ماہر نہیں ہوں مگر اپنی سی کوشش کرون گا۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر