آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > 2009 > اپریل 2009 کے بلاگ

اپریل 2009 کے بلاگ

منظر نامہ کے قارئین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔

اپریل کے اقتباسات لکھنے میں بہت دیر ہو گئی، جس کی وجہ یہی تھی کہ عمار اور میں امتحانات میں مصروف تھے۔ میں کچھ فارغ ہو گئی ہوں، اور منظر نامہ کی طرف توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گی۔ اپریل میں اردو بلاگنگ میں کیا کیا ہوا، اس بار ذرا مختصر سی نظر ڈالتے ہیں۔

طنز و مزاح

سب سے پہلے راشد کامران کی تحریر سے آغاز کرتے ہیں۔ راشد کامران مزاح پر نہایت ہی عمدہ لکھتے ہیں، آپ  کی چند پچھلی تحاریر بھی داد کے لائق تھیں۔ اپریل میں آپ کی تحریر “حقہ ۔۔ زیر زمین وکی پیڈیا سے ایک ورق” جو کہ “حقے” سے متعلقہ ہے،جس میں آپ نے حقے کی تاریخ، ساخت و استعمال پر لکھا ہے، آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔

۔۔۔حقے کی تاریخ۔
مغل شہزادوں کی تعداد اور عمر میں خاطر خواہ اضافے کے پیش نظر کہاجاتا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کچھ ایسی خواہش ظاہر کی کہ “شہزادہ بھی مرجائے اور ملکہ بھی نہ روٹھے”۔ مغل فیملی ڈاکٹر نے ظل الہٰی کے حکم کی تعمیل میں حقے کا نسخہ پیش کیا اور دربار سے وابستہ ہر فرد کے لیے حقہ کا استعمال لازمی قرار پایا۔ جہاں کسی شہزادے نے تخت شاہی کے زیادہ قریب ہونے کی کوشش کی محل کے خواجہ سراؤں نے بادشاہ کے تیور دیکھتے ہوئے چلم میں سنکھیا رکھوا دی۔ تاریخ‌ کی کتابوں میں درج ہے کہ ایک ہی کش میں شہزادہ دھویں کا مرغولا اڑانے سے پہلے ہی رحمتہ اللہ علیہ ہوجایا کرتاتھا۔۔۔مزید پڑھیں

اظہر الحق دل میں درد رکھنے والےپاکستانی بلاگر ہیں، آپ کی اکثر تحاریر ملک کے حالات پر مبنی ہوتی ہیں۔ آپ نے اپنی ایک تحریر میں ایک دہشت گرد سے انٹرویو لیا، جس میں آپ لکھتےہیں کہ۔۔۔

آپ کا نام ؟
-دھشت گرد!!

– آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں !!
– دھشت نگری سے ، ویسے کچھ لوگ اسے پاکستان بھی کہتے ہیں !!

– اچھا ، مگر پاکستان میں تو اچھے لوگ رھتے ہیں
– ہاں مگر اب ہم نہیں رہنے دیں گے ، اپنی جان قربان کر کہ انہیں اپنے جیسا بنا دیں گے !!

– اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ اپنی قومیت یا مذہب بتا دیں
– دھشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا قومیت بھی نہیں ہوتی صرف دھشت مذہب اور دھشت گردی قومیت ہو سکتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

آپ بیتی

اظہر الحق کی ہی ایک تحریر  جو ان کے اپنے اور پاکستان سے تعلق کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ “ میری پہچان، پاکستان” میں آپ لکھتے ہیں کہ  جب گیارہ سال پہلے وہ یو اے ای میں گئے تھے، تو اس وقت سے اب تک  پاکستانیوں سے متعلق حالات بہت مختلف ہیں۔

“۔۔۔میرے لباس میں شلوار قمیض لازمی ہے ، میں کھانے پینے کے معمالے میں پاکستانی کھانے پسند کرتا ہوں ، میں اردو بولنا اچھا سمجھتا ہوں ، یعنی میں اندر اور باہر سے پاکستانی ہوں ، وہ ٢٣ مارچ ہو ١٤ اگست ہو یا پھر ٢٥ دسمبر ، میں آفس میں فخر سے اپنے سینے پر پاکستان کا پرچم سجاتا ہوں ، یہ چھوٹا سا دھاتی پرچم ہے ، جو آج سے ١٢ سال پہلے میں نے کراچی سے لیا تھا۔۔۔”

۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ اب ہم سبکو ڈر لگتا ہے ، کیوں   ۔ ۔ ۔ ہم دھشت گرد ہو چکے ہیں ، بیرون ملک ہماری پہچان اب دھشت گرد کے نام سے ہوتی ہے ، مجھے آج بھی ایک انڈینز دوست کی بات یاد آتی ہے کہ اظہر تم لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ پاکستانی دھشت گرد بھی ہو سکتے ہیں ،  مگر اب میں کیا جواب دوں کسی کو ، ساری دنیا ہمیں دھشت گرد کہ رہی ہے ، میں لاکھ کہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش ہے ، مگر کون مانے گا ۔۔۔”

محمد وارث نے  “چاندنی راتیں” کے نام سے تحریر لکھی، جس میں آپ نے اپنا کمرہ اور گھر چھوٹ جانے پراور نئے گھر کے بارے میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔

“۔۔۔زندگی کی ہر کروٹ، حشر ساماں ہوتی ہے اور ہر انگڑائی قیامت خیز اور اب زندگی کی ایک اور کروٹ مجھ سے بہت کچھ اگر لے گئی ہے تو بہت کچھ دے بھی گئی ہے۔ ہفتہ ہونے کو آیا کہ مجھ سے وہ میرا وہ کمرہ چُھوٹ گیا ہے جس میں “بلا شرکتِ غیرے” میں نے اپنی زندگی کے سینتیس سال بتا دیئے، اس کمرے کے ساتھ اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ سوچنے لگوں تو بیکار ہو جاؤں اور وہ گھر چھوٹ گیا جس میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور جوان ہوا۔ ہمارا وہ چھوٹا سا آبائی گھر جس کی تین منزلہ عمارت میں، میں ایک طرح سے تہہ خانے میں رہ رہا تھا اب اس سے ہجرت کر کے ساتھ والے گھر میں اٹھ آیا ہوں۔۔”

منظر نامہ خبریں

۔  18 اپریل 2009  بروز ہفتہ پہلی نیشنل بلاگرز کانفرنس کراچی میں منعقد کی گئی۔

۔  باذوق نے نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی منفرد تحریروں کے اقتباسات پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ مشتاق احمد یوسفی – شہ پارے کے نام سے شروع کیا۔

۔  وہاب اعجاز خان نے اپنا نیا اردو بلاگ “غبارِ خاطر “ کے نام سے شروع کیا۔ ہم انھیں اردو بلاگنگ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

۔  خورشید آزاد نے اپنا بلاگ اردو ٹیک سے بلاگ سپاٹ پر منتقل کیا۔

۔ منیر عباسی نے ایک بار پھر بلاگنگ کی طرٖ رخ کرتے ہوئے اپریل میں اپنا نیا بلاگ “طفل مکتب” بنایا۔

8 تبصرے:

  1. جعفر، آپ لکھیں نا تو سمجھ آ جائے۔ 😛

    پہلے تو میں فارغ تھی تو آرام سے دو تین گھنٹے لگا کر تفصیل سے لکھ لیتی تھی۔ لیکن اس بار وقت کی کمی کی وجہ سے مختصر کر دیا ہے اور ویسے بھی اپریل گزر چکا تھا۔
    بہرحال، اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اقتباسات کے بجائے چند بہترین پوسٹس کو ہی نمایاں کیا جائے۔ ہاں، اگر کوئی اس کام میں میری مدد کروا سکتا ہے تو ضرور تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے۔

    ماوراء

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر