آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > فیصل سے شناسائی

فیصل سے شناسائی

السلام علیکم،

سلسلہ شناسائی میں ہمارے آج کے مہمان ایک پرانے بلاگر ہیں۔ گو کہ آپ کم ہی لکھتے ہیں لیکن آپ کی تحاریر نہایت ہی معلوماتی ہوتی ہیں۔ آپ کے لکھنے کا ایک خاص انداز ہے، آپ کی تحاریر کو اگر قاری پڑھے تو پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ فیصلیات کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں، یقینا آپ سب جان ہی گئے ہوں گے۔ تو آئیں  شاہ فیصل کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

خوش آمدیدفیصل

@ وعلیکم السلام اور شکریہ منظرنامہ ناظمین۔

کیسے مزاج ہیں؟

@ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں اور موڈ بھی اچھا ہے کہ آج کل کام زیادہ نہیں ہے  🙂

فیصل، سب سے پہلے ہم بلاگنگ سے آغاز کرتے ہیں۔

یہ بتائیں کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟

@ اردو پوائنٹ کی ویبسائٹ پر کچھ بلاگز دیکھے تھے اور وہیں پر انکی طرف سے دعوتِ عام بھی دی گئی تھی۔ یہ غالباً نومبر یا دسمبر 2006 کا ذکر ہے جب اردو پوائنٹ بلاگز پر نظر پڑی تھی۔

آپ نے خود کب سوچا کہ بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟

@ اردو پوائنٹ کی دعوت پر جی للچایا تو بلاگنگ شروع کر دی، یعنی بلاگنگ کا علم ہونے اور خود شروع کرنے کے مابین کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ۔ پہلی بلاگ پوسٹ بھی اردو پوائنٹ کی ویبسائٹ پرہی لکھی  جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ وجوہات تو بہت سی تھیں، ایک تو لکھنے لکھانے کا شوق پہلے سے تھا اگرچہ بات یونیورسٹیوں میں چھپنے والے میگزینز سے آگے کبھی بڑھی نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ اسطرح آپ اپنے خیالات اوروں تک پہنچا بھی سکتے ہیں اور انکے رد عمل کے نتیجے میں آپکے خیالات میں بھی پختگی آتی ہے، سو یہ بات بھی ذہن میں تھی۔ اسکے علاوہ تھوڑی شہرت بھی مل جاتی ہے جو تقریبا ً ہر شخص کو ہی اچھی لگتی ہے 🙂

بلاگنگ میں یا اردو لکھنے میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟ کیا مراحل طے کیے؟

@ آہ یہ تو لمبی داستان ہے۔ جہاں تک تکنیکی لحاظ سے مشکلات کا تعلق ہے تو میری مشکلات بھی ایک لحاظ سے دوسروں سے دگنا تھیں کیونکہ میں ونڈوز کی ساتھ ساتھ لینکس استعمال کرتا ہوں سو دونوں نظاموں میں اردو کا استعمال سیکھنا پڑا۔ لکھنے میں البتہ کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی قطع نظر اس سے کہ ہر پوسٹ خاصا وقت لے جاتی ہے۔

آپ زیادہ تر کن موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں؟

@ کوشش تو کرتا ہوں کہ مخصوص موضوعات پر ہی لکھوں۔ ایک طرف تو میں کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی پر کچھ نہ کچھ لکھتا ہوں تو دوسری طرف معاشرتی علوم یا سوشل سائنسز میں سیکھی  یا سوچی گئی باتوں کو سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ موضوع عام طور پر وہ ہیں جنکا سامنا ہم روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہیں اور اس بارے میں سوچتے ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کوئی فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ فائدہ تو یقیناً بہت ہوا ہے۔ اسطرح انسان کی اپنی سوچ کی سمت معین ہوتی ہے اور شخصیت بہتر ہوتی ہے۔ اپنی بات اوروں تک پہنچانے کا موقعہ بھی ملتا ہے اور دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے سو فائدے تو بہت سے ہیں۔ مجھے تو ہر پوسٹ سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ہی ملا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

@ اردو بلاگستان کی موجودہ تصویر اس وقت سے تو بہت بہتر ہے جب میں نے بلاگنگ شروع کی تھی سو امید ہے کہ آگے مزید بہتری ہو گی۔ آنے والے بلاگرز ہم سے بہتر ہی ثابت ہونگے اگر محنت کریں تو۔

کیا آپ کے خیال میں اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟

@ ہاں اور نہیں۔ ہاں اس لئے کیونکہ اسے پاکستان میں کم بولی والی زبان ہونے کے باوجود دوسری مقامی زبانوں کے مقابلے میں ، جو کہ شائد پاکستان کے 90 فیصد لوگوں کی زبانیں ہیں، سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہے۔ کچھ لوگ یقیناً یہ کہیں گے کہ یہ ہماری قومی زبان ہے اور اسے دیگر زبانوں پر فوقیت دیا جانا ٹھیک ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان جیسے بڑے ملک میں ایک سے زیادہ قومی زبانیں ہونا چاہیے تھیں۔ مثلاً بلجیم جسکا کل رقبہ تقریباً ساڑھے تیس ہزار مربع کلومیٹر ہے (صوبہ بلوچستان کا رقبہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے)، اور آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے، میں تین سرکاری زبانیں ڈچ، فرانسیسی اور جرمن ہیں۔ اسکے علاوہ انگریزی بھی سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ سو اس لحاظ سے تو اردو سے خاصا اچھا سلوک ہوا ہے۔

دوسری طرف میرا جواب نہیں میں اسلئے ہے کہ اگر ہم نے اسے قومی زبان بنا ہی لیا تھا تو پھر اس سے کم از کم قومی زبان والا سلوک کرتے لیکن ہم نے یہ حق بھی تو ادا نہیں کیا۔ انگریزی کو ہر معاملے میں فوقیت دی گئی ہے اور اگر آپکو انگریزی نہیں آتی تو چاہے آپ نے جرمن، فرانسیسی، جاپانی یا کسی بھی دوسری زبان میں انتہائی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رکھی ہو، پاکستان میں آپکا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ پہلے جواب دے دوں بلاگنگ سے متعلق کہ یہ آسان ترین ہے۔ میرے خیال میں اردو بلاگنگ مزید پھیلے گی۔ جیسے جیسے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی قیمت کم ہو گی اور ان تک دسترس طبقہ اشرافیہ سے نکل کر ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں تک آئے گی تو انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے اور لکھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو گا جو کہ اچھی بات ہے۔ اگرچہ اسکے کچھ نقصانات بھی ہونگے لیکن زیادہ تر فائدہ ہی ہو گا۔ جہاں تک میرے مستقبل کی بات ہے تو یہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات بہتر بتا سکتی ہے۔ اب تک کی زندگی میں پچھلے پانچ سات سال خاصے ناقابلِ پیش گوئی رہے ہیں۔ بہرحال امید ہے کہ مستقبل اچھا ہی ہو گا، ویسے بھی میرے انفرادی مستقبل سے کسی کو کیا فرق پڑنے والا ہے۔ اگر آپکا سوال صرف بلاگنگ سے جڑے میرے مستقبل کا ہے تو انشااللہ ارادہ تو ہے کہ اردو بلاگنگ جاری رہیگی۔ شائد ایک آدھ بلاگ انگریزی کا بھی ہو جائے کہ کئی دوست اور رفقائے کار اردو نہیں جانتے، ایک فوٹو بلاگ کی خواہش بھی کافی عرصے سے ہے۔ آپکے سوال کا آخری حصہ پاکستان کے مستقبل سے متعلق ہے۔ اب یہ سب سے مشکل حصہ ہے لیکن میرے خیال میں کچھ زیادہ نہیں بدلے گا، کئی لحاظ سے حالات بہتر ہونگے انشااللہ مثلاً اسوقت جو سیاسی بے چینی ہے یا ملک کے کچھ حصوں میں غیر معمولی صورتحال ہے ، یہ ختم یا کم ہو جائے گی اور پاکستانی قوم اس سے کندن بن کر نکلے گی۔ دوسری طرف کچھ مشکلات میں اضافہ ہو گا مثلاً آبادی کا دباؤ، پانی کی کمی، خوراک وغیرہ کے مسائل۔ لیکن بہر حال اسکا سامنا انشااللہ ہم کر سکیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں بڑے امتحانوں کیلئے تیار کر ہے ہیں اور سچی بات تو یہ کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں پاکستانی قوم نے کچھ دوسری اقوام کے برعکس زیادہ مشکلات نہیں دیکھی تھیں، حالیہ امتحان شائد مستقبل میں بڑے کردار کی تیاری ہیں۔

فیصل، آپ اتنا اچھا لکھتے ہیں، لیکن کم بلاگنگ کی کیا وجہ ہے؟

@ آہ۔۔۔ میری بڑی خواہش ہے کہ میں زیادہ لکھوں۔ لیکن نہ لکھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ میرے خیال میں آپکے لکھے گئے الفاظ قاری کی امانت ہوتے ہیں اور آپ اپنی لکھی گئی ہر بات کے ذمہ دار۔ اب یہ بات ہے تو سوچ سمجھ کر ہی لکھنا پڑتا ہے ورنہ بندہ کہتا ہے کہ نہ ہی لکھوں۔ دوسری بات کہ اچھا لکھنے کیلئے اس سے کہیں گنا زیادہ اچھا پڑھنا بھی پڑتا ہے۔ دنیا میں اتنا کچھ اچھا لکھا جا چکا ہے اور اب بھی لکھا جا رہا ہے کہ اسے پڑھنے پڑھتے وقت کی تنگی آڑے آ جاتی ہے سو اپنے لکھنے کو وقت ہی نہیں بچتا۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیت ہیں؟

@ پہلی مصروفیت تو تعلیم ہے۔ میرے خیال میں پی ایچ ڈی خصوصاً معاشرتی علوم میں پی ایچ ڈی آپکا بہت سارا وقت اور توانائی لے لیتی ہے جسکے بعد آپ روزمرہ کے کاموں کے علاوہ کچھ زیادہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

مستقبل میں کیا کیا منصوبے ہیں؟

@ بڑا ہو کر اچھا آدمی بننا ہے 🙂  اسوقت تو کچھ نہیں پتہ۔ انشااللہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دیکھوں گا۔ دل تو بہت سی چیزوں کو چاہتا ہے لیکن چونکہ بنیادی طور پر میں ایک نکما انسان ہوں اسلئے ان منصوبوں کو عملی جامہ کہاں تک پہنا پاتا ہوں، اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ویسے دل چاہتا ہے کہ پاکستان میں اوپن سورس ٹیکنالوجی پر کوئی پراجیکٹ کروں خصوصا تعلیمی و سرکاری اداروں میں اوپن سورس کمپیوٹنگ کی ترویج کےلئے، کوئی کام دیہی علاقوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کے لئے کروں جیسا کہ پڑوسی ملک بھارت میں ہو رہا ہے۔ ایک منصوبہ اوپن سورس ہی کی طرز پر کمیونٹی میڈیا کا بھی ہے جس پر کبھی لکھونگا انشااللہ۔ مختصراً یہ کہ معلومات تک رسائی کا ایسا نظام قائم کیا جائے جسکا مقصد کاروباری مفادات کی جگہ معاشرتی بہتری ہو اور یوں اسمیں کاروباری میڈیا گروپس کی جگہ عام لوگوں پر مشتمل سول سوسائٹی ادارے ہوں جو اپنی ہی جیسے دوسرے لوگوں تک معلومات کی ترسیل کریں۔ بلاگنگ، وکیپیڈیا، وغیرہ اسکی کچھ شکلیں ہیں لیکن اس نظام کو پاکستانی معاشرے میں ڈھالنے اور چلانے کی ضرورت ہے۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ اب میں کوئی ایسی عظیم شخصیت تو ہوں نہیں کہ میرا پیغام سن کر یا پڑھ کر لوگ تن من دھن سے اس پر کوشاں ہو جائیں گے لیکن پھر بھی یہ کہوں گا کہ اردو بلاگرز ایک چھوٹا سا خاندان ہیں، میری درخواست ہے کہ آپس میں اتفاق سے رہیں، مشترکہ منصوبوں پر توجہ دیں اور دوسروں کو بھی اس طرف راغب کریں کہ اردو اور باقی مقامی زبانیں بھی لکھی اور پڑھی جائیں۔

اب کچھ سوال ہٹ کر۔

کچھ اپنے خاندانی، تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟

@ کوئی لمبا چوڑا خاندانی پسِ منظر تو نہیں ہے۔ ہم دیہاتی قسم کے مڈل کلاس ملازمت پیشہ یا کسان لوگ ہیں۔ میں ہاشمی سید ہوں اور ہمارا خاندان ڈیرہ اسماعیل خان کے کچھ دیہہ میں پھیلا ہوا ہے، تھوڑا سا روحانی و دینی تعلیم والا سلسلہ بھی ہے اس لئے لوگ تھوڑی بہت عزت کرتے ہیں۔ تعلیمی پس منظر کی تو مجھے بھی آج تک سمجھ نہیں آئی۔ بی ایس سی آنرز زراعت میں کی، پھر دو عدد ایم ایس سی دیہی ترقی میں کیں۔ اب پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ اس میں میں پاکستانی این جی اوز اور شراکتی ترقی کے موضوعات پر تحقیق کر رہا ہوں۔ مختصراً یہ کہ تعلیمی فیلڈز بدلتی ہی رہی ہیں۔

آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟

@ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوا تھا اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد فی الوقت کینبرا، آسٹریلیا میں موجود ہوں 🙂

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ زندگی کا مقصد یہ ہے کہ جو زندگی کا مقصد ہے وہ پورا کر لوں۔ اب دعا کریں کہ اللہ میاں وہ مقصد مجھے بتا دیں۔ ویسے تو ہر مسلمان کی دینی ذمہ داریاں ہیں لیکن میں بظاہر دنیاوی مقصد کی بات کر رہا ہوں۔ خواہشات تو کئی ہیں۔ مثلاً چند ایک اچھی کتابیں لکھوں، فوٹو گرافی میں زیادہ مہارت پیدا کروں، پیسہ کماؤں، اچھا سا گھر بناؤں، والدین کی خدمت کروں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سب تو انفرادی خواہشات ہیں جنکی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ زیادہ خواہش اس بات کی ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو اپنی زندگی میں  اس مقام پر دیکھوں جسکے یہ حقدار ہیں۔ مسلم دنیا قانون، انصاف اور انسانیت کے معیار ات کو رائج اور نافذ کرنے میں مغرب سے بڑھ جائے۔  یورپی یونین طرز کی تنظیم مسلم دنیا میں بھی قائم ہو جسکی ایک کرنسی، ایک پاسپورٹ، ایک فوج ہو۔ اور بھی کئی خواہشات ہیں، آپ بور ہو جائیں گے سن سن کر اس لئے رہنے دیں۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟ یاد نہیں، کافی عرصہ ہوا کوئی باقاعدہ (ادبی) کتاب پڑھے ہوئے لیکن ممتاز مفتی (جنکے انداز ِ تحریر کی میں تقل کرتا ہوں یا کم از کم کوشش ضرور کرتا ہوں)، شفیق الرحمان، اشفاق احمد، مستنصر حسین تارڑ، کرنل محمد خان وغیرہ پسند ہیں۔ اگر آپ ضرور کوئی نام ہی چاہتے ہیں تو شائد ممتاز مفتی کی تلاش میری پسندیدہ کتاب ہے۔ مجھے اسکی کچھ کچھ سمجھ کئی مرتبہ پڑھنے کے بعد ہی آئی ہے۔

2۔ گانا ؟ جو بھی اچھا لگے سن لیتا ہوں۔

3۔ رنگ ؟ میرے خیال میں سبز کہ آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے اور نیلا کہ تصاویر میں بڑا اچھا لگتا ہے۔ویسے بحیثیت شوقیہ فوٹوگرافر کے، ہر رنگ اچھا لگتا ہے اپنی اپنی جگہ پر۔

4۔ کھانا( کوئی خاص ڈش )؟ سبزیاں زیادہ شوق سے نہیں کھاتا، چاول تقریبا ہر قسم کے اچھے لگتے ہیں۔

5۔ موسم؟ اب تو بھول سا گیا ہے۔ یہاں گاڑیوں اور عمارتوں میں درجہ حرارت ایک خاص سطح سے اوپر نیچے نہیں جانے دیتے اسلئے سردی گرمی کا زیادہ پتہ نہیں چلتا۔ ویسے خزاں کا موسم گرتے ہوئے پتوں کی وجہ سے اچھا لگتا ہے اور بہار کا موسم نئی کونپلوں اور پھولوں کی وجہ سے۔ گرمیوں میں آم ہوتے ہیں اور سردیوں میں خشک میوے 🙂

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟ اگر بلاگ لکھنے کی بات کرتے ہیں تو نہیں اور اگر پڑھنے کی بات ہے تو ہاں۔

2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟ میرا تو نہیں خیال لیکن اگر ہوتا تو اچھا تھا۔

3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ کیے پر تو شائد نہیں لیکن کہے پر البتہ اکثر افسوس ہوتا ہے۔

4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟ نہیں، مجبوری سے کرتا ہوں۔ کاش کہ کم بات میں زیادہ کہنے کا فن مجھے آتا۔

5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟ ہاں واقعی۔ خود سے شرم سی آتی ہے کہ کچھ نہیں آتا۔

6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟ ہے تو سہی لیکن پڑھ نہیں پاتا۔ پاکستان جا کر انشااللہ پڑھونگا۔

7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟ میرے خیال میں ہاں۔ آپ اپنا راز مجھے بتا سکتے ہیں، پیسوں کی توقع بھی رکھ سکتے ہیں اگر میرے پاس ہوں تب، اچھے مشورے کی توقع کر سکتے ہیں، غلط کام سے روکے جانے کی توقع کر سکتے ہیں تو میں اچھا دوست ہوں۔ اگر آپ صرف اچھی کمپنی کے متلاشی ہیں تو شائد نہیں۔

8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟ اب تو پھر بھی کم آتا ہے، پہلے بہت  زیادہ آتا تھا۔ اب بھی دوسرے لوگوں کی نسبت کچھ زیادہ آتا ہے لیکن یہ ہمارا خاندانی مسئلہ ہے، میرا کوئی قصور نہیں۔

دلچسپی:

1۔ شاعری سے؟ کسی زمانے میں تھی، پڑھنے سے نہیں، کرنے سے۔ پھر شادی ہو گئی 🙂

2۔ کوئی کھیل؟ کرکٹ، ہاکی، فٹبال، بیڈمنٹن کھیلی ہے۔ آجکل کچھ نہیں لیکن ٹینس سیکھنے کا شوق ہے۔

3۔ کوئی خاص مشغلہ؟ مطالعہ، فوٹوگرافی، سفر، ڈرائیونگ، کمپیوٹنگ، وغیرہ۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

@ اتنا کچھ تو پوچھ لیا ہے ابھی بھی کچھ رہ گیا ہے کیا؟

فیصل، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے انٹرویو دینے کا بہت بہت شکریہ۔

9 تبصرے:

  1. بہت اچھا لگا فیصل صاحب آپ کے بارے میں‌جان کر، آپ تو ماشاءاللہ اچھے خاصے عالم فاضل انسان ہیں، اور عنقریب ڈاکٹر بھی بن جائیں گے، ماشاءاللہ۔
    آپ کی شاعری چھوڑنی کی روداد عبرت ناک ہے بھائی 😉

  2. فیصل صاحب نے بہت اچھی باتین کہی ہیں لیکن ایک ایسی بات لکھی ہے کہ جسے سب بلاگر اپنا لیں تو اُردو بلاگنگ کا معیار بلند ہو سکتا ہے جو اُردو بلاگز کی ترقی میں ممدد ثابت ہو گا
    اچھا لکھنے کیلئے اس سے کہیں گنا زیادہ اچھا پڑھنا بھی پڑتا ہے

  3. فیصل سے ملکر خوشی ہوئی کہ اتنے دور رہ کر بھی اردو کے متوالے ہیں اور ڈاکٹریٹ کا سبجکٹ بھی اچھا ہے بہت کم لوگ اس طرف آتے (خاص کر پاکستانی) اللہ فیصل کو مزید کامیابیاں دے (آمین)

  4. فیصل صاحب کے بارے میں تفصیلی معلومات کا جان کر نہایت خوشی ہوئی۔ حالانکہ ان سے کم کم لکھنے کی شکایت رہتی ہے لیکن انکی تحقیقی اور تدریسی مصروفیات کے سبب شکایت کرنے کی ہمت نہیں‌ ہوتی 🙂

    اللہ آپ کو مزید کامیابیاں نصیب کرے اور اردو بلاگستان میں‌ شاہ فیصل جیسے پڑھے لکھے لوگوں کا موجود ہونا ہم سب کے لیے ایک نعمت ہے۔

  5. “شکریہ منظر نامہ کہ آپ نے اس قابل سمجھا۔ سب دوستوں کا بھی شکریہ کہ اتنی عزت دیتے ہیں ورنہ بندہ کسی کام کا نہیں ہوں میں۔ :oops:”

    آپ نے تو کہا تھا ک آپ شرمیلے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر