آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اقتباسات، ماہ کے بلاگ، اردو، بلاگنگ > مارچ 2009 کے بلاگ

مارچ 2009 کے بلاگ

معاشرہ و سیاست:

فیصل اپنی  ایک تحریر “آئی ایم ناٹ شیور” کے آغاز میں اپنے ایک پروفیسر کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ہر بات کا آغاز “آئی ایم ناٹ شیور” سے کرتے تھے۔ اور اسی تحریر میں آپ نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ہمیں ہر بات کا علم ہے۔ آپ کچھ اس طرح لکھتے ہیں۔۔۔

۔۔۔قصہ کچھ یوں کہ ہم طلبا کے ہر سوال کے جواب کا آغاز وہ “آئی ایم ناٹ شیور بٹ آئی تھنک۔۔۔” سے کرتے تھے، یعنی مجھے مکمل علم تو نہیں لیکن میرا خیال کچھ یوں ہے۔ جواب دینے کے بعد یا اس سے پہلے وہ کلاس کے باقی طلبا سے بھی انکی رائے طلب کرتے تھے اور ہم اپنی کم علمی کے باوجود پھول پھول کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ بہرحال پہلے پہل تو مجھے بڑا عجیب لگا کہ عجیب استاد ہے، کسی بات کا مکمل علم ہی نہیں رکھتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزرا، مجھے اس بات کی گہرائی کا احساس ہوا۔ اوروں کا تو نہیں پتہ، اپنی بات کرتا ہوں۔ یقین کیجئے مجھے تو یہ کہنا کہ مجھے کسی بات کا علم نہیں یا مکمل علم نہیں، بہت ہی مشکل ہے۔ انا آڑے آ جاتی ہے، اندر کھڑے بت لرزنے لگتے ہیں، پسینہ آ جاتا ہے، سانس چڑھ جاتی ہے اور پھر میں بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کر دیتا ہوں کہ نو، آئی ایم شیور، مجھے یقین ہے کہ میرا علم کامل ہے، درست ہے۔۔۔مزید پڑھیں۔۔

طنزومزاح:

اردو شاعری پر ایک مزاح کے طور پر لکھی ہوئی راشد کامران کی تحریر “خونی غزل” ایک بہترین تحریر ہے۔ راشد نے نہایت ہی  بہترین انداز میں اس تحریر کو لکھا ہے۔۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

۔۔۔اہل زبان ہونا بھی بڑا بوجھ ہے چاہے اپنی زبان بولیں یا نہ بولیں اس کی بے توقیری برداشت کرنا اپنے بس سے باہر ہے۔ راستے بھر حلوائی شاعر کے مجوزہ دیوان کے بارے میں سوچ سوچ کر جان ہلکان کرتے رہے پھر طرح طرح کے منصوبے بناتے رہے کہ کس طرح اپنی زبان کو اس میٹھی شاعری سے محفوظ رکھا جائے۔ اردو شاعری کا ہاضمہ پہلے ہی درست نہیں‌اس پر اسطرح کی آزادانہ اور شیریں نظموں سے شوگر لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ زبان سے محبت رکھنے والے زندگی بھر شاعری کو انسولین لگاتے نہیں دیکھ سکتے۔ اور خدانخواستہ کلو قصائی کے جاری عشق کی ناکامی کا خمیازہ بھی اردو شاعری کو بگھتنا پڑ گیا تو قلب و نظر کی شاعری کہیں چانپوں اور کلیجیوں کی نظر نہ ہو جائے۔ ویسے بھی قصائی چھیچھڑے ڈال کر وزن پورا کرتے ہیں اسطرح غزل تو ہوجائے گی لیکن بڑی خونی قسم کی ہوگی۔

سارہ پاکستان اردو بلاگنگ میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔ آپ اپنی  تحاریر میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ سنجیدہ معاملات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ آپ کی تحریر “قصہ کچھ ہماری  فطرت ثانیہ کا۔۔۔” میں بھی کچھ مزاح اور کچھ سنجیدہ حالات کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ آپ لکھتی ہیں کہ۔۔۔

۔۔۔طبقاتی فرق پر مشتمل ہمارا یہ معاشرہ بھی عجیب ہی ہے پہلے تو اچھے ڈاکٹر کو افورڈ کرنا ہی آپ کی مالی حیثیت کا آئنہ دار تھا پھر جب سے تعلیم کے شعبےپر بھی کر پشن کے شیداءیوں کی نظر عنایت بڑھی تو اب تو حال یہ ہے کہ ڈاکٹر بننا بھی آپ کے اسٹیٹس کو ظاہر کرتا ہے ۔ابھی تک تو ذہن انہی باتوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںتھا کہ کس طرح لوگ دھڑلےسے نقل کرتے سفارش کرواتے ،پیپرز میں نمبر لگواتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اب تویہ سب باتیں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ اب انہیں چھپانے یا ان پر شرمندہ ہونے کی بجائے بڑے فخر سے دوستوں کی محفل میں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔اور سننے والے سب بڑے رشک سے اس شخص کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس کی کرپشن کی داستان جتنی شرمناک ہوگی وہ اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے ۔مزید پڑھیں۔۔۔

ہمارے شاعر بلاگر محمد وارث کے بلاگ پر آپ کو شاعری سے متعلقہ تحاریر پڑھنے کو ملتی ہی رہتی ہوں گی۔ شاعری سے ہی متعلقہ ایک مزاح سے بھر پور تحریر “سبکسارانِ ساحل” میں آپ لکھتے ہیں کہ …

۔۔۔یقیناً “ہارٹ اٹیک” کی کیفیات کو فیض نے اسی نام کی نظم میں بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے لیکن کیا کیجے ان حضرات کا جنہیں بیدل جونپوری کے الفاظ میں اکثر کچھ ایسا درد اٹھتا ہے۔
ہیں یہاں دوشیزگانِ قوم بیدل با ادب
اس جگہ موزوں نہیں ہے فاعلاتن فاعلات
گرلز کالج میں غزل کا وزن ہونا چاہیے
طالباتن طالباتن طالباتن طالبات
لیکن دوشیزگان کے حق میں سب سے محلق وہ درد تھا جو ‘مَنّے موچی’ کے پیٹ میں اس وقت اٹھا جب اسکا بیٹا امریکہ سے ڈالر بھیجنے لگ گیا اور اس نے گاؤں کے چوہدری سے اسکی باکرہ بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلیے مانگ لیا، گویا دوشیزہ نہ ہوئی اردو شاعری ہو گئی۔
مزید پڑھیں۔۔

عمر احمد اپنی ایک تحریر”بھوکا” میں مشہور ہونے کی خواہش رکھنے والوں پر کچھ اس طرح سے طنز کر رہے ہیں۔۔۔

۔۔۔تو خوب سوچا! سر پیٹا، سوچتے اور سو جاتے، پیٹ بھر کر کھانے کو مل جاتا تو ہر نوالے کے ساتھ مشہور ہونے کی (ایک سو ایک) ۱۰۱ ترکیبیں بھی حلق پار کر جاتیں، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جنگل کی جانب نکل کھڑے ہوئے، جائے مخصوصہ جہاں اکثر بیٹھ کر سوچ وچار کیا کرتے، وہاں بیٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔
سوچا خودکشی کر لیں، جیو پر پٹی بھی چل جائے گی اور یہاں کی مقامی اخباروں میں چند روز چٹ پٹی خبر بھی، جان بھی چھوٹے گی اور مشہوری الگ!مزید پڑھیں۔۔

معلوماتی تحاریر:

اجمل صاحب نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک معلوماتی تحریر پوسٹ کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور چند حقائق کو سامنے لایا ہیں۔ آپ کے مشاہدے کے مطابق ہم وطنوں کے علم میں نہیں کہ دراصل 23 مارچ کو کیا ہوا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

آل اِنڈیا مسلم لیگ نے اپنا سالانہ اجتماع منٹو پارک لاہور میں 22 تا 24 مارچ 1940ء کو منعقد کیا ۔ پہلے دن قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا “ہندوستان کا مسئلہ راہ و رسم کا مقامی معاملہ نہیں بلکہ صاف صاف ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ اسی طرز سے سلوک کرنا لازم ہے ۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلافات اتنے بشدید اور تلخ ہیں کہ ان دونوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت اکٹھے کرنا بہت بڑے خطرے کا حامل ہے ۔ ہندو اور مسلمان واضح طور پر علیحدہ قومیں ہیں اسلئے ایک ہی راستہ ہے کہ انہوں اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں بنانے دی جائیں ۔ کسی بھی تصریح کے مطابق مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنے عقیدہ اور فہم کے مطابق جس طریقے سے ہم بہترین سمجھیں بھرپور طریقے سے روحانی ۔ ثقافتی ۔ معاشی ۔ معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ترقی کریں۔ مزید پڑھیں۔۔۔

مکی نے روزویل کا واقعہ سے متعلق ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس کا آغاز آپ کچھ اس طرح کرتے ہیں۔۔۔

آخر کار دوسری عالمی جنگ اپنے انجام کو پہنچی اور اپنے پیچھے ایسی تباہ کاریاں چھوڑ گئی جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، خاص طور سے جب کہ ایٹم بم سے دو جاپانی شہر “ہیروشیما” اور “ناگاساکی” پوری طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور دنیا دہل کر رہ گئی..

اور پھر دنیا نے ایک نئے دور کا آغاز کیا..مزید پڑھیں۔۔

مکی کی ہی ایک اور تحریر “زمان ومکان میں سفر” جو کہ نہایت ہی معلوماتی تحریر ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

بڑی ہی عجیب اصطلاح ہے یہ..

زمان ومکان..

شاید یہ سطور لکھنے تک بھی ہماری حواسِ خمسہ کبھی اس اصطلاح کی عادی نہ ہوسکی حالانکہ یہ ایک خالصتاً علمی اصطلاح ہے جو 1905ء سے مستعمل ہے..

یقیناً تاریخ پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور نا ہی یہاں طباعت کی غلطیوں کا کوئی امکان ہے، یہ اصطلاح واقعی ایک صدی سے زائد عرصہ سے مستعمل ہے..

اُس سال مشہورِ زمانہ سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک نیا علمی نظریہ پیش کیا جسے طبیعات اور ریاضی میں انقلابی حیثیت حاصل ہوئی اور جسے “خصوصی نظریہ اضافیت” کا نام دیا گیا.. مزید پڑھیں۔۔

شعیب نے طالب علموں سے متعلقہ تحریر “مطالعہ کرنے کے لئے بہترین وقت” لکھی، جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

امریکہ کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ علی الصباح بیدار ہو کر مطالعہ کرنے والے کالج یا یونیورسٹی کے طلبا رات گئے پڑھنے والے طلبا کی نسبت امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔

اسی سے متعلقہ تحریر” پڑھنا کب بہتراجمل صاحب نے اپنے تجزیے کے مطابق بھی لکھی۔۔جس میں آپ لکھتے ہیں کہ۔۔

۔۔۔امریکی ماہرین نفسیات نے درست کہا ہے لیکن شاید ایک صدی یا زیادہ تاخیر سے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے کئی اساتذہ نے یہ ہدائت ہمیں سکول کے زمانہ میں کی تھی کہ رات کو عشاء کے بعد سو جایا کریں اور صبح سویرے اُٹھ کر تھوڑی سی سیر کریں اور پھر نہا کر پڑھا کریں ۔ دوپہر کے بعد آدھ گھنٹہ آرام کریں پھر بیٹھ کر پڑھیں ۔ میرے اساتذہ کے مطابق رات آرام کرنے کے بعد صبح آدمی تازہ دم ہوتا ہے ۔ دوسرے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دن رات کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ صبح سویرے تازہ ہوا ہوتی ہے جو دماغ کو تازگی بخشتی ہے ۔ اسلئے جو سبق یاد کرنے میں رات کو تین گھنٹے لگتے ہیں وہ صبح ایک گھنٹہ میں یاد ہو جاتا ہے ۔ مزید پڑھیں

شگفتہ نے “اردو  کہیں کسے۔۔۔!!” ایک معلوماتی تحریر لکھی، جس میں نے انہوں نے اردو میں فارسی، عربی اور انگریزی  کے الفاظ شامل کر کے مکمل اردو کا پیراگراف بنایا ہے۔ جس میں آپ نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ۔۔۔

۔۔۔اردو کا اپنا ایک رنگ ہے باوجود اس کے کہ اس میں تمام ہی ابتدائی رنگ دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں ۔ اردو کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی وسعت بہت زیادہ ہے یہ ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور یہ مختلف رنگ اردو میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی زرخیزی اس زبان کے قد و قامت اور اس کے ادبی معیار کا پیمانہ بنتی ہے اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں اس کی قیادت کو ثابت کرسکتی ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ اہل زبان اسے کس طرح برتتے ہیں ، ان کی تنقیدی سوچ کی پرواز کتنی بلند ہے اور وہ ایک نظر میں بیک وقت کتنے رنگوں کی پہچان و احاطہ کر سکتے ہیں تاکہ اس زرخیزی سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ پہچان و احاطہ کو رسمی اصطلاح میں تنقید کہیں گے۔ تنقید ضروری عنصر ہے تعمیر کے لیے لیکن اگر نامکمل ہو تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے ۔ ۔ ۔ ؟ ؟۔۔۔

محمد  وارث کی تحریر “حرمِ کعبہ میں ابوجہل کی روح کا نوحہ – جاوید نامہ از اقبال سے اشعار” بھی ایک معلوماتی تحریرہے۔

اردو بلاگرز کے لیے مددگار مواد:

یو ایس بی میں لوکل ویب سرور اور ورڈ پریس کی انسٹالیشن کے بارے میں درویش نے اپنے بلاگ پر نہایت ہی معلوماتی تحریر پوسٹ کی۔

نیوز اپڈیٹس:

  • نعمان علی نے منظر نامہ پر “مہم برائے ایک بلاگر، ایک کتاب” میں حصہ لیتے ہوئے اپنی شاعری کی کتاب“دستک” کو پیش کیا۔
  • مکی نے بھی “ہم اضافیت اور کائنات” کو برقیا اور مہم ایک بلاگر ایک کتاب کے لیے پیش کیا۔
  • مارچ میں کراچی بلاگرز کی ایک ملاقات ہوئی۔ جس کا احوال فہیم نے اپنے بلاگ پر اس پوسٹ میں لکھا۔
  • نینی نے اپنے بلاگ پر پہلی اردو تحریر پوسٹ کی۔
  • باذوق نے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی منفرد تحریروں اور اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ شروع کیا۔ جس کو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
  • لانگ مارچ کے بارے میں تقریبا سبھی بلاگرز رپورٹنگ کرتے رہے۔

5 تبصرے:

  1. عمدہ، بہت ہی اچھے، جیتے رہو منظرنامہ، جیتو رہو اردو بلاگرز۔ :wel:
    جی میں‌تو کچھ مصروف تھا، لیکن ابھی ابھی شعیب صفدر صاحب کا بلاگ دیکھا تو، پہلی بلاگر کانفرنس کا زکر پڑھا، کیا ہی اچھا ہوتا اگر اردو بلاگرز، منظرنامہ پر کچھ اس طور بحث‌کر پاتے۔
    اور ابھی تو ہونے جا رہی ہے کانفرنس، تو اس کا آنکھوں‌دیکھا حال اور دوسرے احوال اگر منظرنامہ پر مل جائیں‌، تو کیا کہنے۔ ایک تجویز ہے۔ :hmm:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر