آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > جنوری 2009 کے بلاگ

جنوری 2009 کے بلاگ

منظرنامہ کے میزبان عمار اور ماوراء ماہِ جنوری ۲۰۰۹ء کے منتخب بلاگز کے ساتھ حاضر ہیں۔ اگرچہ ماہ فروری کا وسط گزر چکا ہے لیکن کچھ ہماری مصروفیات ایسی بڑھ جاتی ہیں کہ اکثر کاموں کا وقت آگے پیچھے ہو ہی جاتا ہے۔ پھر ماشاء اللہ ہمارے بلاگرز اچانک ہی اتنے فعال ہوجاتے ہیں کہ ہمارے سامنے تحاریر کے انبار لگ جاتے ہیں اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کس تحریر کو منتخب کریں، کس کو چھوڑیں۔

بہرحال، اگر ہم اب باتوں میں لگ گئے تو ہماری باتیں ہی بڑھتی چلی جانی ہیں اس لیے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

سیاست و معاشرہ:

سارہ پاکستان کو اردو بلاگنگ کی دنیا میں آئے ہوئے گرچہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن آپ نے اپنی تحاریر کے خاص انداز اور موضوعات میں انفرادیت کے حوالے سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے۔ جنوری میں ان کی تحریر ’’گناہ کا لطف‘‘ پڑھنے کے لائق ہے جس میں سارہ نے ہمارے معاشرے کی طرزِ فکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو گناہ کے نت نئے جواز تراشتی ہے۔ آپ لکھتی ہیں:

’’دو غلط فہمیاں‌ نہ جانے ہمیں‌کہاں سے کہاں‌لے جائیں ۔۔۔منزل کے بہت قریب ہو تے ہوئے بھی ہم کہیں‌بہت دور ہی نہ ہوجائیں ۔۔۔پہلی خوش فہمی جس میں‌ہم میں‌سے ایک واضح اکثریت مبتلا ہے کہ ہم وہ امت ہیں کہ ہماری بخشش ہو چکی ہم اپنے کردہ گناہوں کے لیے بہت تھوڑے عرصے کےلیے دوزخ میں جائیں‌گے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت ہمارا نصیب ٹھہرے گی۔۔۔۔افسوس ہمارا دھیان کبھی اس امت کی طرف نہیں‌گیا جو ہم سے پہلے ایسے ہی دعوے کی مرتکب ہوئی اور قرآن میں ان سے بیزاری اور عذاب کی وعید کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘

پورا مضمون ہی پڑھنے کے لائق ہے اور آخری پیرا گویا حاصل مضمون:

’’گناہ کو گناہ سمجھ کر کیجیے۔۔۔ اس کے بارے دلائل اکھٹے کرنے کی کوشش کی بجائے ۔۔۔۔۔۔یہ طرز فکر آپ کو ایک نہ ایک دن گناہ سے بیزاری پر ضرور مائل کر دے گا۔۔۔۔۔‘‘

میرا پاکستان اردو بلاگرز میں سب سے زیادہ فعال ترین بلاگر ہیں۔ ہمارے سامنے ان کی دو تحاریر ’رامی حرامی‘ اور ’جسمانی مشقت‘ ہیں۔ موخر الذکر سے ایک اقتباس:

’’ہم اپنے دو جوان بیٹوں کیساتھ پرانے گھر کے قالین اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی کام کرتے آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ چھوٹا بیٹا بولا ’’ڈیڈ لگتا ہےمیں اس کام کیلیے پیدا نہیں ہوا‘‘۔ ہم نے کہا اگر یہ سچ ہے تو پھر ہماری طرح خوب پڑھو اور جسمانی مشقت سے جان چھڑا لو۔ بیٹا کہنے لگا پڑھ تو میں رہا ہوں اور پڑھ بھی جاؤں گا مگر یہ کام میرے سے نہیں ہوتا۔ جیسے تیسے ہم تینوں نے تین گھنٹے میں وہ کام ختم کیا اور گھر لوٹ آئے۔‘‘

اس واقعہ میں پوشیدہ سبق کا اندازہ اس مختصر سی تحریر کو مکمل پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے اور بلاشبہ اس تحریر میں زندگی کا ایک اہم اصول موجود ہے۔

بلوبلا بھی اردو بلاگنگ کے نئے نئے راہی ہیں۔۔ کبھی کچھ ہلکی پھلکی تحاریر لکھتے ہیں اور کبھی گہرائی رکھتی، غور و فکر کی دعوت دیتی۔۔ مثال کے طور پر ’بندہ مزدور کو بھی کبھی چھٹیاں ملتی ہیں؟‘ کے عنوان سے اپنی تحریر میں اپنے ہم وطنوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’پچھلے سال 14 اگست کو ہم آؤٹنگ کے لئے نکلے تو دیکھا کہ بے تحاشہ لوگ گاڑیوں موٹر سائکلوں پر سڑکوں پر آ جا رہے تھے اور حسبِ توفیق موج مستی کررہے تھے لیکن سڑک کنارے بچھائی جانے والی پائپ لائن کی کھدائی جاری تھی اور مزدور اپنے ارد گرد کے ماحول سے بظاہر بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھے۔ 14اگست تو ہمارا قومی دن ہے جس پر زندگی کے ہر شعبے میں چھٹی ہوتی ہے مگر مزدور اگر دیہاڑی نہیں لگائیں گے تو رات کو کھانا کیسے کھائیں گے سو وہ دیہاڑیاں لگاتے لگاتے زندگی تمام کر دیتے ہیں اور ہم جیسے بے حس لوگ اُن کے قریب سےان پر ایک نظر ڈالتے ہوئے گزرجاتے ہیں اور بعد میں دوسروں پر اپنی زبان دانی کا رعب جھاڑنے کے لئے ان کا ذکر انتہائی ہمدردی سے کرتے ہیں۔‘‘

خاور کھوکھر کو تو سبھی اردو بلاگرز ہی جانتے ہوں گے۔ بات ان کے اندازِ تحریر کی ہو یا اندازِ گفتگو کی، دونوں ہی منفرد ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’عزت دے کر آزمائش‘ میں لکھتے ہیں:

’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اپ نے کسی کو اس کی اصلیت میں دیکھنا ہے تو اس کو بے جا عزت دے کر دیکھو اگر تو اس بندے کی اصلیت اچھی ہو گی تو وه آپ کا مشکور ہو گا اور آپ کی بھی عزت کرے گا۔ لیکن کم ظرف بندہ تھوڑے ہی دنوں میں آپ کی شائستگی کو آپ کی کمزوری سمجھ کر سوار ہونے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔‘‘

معلوماتی تحاریر:

حیدرآبادی (دکنی) کے نام سے معروف بلاگر نے ایک نئی اور حیرت انگیز خبر دی ہے، عنوان ہے ’’ہندوستان کے دل میں پاکستان‘‘۔ لکھتے ہیں:

ویسے تو ہندوستان کے بعض مخصوص متعصب سیاسی ذہن جب کبھی کسی ہندوستانی مسلم اکثریتی علاقہ پر غصہ اتارتے ہیں تو اسے ایک “چھوٹا پاکستان” کا لقب دے ڈالتے ہیں۔

لیکن ۔۔۔۔۔

ہندوستانی ریاست بہار میں ایک ایسا گاؤں آج بھی پایا جاتا ہے جس کا نام ہی “پاکستان” ہے اور جہاں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے!

شعیب سعید شوبی اردو کمیونٹی میں فلیش اینی میشن پر مشتمل اپنے کام سے جانے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں بچوں کے لیے دو اینی میٹڈ نظمیں عذرا کی گڑیا اور چوہے کا بچہبچوں کے لیے دو مفید ویب سائٹس‘‘۔ پیش بھی کرچکے ہیں۔ اپنے بلاگ پر انہوں نے بچوں کے لیے دو دلچسپ سائٹس کا پتا بتایا ہے۔ دیکھیے، ’’

محمد علی مکی نے ’’مستقبل بین‘‘ کے عنوان سے ایک بے حد طویل لیکن بہت ہی معلوماتی، دلچسپ اور مفید پوسٹ لکھی ہے۔ یہ تحریر ہے نوسٹر ڈومس کے بارے میں جس نے مستقبل کی کئی پیشین گوئیاں بڑے واضح انداز میں بیان کردی تھیں۔ مثلا

بھوک کے ڈسے جانور دریا پار کرجائیں گے

میدانِ جنگ کا زیادہ تر حصہ ہسلر کے خلاف ہوگا

قائد کو لوہے کے پنجرے میں گھسیٹا جائے گا

جب جرمنی کا بیٹا ہر قانون نظر انداز کردے گا

اور جوبلز اپنے بستر پر سے اچھل پڑا.. وہ رباعی کے الفاظ کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا.. اگرچہ رباعی نے ’ہٹلر‘ نام کو ’ہسلر‘ لکھا تھا مگر یہ کچھ زیادہ ہی واضح تھا.. یقیناً اس سے ہٹلر ہی مقصود تھا..

تاہم یہ تحریر آپ تبھی پڑھنے بیٹھیں جب آپ کے پاس کچھ وقت ہو تاکہ ایک ہی نشست میں اس دلچسپ تحریر سے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اس کے علاوہ ایک اور طویل مگر بے حد معلوماتی تحریر بھی مکی کے بلاگ کی زینت بنی ہے جو مشہور خیالی کردار ’’ٹارزن‘‘ کے بارے میں ہے۔

فرحت کیانی نے پچھلے دنوں ورڈ پریس کے کافی خوبصورت سانچوں کو اردو میں بہت خوب ڈھالا ہے، ساتھ ہی بلاگ پر باقاعدگی سے اچھی اچھی پوسٹس لکھتی رہی ہیں۔ اپنی ایک تحریر ’’یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘ میں برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرنے والے ان پاکستانیوں کا ذکر کرتی ہیں جنہوں نے اپنی پہچان بنائی۔

اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔ یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔

ماضی میں پاکستان آفیسرز اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔

آگے چل کر ان چند ناموں کا ذکر کیا ہے جو اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے خاص مقام تک پہنچے۔

بلوبلا کی مزاحیہ تحاریر کا ذکر اوپر بھی کیا ہے۔ اس کا ایک ثبوت ان کی تحریر ’’ہماری زبان اور ہمارا کلچر‘‘ ہے جس میں وہ ہمارے معاشرے کا رونا ہنستے مسکراتے ہوئے روتے ہیں کہ کس طرح ہمارے ہاں کی عورتیں ہندو ڈراموں کے سحر میں گرفتار ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں:

اندر موجود فیملی میں سے ایک بچے نے پوچھا۔”ماما! حسین ہندو ہے نا؟”

ماما نے جواب دیا۔”نو بیٹا! ہی از مسلم۔” یہ کہہ کر دوسری خاتون کو کہنے لگیں۔ “ایک تو یہ حسین بھی نا بڈھا ہی نہیں ہو رہا۔” دوسری نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پوچھا۔”آٹھواں وچن دیکھا تھا؟”

پہلی انتہائی کرب آمیز لہجے میں بولی۔”کہاں دیکھ سکی۔ لائٹ نہیں تھی۔” اور یہ کہہ کر ڈرامے کی سٹوری پوچھنے لگی۔ اب جناب دوسری خاتون نے سٹوری سنانی شروع کر دی۔

یہ ہمارے موصوف بدتمیز کو نہ جانے کیا ہوا، کون سا کلاسیکی ادب پڑھ کر بیٹھے تھے کہ ایک تحریر مختلف طرزِ نگارش کے ساتھ ’’نہ صاحب بری بات‘‘ کے عنوان سے لکھ ڈالی۔۔۔ انداز ملاحظہ ہو:

تو صاحبو انسان کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور بہتر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایک معاشرہ “نرگس” کا شکار ہو جائے تو پھر وہ ہمیشہ اپنے سے کمتر کو دیکھ کر “صبر شکر” سے نسلوں کی نسلوں میں وہی سستی بھر دیتا ہے جس کا آجکل ہم شکار ہیں۔

نہیں صاحب یہ ممکن ہی نہیں کہ بچہ خوشی خوشی سکول جائے۔ اس کو بہلا پھسلا کر ہی سکول لے جایا جاتا ہے۔ چاہے لاکھ دادا دادی نانا نانی چچی تائی کہیں ہم بچے کو زبردستی سکول بھیج کر ہی چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام رشتہ بصداحترام ہیں پر ہم ان کی چنداں نہیں سنتے۔

جہانزیب نے اپنی ایک تحریر ” ورچوئل زندگی ”میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کا ذکر کیا ہے تو وہاں ایک فکر انگیز بات کی طرف بھی اشار ہ کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ:

اسی طرح اب دوستی کرنے کے بھی کمپیوٹری ذرائع بن چکے ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس جیسے آرکٹ، فیس بک اور مائی سپیس مقبولیت میں پہلے درجہ میں آتی ہیں ۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ذہنی طور پر ہم جتنا ان سوشل نیٹ ورکس کے مطیع ہوتے جا رہے ہیں، عملی طور پر لوگوں سے اتنا ہی دور ہوتے جا رہے ہیں ۔

. راشد کامران نے بھی اپنی ایک تحریر” ورچوئل زندگی ۔۔ حصہ اول ” میں نہایت ہی بہترین انداز میں جدید طرز زندگی یا جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

جدید دور کے انسان کی زندگی میں‌ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جتنی تبدیلیاں مرتب کی ہیں شاید ہی کسی تبدیلی یا انقلاب نے اتنی خاموشی سے ہمارے سوچنے‌ سمجھنے، رہنے سہنے، کھانے پینے اور معاملات کرنے کے اطوار پر اتنا اثر ڈالا ہے۔  ان ہی ایجادات کا کمال ہے کہ جس انسان نے بیسویں صدی کا آغاز گھوڑے کی پیٹھ پر کیا وہ صدی کے آخر تک اپنی دنیا سے دور دوسرے سیاروں پر کمندیں‌ ڈال رہا تھا۔

اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:

· لوکل ویب سرور کیسے بنایا جائے، درویش کے بلاگ پر آپ کو اس سے متعلق سیکھنے کو ملے گا۔”لوکل ویب سرور بنائیے

· شکاری نے اپنے بلاگ پر ورڈپریس کی انسٹالیشن سے متعلقہ پوسٹس لکھیں، جو کہ نہایت معلوماتی ہیں، اور آپ کو ان سے مدد مل سکتی ہیں۔

· بلال نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لیے معلومات کا ایک کتابچہ بنایا ہے۔ جو آپ پی ڈی ایف فائل میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

· آپ اپنے بلاگ پر فانٹ سٹائل سوئچر لگانا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ اردو ماسٹر پر بتایا گیا ہے۔

منظر نامہ نیوز:

· ورڈ پریس بلاگز کے لیے نبیل نے نئے اردو ایڈیٹر ریلیزکیا۔ آپ اسے اردو ویب کے بلاگ سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

· فرحان نے اپنا نیا بلاگ بنایا۔ نئے بلاگ کا لنک: http://farhan.ueuo.com/

· نعمان علی پطرس کے مضامین کے بعد اپنی شاعری کی کتاب ”دستکمہم برائے ایک بلاگر –ایک کتاب کے لیے برقیا رہے ہیں۔

· ابو شامل نے سید سعادت اللہ حسینی کا مقالہ “مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام” کو ای بک میں پیش کیا۔

· شعیب خالق بلوچ نے مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب میں حصہ لیتے ہوئے جاوید اختر کی ”ترکش” کو برقیا یا۔

9 تبصرے:

  1. آپ سب کا شکریہ۔ اور ہمیں اس بار ہی اندازہ ہوا ہے کہ یہ واقعی بہت مشکل کام ہے۔ لیکن ہو ہی گیا۔ 🙁

    ڈفر، اس بار بہت کچھ رہ گیا۔ پہلے ہی بہت وقت گزر چکا تھا۔ فیصل کی تحریر کا واقعی ذکر ہونا چاہیے تھا۔۔لیکن چونکہ جنوری کے آخر میں لکھی گئی ہے۔تو انشااللہ اسے فروری کی پوسٹس میں ضرور شامل کریں گے۔

  2. ہمیشہ کی طرح بہت ہی بہترین۔۔ ماشاءاللہ اردو بلاگرز کی تعداد اور روزانہ شائع ہونے والے مضامین کی تعداد میں اضافہ دیکھتے ہوئے آپ لوگوں کی مشکلات اور کی جانے والی محںت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے لیے تحسین کرنا واجب ٹہرتا ہے۔

  3. آپ لوگ خاصی محنت سے کام کر رہے ہیں جسکی داد نہ دینا نا انصافی ہو گی۔ لیکن اس کام کا فائدہ آپکو بھی بہت ہو گا، خصوصا ریسرچ یا تعلیمی سر گرمیوں میں جہاں اس طرح کے ریویوز کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ دوسروں پرتعمیری تنقید سے آپکی اپنی تحاریر میں پختگی آئیگی، پڑھنے کی رفتار بڑھے گی اور کھوٹے کو کھرے سے جدا کرنے کا فن بھی آ جائیگا۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر