آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > ڈفر > شناسائی۔ نیا مہمان

شناسائی۔ نیا مہمان

السلام علیکم۔۔۔ آداب۔۔۔ تسلیمات!

ہمیں امید ہے کہ منظرنامہ کے قارئین بالکل خیریت سے ہوں گے اور سلسلہ ’’شناسائی‘‘ کی اگلی قسط کے منتظر ہوں گے کہ اب قربانی کا بکرا کسے بنایا جاتا ہے۔۔۔ ویسے ہمارے اردو بلاگران میں سے کچھ اس قدر منکسر المزاج ہوں گے، ہمیں ہرگز اندازہ نہ تھا۔ ہم ان سے انٹرویو کی اجازت لینا چاہیں اور وہ ایسے انکار کریں جیسے دولہا بوقتِ نکاح منہ پر رومال رکھے شرمائے۔ کچھ صاحبان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی صدر یا وزیر اعظم نہیں جو ان کے انٹرویو لیے جائیں۔ تو جناب! مبارک ہو ان بلاگر خواتین و حضرات کو جن کے ہم نے انٹرویو لیے۔ وہ غور فرمائیں کہ ان کی کرسیِ صدارت یا وزارت کہاں چھپی ہے؟ 😀

اب ہماری نظرِ انتخاب جہاں جاتی، پلٹ آتی۔ کسی کے نام پر جب ہم دونوں متفق نہ ہوسکے تو ہمارے سامنے ایک نام ابھرا اور ابھرتا ہی چلا گیا۔۔۔ ایسا نام جس کے لیے ہم دونوں کا پہلا جملا یہی تھا، ہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔۔۔ (مطلب سلسلہ شناسائی کے ذریعے اس کا انٹرویو لیتے ہیں)۔ سوچیں، ایسا کون سا نام ہوسکتا ہے؟ :hmm:

یہ قصہ ہے کوئی برس پہلے کا جب اردو بلاگرز جاگے ہوتے تو تحاریر کے انبار لگادیتے، انبار بھی ایسے کہ پڑھنے والوں کا کال پڑ جاتا اور کبھی سوجاتے تو ایسے خوابِ غفلت میں کہ آنکھیں مسل مسل کر دیکھنا پڑتا، بلاگز زندہ بھی ہیں یا۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کی ضرورت؟ 😛 سنجیدہ یا سیاسی تحاریر پڑھتے پڑھتے لوگوں کو جماہیاں آنے لگتیں۔۔۔ ایسے میں ایک بلاگر آیا۔۔۔ بلاگر کیا آیا، اردو بلاگنگ میں بہار آئی۔ دھڑلے سے پوسٹس ہونے لگیں۔ اندازِ تحریر ایسا کہ سیاست پر بھی لکھا ہو تو لگتا، عمر شریف کی نوک جھونک ہے۔ قومی المیے پر بھی لکھا ہو تو لگتا، لطیفے بازی ہورہی ہے۔۔۔ بندہ ہنسی خوشی پڑھتا چلا جائے تو پوری تحریر پڑھ کر اس کو سمجھ لگے کہ اچھا، اس سے مجھے یہ سبق ملتا ہے۔۔۔ ہممم۔۔۔ :hmm:

ابتدا میں لگتا تھا کہ کوئی جوشیلا سا بندہ ہے، ٹائم پاس کے لیے آگیا ہے، کچھ عرصہ بعد غبارہ میں سے ہوا نکل جائے گی اور اسے محدب عدسہ لے کر ڈھونڈا جائے گا تو بھی نظر نہیں آئے گا۔۔۔ لیکن بندے کی مستقل مزاجی اور ہر تحریر سے عیاں شگفتگی اور برجستگی نے جلد ہی اپنا نام بنالیا۔ تحاریر سے اندازہ ہوتا تھا کہ بندہ تو اچھا خاصا ہے اگرچہ لبادہ ڈفر نما اوڑھ رکھا۔ جی ہاں، یہ ذکر ہے ’’ڈفرستان‘‘ کے روحِ رواں جناب والا ڈفر صاحب کا!

خوش آمدید!
@ خیر خوش آمدید

تعارفی کلمات پڑھ کر اگر آپ کا ارادہ پھول کر غبارہ بننے کا ہو تو ازراہِ کرم اسے اس انٹرویو کے مکمل ہونے تک مؤخر کیے رکھیے گا۔ 🙂 کیسے مزاج ہیں؟
@ مزاج بخیر ہیں اور آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ اور دعا کی جاتی ہے کہ آپ کی جھوٹ تعریف کر نے کی عادت سے خلاصی ہو جاوے۔جہاں تک بات ہے پھول کر غبارہ بننے کی تو امی کی جوتی نے کبھی اتنا موقع ہی نہیں دیا کہ ایسی عادت پڑی ہوتی یا تھوڑی بہت پریکٹس ہی ہوئی ہوتی۔

– یہ بلاگنگ کے کنویں کا پتا کیسے چلا اور اس میں دھکا کس نے دے دیا؟
@ دھکا دینے والا تو کوئی نہیں تھا۔سال پہلے دبئی میں ایک لمبے قیام کے دوران جب کچھ کرنے کو نا ہوتا تھا اور بوریت کی بہتات ہوتی تھی تو صرف میں اور انٹرنیٹ ہی ہوتے تھے۔ کسی تلاش میں پاکستانی کے بلاگ کا لنک ملا تھا تو پتا چلا کہ اردو بھی انٹرنیٹ پر بی بی سی کے علاوہ پھِر ٹُر سکتی ہے۔ پھر شاہدہ اکرم کے بلاگ پر گیا پھر اردو ٹیک کے دیگر بلاگز کا بھی پتا چلتا گیا پڑھتا گیا اور تبصرے کرتا گیا اورآخر کار خود بھی اس دنیا کا باسی بن گیااور۔۔۔

– کیا سوچ کر بلاگنگ کی طرف آئے؟ کیا خاکا تھا ذہن میں؟
@ پہلی بات تو یہ کہ مجھے لگتا ہے کہ خاکہ کے ہجے آپ نے غلط لکھے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اپنا بلاگ تو تھا نہیں سو دوسرے بلاگوں پر تبصرے کیا کرتا تھا ،چند جگہ ماڈریشن ہو جاتی تھی۔ جو میں کہنا چاہتا تھا وہ کہہ نہیں سکتا تھا اور کبھی دل کرتا تھا کہ آف ٹاپک کچھ لکھوں تو وہ تبصرے میں تو لکھا نہیں جا سکتا تھا اس کے لئے اپنی سائیٹ کی ضرورت تھی۔ سائیٹ اس لئے لکھاکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بلاگنگ کا بھی نہیں پتا تھا کہ کیا ہوتی ہے؟ بلاگ شروع کرنے سے پہلےہفتوں تک تو میں نے بلاگ اور بلاگنگ پر ریسرچ کی کہ یہ ہوتی کیا چیزیں ہے؟

– جو وقت اب بلاگنگ میں خرچ ہوتا ہے، بلاگنگ سے پہلے کہاں جاتا تھا؟
@ پہلے یہ وقت گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتا تھایا فلمیں دیکھتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں پر سکون زندگی تھی۔ اب تو یہ حال ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ میری ڈیوٹی ہے بلاگنگ کرنا، اور اگر نا کی تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔

– کس قسم کی مشکلات پیش آئیں بلاگنگ کی ابتدا میں؟ تکنیکی امداد کہاں سے ملی؟
@ بلاگ شروع کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ اردو ٹیک، ورڈ پریس اور بلاگ سپاٹ پر اکاونٹ بنا لیا تھا سب اچھا تھا خود کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بس یہ نہیں پتا تھا کہ اب اسکو استعمال کیسے کروں لیکن وہ ایک بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ جب ڈفرستان پر بلاگ شروع کیا تو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ لا علمی کی وجہ سے پہلے میں سوچتا رہا کہ مجھے اردو ترجمہ والا ورڈپریس ہی چاہئے ہو گا اردو سپورٹ کے لئے،لیکن وہ کافی پرانا تھا۔ پھر خود سے ہاتھ پیر مار کر ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ پھر ایک مہینہ تو اردو تھیم ڈھونڈنے ( جو مجھے کہیں سے نہیں ملے) اور تھیم کا خود سے ترجمہ کرنے میں لگ گیا۔جہانزیب نے اس میں ہماری کافی مدد کی تھی۔ اس وقت تک تو مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ جہانزیب کا بھی اپنا بلاگ ہے۔ بس انٹرنیٹ سے سرچنگ کے دوران ان کا نام کہیں مل گیا تھا تو ہم نے سوچا اس بندے کو پتا ہے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں.

– کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ایویں ہی بلاگ بنالیا، نہ بناتا تو سکون تھا؟
@ کبھی بھی نہیں۔ ہاں یہ ضرور سوچا کہ”بلاگوہلک” ہونے کا نقصان ہوا ہے۔ کافی سارا وقت جو گھر والوں کے ساتھ گزرنا چاہئے اب نوٹ بک کے سامنے بیٹھے گزر جاتا ہے۔ پہلے کتابیں پڑھتا تھا لیکن اب کافی کم ہو گئی ہیں۔ بلاگ کی وجہ سے مجھے اپنی یہ بات بری لگتی ہے ۔

– بلاگنگ سے کوئی فائدہ ہوا؟ یا مستقبل میں کوئی فائدہ نظر آتا ہے؟
@ مجھے نہیں پتا فائدے نقصان کا۔ مجھے یہ پتا ہے کہ مجھے بلاگنگ میں مزہ آتا ہے۔ اگر تو فائدے کا مطلب ہے کہ “آمدنی” تو مجھے کوئی فائدہ نہیں بلکہ میرے تو پیسے ہی لگے ہوئے ہیں۔ ہاں فائدہ مجھے یہ ہے کہ لکھنے میں کچھ بہتری آ گئی ہے۔ لفظوں سے کھیلنے میں مزہ آتا ہے۔ دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ جو بات میں کہہ نہیں سکتا وہ میں اچھی طرح سے لکھ سکتا ہوں۔ میری سوچ جب دوسروں کے خیالات سے کشید ہوکر واپس آتی ہے تو کافی بہتر ہو چکی ہوتی ہے۔

– بلاگ کے زمروں کو کافی منفرد نام دیے ہیں۔ مثلاً آلو پیاز، کیفے ڈی بکواس، دارا کا گاؤں، کچھ نہ پچھ، نائی کی دکان، وغیرہ۔ کیا غالب کی طرح ’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں‘‘؟
@ ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔ کچھ نہ پچھ، کیوں؟

– یہ ’’ڈفرستان‘‘ کیوں ڈفرستان ہے؟ کیا سوچ کر یہ نام رکھا؟
@ کیوں کا جواب یوں کہ مجھے جاننے والے نے جب بھی ڈفرستان کو وزٹ کیا وہ سمجھ جائے گا کہ یہ کس ڈفر کی سائیٹ ہے۔ جس دن سے مجھے ڈفر کا مطلب پتا چلا تھا کہ کیا ہوتا ہے اس دن سے مجھے یہ لفظ صرف اپنے لئے پسند ہے۔ اسی لئے اسکا نام ڈفرستان بھی ہے۔ اس میں مجھ سے متعلق کافی کچھ ایسا ہے (اور ہو گا) جو مجھے جاننے والے نہیں جانتے۔ جب بلاگ بنانے کا سوچ ہی لیا تو یہ بھی ایک کافی بڑا مسئلہ تھا کہ جس ڈومین کو سوچو وہ پہلے سے بک تھی، نام کچھ ایسا کیچی (catchy) سا ڈھونڈ رہا تھا کہ جو دیکھے ایک دفعہ کلک تو ضرور کرے۔ آگے پھر ہماری ذمہ داری تھی کہ اس کو سائیٹ براوز کرنے پر مجبور کریں۔ دونوں کام مشکل تھے، ایک ہو گیا دوسرا آئینی و قانونی و اخلاقی پابندیوں اور پیچیدگیوں (المعروف سائیبر ایکٹ) کی وجہ سےمتوقع نتائج نا مل سکنے کے باوجودکافی حد تک ہو رہا ہے۔

– ڈفر! ماشاء اللہ آپ بلاگز میں کافی فعال ہیں۔ صرف اردو ہی نہیں، انگریزی بلاگز پر بھی پائے جاتے ہیں، کیسے نکالتے ہیں اتنا وقت؟ کوئی راز یا منتر شنتر ہو تو ہمیں بھی بتاکر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
@ وقت تو نکالنا پڑتا ہے۔ میری کام کے علاوہ ایک ہی مصروفیت ہے اور وہ ہے بلاگنگ۔ روز کئی کئی گھنٹے بلاگنگ کرتا ہوں۔ سوشل نیٹورکنگ کے سخت خلاف رہا ہوں لیکن اب خودبلاگوہلک ہوگیا ہوں ۔ پڑھنے کا کافی شوق ہے تو آج کل کتابوں کی جگہ بلاگ پڑھتا ہوں۔ آج کل سنجیدگی سے اس روٹین کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

– بلاگنگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@ نوکری کرنا اور فلمیں دیکھنا۔ یا گھر والوں پر غصہ کرنا۔ دوستوں کے ساتھ ہوں تو انہیں گالیاں دینا اور پھر مل کردانت نکالنا۔

– کیا اردو کے فروغ کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں، وہ تسلی بخش ہیں؟
@ ہاں۔ چونکہ جو کرنا ہے عام لوگوں نے کرنا ہے۔ اس حساب سے جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اور جس قدر کام ہو رہا ہے وہ نہایت تسلی بخش ہے۔ اگر سرکار اس کار خیر میں شامل ہو جائے تو ہمیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں اتنا وقت نا لگے جتنا اب لگے گا اور اگر سچ پوچھیں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ “مطلوبہ نتائج” حاصل کرتے کرتے ہمیں دیر ہی نا ہو جائے۔

– آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اپنے بلاگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ ان شا ءاللہ پاکستان کا مستقبل تو بے حد روشن ہو گا۔ویسے بھی مستقبل کا کس کو پتا ہو سکتا ہے؟ ہم تو تکے مار سکتے ہیں یا امید کر سکتے ہیں۔ میں شائد کسی گشتی عدالت کا شکار ہو چکا ہوں گا اور میرا بلاگ صریر خامہ لا وارث

– کون کون سا شہر اور ملک دیکھا ہوا ہے؟
@ پاکستان کے کافی سارے شہر دیکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ مشرق وسطٰی اور ایشیا یپیفک کے چند ممالک کی سیر کر چکا ہوں۔ آجکل پھر سے رخت سفر باندھنے کا سوچ رہا ہوں دعا کریں کہ ایمبیسیوں سے ویزے اور دفتر سے چھٹیاں مل جائیں۔

– وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ نیا منظرنامہ کیسا نظر آتا ہے؟ نئے بلاگرز سے کیسی توقعات وابستہ ہیں؟
@ اچھے اردو بلاگرز تو پہلے سے ہی موجود ہیں اور پچھلے کچھ عرصے میں کافی اچھے اردو بلاگرز کا اضافہ ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے۔ کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن مجھے ایک دو بلاگر ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے مستقل لکھا تو ان کی تحریریں کافی سارے لوگ کافی زیادہ پسند کریں گے۔

– کسی بلاگر سے متاثر ہیں؟ کون سے بلاگز زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں؟
@ اچھے بلاگرز تو بہت سارے ہیں جن میں چند ایک ایسے ہیں جن کو میں کافی شوق سے پڑھتا ہوں ۔ خاور صاحب کا انداز تحریر مجھے پسند ہے، اتنا کہ شائد مجھے پڑھنے والوں نے غور کیا ہو کہ میں کبھی کبھی ان کا انداز نقل بھی کرنے لگتا ہوں۔ جہاں تک بلاگز شوق سے پڑھنے کی بات ہے تو سارے اردو بلاگز تو پڑھتا ہی پڑھتا ہوں لیکن کاپی پیسٹ بلاگ تحریروں سے بوریت ہوتی ہے۔ وہ تحریر جو بلاگو کی ذاتی ذہنی اختراع ہو مجھے پسند آتی ہے قطع نظر اس کےکہ موضوع کیا ہے۔

– اکثر جگہ آپ وضاحت کرچکے ہیں کہ پڑھائی میں کچھ خاص اچھے نہیں تھے اور پڑھنے لکھنے سے بھاگا کرتے تھے پھر اندازِ تحریر اتنا پختہ اور دلچسپ کیسے؟ کسی خاص مصنف کو پڑھتے ہیں؟
@ میں پڑھنے لکھنے سے بھاگا ضرور کرتا تھا لیکن میں پڑھائی میں بہت اچھا تھا اور ہمیشہ پوزیشن ہولڈر ہوتا تھا۔ ثبوت کے طور پر میرے پاس بہت ساری ٹرافیاں اور سرٹیفیکیٹس ہیں جن کا مجھ سے زیادہ میرے امی ابو کو انتظار ہوتا تھا اور ابھی تک انکا خیال بھی وہی رکھتے ہیں۔ ہاں یونیورسٹی لائف میں ، میں نے توجہ پوزیشن کی بجائے مزوں پر رکھی ۔ بلاگنگ سے پہلے میں اخبار بہت ہی زیادہ پڑھتا تھا ۔ انداز تحریر پختہ مجھے تو نہیں لگتا اگر ہے تو شائد اخبار کی وجہ سے ہی ہو گا کہ اس سے زیادہ میں کوئی کتاب نہیں پڑھتا۔ کتاب پڑھنے کے لئے مصنف پر بہت کم نظر کرتا ہوں ۔ ہاں پڑھنے کے بعد مصنف کی یہ ریٹنگ ضرور کرتا ہوں کہ اس کی آئندہ کوئی کتاب لینی بھی ہے کہ نہیں؟ مشتاق احمد یوسفی کو پڑھنے کا شوق ہے لیکن ابھی تک کوشش ہے کہ نا پڑھوں۔ سنا ہے بہت مشکل اردو لکھتے ہیں۔

– کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں کے لیے کوئی پیغام؟
@ ہم لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم چند اردو بلاگز سے یہ اندازہ کر رہےہیں کہ اردو کتنی ترقی کر رہی ہے؟ بے شک اردو انٹرنیٹ پر پھل پھول رہی ہے لیکن اس کے قارئین کی تعداد کیا ہے؟ (اب جنگ اور ایکسپریس کی سائیٹ کو اس میں شامل مت کریں)اگر بات اردو بولنے کی ہے تو اردو کو فی الوقت کوئی بہت بڑا خطرہ نہیں لیکن اگر بات اردو ادب کی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اردو بڑھاپے میں داخل ہو نا شروع ہو چکی ہے اور شائد جلد ہی اسے سلاجیت کی ضرورت پڑے۔
– ڈفر! نام تو آپ نے ڈفر رکھ لیا، باتوں سے اپنے آپ کو ثابت بھی ڈفر ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کا اصل نام؟ (اگر بتانا چاہیں اور مناسب سمجھیں تو ایک تصویر بھی)
@

Duffer
Duffer

ایسا ہی کچھ دکھتا ہوں میں اور بالکل اسم با مسمی ہوں

اب کچھ سوال ہٹ کر۔
– کچھ اپنے خاندانی، تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟
– ایک متوسط گھرانے سے تعلق ہے۔ ابو سرکاری نوکری کرتے تھے اور امی گھر اور بچے ہی سنبھالتی تھیں جنہوں نے اولاد کو تعلیم کھلے دل کے ساتھ دلوائی تا ٓنکہ بچوں کے دماغ بند ہو گئے۔
– آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟
– راولپنڈی میں پلا بڑھا اور آجکل ادھر ادھر ہوتا ہوں۔ کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
– آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
– میں ایک بے مقصد زندگی گزار رہا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ میں نے کیا کرنا ہے ۔میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ میں نہیں کر سکتا، اتنا حقیقت پسند میں ضرور ہوں۔
• پسندیدہ:
– کتاب؟
– ٹائیں ٹائیں فش
– گانا
– وقت اور موڈ کے حساب سے پسند بدلتی ہے آجکل “عشق جنوں دیوانگی اپنی اور کہاں لے جاتی۔۔”
– رنگ
– سفید اور نیلا
– کھانا
– دال چاول
– موسم
– گرمیاں

• غلط یا درست:
– مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
– درست، عادت نہیں نشہ مناسب لفظ رہے گا
– میں بہت شرمیلا ہوں؟
– درست
– مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
– غلط، کبھی نہیں
– مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟
– درست، لیکن صرف گھر اوردوستوں میں۔ انجان لوگ یقیناسمجھتے ہیں میں گونگا ہوں۔ جن سے بعد میں شناسائی ہو وہ میسنا کہتے ہیں۔
– مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
– بے شک، اور بہت کچھ نہیں سب کچھ
– مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
– بہت زیادہ
– میں ایک اچھا دوست ہوں؟
– میرا خیال ہے درست، لیکن دوست زیادہ بہتر بتا سکتے ہیں۔ اور مجھے پتا ہے وہ یہ کہیں گے نہیں۔ کیونکہ بڑے کمینے ہیں
– مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
– آہو جی آہو

اس کے علاوہ اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں۔
@ آج میں دفتر میں بیٹھ کر اس انٹرویو کو دیتے ہوئے بہت زیادہ کرپشن کا مرتکب ہوا ہوں اور اس کا ذمہ دار ہے منظر نامہ 😛

ڈفر، منظر نامہ کے لیے انٹرویو دینے کا بہت شکریہ۔
شکریہ کی کیا بات ہے جی یہ تو میرا فرض تھا۔ پی ایس کا بندہ ہوں تو بتا دوں کہ آپکے ۲۶۵ ڈالر چارجزہو گئے 😀

بہت شکریہ۔ پھر حاضری ہوگی۔ تب تک کے لیے والسلام۔
اللہ حافظ

32 تبصرے:

  1. جب ڈفر نے اردو ٹیک پر بلاگ بنایا تو میں ایک دن سپیم بلاگ ڈیلیٹ کررہا تھا اور ڈفر کا بلاگ ڈیلیٹ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ سپیم ہو گا پھر سوچا وزٹ کر کے دیکھ لو دیکھا تو آگے اردو تھی۔ میں نے لنک کسی کو بھیج کر کہا کہ لو جی میرے خاندان سے مزید لوگ بلاگنگ میں آ رہے ہیں۔ :grins:
    مجھے کسی کا بلاگ اتنا پسند نہیں جتنا ڈفر کا لیکن آجکل ڈفر نے بھی سیاست پر سیرئیس ہو کر لکھ لکھ کر اپنے بلاگ کا ستیاناس کر لیا ہے۔ کچھ شائد گرمیاں بھی آ گئی ہیں

  2. ڈفر نے آتے ہی خوب دھوم مچائی، اردو کا ایسا کوئی بلاگ نہیں تھا جہاں وہ نظر نہ آتے.. ان کا بلاگ اردو کے چند منفرد بلاگوں میں سے ایک ہے، ان کے بارے میں جاننے کا اشتیاق تھا، جان کر بھی ڈفر ہی لگے.. 😀

  3. بھئی ڈ‌فر اردو بلاگستان کے اوبامہ ہیں‌ ، جنہوں‌ نے اردو بلاگنگ کو نہ صرف متحرک کیا بلکہ چلچلی تحریروں‌ سے کئی مستقل قارئین پیدا کئے جو پہلے اردو بلاگنگ سے ناواقف تھے ۔
    اب جیسا کہ ڈفر نے مجھے بلیم کیا ہے، مجھے پتہ نہیں‌ تھا کہ میں‌ ڈفر کی مدد کر رہا ہوں‌ 😀 لیکن جب ڈفر نے پہلی بار یہ لکھا، تو میں‌ نے کہا جھوٹ‌ بول رہا ہے :grins: پھر جاسوسی کر کے میں‌ نے پتہ لگایا کہ واقعی ڈفر نے اصلی نام سے مجھے میل کری تھی ۔ چلو اصل نام تو پتہ چلا اسی بہانے ۔ 😛

  4. ڈفرستان کا میں بھی ایک مستقل قاری ہوں اور طنزو مزاح کے پیرائے میں بات کرنے کا فن انہیں خوب آتا ہے۔ ان کی کئی تحریروں نے بہت متاثر کیا ہے اور میں پہلے ان کے بلاگ پر بھی کہہ چکا ہوں اور یہاں بھی یہ دہرانا چاہتا ہوں‌ کہ ان کے اندر ایک شاندار مزاح نگار بننے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے۔ انٹرویو جاندار اور شاندار رہا

  5. جب پہلے پہل نام پڑھا تھا تو کوفت سی ہوئی تھی کہ ایک اور غیر سنجیدہ بلاگر نازل ہو گیا ہے لیکن میرا خیال غلط تھا۔ ہلکے پھلکے طنز میں بڑی گہری باتیں کرتے ہیں لیکن سامنے آنے سے ڈرتے ہیں۔
    ٹائیں ٹائیں فش میں نے بھی ڈاؤنلوڈ کر کے پڑھی تھی اور شائد ایک ہی نشست میں پڑھی تھی۔ ہنس ہنس کر آنکھوں می پانی آ گیا تھا۔
    تصویر آپکی اچھی لگی، کمپیوٹر کو کم وقت دیں، آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے ہیں آپکے۔
    کچھ باتیں پڑھ کر لگا کہ اپنا انٹرویو پڑھ رہا ہوں۔ 🙂
    مشتاق احمد یوسفی مشکل تو نہیں لکھتے، آپ سے کس نے کہہ دیا؟

  6. ڈفر بھیا میرے بلاگ پر تشریف لانے والے پہلے مہمان تھے :k: اور پھر ان کے مشورے اور رہنمائی میرے لیے اچھی خاصی مددگار رہی، شکریہ سر جی۔
    آپ کے بلاگ تو ہردلعزیز ہے ہی، ہر نئی پوسٹ کا میں ایسے ہی انتظار کرتا ہوں، جیسے خواتین سٹار پلس کے ڈراموں کا 😀 ، ویسے یہ آپ کا فوٹو بڑا دلچسپ ہے، کون سا فوٹو گرافر تھا، لمے نہیں پایا آپ نے اسے :haha:
    خوش رہیں سر جی، جان کر بہت خوشی ہوئی آپ کے بارے میں، اور یوں ہی ہم جیسے مایوس اور غمزدہ بلاگروں کی بستی میں قہقہے بکھیرتے رہیں۔ :k:

  7. ڈفر کی تحاریر میں ربط بھی هوتا هے اور جان بھی
    میں نے اپنی تعریف کم هی سنی هے
    لوگ مجھے کچھ کھسکا هوا کهتے هیں
    اگر ڈفر صاحب خاور سے متاثر هیں تو جی ڈفر بھی کچھ کھسکے هوئے هیں جی
    لیکن تحاریر ان کی اچھی هوتی هیں

  8. اگر پورے انٹرویو سے “ڈفر صاحب” کا نام نکال بھی دیا جائے تو چند جوابات سے ہی اندازہ ہو جائے گاکہ یہ کس کا انٹرویو ہے 😀
    ویسے افسوس یہ رہا ہے کہ اتنے لمبے چوڑے انٹرویو کے بعد بھی ان کے بارے میں ہماری معلومات میں رتی برابر اضافہ نہ ہوا لیکن پھر بھی منظرنامہ کا شکریہ کہ اتنے اہم بلاگر کو شناسائی کے سلسلے میں گھسیٹا۔ ڈفر کا بلاگ بلاشبہ اردو بلاگنگ کی دنیا کا سب سے شاندار اضافہ ہے۔ دعا ہے کہ ان کا سلسلہ تادیر قائم رہے۔

  9. ::: جہانزیب ::: اصلی نام سے میری ای میل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میرے تو اصلی ای میل میں بھی نام ڈفر ہی ہے 😀 ریکارڈ کی درستگی کے لئے واضح کرنا مناسب ہےکہ جن کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ڈفرستان میں پاگل کے نام سے پہچانے جاتے ہیں جو دراصل ہماری سائیٹ کے ایڈمن تھے اور جن کو نومبر میں معاہدے کے مطابق ڈومین خریدنے، ہوسٹنگ کرنے اور بلاگ کی انسٹالیشن اور اس کو تین ماہ تک سموتھلی چلانے کے بعد بقیہ ادائیگی کر کے ایڈمن کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ وہ لکھنا چاہیں تو ابھی بھی لکھ سکتے ہیں جو کہ وہ کافی عرصے سے نہیں لکھ رہے، یہ سب اس لئے لکھنا پڑا کہ کسی اور کے کام کی تعریف وصولنا میرا حق نہیں اور ان کی خدمات کا اعتراف نا کرنا زیادتی ہو گی کیونکہ مجھے خوش فہمی ہے کہ مجھے ڈوگر قبیلے سے دور دور تک نسبت نہیں :no:

  10. ڈفر کے جرائم بہت زیادہ ہیں۔ مجھے بلاگنگ میں لا کر خجل کرنے والا بھی یہی ہے۔۔ :grins:
    میں‌ اس بات کا اقراری مجرم ہوں کہ ڈفر کی حوصلہ افزائی کے بغیر شاید میں یہ نہ کرسکتا۔۔
    اور جہاں تک ڈفر کا یہ کہنا ہے کہ وہ واقعی ڈفر ہے تو غالب ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ڈیڑھ صدی پہلے خبردار کرگیا تھا کہ
    بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
    تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

    اور ایک پبلک سروس میسج ۔۔۔ اس سائٹ کے ایڈمں کے لئے:
    ہمیں بھی ایڈ کرلیں بھیا۔۔۔ 🙂

  11. بہت اچھا لگا ڈفر کے بارے میں جان کر اور تصویر بھی بہت اچھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ’’انجان لوگ یقیناسمجھتے ہیں میں گونگا ہوں۔ جن سے بعد میں شناسائی ہو وہ میسنا کہتے ہیں۔‘ ‘‌یہ بات بہت دلچسپ لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  12. ڈفرصرف نام کا ڈفر ہے، یہ بہت بڑی شے ہے۔ جسطرح یہ اپنے بلاگ کی آئی ڈنٹیٹی اور برانڈنگ کررہے ہیں یہ تمام موجودہ اور نئے آنے والے سنجیدہ بلاگروں کے لیے مشعلے راہ ہے۔

    ڈاکٹرمحمد یونس بٹ کی طرح ان کی تحریر کے الفاظ بھی پھلجھڑیاں ہیں جو طبیت کو خوشگوار کردیتی ہیں۔

    ڈفرصاحب یہ آپنے غلط کہا کہ آپ ایک بے مقصد زندگی گزار رہے، آپ اردو زبان کی بے لوث خدمت کررہے ہیں جو بہت بڑا مقصد ہے۔ اور بلاشبہ اردوزبان آپ جیسے لکھنے والوں کی احسان مند ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر