آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > انٹرویو، اردو، بلاگ، نظامی > الف نظامی سے شناسائی

الف نظامی سے شناسائی

السلام علیکم،

آج جن مہمان سے ہم بات چیت کرنے جا رہے ہیں، انہوں نے بلاگنگ 2007 میں شروع کی، گو کہ کم کم ہی بلاگنگ کرتے ہیں، لیکن  انٹرنیٹ پر اردو کی دنیا میں  ایک جانا پہنچانا نام ہیں۔آپ کو ان کے  بلاگ پر اکثر خطاطی کے بارے میں  پڑھنے کو ملتا ہے۔ الف نظامی کے نام سے جانے جاتے ہیں  اور  “اوراق ” کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں۔ آئیں مزید بات چیت ان سے کرتے ہیں اور ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

خوش آمدید الف نظامی

@ بہت شکریہ۔

الف نظامی، سب  پہلے بلاگنگ سے آغاز کرتے ہیں۔

–        آپ  یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟

@ سب سے  پہلا یونیکوڈ حرف جومیں نے  کمپیوٹر پر charmap نامی اطلاقیے کی مدد سے لکھا وہ “اردو” تھا۔ جس کو گوگل تلاش کیا تو اردو محفل مل گئی۔ اردو سیارہ بھی قائم ہوا تو بلاگ سپاٹ پر بلاگ بنا لیا جس کی پہلی پوسٹ 11 November 2005کو لکھی۔  بلاگ سپاٹ پر پابندی لگی تو اردو ٹیک پر آگیا اور اس وقت سے یہیں ہوں۔

–        کب خیال آیا کہ اپنا بھی بلاگ بنایا جائے؟ اور کیا محرکات تھے بلاگ شروع کرنے کے؟

@کوئی خاص محرک نہیں تھا ، بس بنا لیا تھا۔

–        آپ کو بلاگ پر کس قسم کے موضوعات پر لکھنا پسند ہے؟

@اردو کمپیوٹنگ ، شعر و ادب ، حمد نعت ،  خطاطی اور خطاطان۔

ریاضی اور پروگرامنگ پر لکھنے کی خواہش ہے اگرچہ ابھی تک کچھ لکھ نہیں سکا۔

–        بلاگنگ کے آغاز میں  کن  کن مشکلات کا سامنا رہا؟

@ بلاگ کی سٹائل شیٹ اور ایچ ٹی ایم ایل مدون کرنے کا علم تھا اور ادارہ تحقیقات اردو کے صوتی تختہ کے ذریعے اردو لکھنا کافی آسان تھا ، لہذا کوئی خاص مشکل نہیں ہوئی۔

–        کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی  فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ بلاگ کی مدد سے ایک ذاتی فائدہ یہ ہوا کہ اپنے پسندیدہ موضوعات کو یکجا کرسکا ہوں۔

–        وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کا دائرہ کافی وسیع ہوا ہے۔ کیسا دیکھتے ہیں موجودہ منظر کو اور نئے آنے والے بلاگرز سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

@ اردو بلاگروں سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ بلاگر کانفرنسوں کے انعقاد سے کافی لوگوں کو اردو بلاگنگ کا علم ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اردو بلاگروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ عوام الناس کو اردو لکھنے پڑھنے سے روشناس کرایا جائے۔

–        آپ کیا سمجھتے ہیں کہ  اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟

@ جتنا زیادہ اردو کو لکھا ، پڑھا ، بولا جائے گا ، اتنا ہی اس کا مقام بلند ہوگا۔

–        آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو، اردو بلاگنگ کو اور پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے اور پاکستان کے نوجوان باشعور اور باہمت ہیں ، اردو بلاگنگ ان شا اللہ  وقت کےساتھ ساتھ بڑھے گی۔

–        بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

@ ملازمت ، پروگرامنگ ، مطالعہ کتب۔

–        کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ جمود نہیں ، تحرک ، ان تھک محنت۔

نہ کہہ,  کرکے دکھا!

مستقبل اردو کا ہے۔

اب کچھ سوال ہٹ کر۔

آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام؟

@ راولپنڈی ، راولپنڈی

–        آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@اچھا انسان بننا ، اردو

–        آپ  کے بلاگ پر اکثر خطاطی سے متعلقہ تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں، اس کے بارے میں کچھ بتائیں کہ خطاطی کا شوق کیسے اور کب  ہوا؟

@ بچپن سے ہی والد صاحب تختی لکھوایا کرتے تھے اور مرقع زریں سے نظری استفادہ کرنے کا موقع ملا ، لہذا خطاطی سے لگاو پیدا ہوگیا۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

قرآن

2۔ شعر ؟

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تیری اگر

ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ

3۔ رنگ ؟

نیلا

4۔ کھانا(کوئی خاص ڈش) ؟

بریانی

5۔ موسم

موسم گرما ، موسم سرما ، دونوں پسند ہیں۔

غلط/درست:

1۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟

درست

2۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟

درست

3۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟

یہ تو دوست بتا سکتے ہیں۔

کوئی ایک منتخب کریں :

1۔ علامہ محمد اقبال، خلیل جبران یا ولیم شکسپئر؟

علامہ اقبال

2۔ پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟

پاکستان

الف نظامی، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔

بہت شکریہ۔ اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے۔

13 تبصرے:

  1. میں بڑی مایوسی کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ میری معلومات میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا
    🙂
    الف نظامی صاحب کا اسمِ مبارک جب میں نے انٹرنیٹ پر پہلی بار پڑھا تو سمجھا کہ مجھ سے بڑے کوئی بزرگ ہیں ۔ ایک بار میں نے اپنے بلاگ پر ایک درخواست لکھی کہ اس قسم کی کتاب کہاں سے ملے گی مجھے اس کتاب گھر کا پتہ مہیا کر دیجئے ۔ تو دو اشخاص نے میرا پتہ اور ٹیلیفون نمبر پوچھا ۔ ایک خاور بلال صاحب اور دوسرے الف نظامی صاحب ۔ خاور بال صاحب کا ایک دن ٹیلیفون آیا کہ اُنہوں نے مجھے بذریعہ ٹی سی ایس متعلقہ کُتب بھیج دی ہیں ۔ میں نے نمبر دیکھا تو کراچی کا تھا ۔ بعد میں وہ ملک سے باہر چلے گئے ۔ پھر ایک دن ہمارے گھر کے باہر کے پھاٹک کی گھنٹی بجی ۔ ہم چار بھائی اکٹھے رہتے ہیں میں پچھلے حصہ میں ہوں ۔ میں نے انٹر کام پر السلام علیکم کہا تو جواب ملا “الف نظامی” جب باہر نکلا تو سامنے ایک نوجوان چھوٹی چھوٹی داڑھی والا کھڑا تھا ۔ اندر بُلایا ۔ الف نظامی صاحب میرے لئے چار کتابوں کا تہفہ لائے تھے ۔ اس کے بعد میں الف نظامی صاحب کیلکھی ہر بات نہ صرف پڑھتا رہا ہوں بلکہ اُن کی ہیئت پر غور کرتا رہا ہوں ۔ چنانچہ اب میں اں کے متعلق جو اُوپر لکھا گیا ہے اس سے بہت زیادہ جانتا ہوں ۔
    جو جد و جہد میں نے نوجوانی میں شروع کی تھی اور اب تک جاری ہے مجھے تسلی ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے الف نظامی اور ان جیسے کئی اور نوجوان اسے جاری رکھیں گے اور میری اطمینان سے مر سکوں گا ۔
    صرف ایک بات کا افسوس ہے کہ باوجود دلی خواہش کے میں ابھی تک الف نظامی صاحب کے درِ دولت کی زیارت نہیں کر سکا ایک دو بار کوشش بھی کی تھی لیکن اُس علاقہ میں پہلے کبھی نہ گیا تھا اسلئے نہ پہنچ سکا ۔ میری بدقسمتی کہ میرے موبائل فون میں گڑبر ہوئی ۔ اسے ٹھیک کروانے گیا تو ٹھیک کرنے والے نے بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری میموری صاف کر دی

  2. انٹرویو پڑھ کر اچھا لگا
    اور انکل اجمل کا تبصرہ بھی انٹرویو کا حصہ بنا دیا جائے
    کیا ہی اچھا ہو کہ جسکا انٹرویو ہو اس کی بلاگی زندگی سے ہٹ کر دوسرے بلاگروں سے ”فیڈ بیک“ لے لی جائے (اگر ممکن ہو تو ) جیسا کہ اجمل انکل نے دی ہے

  3. نظامی کے اندر جوش بہت زیادہ ہے، جذباتی بھی بہت ہیں لیکن افسوس کہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے بلاگ کو بہت زیادہ استعمال نہیں کرتے (میری طرح)۔
    خیالات کے اظہار کے لیے بلاگ ایک موثر ذریعہ ہے اور نظامی اظہار کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں اس کے باوجود جذباتی تحاریر نہ ہونے کے برابر دیکھیں۔
    جیتے رہیے۔
    انٹرویو لینے پر منظرنامہ کا بہت شکریہ۔

  4. جن حضرات نے نظامی صاحب کے انٹرویو کے حوالے سے شکایت کی، ان کو بتاتی چلوں کہ نظامی صاحب نے خود ہی بہت سے سوالوں کے جوابات نہیں دئیے، یہاں تک کے اپنا نام بتانے سے بھی منع کر دیا۔ 🙁 اسی لیے اس انٹرویو سے ان کے بارے میں زیادہ شناسائی نہ ہو سکی۔ لیکن پھر بھی نظامی صاحب کا شکریہ، جنہوں نے وقت نکال کر انٹرویو دیا۔ 🙂

    ماوراء

  5. ماشاءاللہ -الف نظامی کے تو ہم مداح ہیں ایک مدت سے-
    ویسے یہ منظرنامہ تو کمال کا ہے شخصیات کو دریافت کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہورہا ہے –

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر