آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > محمد وارث سے شناسائی

محمد وارث سے شناسائی

السلام علیکم،

ہمارے آج کے مہمان ایک خاص مہمان ہیں۔ اگر آپ ان کے بلاگ پر جائیں تو پہلی نظر میں ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس بلاگ کے مالک کا ادب و شاعری سے گہرا لگاؤ ہے۔آپ کے بلاگ کو اگر پہلا اردو ادبی بلاگ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ آپ کو ان کے بلاگ پر اردو اور فارسی شاعری سے متعلقہ تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔ آپ کے بلاگ کا نام بھی غالب کے ایک شعر سے لیا گیا ہے۔ بلاگ کا عنوان “صریرِ خامۂ وارث” یعنی وارث کے قلم کی آواز ہے۔ اب تک تو آپ جان ہی چکے ہوں گے کہ ہم کس کی بات کر رہے ہیں۔ وارث طبیعتاً بھی نہایت ہی تحمل مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ تو آئیں باقی باتیں ہم محمد وارث سے کرتے ہیں اور ان کے بارے میں کچھ مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

خوش آمدید وارث

@بہت شکریہ ماوراء آپ کا اور منظر نامہ کا اور نوازش آپ کی خاکسار کے بلاگ کے متعلق ان خوبصورت کلماتِ تحسین کیلیے۔

وارث ، سب پہلے بلاگنگ سے آغاز کرتے ہیں۔

– آپ یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟

@بلاگنگ کا علم مجھے ‘اردو محفل’ سے ہوا تھا یہی کوئی ڈیڑھ دو سال پہلے۔

– کب سوچا کہ خود بھی بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟

@اردو محفل پر ہی بلاگنگ کے متعلق پڑھنے کو ملتا تھا اور وہیں سے پھر میں نے اردو بلاگز پڑھنے شروع کیے، کچھ عرصہ خاموش قاری بنا دیکھتا رہا اور جب یہ علم ہوا کہ بلاگ پر اپنا حالِ دل واشگاف الفاظ میں کہا جا سکتا ہے تو سوچا اپنا ایک بلاگ بناؤں، سو “بنا ڈالا”۔

– شاعری کے علاوہ کن موضوعات پر آپ لکھتے ہیں؟

@ہمارے ڈھاک کے وہی تین پات ہیں، شعر و شاعری و ادب کے متعلق ہی عموماً لکھتا ہوں، ہاں کچھ اپنی یادیں بھی کبھی کبھی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

– بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟

@ میں اس لحاظ سے خوش قسمت بھی ہوں اور بدقسمت بھی، خوش قسمت اس لحاظ سے کہ ‘اردو ٹیک’ پر بنا بنایا بلاگ، یا بقول جہانزیب پکا پکایا حلوہ مل گیا تھا، اور بدقسمت اس وجہ سے کہ اس طرح سیکھنے کو نہ ملا۔ لیکن جب سے اردو ٹیک سے اپنا بلاگ ‘بلاگ سپاٹ’ پر منتقل کیا ہے تو کافی کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔

– کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ اردو بلاگنگ کے تمام فائدے ‘غیر مادی’ فائدہ ہیں اور بہت سے ہیں، سب سے پہلے تو یہی احساس کافی ہے کہ آپ کی آواز دوسروں تک پہنچتی ہے اور پھر ایک تخلیق کے بعد جو راحت یا ‘سیٹیسفیکشن’ ملتی ہے اس سے سبھی بلاگرز واقف ہیں اور پھر یہ کہ میری زندگی میں انٹرنیٹ اور بلاگنگ سے ایک طرح کا تحمل در آیا ہے اور بات بات پر بھڑکنے کی جو عادت تھی وہ بالکل ہی ختم ہو گئی ہے۔

– وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

@ اردو بلاگنگ میں پچھلے کچھ عرصے میں کافی ترقی ہوئی ہے اور نئے اور اچھے اچھے بلاگز پڑھنے کو مل رہے ہیں گو یہ کہا جاتا ہے کہ دوسری زبانوں کے مقابلے میں اردو بلاگز نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن میرے خیال میں اردو بلاگز کا انگریزی یا دنیا کی دیگر زبانوں کے ساتھ مقابلہ کرنا نادرست ہے کہ کمپیوٹر پر ابھی اردو اس درجے تک نہیں پہنچی۔ پاکستان میں کمپیوٹر کے لاکھوں صارفین میں سے زیادہ تر کو تو یہی علم نہیں ہے کہ کمپیوٹر میں اردو کیسے لکھی جاتی ہے تو اردو بلاگز کا کیا حال ہے اس پر کچھ کہنا عبث ہے۔

دوسرے یہ کہ ابھی تک بہت سارے اردو بلاگرز صرف اور صرف ‘سیاست’ پر لکھتے ہیں، یہ کوئی بُرا موضوع نہیں ہے اور اپنے سیاسی خیالات کا ضرور اظہار کرنا چاہیئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں صرف یہی موضوع نہیں ہے بلکہ ‘اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا’ کے مصداق اردو بلاگرز کو علمی موضوعات اور زندگی کے دیگر اور ہلکے پھلکے موضوعات پر بھی لکھنا چاہیئے، ابھی تک سیاست اور مذہب پر زیادہ تر، کچھ معاشی مسائل اور شعر و ادب پر کسی حد لکھا جاتا ہے لیکن سائنس، تعلیم، تاریخ، فلسفہ، کتب، فن و فنکار، بچوں کے موضوعات اور تیکنیکی موضوعات وغیرہ بھی کافی کچھ لکھنے کو باقی ہے، امید ہے کہ ہمارے موجودہ فعال بلاگرز اور آنے والے بلاگرز اس طرف بھی توجہ دیں گے۔

– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟

@ بالکل نہیں ملا باوجود اس کے اردو بولنے اور سمجھنے والے کی تعداد میں پچھلے دس پندرہ سالوں میں بالخصوص جب سے پاکستان میں میڈیا وغیرہ نے ترقی کی ہے، بہت اضافہ ہوا ہے۔ اور پنجاب کے گوشے گوشے میں لوگوں کا رجحان اردو بولنے کی طرف ہے اور اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دینے کی طرف، لیکن اسطرح کبھی بھی اردو وہ مقام حاصل نہیں کر سکے گی جسکی وہ دنیا کی چند بڑی زبانوں میں سے ایک ہونے کے ناطے مقتضی ہے۔ پاکستان، اور یہ اس وجہ سے لکھ رہا ہوں کہ اردو کا زیادہ بڑا مرکز پاکستان ہی ہے، میں جب تک طبقۂ اشرافیہ اردو کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور احساسِ برتری کے برخود غلط سوچ کے خول سے باہر نہیں نکلتا تب تک اردو مظلوم ہے۔ دور کیوں جائیں، اپنی بلاگنگ کے حوالے سے ہی دیکھ لیں کہ اردو بلاگز اور اردو بلاگرز کے ساتھ دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہریوں سا سلوک ہوتا ہے۔

میں یہاں کوئی نام نہیں لینا چاہتا لیکن جب اسطرح کے سلوک کا سامنا مجھے کرنا پڑا تو ایک دفع خون ضرور کھولا تھا اور میں نے اردو بلاگنگ کو خیر باد کہہ کر انگریزی بلاگنگ کرنے کے بارے میں سوچا بھی تھا لیکن جیسے ہی اردو اور نستعلیق اور غالب اور اقبال آنکھوں کے سامنے آئے تو یہ لہر بھی ختم ہو گئی۔ لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اردو کا مستقبل تاریک ہے یا یہ زبان مٹ جائے گی، کبھی بھی نہیں۔

– آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ پاکستان، معذرت کے ساتھ، وہیں پر ہوگا جہاں پر اب ہے یا ساٹھ سال پہلے تھا، یہی سیاسی تماشہ گر ہونگے اور یہی فوجی و غیر فوجی شاہ گر۔ اردو بلاگنگ ماشاءاللہ ترقی کرے گی، اور ہو سکتا ہے کہ تب تک میرے بچوں میں سے بھی کوئی بلاگ لکھ رہا ہو، جہاں تک اپنی بات ہے تو اگر زندگی ہوئی تو تب بھی زبان پر غالب کا یہی شعر ہوگا جو اب بھی ہے۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

– بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

@ میری مصروفیات کچھ زیادہ نہیں ہوتیں، بس کمپیوٹر اور کتابیں۔

– کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ میں اس قابل نہیں ہوں ہوں کہ کچھ کہہ سکوں، ہاں غالب نے کہا تھا۔

ہر چند سَبُک دست ہوئے بُت شکنی میں

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

اب کچھ سوال ہٹ کر۔

– کچھ اپنے خاندانی، تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتائیں

@ میرے آبا و اجداد کا شاید ازلوں سے تعلق کاشت کاری سے ہے لیکن میرے والد صاحب مرحوم اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے نہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی بلکہ کاشت کاری کو خیر باد کہہ کر نوکری اور پھر اپنے کاروبار کی طرف آئے۔ اور اس وجہ سے انکی بہت خواہش تھی کی انکی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرے، لیکن میں ٹھہرا سدا کا ناہنجار اور ناخلف، وہ مجھے انجینیئر بنانا چاہتے تھے یا پھر فوج میں بھیجنا چاہتے تھے اور میں لیکچرار بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا، خیر درمیانی کڑی یہ نکلی کہ میں نے بزنس ایڈمینسٹریشن میں ماسٹرز کیا اور تب سے یعنی پچھلے تیرہ سالوں سے پرائی بیگار کر رہا ہوں۔

– آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟

@سیالکوٹ میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا، اور سوائے اڑھائی سال کے جو لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران گزارے اسی شہر میں رہا ہوں۔

– آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@زندگی میں میری کوشش یہی رہی ہے اور ہے کہ میری وجہ اور میری ذات سے کسی کو دانستہ یا نادانستہ کوئی دکھ، غم یا تکلیف نہ پہنچے لیکن افسوس کہ میری ہزار خواہش کے باوجود ایسا ہو جاتا ہے اور عموماً ان لوگوں کے ساتھ جو میرے اردگرد رہتے ہیں۔ خواہشیں کسی بھی انسان کی بہت ہوتی ہیں لیکن میری ایک خواہش جو شاید کبھی پوری نہ ہو سکے وہ معلم بننے کی ہے، کاش میرا پیشہ درس و تدریس کے متعلق ہوتا۔

ایک دوسری خواہش یہ ہے پچھلے دو تین سال سے کہ “آسان علمِ عروض” پر ایک کتاب لکھوں لیکن وسیع موضوع اور ‘رہینِ ستم ہائے روزگار’ رہنے کی وجہ سے یہ خواہش بھی ادھوری ہے لیکن اب شاید اس رنگ میں پوری ہو جائے کہ بجائے کتاب لکھنے کہ علمِ عروض پر میں ایک علیحدہ بلاگ شروع کرنا چاہ رہا ہوں لیکن اس میں بھی اپنی روایتی سستی آڑے آ رہی ہے۔

– ادب و شاعری سے آپ کو کافی لگاؤ ہے، آپ شاعری سے متعلقہ اپنے تعلق کے بارے میں کچھ بتائیں کہ آپ کو شاعری کا کب اور کیسے شوق ہوا؟ خود کب کہنا شروع کیا؟ اگر آپ کو اپنا کہا ہوا پہلا شعر یاد ہو تو وہ ہم سے ضرور شئیر کریں۔ اور شاعری سے ہی متعلق مزید کوئی بات ہو تو ہم سے شئیر کریں۔

@پڑھنے پڑھانے کا شوق نہ جانے مجھے کیسے بچپن میں ہو گیا تھا، چھوٹا تھا تو جنوں پریوں، ٹارزن اور عمرو عیار کی کہانیاں پڑھتا تھا، بڑا ہوا تو جاسوسی ناول پڑھنے شروع کر دیئے، کالج میں پہنچا تو کالج کی لائبریری دیکھ کر پاگل سا ہو گیا اور پھر بقول میرے دوستوں کے میری دوڑ صرف لائبریری تک رہ گئی تھی۔ شاعری کا شوق بھی اسی زمانے میں پیدا ہوا اور الٹے سیدھے شعر بھی کہنے شروع کیے لیکن پھر تین چار سال بعد ایک ایسا دور آیا کہ میں شاعری سے بالکل دور ہو گیا، شاعری کرنا تو دور میں نے پڑھنی بھی چھوڑ دی اور یہ لاتعلقی کم و بیش دس بارہ سال رہی اور اس عرصے میں دیگر موضوعات پر مطالعہ کرتا رہا۔

یہ جولائی، اگست 2006ء کی بات ہے جب مجھے اپنے بیوی بچوں سے کوئی تین ماہ کیلیے دُور رہنا پڑا اور اداسی اور شاعری کا ‘دورہ’ ایک ساتھ پڑا لیکن اس دفعہ میں نے تہیہ کیا تھا کہ یا تو شاعری علم عروض کو سمجھ کر اور وزن یں رکھ کر کرنی ہے یا اسے بالکل چھوڑ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوئی اور عروض کا ‘جن’ میرے قبضے میں آ گیا لیکن پھر وہی ہوا جو عموماً ہوتا ہے کہ جب چاند ‘قبضے’ میں آ جاتا ہے تو اسکی ساری کشش جاتی رہتی ہے۔ اور اب میں صرف نام نہاد ‘شاعر’ ہوں کہ شاعری بالکل بھی نہیں یا کبھی کبھار ہی کرتا ہوں۔

پہلے شعر کی جہاں تک بات ہے تو شاید یہ شعر وعر تو نہ ہو لیکن چونکہ باوزن کہنے کی پہلی ‘جسارت’ تھی سو یاد ہیں، دو شعر لکھتا ہوں۔

خُدائے مہرباں کی یہ عطا ہے

مجھے جو بس ترا ہی در ملا ہے

حُسین ابنِ علی کو بھیج یا رب

بپا جو یہ دگر اک کربلا ہے

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

بہت ساری ہیں، لیکن اگر صرف ایک ہی لکھنی ہے تو پھر ‘دیوانِ غالب’۔

2۔ شعر ؟

یہ بھی بے شمار ہیں لیکن یہ شعر عرصۂ دراز سے بہت پسند ہے۔

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالب

جادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

3۔ رنگ ؟

نیلا اور اسکے سارے شیڈز

4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟

قیمہ بھرے کریلے۔

5۔ موسم

دو تین سال پہلے تک سرما اور شدید سردی بہت پسند تھی لیکن اب سردی زیادہ لگتی ہے لہذا تمام معتدل موسم پسند ہیں۔

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟

کسی حد تک درست۔

2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟

غَلَط

3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

غلط

4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟

کسی حد تک غلط، اور میری بیوی کو مجھ سے سب سے بڑی شکایت ہی یہی ہے کہ میں زیادہ باتیں نہیں کرتا لیکن فون پر یا جب کوئی دوست آیا ہو تو پھر میں بولے ہی چلا جاتا ہوں، اب اسے کون سمجھائے کہ

پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیِ گفتار

رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟

درست

6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟

بالکل درست

7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟

مشکل سوال ہے کہ نیٹ کے دوستوں کے علاوہ، حقیقی اور ‘تھری ڈی’ زندگی میں میرا ایک ہی دوست ہے اور وہ بھی لنگوٹیا اور اسی وجہ سے اسکی رائے بھی ناقابلِ تحریر ہے۔

8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟

صرف اپنے آپ پر اور اپنی بیوی بھی، یعنی ایک ہی بات ہے۔

کوئی ایک منتخب کریں :

1۔ دولت، شہرت یا عزت؟

تینوں، اگر مل سکیں تو لیکن بقول شخصے ‘ایں خیال است و محال است و جنوں’۔

2۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟

اقبال

3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟

شادی کا میرا صرف ایک ہی تجربہ ہے اور وہ بھی بقول یوسفی، “میں نے اپنی بیوی کی پسند کی شادی کی ہے” سو اب کیا کہوں۔

5۔ پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟

اپنا کمرہ دنیا کے کسی بھی ملک میں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پوچھنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے پوچھا نہیں اور آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں۔

@میرے خیال میں تو کافی باتیں ہو گئی ہیں اور اب دوست بھی اکتا گئے ہونگے پڑھ پڑھ کر، سو یہی بہت ہے۔

وارث، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔

میں منظر نامہ اور ماوراء کا شکر گزار ہوں اس عزت افزائی کیلیے اور ان تمام قارئین کا بھی پیشگی شکریہ جو میری یہ بے سر و پا باتیں پڑھیں گے۔

21 تبصرے:

  1. وارث صاحب نے اپنے بلاگ کے اچھوتے پن کے سبب اردو بلاگنگ میں جو مقام پیدا کیا ہے وہ بذات خود ایک قابل تقلید عمل ہے۔ علم و ادب سے گہرا لگاؤ اور بھرپور مطالعہ ان کی ہر تحریر میں‌ جھلکتا ہے۔۔
    وارث صاحب کا انٹرویو پڑھ کر خوشی ہوئی اور دعا ہے کہ ان کے بلاگ کا انوکھا پن اور شگفتگی یونہی قائم رہے۔

  2. اچھا بی بی جی ۔ ہم اپنا راستہ بدل لیتے ہیں ۔ روز روز ٹیکسی کون کرائے
    😀
    خبرادار کوئی کچھ نہ کہے ۔
    :nahi:
    میرے بہت سے قریبی رشتہ دار سیالکوٹی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی لاہور بھاگ گیا ہے ۔ کوئی اسلام آباد ۔ کوئی کراچی اور کئی ملک ہی چھوڑ گئے ہیں
    :roll:

  3. مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی تو ایک سوال لکھ دیتا ہوں وارث صاحب کے بلاگ پر
    اور ایک تفصیلی جواب حاصل کر لیتا ہوں
    انکو درس و تدریس کا شوق ہے تو میں نے زبردستی کا استاد بنا کر انکا شوق اور اپمی ضرورت پوری کی ہوئی ہے :haha:

  4. وارث صاحب ان چند شخصیات میں سے ہیں جن سے میں انٹرنیٹ پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ جب وہ لکھنا پر آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسا وسیع مطالعہ کا حامل کوئی شخص اپنے علم کے موتی بکھیر رہا ہے۔
    وارث صاحب سے میری ایک گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو اپنے تاریخ کے مطالعے سے فیضیاب کریں۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوگی۔

  5. حُسین ابنِ علی کو بھیج یا رب
    بپا جو یہ دگر اک کربلا ہے
    واہ۔ بہت خوب 🙂

    اردو محفل اور بلاگنگ دنیا دونوں جگہ وارث کو پڑھنا ہمیشہ بہت اچھا لگتا ہے۔ اور یہ جان کر تو مزید خوشی ہوئی کہ وارث درس و تدریس میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 🙂
    ایک شکایت بھی ہے وارث سے کہ آپ اپنی شاعری اتنا کم کم کیوں پوسٹ کرتے ہیں 🙂

  6. جب یہ گفتگو عمل میں آئی تھی تب پڑھ کر چلا گیا تھا اب سوچ رہا ہوں لکھ کر چلا جاؤں۔

    وارث بھائی یہ گفتگو دوبارہ پڑھنے میں پہلے سے بھی زیادہ لطف آیا۔ کسی روز ان شاء اللہ تیسری بار پڑھ کر بھی دیکھوں گا۔

  7. لو جی یہ ہم کہاں پہنچ گئے :O چلو پہنچ ہی گئے تو کیا دقت تبصرہ کرتے چلیں. 🙂
    بہت اچھا لگا انٹرویو. یونی کوڈ کی دنیا میں میرا قدم رکھنا وارث بھائی کی بدولت تھا. اور یہی وہ شخصیت ہیں جن سے میں اردو ادب اور خاص علم عروض کے معاملے میں کافی متاثر ہوا.
    سلامت رہیں. 🙂

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر