آپ منظر نامہ پر کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟
منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔
اپریل کے آخر میں منظر نامہ کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ اسی لیے ہم نے سوچا کہ اردو بلاگرز سے پوچھ لیا جائے کہ آپ منظر نامہ کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں، یا ہمیں منظر نامہ پر مزید کیا کرنا چاہیے۔ سلسلہ شناسائی میں اب تک پچیس بلاگرز کے انٹرویوز لیے جا چکے ہیں۔ ان کے علاوہ اگر آپ کسی بلاگر کا انٹرویو پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں اس بلاگر کا نام دے سکتے ہیں۔ انٹرویوز کے علاوہ اگر آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہے تو ہمیں اس کے بارے میں بھی بتائیں، تاکہ منظر نامہ کو بہتر طور پر آپ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ آپ کی تجاویز اور آراء ہمیں منظر نامہ کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ اگر آپ میں سے کوئی منظر نامہ کو چلانے میں ہماری مدد کر سکے تو ہم اس کے مشکور رہیں گے۔ عمار بھی اس سال کے آغاز سے ہی مصروف ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ اب مصروف ہی رہے گے۔ اور میرے یعنی ماوراء کے بھی نہایت ہی مصروف دن نزدیک آ رہے ہیں۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ منظر نامہ کے منتظمین میں مزید لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے، تاکہ منظر نامہ کو ویران ہونے سے بچا لیا جائے۔ اگر آپ میں سے کوئی واقعی اس کام میں مدد کرنا چاہتا ہے تو پلیز ہمارے ای میل ایڈریس پر ہم سے رابطہ کریں۔ ہمارا ای میل ایڈریس ہے:mail[at]manzarnamah.com
ہمیں امید ہے کہ آپ میں سے کوئی نہ کوئی منظر نامہ میں ضرور دلچسپی ظاہر کرے گا۔ اگر آپ کے پاس بھی زیادہ وقت نہیں ہے تو پریشان نہ ہوں، مہینے میں کچھ وقت ہی منظر نامہ کو دینا ہو گا۔
ہماری قوم کی مثال کسی بزرگ نے سمندر کی جھاگ کی دی تھی کہ ایک دم اُبرتی ہے اور جلد ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ اصل مسئلہ خود تعلیمی کے فقدان کا ہے ۔ آپ کچھ بھی نیا شروع کریں ۔ بہت لوگ دلچسپی لیں گے بشرطیکہ بات دین کی نہ ہو ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ان کا شوق جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا کیونکہ بہت ہی کم لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں باقی تعلیمی نصب العین صرف سندیں حاصل کرنا ہے ۔ گستاخی کی معافی چاہتا ہوں ۔
کچھ بھی اچھا سا لکھتے رہیے، ہم پڑھتے رہیں گے، اردو میں ٹیکنالوجی کی خبریں لکھیں، اردو سافٹ ویر کی اپ ڈیٹس لکھیں، ویسے کچھ ایسے لوگ بھی شامل کرلیں جو تحاریر ،مضامین وغیرہ لکھیں
منظرنامہ کے بعد جب اردو ماسٹر کا آغاز کیا گیا تھا تب میں نے عمار سے کہا تھا کہ آپ پںگے بڑھاتے ہی چلے جا رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ سب ٹھنڈا پڑ جائے.. اور اب سب ٹھنڈا ہوتا نظر آرہا ہے..
بلاگروں میں زکریا صاحب کا انٹرویو لیا جائے..
مدد کے حوالے سے ذرا تفصیل سے بتائیے کہ کس قسم کی مدد درکار ہے.. اگر بات ہر ماہ بلاگوں کے تجزیے کی ہے تو کم سے کم یہ کام تو میرے بس سے باہر ہے..
اجمل چچا، بات ایسی نہیں ہے۔ میں تو اب بھی منظر نامہ کے لیے پرجوش ہوں، اور اس کو جاری بھی رکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ مجھے وقت نہیں مل رہا اور کم وقت میں یکسوئی سے کام نہیں ہو سکتا۔ اور عمار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی پڑھائی میں مصروف ہے۔
—
یاسر، بہت شکریہ۔ ٹیکنالوجی سے متعلق تو اردو ماسٹر ٹھیک رہے گا لیکن آخری تجویز پسند آئی۔ کہ لوگوں کو منظر نامہ پر شامل کیا جائے اور وہ اپنی پسند کی تحاریر بھی لکھ سکیں۔
—
مکی، اگر ہم سب لوگ مل کر کام کریں تو ہر کام چلتا رہے گا۔ اگر چند لوگوں پر ہی ساری ذمہ داری ہو گی تو شاید کوئی کام بھی ٹھیک سے نہ ہو سکے۔
زکریا کا انٹرویو منظر نامہ پر سب سے پہلا انٹرویو تھا۔ آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
اور ہم یہی چاہ رہے ہیں کہ کچھ عرصے تک کوئی منظر نامہ چلانے کی ذمہ داری لے سکے۔ اور اگر دو، تین لوگ ہو جائیں تو اس طرح کام مل بانٹ کر کر لیا جائے گا۔ کسی ایک پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ لیکن اس پر سوچتے ہیں اور پھر میں آپ کو مزید تفصیل کچھ دنوں تک میل کر دوں گی۔
آپ حضرات کا شکریہ۔
میری رائے میںتو منظر نامہ پر وہ سب کچھ ہے جو قارئین پڑھنا چاہتے ہیںبلاگرز کے انٹریوز اور بلاگز کا ماہانہ جائزہ اور پھر موضوعاتی تحریریں۔ صرف باقاعدگی کا مسئلہ جس کی وجہ آپ نے بیان کی ہے کہ مصروفیت ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی آپ کا کہنا درست ہے کہ اردو ماسٹر پہلے ہی اس کام کے لیے ہے۔۔۔۔ منظر نامہ پر مضامین کا مقابلہ بھی کرایا جاسکتا ہے جس میں کسی بھی موضوع پر مضمون لکھا جائے اور پھر قارئین کے ووٹوںکے ذریعے مضمون منتخب کیا جائے اسطرح اچھی کوالٹی کے مضامین جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔۔ لیکن اس کے لیے منظر نامہ کے منتظمین سے زیادہ اردو بلاگرز کی دلچسپی اہم ہے۔۔ میں اجمل صاحب کی بات سے متفق نہیںہوں بلکہ منظر نامہ پر اب تک جتنا کچھ ہوا ہے وہ اہم اور مناسب ہے۔۔ منظر نامہ روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنا مشکل بھی ہے اور اس کے قطعی مقصد سے ہٹکر بھی۔
عمار اور ماورا ’’منظرنامہ‘‘ بہت خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں لیکن ان کی مصروفیات کی بنا پر اب یہ منفرد بلاگ تھوڑا سا بے رونق ہوتا جا رہا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ عمار اور ماورا تو اس کے ایڈمن رہیں لیکن کچھ دنوں کے لیے کسی بھی دو بلاگرز کی ٹیم بنا کر منظر نامہ ان کے حوالے کیا جائے۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ اپنے دور حکومت میں وہ منظرنامہ میں کیا دلچسپی لاتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ انٹرویوز بھی لگا سکتے ہیں اور دیگر دلچسپ تحریریں بھی۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے اور منظرنامہ پر مختلف لوگ آتے جاتے رہیں۔
ایک اور بات یہ کہنا چاہوں گا کہ انٹرویوز تو آپ بہت اچھے کرتے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ یہ انٹرویوز چیٹ کے ذریعے کیے جائیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے آپ سوال لکھ کر ارسال کر دیتے ہیں اور مہمان اس میں جواب لکھ کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ جب بات لائیو ہو رہی ہو تو زیادہ مزہ آتا ہے کیونکہ بات سے بات اور سوال نکلتا ہے۔ جبکہ جو طریقہ آپ نے اپنایا ہوا ہے اس سے انٹرویو تو پڑھنے کو مل جاتا ہے لیکن تشنگی کا احساس رہتا ہے۔
انٹرویو تو منظر نامہ کے منتظمین نے بہت سارے بلاگروں کا کیے ۔ جو بہترین تھے لیکن آپ دنوں خود کب انٹرویو کے کٹھرے میں پیش ہونگے۔
بہت دنوں بعد آج منظرنامہ پر آنا ہوا تو یہاں چند سوالات منتظر ہیں۔
پہلا سوال تو یہ ہے کہ آپ منظرنامہ پر کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہم منظرنامہ کو اردو بلاگنگ کے ایک پلیٹ فارم کی حیثيت سے دیکھنا چاہتےہیں اور اردو بلاگنگ کی ترویج کے لیے گزشتہ چند دنوں سے ایک تجویز میرے دماغ میں کلبلا رہی تھی کہ پاکستان کے معروف انگریزی بلاگرز کے انٹرویوز بھی لیے جائیں۔ اور ان سے سوالات بھی اسی طرح کے کیے جائیں جیسے وہ اردو اور اردو بلاگنگ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اور اردو کی ترویج کے لیے اگر وہ اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو کس صورت میں ڈال سکتے ہیں؟ اور پاکستان میں انگریزي اور اردو بلاگنگ کے درمیان خلیج کا سبب کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
علاوہ ازیں جس اردو بلاگر کے انٹرویو کی اشد ضرورت ہے وہ ہیں کراچی سے نعمان یعقوب! ان کا انٹرویو ضرور لیں۔
دوسری بات مجھے بہت شرمندگی ہے کہ میں چاہنے کے باوجود شاید منظرنامہ کو وقت نہ دے سکوں۔ وجوہات غالباً بتانے کی ضرورت نہیں۔
مجھے بہت افسوس ہے کہ یہ تحریر ایک ماہ قبل کی ہے جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ منظرنامہ کو ویران ہونے سے بچایا جائے اور اندازہ ہوتا ہے کہ منظرنامہ واقعی ویران ہوتا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں اگر میں تھوڑا کچھ کر سکوں تو مجھے بتا دیجیے کہ کیا کرنا ہوگا۔ کچھ نہ کچھ وقت کہیں نہ کہیں سے نکال کر شاید کرسکوں۔