آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > فروری2009 کے بلاگ

فروری2009 کے بلاگ

السلام وعلیکم قارئین،

ماہ فروری میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا۔۔۔آئیے اس پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

معاشرہ و سیاست:

دوست نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر “کتبے” لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے گزرتے ہوئے انھیں جگہ جگہ کتبے دکھائی دیتے ہیں جو  کسی سڑک کے افتتاح یا  پھر کسی اور چیز کے سنگ بنیاد کے موقع پر لگائے جاتے ہیں۔  آپ لکھتے ہیں کہ:

آج سے دو سال پہلے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا. اس گلی کی سیوریج لائن خراب تھی، یہی کوئی سو گز کے قریب لمبائی میں. اوراس کو دوبارہ ڈلوانے کا افتتاح اس وقت کے ضلعی ناظم نے کیا تھا. وہ نئی ڈالی ہوئی سیوریج لائن بھی شاید اب خراب ہوگئی ہو لیکن وہ کتبہ اب بھی وہاں لگا ہوگا. جس پر بدست مبارک جناب فلاں فلاں لکھا ہوا تھا

مجھے لگتا ہے میری قوم کے نصیبوں پر بھی ایسے ہی کتبے لگے ہوئے ہیں. سبز رنگ کے، سنگ مرمر کے پرانے اور نئے کتبے.. میری قوم کے نصیبوں کے مزار پر وڈوں کے نفس متولی بنے بیٹھے ہیں. نہ وہ اُٹھیں اور نہ ہی میری قوم کا نصیب جاگے..

شکاری نے اپنی ایک تحریر  “بھیک مشن” میں معاشرے میں بھیک مانگنے کے طریقوں پر لکھا ہے، اور بھکاریوں سے آئے دن  آپ کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ  حکومت کے ساتھ ساتھ حکمران اور اب ایدھی سینٹر والوں نے بھی بھیک مشن شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے  بس میں ایک لڑکی کو اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے کے بارے میں بھی لکھا۔  اور آخر میں آپ کہتے ہیں کہ :

اب یہ ہمارا قومی طور پر“بھیک مشن” کب ختم ہوگا.

جہانزیب بھی اسی موضوع پر  اپنی تحریر “پہلی نظر میں“میں کچھ  اس طرح کہتے ہیں کہ  پاکستان   ائیر پورٹ پر اترتے ہوئے آپ کو سب سے پہلے بھکاریوں سے واسطہ پڑتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ:

میرا ایک دوست پاکستان سے امریکہ آیا، اور باہر نکلتے ہی سب سے پہلے جس کالے امریکی کو اُس نے دیکھا، اُس نے گلے میں جوتے لٹکا رکھے تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن سُنی سنائی باتوں کے بعد اُس کا باہر نکلتے ہی ایسا دیکھنے سے اُس نے یہ بات ذہن نشین کر لی کہ کالے امریکی بدتمیز اور بد اخلاق ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب انگریزی کہاوت “First impression is last impression” کے مطابق اس نے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ۔

لیکن کسی سیاح جو پاکستان آئے، پر “First Impression” کس قسم کا پڑے گا ۔۔۔۔ باہر نکلتے ہیں فقیروں کا جم غفیر آپ کے گِرد ہو جاتا ہے،

خود ہی سوچیں کہ باہر والے پاکستانیوں کو فقیر کیوں نہیں سمجھیں گے اپنے First Impression کی بنیاد پر؟

فرحت نے  جعلی پیر، عاملوں کے بارے میں ایک بہترین پوسٹ ” ضعیف الاعتقادی کی، جس میں آپ لکھتی ہیں کہ:

پاکستان میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ جعلی عامل کبھی ڈبل شاہ اور کبھی خود ساختہ پیر کے روپ میں لوگوں کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو لُوٹتے ہیں اور پھر بھی معتبر رہتے ہیں۔ ان کے معتقدین میں عوام و خواص کی کچھ قید نہیں۔ کوئی اقتدار کے لالچ میں ان کی لاٹھیاں کھانے کو اپنے لئے مبارک تصور کرتا ہے    تو کوئی غربت بیماری اور دیگر مصائب کے خاتمے کے لئے انہیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔ نتیجتا آئے روز ایسے لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ اس ضعیف الاعتقادی کے زیرِ اثر لوگ اپنی عزت، جان، مال سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ لیکن دیکھنے والے پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ لوگ اسی طرح بیوقوف بناتے بھی ہیں اور بنتے بھی ہیں۔ :-(

معلوماتی تحاریر:

عمر احمد بنگش نے  ڈیرہ اسماعیل  کے بارے میں ایک معلوماتی بلاگ لکھا، “ڈیرہ، پھلاں دا  سہرہ”جس میں آپ نے  اپنے ڈیرہ اسماعیل جانے کی کہانی بھی سنائی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :

ڈیرہ اسماعیل خان، کی پہلی نشانی رکشے ہیں، جو شہر میں داخل ہونے والی ہر بس کے ساتھ ایسے بھاگنے لگتے ہیں کہ جیسے، کوئی گڑ کی ڈلی پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ دوسری نشانی آبادی میں اضافہ اور چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں، جن کے باہر جلی لکھا ہوتا ہے، ” آ بھرا روٹی دوا” (آ بھائی، روٹی کھا)۔

ڈیرہ اسماعیل خان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، گومل یونیورسٹی کے مکین، اسے سِٹی، “جھوک” یعنی گاؤں کے لوگ اسے شہر، جبکہ “کچہ”یعنی، دریا کے اس طرف کے مکین اسے اپنے حساب سے “دریا پار” کہتے ہیں، جبکہ ایک نام، جس سے سارے لوگ اس مانتے ہیں، وہ ہے “ڈیرہ، پُھلاں دا سہر۱”۔مزید پڑھیں۔۔۔

ایڈز 20 سال کی تحقیق کے بعد بھی لاعلاج کیوں ؟  اس موضوع پر  سعدیہ سحر نے ایک نہایت ہی معلوماتی بلاگ لکھا۔  جس میں انہوں نے ایڈز کے آغاز  کے بارے میں کچھ لکھا اور پھر پاکستان میں  بھی اس مرض کی تشخیص کے بعد کیا ہوا۔۔اس بارے میں بھی انہوں نے لکھا ۔  آپ لکھتی ہیں کہ:

یواین کی رپورٹ کے مطابق اب تک ایڈز سے مرنے والوں کی تعداد 25 میلین ھے 7۔5 میلین لوگ ایڈز کے مرض کا شکار ھو چکے ھیں پاکستان میں 84000 ایڈز کے مریض ھیں جن میں 70000 مرد اور بچے 14000 عورتیں ھیں پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی وجہ کم علمی اور جہالت بھی کہا جا سکتا ھے استعمال شدہ سرنج کا بار بار استعمال سکین کیے بنا انتقال خون ۔ جب کوئ حادثہ ھوتا ھے یا خون کی ضروت پڑتی ھے جو بھی خون  دستیاب ھو لگا دیا جاتا ھے ایک سال میں پاکستان میں مختلف حادثات اور بیماریوں کی وجہ سے 5۔1 میلین لوگوں کو خون دیا جاتا ھے  جن میں سے 20 % پپشہ ور لوگ ھوتے ھیں جن کا خون چیک نہیں ھوا ھوتا۔۔۔مزید پڑھیں۔۔۔

اجمل صاحب نے  ” سوات ۔ طالبان اور حُکمران ۔ قصور کس کا ؟” کے عنوان سے ایک بہترین معلوماتی تحریر لکھی، جو کہ  سوات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تاریخ سے متعلقہ ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

جب انگریز ہندوستان چھوڑنے پر راضی ہو گئے تو اُنہوں نے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے اندر داخلی طور پر خودمختار ریاستوں کا فیصلہ اُن کے حاکموں پر چھوڑ دیا کہ اپنے عوام کی رائے کے مطابق پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کریں ۔ چالبازی یہ کی گئی کہ پاکستان کو نہ دولت اور اثاثوں کا حصہ دیا گیا اور نہ اسلحہ کا ۔ مسلمان فوجیوں کو پہلے ہی سے مجوزہ پاکستان سے دور علاقوں میں تعینات کر دیا گیا تھا ۔ وہیں اُنہیں غیر مسلحہ کر کے گھروں کو جانے کا حُکم دیا گیا ۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ پاکستان بنا تو نہ اس کے پاس حکومت چلانے کو کچھ تھا اور نہ اپنا دفاع کرنے کا سامان ۔ اس صورتِ حال سے مکمل فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے بھارت کے اندر یا بھارت سے ملحق تمام ریاستوں کو بھارت کے ساتھ الحاق کا حُکم دیا ۔ جن چار ریاستوں [گجرات کاٹھیاواڑ ۔ منادور ۔ حیدآباد دکھن اور جموں کشمیر] نے لیت و لعل کیا اُن پر یکے بعد دیگرے فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ۔ اس کے بر عکس پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے اندر ریاستوں کو داخلی خود مختاری دیئے رکھی جب تک کہ وہ ریاستیں خود ہی پاکستان میں ضم نہ ہوئیں ۔ مزید پڑھیں۔۔۔

محب علوی نے ایک نہایت ہی دلچسپ اور معلوماتی تحریر لکھی، جس میں انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی ایک پرانی روایت “گراؤنڈ ہوگ ڈے” کے بارے میں بتایا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ:

Groundhog Day چھٹی کا تہوار ہے جسے  دو فروری کے دن امریکہ اور کینیڈا میں منایا جاتا ہے۔ لوک روایت کے مطابق اگر دو فروری کو گراؤنڈ ہوگ (Groundhog ) اپنے بل میں سے نکل کر اپنا سایہ دیکھ لے تو سردیاں مزید چھ ہفتہ تک رہیں گی اور گراؤنڈ ہوگ واپس اپنے بل میں چلا جاتا ہے جہاں وہ سردی سے بچنے کے لیے سو رہا تھا۔اگر بادلوں کی وجہ سے سورج نہ نکل سکے اور وہ اپنا سایہ نہ دیکھ سکے تو سردیاں ختم ہونے کو ہیں اور بہار جلد آ رہی ہے اور گراؤنڈ ہوگ بھی نیند ترک کرکے باہر ہی رہ جاتا ہے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

طنز و مزاح:

فیصل نے  اردو اور انگریزی بلاگنگ سے متعلقہ ایک  دلچسپ تنقیدی تحریر” اردو بلاگ انگریزی بلاگ” لکھی۔جس میں  آپ کہتے ہیں کہ:

خیر  بات ہو رہی ہے اردو بہ مقابلہ انگریزی بلاگز کی۔ چچ چچ حضور کوئی مقابلے کی چیز ہو تو مقابلہ کیجئے، کہاں اردو کہاں انگریزی۔ نہیں ایسا نہیں کہ ایک اعلیٰ و ارفع ہے تو دوسری کم ظرف۔ میرے نزدیک تو ایک زبان ایک طرزِ معاشرت کا نام ہے ایک رویئے ایک سوچ کا نام ہے نہ کہ الفاظ کے ایک مجموعے کا۔ اب  آپ خود ہی بتائیے کہ آج تک کسی انگریزی شاعر کو پان کھا کر کسی مشاعرے  میں داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کرتے دیکھا ہے؟

صاحب ہم شرمندہ قوم ہیں۔ ہم اپنی زبان، اپنی سوچ، اپنے طرز معاشرت، اپنے مذہب، اپنے وجود ہر شرمندہ ہیں۔ مجھے اپنی ڈاڑھی پر شرم آتی ہے تو میری بیوی کو اپنے حجاب پر۔ مجھے اپنے باپ پر شرم آتی ہے تو میری اولاد کو مجھ پر۔ ہم  بیحد شرمندہ قوم ہیں صاحب۔

ایک قصہ اور بھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا کو بلاگستانِ اردو کا علم ہیں نہیں، یہاں تک کہ وطنِ عزیز کے لوگ بھی نہیں جانتے۔ وجہ شائد گوگل میں اردو نتائج کی کمی بتاتے ہیں۔دیکھو صاحبو پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں۔ جن لوگوں کو اردو کی چاہ ہے وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آپ تک پہنچ ہی جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اردو ویب سائٹس پر زیادہ آمد بیرونِ ملک رہائش پذیر ہموطنوں کی ہوتی ہے۔ مزید پڑھیں۔۔

فرحت نے ایک دلچسپ تحریر “نصیب اپنا اپنا” میں پاکستان کے ” اباؤں” کی  ورائٹی کے بارے میں لکھا ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:

پاکستان میں ‘اباؤں” کی کافی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جن میں سے چند قابلِ ذکر ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر کے اپنے سینوں پر فخر کا تمغہ سجایا کرتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے جرائم کی بدلے میں ونی کے نام پر بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بیٹیاں ہوتی کس لئے ہیں بھلا۔  لیکن اب کچھ عرصے سے انتہائی مشفق قسم کے ابا بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جو انتہائی حساس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بیٹی کی محبت میں مغلوب ہو کر امتحان میں اس کے نمبر بڑھواتے ہیں اور دوہ بھی جن کی بیٹی کی سالگرہ پر اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد منظور کی جاتی ہے۔ اب بھی اگر لوگ کہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ مزید پڑھیں۔۔۔

درویش نے  انسان اور ٹیکنالوجی کا  ایک مکالمہ  بہت خوبصورت انداز میں لکھا اور  اپنی تحریر کو ” انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی….غلام کون؟” کا نام دیا ہے۔  مکالمے کا آغاز  کچھ اس طرح سے کرتے ہیں۔۔۔

ٹیکنالوجی: تم میرے اخراجات اُٹھاؤ گے؟ صحیح؟
انسان: بالکل۔ میں ایسا کروں گا۔
ٹیکنالوجی: اور تم مجھے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ بھی کرتے رہو گے؟
انسان: ہاں۔ میں ایسا کر سکتا ہوں۔
ٹیکنالوجی: کیا تم میری تاروں کو سنبھالنا پسند کرو گے؟ میرے پاس یہ کافی زیادہ ہیں۔
انسان: تاریں؟ ہم م م ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتی ہو تو یہ بھی کر لوں گا۔
ٹیکنالوجی: اور ہاں میرے جلتے بجھتے بٹنز کا ہر وقت خیال رکھنا۔
انسان: ٹھیک ہے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

سارہ پاکستان نے “محبت کے سوا”  تحریر میں محبت پر  بہت دلچسپ انداز میں تنقید کی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ:

محبت کی دنیا میں‌بڑے بڑے نام گزرے ہیں‌۔۔۔۔مثلآ‌لیلی مجنوں‌،سسی پنوں۔۔۔۔حیرت یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ نام یہ مقام کیسے حاصل کر لیا ۔۔۔۔۔جابجا دیواروںپر نظر آنے والے لازوال کردار ایف اینڈ جے ،یا کے اینڈ کے ۔۔۔آخر ان کے جذبے میں‌کہاں‌کمی ہے جو وہ یہ نام اور مقام نا حاصل کر پائے جو تاریخ‌کے مختلف کرداروں کے حصے میں آئی ۔۔۔۔۔۔تو سمجھ کچھ یہ آتی ہے کہ تاریخ‌کے کردار مثلآ لیلی مجنوں‌۔۔سسی پنوں‌ وغیرہ نے جو محبت کی وہ ان کی اپنی اختراع یا ان کی اپنی انویشن تھی ۔انہیں‌آءیڈیازدینے کے لیے مختلف موبائل کمپنیاں نہیں‌تھیں سو چیز جتنی اوریجنل ہو گی اتنی ہی مقبولیت حاصل کر ے گی۔ مزید پڑھیں۔۔۔

ڈفر ایک تنقیدی  تحریر ” نئے دور کے نئے تقاضے”  میں لکھتے ہیں کہ:

ہماری قوم کی مانے جانے والی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وقت کے حساب سے اپنی ترجیحات طے کرتی ہے۔ مثلاً موبائل موبائل کا شور مچا تو فقیروں کے پاس بھی “کیمرے والا موبائل” نظر آنے لگا۔ فوج کی مخالفت پر آئے تو فوجی بھی اس کو گالیاں دینے لگے۔ عطاءالرحمان صاحب نے آئی ٹی آئی ٹی کی رٹ لگائی تو سارے کے سارے کمپیوٹر سائنس کے پیچھے پڑ گئے۔ مزید پڑھیں۔۔۔

تانیہ رحمان نے  اپنی ایک تحریر میں “دل اور دماغ  کی گفتگو” کے بارے میں لکھا ہے۔  جو کہ کچھ اس طرح سے ہے۔۔۔

۔۔۔۔دل تھوڑی دیر دماغ کی باتیں برداشت کرتا رھا۔اور پھر ہنس کر بولا۔تمیں بس میری یہی خوبی نظر آئی۔میں تو انسانی وجود میں دھڑکتا ھوں۔میرے پر تو غزلیں کہی گہیں۔میرے پر تو پورے پورے دیوان لکھے گے۔ ھر فلمی گانے میں میرا ھونا لازمی ھے۔ اور اگر میں دھڑکنا بند کر دوں تو تمھارا کیا ھوگا ۔ کالیا ۔ میں زرا سا تیز دھڑکنا شروع کر دوں تو لوگوں کو فکر لاحق ھو جاتی ھے ۔کہ میں بند تو نہیں ھونے لگا ۔اور تم کہتے ھو کہ میرے بس چار خانے ھیں ۔ میں دھوکے باز فریبی ، ھوں ۔ جبکہ لوگ یہ جانتے ھوئے بھی میری ھی سنتے ھیں ،اور سب سے بڑ ی بات ۔جب لڑکا اور لڑکی میں محبت ھوتی ھے ۔ اس کی وجہ بھی تو میں ھی ھوں ۔۔۔۔مزید پڑھیں۔۔۔

آپ بیتی:

عمر احمد بنگش نے  امتحان میں پرچہ دینے حوالے سے اپنی دلچسپ کہانی لکھی، تحریر ” پرچے کا پرچہ” میں آپ لکھتے ہیں کہ:

۔۔۔تو جی، پرچہ دینے بیٹھے توہر درجے کا ہر طالبعلم منہ کھولے بیٹھا تھا، کیوں کہ پرچے میں ایسے موضوعات تھے، جنھیں ہم سب نے نہ آسمانوں میں دیکھا، نہ زمینوں میں ٹٹولا۔۔۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ تھی کہ مضمون نیا اور باتیں زیادہ، ہر شخص جو اس مضمون میں دلچسپی رکھتا ہے، اپنی آراء رکھتا ہے، چنانچہ پروفیسر جی کی آراء نزلہ بن کر گری، اور ہم کسی نہ کسی طرح صفحے کالے کر کے شرمندہ نظروں سے، جوابی شیٹ کے مضمون کو چھپاتے ہوئے، لرزتے ہاتھوں پرچہ پروفیسر جی کو تھمایا، اور باہر کو دوڑ لگائی۔۔۔۔ مزید پڑھیں۔

اس کے علاوہ شاکر عزیز نے بھی  اپنی  اور دوستوں سے متعلقہ کہانی لکھی، ” فکشن” جو کہ کچھ اس طرح سے ہے:

۔۔۔ٹھہریں ذرا فلیش بیک کرتے ہیں. ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی.ہمارے سینئیرز یعنی علاوہ فرسٹ سمسٹر، تمام پروگرامز کے متعلقہ سمسٹرز کے فائنل امتحانات دو فروری سے شروع تھے. ڈیٹ شیٹ بن چکی تھی. ٹیچر پڑھا کر فارغ ہوچکے تھے. پریزنٹیشن اور اسائنمنٹس ہوچکی تھیں کہ اچانک امتحانات کو پندرہ دن کے لیے ملتوی کردیا گیا.
یہ پندرہ دن کا التواء پھر سے زندگی کی نوید لایا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہی فنکشن کروانے کا اعلان کردیا گیا. شعبے کا سالانہ فنکشن کہہ لیں، ڈنر کہہ لیں یا لٹریری ایوننگ. خیر پھر کیا تھا، پھر دھڑا دھڑ تیاریاں شروع ہوگئیں. پیسے جمع کرنے ہیں، آئٹمز تیار کرنے ہیں، یہ وہ..
اسی دوران ایک عدد نمائش ہونی تھی عنوان “میں کون ہوں”۔۔۔۔ مزید پڑھیں۔۔۔

شاہدہ اکرم نے  اپنی  تحریر “پیارے ابو جی” میں باپ کے بارے میں لکھا۔۔۔

۔۔۔آج جب ميں ابُو کے مُتعلِق لِکھنے بيٹھی ہُوں تو يادوں کا سِرا اِتنا طويل لگا کہ سمجھ ميں نہيں آرہا شُرُوعات کہاں سےہوں ماں اپنے بچوں کے لِۓ اگر سرمايہ ہوتی ہے تو يُوں کہ وُہ اپنے وقت کا ايک ايک لمحہ اپنے بچوں کو دے کر اُنہيں سينچتی ہے پيدائِش سے پہلے سے لے کر آخِر تک ليکِن باپ کيُونکہ گھر سے باہِر کی دُنيا ميں مشغُو ل ہوتے ہيں تو بچوں کو ويسا وقت نہيں دے پاتے ليکِن وُہ جو کُچھ بھی کرتے ہيں اُس کا چکر اولاد کی خُوشيوں کے گِردہی گُھومتا ہے ابُو کے جانے کے بعد بہت دِنوں تک تو مُجھے سمجھ ميں ہی نہيں آيا کہ يہ ہُوا کيا ہے۔۔۔مزید پڑھیں۔۔۔

محمد وارث کرکٹ: جنون سے سکون تک” میں  لکھتے ہیں کہ:

کرکٹ سے میری شناسائی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی جتنی میری ہوش۔ بچپن ہی سے کرکٹ میرے خون میں رچی بسی تھی بلکہ خون سے باہر بھی ٹپکتی تھی، کبھی ناک پر کرکٹ بال لگنے سے نکسیر پھوٹی تو کبھی ہونٹ کٹے اور منہ خون سے بھر گیا لیکن یہ جنون ختم نہ ہوا۔ میں اپنے محلے کی دو ٹیموں میں کھیلا کرتا تھا وجہ اسکی یہ تھی کہ ہر لڑکا ہی آل راؤنڈر ہوتا تھا سو جس کو بلے بازی میں باری ملتی تھی اس کو گیند بازی نہیں ملتی تھی اور جس کو گیند بازی ملتی تھی اس کی بیٹنگ میں باری نہیں آتی تھی۔۔۔مزید پڑھیں۔۔

اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:

علمدار نے ” لوکل ویب سرور بنائیے۔ دوسری اور آخری قسط” اپنے بلاگ پر پوسٹ کی۔

اس کے علاوہ منظر نامہ پر ” بلاگنگ کیا ہے؟ ” موضوع کا آغاز کیا گیا، جس پر بلاگرز کو لکھنے کو کہا گیا۔ اس  پر  میرا پاکستان، راشد کامران اور نبیل نقوی نے نہایت ہی معلوماتی تحاریر پوسٹ کیں۔ جن کا بہت شکریہ۔

نیوز اپڈیٹس:

–          وارث نے اپنا بلاگ بلاگ سپاٹ پر منتقل کیا۔ نیا ربط: http://muhammad-waris.blogspot.com/

–         “میری دنیا” نیا اردو بلاگ۔

–         “انکل ٹام”420 نیا اردو بلاگ

–         عمر احمد نے منظر نامہ پر “مہم برائے ایک بلاگر اور ایک کتاب” میں  حصہ لیتے ہوئے  ” کشف المحجوب” کتاب پر کام کر رہے ہیں۔

–         کراچی کے اردو بلاگرز کی ملاقات: شعیب کی زبانیفہیم کی زبانی

10 تبصرے:

  1. بہت اچھی اپ ڈیٹ ہے تقریباسارے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے
    میرا بلاگ بھی منظر نامہ میں شامل کیا جائے تو مجھے خوشی ہو گی، میں نے اردو ٹیک پر اپنا ایک نیا اردو بلاگ بھی بنایا ہے جس میں صرف اردو تحاریر شامل ہوں گی
    اس بلاگ کا ربط یہ ہے

    http://yasirimran.urdutech.net/

  2. آپ سب حضرات کا بہت شکریہ۔محنت وصول ہوئی۔

    یاسر: لنک اپڈیٹ کر دیا ہے۔ شکریہ۔

    ڈفر: میں ہر بار سوچتی ہوں کہ آپ کے بلاگ سے بھی پوسٹ لوں گی، یاد ہی نہیں رہتا تھا۔ آپ خود جو نہیں بھیجتے۔ 🙁

    محب: تمھاری پوسٹ تو نظر ہی نہ آ سکی۔ لیکن ابھی دیکھا۔ میں نے تمھاری پوسٹ شامل کر دی ہے۔ کافی معلوماتی تحریر تھی۔ 🙂

    باقی سب کا بہت شکریہ۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر