آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو، بلاگنگ، کانفرنس، > نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009

نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009

منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ آج کراچی پاکستان میں پہلی نیشنل بلاگرز کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ جس کا انعقاد آئی ٹی ڈپارٹمنٹ آف سندھ وزیر محمد رضا ہارون نے کروایا تھا۔کانفرنس کے آغاز کا وقت چار بجے تھا لیکن باقاعدہ آغاز 5 بجے کے قریب کیا گیا۔
ایسی کانفرنس کا ایجنڈا کیا ہو سکتا ہے، یہ آپ لوگ اندازہ تو لگا ہی سکتے ہیں۔ ظاہری بات ہے کہ پاکستان میں بلاگنگ کے مقام یا بلاگرز کے مسائل یا پھر کچھ تجاویز و آراء سے متعلقہ ہی ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سوال پوچھنے پر ہمارے چند ایک بلاگر ساتھیوں کی طرف سے کچھ تنقید سامنے آ رہی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ تفصیل اگلی پوسٹ میں شامل کی جائے گی۔ ابھی میری ایک بلاگر سے اس بارے میں بات ہوئی ہے، باقی بلاگرز کے خیالات جاننے کے بعد اس پر مزید کچھ لکھا جائے گا۔

اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی میں ڈاکٹر فاروق ستار اور ارد شیر کاؤس جی شامل تھے، جبکہ دیگر اہم شخصیات میں وزیر محمد رضا ہارون اور بلاگرز میں سے ڈاکٹر اعواب علوی شامل تھے۔
کانفرنس میں صرف کراچی کے بلاگرز نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر سے کوئی بلاگر موجود نہیں تھا۔ اردو بلاگرز میں سے شعیب صفدر، ابو شامل، فہیم، عمار ، نعمان یعقوب، م م مغل اور شکاری (زاہد) نے شرکت کی۔ اگر تعداد کے حوالے سے بات کی جائے تو تقریباً 300 سے 350 تک لوگ اس کانفرنس میں موجود تھے۔ زیادہ تر تعداد 20 سے 30 سال کے درمیان کے لوگوں کی تھی۔

صرف چند منتخب لوگوں کو کانفرنس میں بات کرنے کا موقع دیا گیا، جس میں ڈاکٹر اعواب علوی اور جہاں آراء قابلِ ذکر ہیں۔ بلاگرز کو سوالات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ صرف 3 لوگوں نے ڈاکٹر فاروق ستار سے سوالا ت کیے تھے۔ جن میں ایک سوال یہ تھا کہ” ہمارے ملک کے صدر کی اگر ویب سائٹ دیکھی جائے تو وہاں ان کا صرف بائیو ڈیٹا ہے۔ جبکہ اگر امریکہ کے صدر کی ویب سائٹ دیکھی جائے تو وہاں آپ باقاعدہ سوال پوچھ سکتے ہیں اور صدر کی جانب سے باقاعدہ جواب دیا جاتا ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ گورنمنٹ جو اہم شخصیات کو پراڈو اور پجیرو گاڑیاں فراہم کرتی ہے اس کے بدلے ان کو ایک ایک لیپ ٹاپ دے دیا جائے۔ تاکہ عوام کے خیالات تو ان تک پہنچ سکیں۔”
اس سوال پر تالیاں تو خوب بجیں، لیکن ڈاکٹر فاروق ستار نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ ” کوشش کریں گے کہ اس قسم کی ایک سمری بنا کر آگے پیش کرسکیں۔”

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اردو بلاگنگ کے حوالے سے اس کانفرنس میں کیا بات چیت ہوئی تو اردو بلاگرز کو زیادہ بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ صرف کچھ لمحات دیے گئے جس میں عمار نے جلدی میں اردو بلاگنگ کے حوالے سے یہ بتایا کہ “اردو بلاگنگ آسان ہے اسی طرح جیسے انگریزی بلاگنگ۔ اور پاکستان میں زیادہ اکثریت اردو جاننے والوں کی ہے نہ کہ انگریزی جاننے والوں کی تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بجائے انگریزی کے اردو میں بلاگنگ کریں۔ تاکہ ہماری عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔۔۔۔۔”

کانفرنس تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی، انتظامیہ کی طرف سے پاکستان میں بلاگنگ کو فروغ دینے کی کوئی تجویز یا اقدامات اٹھانے کی کوئی بات سامنے نہیں آئی، اب تک جس بلاگر سے میری بات ہوئی، ان کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کو ایک کامیاب کانفرنس نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے کسی اور شہر میں اس قسم کے کسی ایونٹ کے منعقد کروانے کی بات بھی نہیں کی گئی۔ لیکن ان کا خیال یہ بھی ہے کہ جس طرح پہلے گوگل والوں نے منعقد کرائی تھی۔ اس طرح شاید پھر کوئی اور کمپنی کروائے۔ اور امید ہے کہ حکومتی سطح پر بلاگرز کے لیے کچھ نہ کچھ اقدام ہوں گے۔ آغاز تو ہو چکا ہے، اب دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔

ہماری کوشش ہو گی کہ اس کانفرنس کے بارے میں آپ تک مزید تفصیلات پہنچائی جا سکیں۔ عمار کے پاس مکمل تفصیلات ہوں گی، امید ہے کل تک عمار پوسٹ کر دے گا۔ اور باقی بلاگرز سے بھی کچھ معلومات ملنے پر منظر نامہ پر اپڈیٹ کر دیا جائے گا۔

فی الحال کچھ تصاویر بھی حاضر ہیں، جو ہم نے شعیب صفدر سے حاصل کی ہیں۔ مزید تصاویر یہاں ملاحظہ کیجیے۔

نوٹ: اس تحریر کی معلومات نا مکمل ہیں، اور ممکن ہے کہ اس میں کچھ درست بھی نہ ہو۔ کیونکہ یہ تفصیل ابھی صرف ایک بلاگر سے ہی مل سکی ہے۔ مزید اور مکمل تفصیل دوسرے بلاگرز سے جان کر پوسٹ کی جائے گی۔

12 تبصرے:

  1. فل نیشنل اور ایک مکمل کانفرنس ہونی چاہیے ۔۔ جو جس شہر میں بھی ہو وہا سے بیق وقت اسے انٹیرنیٹ پر بھی لائیو چلنا چاہیے سوال جواب کا سلسلا لمبا ہونا چاہیے تھا۔۔۔

    بیٹھنے کا انتظام خوب ہے ۔۔ شعیب بھائی دکھ رہے ہیں

    واوا رش ہے جی اچھا اس کی ویڈیو گر کسی نے بنائی ہو تو یوٹیوب ہرشیر کر دے تو میربانی

  2. شعیب، مکمل تحریر تو ابھی لکھی ہی نہیں۔۔ جلدی میں جو معلوم ہو سکا ہے وہی لکھا ہے، ہو سکتا ہے کہ مکمل طور پر درست بھی نہ ہو، لیکن میری فہیم سے بات ہوئی ہے۔ باقی انشاءاللہ عمار کی طرف سے مکمل پوسٹ کا انتظار رہے گا۔ 🙂

    اور جی بالکل آپ نے تصاویر کا لنک دیا ہے، شکریہ۔

  3. اس کانفرنس میں کیا ہوا وہ تو آپ لوگ ہی بتائیں گے لیکن میں نے اپنی زندگی میں بہت سی کانفرنسز دیکھی ہوئی ہیں اول تو اُن کا وہ مقصد نہیں ہوتا جو نام دیا گیا ہوتا ہے اور اگر کسی کانفرنس میں موضوع کے متعلق بات ککی جائے اور کوئی وعدہ کر لیا جائے تو کبھی پورا نہیں ہوا ۔
    بلاگرز کی جہاں تک بات ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ کانفرنس منعقد کی اُنہیں معلوم بھی ہے کہ بلاگ یا بلاگر گیا ہوتا ہے ۔ یہاں اسلام آباد میں جسے میں کہتا ہوں کہ میرا بلاگ ہے وہ پریشان ہو کر میرا منہ دیکھنے لگ جاتا ہے جیسے میں نے سنسکرت بول دی ہو ۔ مین بڑے برے سرکاری اہلکاروں کی بات کر رہا ہوں ۔

  4. کانفرنس ناکام ہرگز نہیں تھی مگر کوئی بہت کامیاب بھی نہیں تھی۔ بلاگرز کو زیادہ بولنے کا موقع نہیں ملا وقت بہت کم تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اردو بلاگنگ کی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوئے۔

    افتخار صاحب کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایم کیو ایم کے کئی وزراء نہ صرف بلاگز پڑھتے ہیں بلکہ ان پر تبصرہ جات بھی کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ایک رکن قومی اسمبلی پاکستانیت پر مفصل تبصرہ جات لکھتے ہیں کئی بار ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی مختلف بلاگز پر تبصرہ جات کرچکے ہیں۔ مجھے سب کے نام اور لنک یاد نہیں کہیں گے تو فراہم کردونگا۔

  5. گو کہ اس طرح کے پروگرامز ایسے ہی ہوا کرتے ہیں لیکن میں کانفرنس انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے تمام تر “مشکلات” کے باوجود آخر میں اردو بلاگنگ کو وقت دیا۔ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ بہت زیادہ وقت لگ جانے کے باعث کئی بلاگرز کو اپنی پریزینٹیشن پیش نہیں کرنے دی گئیں، اس لیے یہی غنیمت ہے کہ اردو کو 6 سے 7 منٹ دیے گئے۔ کم از کم ہم یہ باور کرانے میں تو کامیاب ہو ہی گئے کہ اردو بلاگنگ نامی کوئی شے بھی بلاگستان میں موجود ہے۔ حالانکہ میں وفاقی و صوبائی وزراء کی جانب سے کسی “خاص اعلان” کا بھی منتظر تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا 🙁 ۔
    اردو بلاگرز میں میں نعمان یعقوب کا بہت زیادہ مشکور ہوں کہ انہوں نے کافی محنت کر کے پریزینٹیشن کے لیے مواد ترتیب دیا اور پریزینٹیشن بنانے میں بھی انہوں نے بھرپور مدد کی۔ پھر میں عمار کا بہت مشکور ہوں جس نے بہت کم وقت میں ہماری عزت رکھ لی 😀 حالانکہ جس ٹینشن میں اس نے پریزنٹیشن پیش کی ہے کوئی اور ہوتا تو کبھی نہ کرپاتا۔ اس سلسلے میں میں اپنی تحریر میں کچھ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کانفرنس کے چند اور پہلو سامنے آئیں۔

  6. پہلی ہی کانفرنس میں سو فیصد نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی اسطرح کی کانفرنسز کا مقصد کسی قسم کی فیصلہ سازی ہوا کرتا ہے۔۔ اہم بات بلاگرز کا آپس میں مل بیٹھنا اور فرد کا فرد سے رابطہ ہوا کرتا ہے۔۔ بہر حال اچھا آغاز ہے اور ہوسکتا ہے مزید کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے اور ممکن ہے وفاقی حکومت بھی اس سطح پر کوئی قدم اٹھائے۔۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر