آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > conference > نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009

نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009

از: عمار ابنِ ضیاء

ماہ اپریل 2009 کے اوائل ہی میں شعیب صفدر نے اطلاع دے دی تھی کہ حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس میں اردو بلاگنگ کے حوالے پریزنٹیشن پیش کی جائے تو خوب رہے۔ اس سلسلے میں ہماری پہلی ملاقات کیفے نوبہار میں ہوئی جس میں مجھ سمیت شعیب صفدر، ابوشامل، نعمان یعقوب نے شرکت کی۔اس ملاقات میں چند ایسے بنیادی نکات جمع کیے گئے جن کے تحت پریزینٹیشن تیار کی جانی تھی۔ طے پایا کہ پہلے پریزینٹیشن کے تمام نکات باہمی مشورے سے طے کیے جائیں گے اور پھر ان کو ابوشامل اور میں پریزینٹیشن میں ڈھالیں گے۔

ہوا کچھ یوں کہ باقی سارے احباب تو بذریعہ ای۔میل رابطے میں رہے لیکن میں، اول اپنے دادا کی وفات اور دوم انٹرنیٹ سے رابطہ منقطع ہوجانے کے سبب میں پریزینٹیشن کی تیاری میں کسی قسم کی مدد تو درکنار، صورتحال سے باخبر بھی نہ رہ سکا۔ یہاں تک کہ کانفرنس سے ایک یوم قبل یعنی بروز جمعہ، نعمان یعقوب کے ہاں ملاقات طے پائی۔ حسبِ سابق، اس بار بھی ملاقات میں، مجھ سمیت شعیب صفدر، ابوشامل اور نعمان یعقوب شامل تھے۔ ابوشامل پاور پوائنٹ پر پریزینٹیشن تیار کرچکے تھے۔ نعمان کے ہاں بیٹھ کر تھوڑی بہت تبدیلیاں کی گئیں، اضافے کیے گئے اور طے پایا کہ پریزینٹیشن صرف اور صرف میں پیش کروں گا۔ حالآنکہ اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ میرے ساتھ نعمان بھی شامل رہیں گے۔

رات ساڑھے دس/ گیارہ بجے جب میں گھر پہنچا تو ارادہ اگرچہ یہی تھا کہ تھوڑی مشق کرلوں گا لیکن دن بھر کی تکان کے بعد ہمت بالکل نہیں رہی تھی لہٰذا ایک آدھ بار پریزینٹیشن دیکھ کر بند کردی اور پانی ڈال کر تازہ دم ہوا اور بستر پر۔

اگلے دن یونیورسٹی چلا گیا۔ وہاں کوئی کلاس نہیں ہونی تھی۔ صرف ’’تعلیم‘‘ کی کلاس میں ایک گروپ کی پریزینٹیشن تھی۔ سوچا کہ اس پریزینٹیشن سے شاید مجھے کچھ مدد مل جائے۔ وہ پریزینٹیشن بس مناسب تھی۔ وہاں سے دفتر چلا آیا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں نے اس پریزینٹیشن کو دیکھا، الگ سے کچھ نکات کی تفصیل بھی لکھ لی۔ تین بجے کے قریب فہیم اسلم کا فون آیا کہ وہ ریگل چوک پہنچ چکا ہے۔میں دفتر سے نکل کر اس کے پاس پہنچا اور ہم بذریعہ رکشہ سواری، ریجنٹ پلازا پہنچ گئے۔

کانفرنس کا احوال

ریجنٹ پلازا کے کوہِ نور ہال میں نیشنل بلاگرز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جب ہم (میں اور فہیم) ہال میں داخل ہوئے تو چالیس سے پچاس افراد موجود تھے۔ ہم نے بھی ایک میز سنبھال لی۔ ماوراء کی تجویز تھی کی منظرنامہ پر باقاعدہ اپ۔ڈیٹ کیا جاتا رہے۔ اول میں نے ٹوئٹر سے بذریعہ موبائل فون کنیکٹ ہونے کی بہت کوشش کی لیکن اس میں ناکامی رہی۔ isms.pk کی سائٹ میرا اسٹیٹس بروقت اپ۔ڈیٹ نہیں کررہی تھی۔ دوسری کوشش میری یہ تھی کہ ماوراء کو براہِ راست اپڈیٹ کرتا رہوں۔ اس کے لیے مجھے یوفون کی سِم کا سہارا تھا لیکن یوفون نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دغا کی۔ میں نے چار پیغامات بھیجے جو کہ میری طرف سے روانہ ہوئے بھی لیکن ماوراء کو ایک بھی موصول نہ ہوسکا۔ لہٰذا بروقت باخبر کرنے کے تمام تر منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

شرکا آمد کا سلسلہ اگرچہ کافی پہلے سے شروع ہوگیا تھا لیکن مہمانوں کے انتظار میں کانفرنس اپنے مقررہ وقت ۴ بجے کے بجائے ایک گھنٹہ تاخیر سے یعنی ۵بجے شروع ہوئی۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وزیر آئی ٹی برائے حکومتِ سندھ جناب رضا ہارون صاحب تھے۔ اس کے علاوہ معروف صحافی ارد شیر کاؤس جی بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید فرقانِ حمید سے کیا گیا۔ بعد ازاں گیارہ سال کی عمر میں مائیکروسوفٹ سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی طالبہ عمیمہ عادل کو بلایا گیا۔ صوبائی وزیر رضا ہارون نے بتایا کہ چند دن پہلے جب عمیمہ عادل ان کے دفتر آئی اور انہوں نے اسے پیش کش کی کہ اپنی مرضی کا تحفہ مانگ لو تو اس نے لیپ ٹاپ کی خواہش ظاہر کی جسے انہوں نے فوراً قبول کرلیا۔ لہٰذا عمیمہ عادل کو تالیوں کی گونج میں لیپ ٹاپ کا تحفہ دیا گیا۔

اس موقع پر عمیمہ عادل نے بتایا کہ وہ شروع سے نعت خوانی کیا کرتی تھی۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ پڑھائی میں اچھی نہیں ہوگی لیکن وہ نعت خوانی کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی ہمیشہ بہت اچھی رہی۔ ایک رات اس کی والدہ نے خیال ظاہر کیا کہ لوگوں کی باتیں غلط ثابت کرنے کے لیے اُسے آئی ٹی کے شعبہ میں کچھ کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی کے استاذ جناب اسد اللہ صاحب کی عمیمہ نے تعریف کی جنہوں نے بہت مدد کی اور اسے اس قابل کیا۔

بعد ازاں عمیمہ عادل نے مشہور نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے‘‘ کے کچھ بول بھی گنگنائے۔ ارد شیر کاؤس جی نے بھی بے حد سراہا۔ اس موقع پر کانفرنس کچھ سیاسی رنگ اختیار کرگئی جب صوبائی وزیر رضا ہارون نے جذباتی انداز میں یہ کہا کہ سوات کے علاقے میں لڑکی کو کوڑے مارنے والے، لڑکیوں کے اسکول بند کرانے والے ظالم دیکھ لیں کہ ہماری لڑکیاں اتنی باصلاحیت ہیں، کیا وہ ایسی لڑکیوں کا مستقبل تاریک رکھنے کے لیے انہیں تعلیم سے دور کررہے ہیں۔

پونے چھ بجے کانفرنس کی پہلی مقررہ جہان آرا کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنا بلاگ شروع کرنے کے اسباب بیان کیے اور ان موضوعات کا ذکر کیا جن پر لکھنا انہیں پسند ہے۔ انہوں نے معاشرے کی اس روایت پر افسوس کا اظہار کیا کہ لڑکیوں کو تعلیم میں پیچھے رکھ جاتا ہے اور ان کے مطابق یہی چیز ان کے بلاگ شروع کرنے کا محرک بنی۔

اس کے بعد عمار یاسر کو دعوت دی گئی۔ عمار نے اپنے چائے کے ڈھابے کا ذکر کیا اور اس پر شائع ہونے والی تحاریر کے موضوعات اور ان کے اعداد و شمار پیش کیے۔

اس کے بعد مائک، اسٹیج پر بیٹھے ارد شیر کاؤس جی کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں پہلے تو کانفرنس کی ضرورت، وجوہات اور اہمیت پر سوال جڑ دیا اور اپنے برابر میں بیٹھے رضا ہارون صاحب سے استفسار کیا کہ اگر وہ انہیں کچھ سمجھا سکیں۔ وزیر آئی ٹی رضا ہارون نے کانفرنس کے اسباب اور اہمیت پر روشنی ڈالی لیکن کاؤس جی اس سے مطمئن نہ ہوئے۔اِدھر اُدھر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنا تکیہ کلام ’’سالا‘‘ استعمال کیا لیکن فوراً ہی اس پر معذرت بھی کرلی۔ اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب اپنے برابر میں متحدہ قومی مومنٹ کے وزیر کی موجودگی کے باوجود یہ کہا: ’’میں ایم کیو ایم کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گا کہ ایم کیو ایم میری پسندیدہ جماعت نہیں ہے۔‘‘ اس پر رضا ہارون زیرِ لب مسکراتے رہے۔ تاہم کاؤس جی نے ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فاروق ستار کے اس مؤقف کی حمایت کی جو انہوں نے قومی اسمبلی میں نفاذِ عدل پر اپنایا۔

کاؤس جی کے بعد ڈاکٹر عواب علوی کو دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر عواب نے فریڈم آف اسپیچ کے موضوع پر تقریر کی۔ متنازعہ کارٹونز شائع ہونے کے بارے میں ڈاکٹر عواب کا مؤقف تھا کہ اس ایشو کو خاص مقاصد حاصل کرنے کے لیے اچھالا گیا اور عوام نے اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچا کر احتجاج کیا۔

رملا اختر نے بھی بلاگنگ کے حوالے سے پریزینٹیشن دی۔ دیگر کئی بلاگرز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض علی کے چشتی اور رابعہ غریب نے انجام دیے۔ کانفرنس کے درمیان ڈاکٹر فاروق ستار صاحب بھی تشریف لے آئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کانفرنس کی سب سے طویل تقریر تھی جس میں انہوں نے بلاگنگ، انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زور دیا۔

راجا اسلام کی پریزینٹیشن سب سے زیادہ دلچسپ تھی۔ راجا تصویری (فوٹو) بلاگر ہیں۔ آپ نے اپنے بلاگ کے محفوظات سے کچھ دلچسپ اور یادگار تصاویر پیش کیں جن کے پیچھے ایک کہانی تھی اور یہ تصاویر معاشرے کا کوئی نہ کوئی پہلو اجاگر کرتی تھیں۔

سب سے آخر میں، اردو بلاگنگ کے حوالہ سے ہماری پریزینٹیشن تھی۔ اگرچہ وقت بہت کم تھا، فاروق ستار کی طویل اور کچھ حد تک بے مقصد تقریر کانفرنس کا خاصا وقت لے چکی تھی اور اب انہیں ہی جانے کی جلدی تھی۔ لہٰذا جلدی جلدی میں اردو بلاگنگ کے حوالے سے میں نے اپنی پریزینٹیشن کے چند نکات پیش کیے اور یوں کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

آخر میں چائے کے ساتھ کچھ لوازمات پیش کیے گئے تھے۔ اس دوران چند بلاگرز اور دیگر افراد نے آکر اردو بلاگنگ کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔۔۔ جس کے بعد ہم اپنے اپنے مقامات کو لوٹ گئے۔

میرے خیال میں نیشنل بلاگرز کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے اور یہ ایک اچھی تقریب تھی لیکن بہرحال گوگل پاکستان اور سی آئی او پاکستان کے زیرِ اہتمام ہونے والے کراچی بلاگرز میٹ اپ سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام ہونے کے باوجود پریس/ میڈیا کی کوریج دیکھنے میں نہیں آئی۔

کانفرنس کے بارے میں دیگر بلاگرز کی تحاریر:
شعیب صفدر
ابوشامل
م۔م۔ مغل
ڈاکٹر عواب علوی
کراچی میٹرو بلاگ
عمار
فیصل کے
پرو پاکستان

کانفرنس میں جو اردو بلاگنگ کی پریزنٹیشن دی گئی، وہ آپ نیچے دئیے گئے لنک پر دیکھ اور ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

اردو بلاگنگ۔ پریزینٹیشن

پریزینٹیشن کی ویڈیو۔ بشکریہ م م مغل

6 تبصرے:

  1. میں بہت حیران ہو کہ اتنی اہم کانفرنس ۔۔ انٹیرنیٹ اور کمپیوٹر اور گیجٹس کا استعمال کرنے والے بڑے بڑے لوگ یہاں ہو گے اس وقت اور ؤیڈیو یہ نشر ہو رہی ہے ۔۔ کوئی نہین تھا اس تقریب کو کیپچر کرنے کے لہے ۔۔

    کیونکہ ساونڈ کی تو سمجھ ہی نہیں آرہی ۔۔

    میں یہ سب کہ رہا ہو اس لیے کہ میں تو کراچی کا ہو نہیں ساہیوال پنجاب کا ہو بہت من تھا کہ جان سکو کہ کے سی کانفرنس تھی ۔۔ امید تھی کہ کوئی ؤیڈیو بنائے گا اور شیر گرے گا پر اس ویڈیو کا ساونڈ تو بہت خراب ہے اور ہے 6 منٹ کی ۔۔ مجھے ابھی بھی امید ہے شاید کوئی اور اپلوڈ کر دے

  2. بلاگرزکانفرنس کا انعقاد ایک جانبدارانہ پلیٹ فارم اور ماحول میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ غیر مناسب اقدام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے ایسے شکوک شبہات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاگنگ اور بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی طور پر استعمال تو نہیں ہونے جارہے؟؟؟؟؟؟؟
    ہونا یہ چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسوسی ایشنز بنائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مقامی،صوبائی، قومی و بین الاقوامی کانفرنسز کا خود انعقاد کیجئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. گو کہ بلاگرز کانفرنس ایک سرکاری تقریب تھی لیکن اس میں شرکت بلاگرز کے کسی بھی پروگرام میں شرکت سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ ہم اس کے ذریعے اہم سرکاری شخصیات تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ اور اس میں شرکت کی اہم وجہ بھی یہی تھی کہ اردو بلاگرز کے وجود اور قومی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرانے کے لیے ایک پلیٹ فارم استعمال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر