آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > Blogs Review > مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ

مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ

منظرنامہ سے غائب کیا رہے، دوست احباب نے طعنے دے دے کر شرمندہ کردیا۔ عذر تراشے جائیں تو صاحب لوگ ان پر بھی طنز کریں۔ لیکن بہرحال، غیر حاضری کو ہمیشگی نہیں۔ منظرنامہ پر آپ کے دونوں میزبان، عمار اور ماوراء اپنے اپنے تعلیمی امتحانات سے فراغت کے بعد ایک بار پھر حاضر ہیں۔ سلسلہ وہی ہے، مہینے کے منتخب بلاگز پر ایک نظر۔

جب ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تو ہمیں قطعی اندازہ نہ تھا کہ جہاں یہ ہمارے لیے سر کا درد ثابت ہوگا، وہاں قارئین میں بھی مقبولیت حاصل کرے گا۔ قارئین کی طرف سے اگر اس قدر مثبت ردِّ عمل نہ آتا تو شاید ہم اس سلسلہ پر کب کا اللہ اکبر کرچکے ہوتے۔ 😉 ماشاء اللہ، گذشتہ دنوں اُردو بلاگنگ میں مزید کچھ اضافے دیکھنے میں آئے اور کچھ مستقل لکھنے والوں نے اردو بلاگ شروع کیا۔ امید ہے کہ ہمیں مزید معیاری بلاگز پڑھنے کو ملیں گے۔

اپریل ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر مختصر تجزیہ پچھلے دنوں پیش کیا جاچکا۔ آئیے، مئی ۲۰۰۹ء کے بلاگز پر نظر ڈالتے ہیں۔

امید طویل غیر حاضری کے بعد اپنے بلاگ پر ایک تحریر ’خود کلامی‘ میں احوالِ دل یوں بیان کرتی ہیں:

’’بہت سے وقت کے بعد آج بلاگ کو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ بہت دن ہوگئے لفظ رقم کئے ہوئے۔
پتہ نہیں کیوں کبھی کبھار بڑی شدت سے یہ خواہش جاگتی ہے خود سے باتیں کی جائیں شاید میرے اختیار میں ہو تو میں کسی چلتی سڑک پر بہت سکون سے بیٹھ آتے جاتے لوگوں کے چہرے پڑھوں۔۔۔‘‘

اور اس مختصر تحریر کا اختتام اس فکر انگیز جملے پر ہوتا ہے کہ

’’مٹھی میں سمندر کے ہونے کی خواہش کا پورا ہونا ناممکن صحیح پر چاہ تو کی جاسکتی ہے۔‘‘

’امید‘ سے ہمیں امید ہے کہ باقاعدگی سے اپنے بلاگ پر نظر آئیں اور اتنی غیر حاضریاں نہ کریں تاکہ ہمیں اچھی اچھی تحاریر پڑھنے کو مل سکیں۔

نعمان یعقوب اردو میں کم ہی بلاگ کرتے ہیں۔ عموماً ان کی تحریر کراچی کے سیاسی حالات کے حوالے سے متحدہ قومی مومنٹ کی وکالت میں ہوتی ہے۔ ’’فساداتِ ایم کیو ایم کراچی‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر سے اقتباس ملاحظہ ہو:

’’جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘

ایم کیو ایم مخالف پروپیگنڈے کا ذکر کرنے کے بعد اس کے نتائج نعمان کی نظر میں یوں نکلتے ہیں:

’’ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نعمان علی اپنی ایک مختصر تحریر ’’مزدوروں کا دن یا ایک مذاق‘‘ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہوا ایک شعر لکھتے ہیں:

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

:wel:

وطنِ عزیز کے سنگین حالات کے سبب متاثرہ علاقوں کے مہاجرین کی دوسرے صوبوں میں آمد ایک بڑا ایشو ابھر کے سامنے آئی اور کئی ’’عظیم‘‘ رہنماؤں کے چہرے سے ’’حبّ الوطنی‘‘ کا نقاب اتر گیا۔ فرحان دانش’’سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں‘‘ کے موضوع کے تحت لکھتے ہیں:

’’سندھ میں افغانستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کوصوبہ سرحد کے پختونوں کے بھیس میں لاکرشاہ لطیف بھٹائی کی دھرتی پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے۔ سندھ دھرتی ایک بار پھر دشمنوں کے نرغے میں ہے اور وہ ایک بار پھر سندھ کو خون میں نہلانے‘ دھرتی پر قبضہ جمانے اور مستقل باشندوں کو غلام بنانے کی تیاریاں کررہے ہیں‘ اس مقصد کیلئے افغان مہاجرین کی آڑ میں لاکھوں افراد کو لاکر سندھ کے شہروں اور قصبوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔‘‘

اس اقتباس سے اگرچہ بہت کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بقیہ تحریر بھی یقینا آپ کو کافی کچھ جاننے اور ’حب الوطنی‘ کے جذبے سے سرشار “افراد” کا مؤقف سمجھنے میں مدد دے گی۔

شکاری کراچی کے حالات کا رونا روتے ہوئے اپنی تحریر ’’ہم کہاں جارہے ہیں‘‘ میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہیں:

’’عجیب افراتفری کا عالم ہے. بدھ 29 اپریل شام چار پانچ بجے سے رات گئے تک چالیس، بیالس افراد سکون کی نیند سو گئے. ان سکون سے سونے والوں میں اکثریت پھٹانوں کی تھی. ایک عرصے سے کراچی میں الطاف بھائی طالبان کا رونا رو رہے تھے کبھی پریشانی میں کھانا پینا چھوڑرہے ہیں تو کبھی نیند نہیں آتی. . . .
اب تک ان کو یا متحدہ کو ہی طالبان دکھائی دیتے رہے اور کسی کو بھی کراچی میں طالبان نظر نہیں آئے. ان طالبان کو منظر پر لانے کے لیے سہراب گوٹھ میں ریڈی میٹ طالبان سامنے لائے گئے جنھوں نے وال چاکنگ کی، چرچ کی انتظامیہ کو دھمکیاں دی اور غائب ہو گئے… لیکن یہ نسخہ بھی کار آمد نہ ہوا تو دوبارہ ایسے طالبان کہیں ظاہر نہ ہوئے. مجھے تو حیرت ہوتی ہے یہ کیسے طالبان ہیں جو سوات سے صرف ایک چرچ کی انتظامیہ کو دھمکی دینے آئے تو اور پھر دوبارہ سوات واپس چلے گئے.‘‘

بات تو خیر سمجھنے کی ہے۔ یہ تو معصوم شکاری ہیں اس لیے شاید حیران ہیں لیکن کوئی اصل شکاریوں کے دامِ فریب کا شکار ہونے والوں سے پوچھے۔

ڈفر کی ایک مختصر مگر اپنے مخصوص دل چسپ انداز میں لکھی تحریر ’’یہ بچہ کس کا ہے‘‘ سے ایک اقتباس:

ڈفر : کیا یہ آپکا بچہ ہے؟
لڑکی : ( شرم نما ہنسی کے ساتھ) نہیں اس کی امی تو اندر وارڈ میں ہیں۔
ڈفر : (ساتھ والے لڑکے سے) دیکھا میں نے کہا تھا نا، ماں کبھی بھی اپنے بچے کو ہینگر کی طرح نہیں لٹکاتی۔

:haha:
سیاق و سباق جاننے کے لیے ان کے بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کی زحمت تو کرنی ہی پڑے گی۔

محمد وارث کا تعارف کرانا غیر ضروری ہوگا کہ آپ کی قابلیت کے سبھی معترف ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اچھے شاعر ہیں اور علمِ شاعری کا بھرپور مطالعہ رکھتے ہیں۔ اپنے بلاگ پر ’’علمِ عروض اور ہجے‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کرتے ہیں:

’’علمِ عروض دراصل ایک ‘ہوا’ ہے جس سے عام قاری تو بدکتا ہی ہے اچھے خاصے شاعر بھی بدکتے ہیں، نہ جانے کیوں۔
دراصل شعر کہنے کا عمل تین حصوں پر مشتمل ہے، شعر کہنا، شعر بنانا اور شعر توڑنا اور انکی ترتیب اس ترتیب سے بالکل الٹ ہے جس ترتیب سے میں نے انہیں لکھا ہے، اور وجہ یہ کہ ہر شاعر فوری طور پر شعر کہنے پر پہنچتا ہے اور بے وزن شعر کہہ کر خواہ مخواہ تنقید کا سامنا کرتا ہے، حالانکہ یہ سارا عمل، ایک شاعر کیلیے، شعر توڑنے سے شروع ہوتا ہے، جب کسی کو شعر توڑنا آ جاتا ہے تو ایک درمیانی عرصہ آتا ہے جس میں وہ شعر ‘بناتا’ ہے اور اسی کو مشقِ سخن کہا جاتا ہے اور جب کسی شاعر کو شعر کہنے میں درک حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو شاعری کرتا ہے اسی کو صحیح معنوں میں ‘شاعری’ کہا جاتا ہے پھر اسکے ذہن میں شعر کا وزن نہیں ہوتا بلکہ خیال آفرینی ہوتی ہے۔‘‘

اس تحریر کے بعد اگلی تحریر ’’علمِ عروض۔ کچھ اصول اور شاعرانہ صوابدید‘‘ کا مطالعہ بھی شاعری سے شغف رکھنے والے احباب کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔

وہاب اعجاز خان نے محمود نظامی کے نظرنامہ پر ایک تجزیہ شایع کیا ہے:

محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔

وہاب اعجاز خان کی ملکی حالات پر ایک فکر انگیز تحریر ’’مبارک ہو‘‘ بھی سامنے ہے:

مبارک ہو جناب۔ اب آپ کے لائف سٹائل کو کوئی خطرہ نہیں۔ صبح اٹھیے۔ واک کے لیے پارک میں جائیے۔ رات کو پارکوں میں جائیے۔ ائیر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر حالات کا تجزیہ کیجیے۔ بچوں کو بڑے بڑے سکولوں میں داخل کیجیے ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیجیے۔ مگر میرا کیا ہوگا۔ میں اپنے گھر سے دور ایک خمیے میں پڑا ہوا ہوں۔ نہ کھانا ہے نہ پینے کو پانی۔ میرے بچے بیمار ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے لائف سٹائل کو بچانے کے لیے مجھے قربانی دینا پڑے گی۔۔۔۔۔

دو مختلف موضوعات پر وہاب اعجاز خان کی پختہ تحاریر پڑھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جانب سے مزید معیاری اور مختلف موضوعات پر تحاریر سامنے آئیں گی۔

اردو بلاگرز میں عجیب و غریب نام رکھنے کا رواج بھی خوب چل نکلا ہے۔ پہلے صرف موصوف بدتمیز ہوتے تھے، پھر ڈفر آئے جن پر کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ بدتمیز ٹائپ کی کوئی چیز ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر بلو بلا، لفنگا، مسٹر کنفیوژ اور بے فضول سامنے آئے۔ ہمارے سامنے اس وقت بے فضول کی چند تحاریر ہیں، اللہ جانے بے فضول سے ان کی مراد واقعی بے فضول ہے یا فضول جیسے یہاں کچھ لوگ ’فالتو‘ کو ’بے فالتو‘ بولتے ہیں۔۔۔ کیوں؟ بس جی، ایسے ہی، بولنے میں مزا آتا ہے۔ بہرحال، بے فضول کی ایک تحریر ’میں ڈرتا ہوں‘ سے ایک اقتباس پیش ہے:

’’تو جی واقعہ یہ ہے کہ ہم تو سدا کے بزدل واقع ہوئے ہیں۔ خوف ہے ناکامی کا، شرمندگی کا اور اذیت کا۔ ظاہر ہے میں تو اکیلا تو نہیں بزدل بیٹھا اس دنیا میں۔ اکثر نام نہاد بہادر جو اپنے سے چھوٹے اور کمزور لوگوں پر منہ زوری کرتے ہیًں، ان کی نسبت تو میں بہادر ہوں ۔ کیونکہ ایک تو ان کو اپنے سے بڑے بندے کی جوتی چاٹتے میں نے دیکھا ہے۔ فلموں میں ہی سہی’ مگر اصل میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اور دوسرا یہ کہ میں چھوٹا بڑا نہیں دیکھتا’ بس اس سے ڈرتا کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ہی ہی ہی۔ آپ بھی ہنسیے۔

اب ایسا بھی نہیں کہ میں ساری زندگی بزدل رہا ہوں۔ بچپن میں رات کو باغیچے کے اندھیرے کونوں مین جہاں باقی جانے سے ڈرتے تھے، میں کم از کم دھڑکتےدل کے ساتھ ہی سہی، آیۃ الاکرسی پڑھتے ہوئے چلا تو جایا کرتا تھا۔‘‘

😀

کراچی میں شدید گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے عذاب نے شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے۔ شب کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کا ذمہ دار انہوں نے بات گھما پھرا کر گرمی اور لوڈشیڈنگ کو ٹھہرانے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔ 😛 آج تک ہم بوتل میں جن سنتے آئے تھے، شب کی زبانی ذرا ’بوتل میں چائے‘ کا قصہ پڑھتے چلیں:

آج کل گرمی کی وجہ سے حال اتنا بے حال نہ ہوتا اگر لائٹ نے کرم کیا ہوتا ۔ لائٹ نے کل رات سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کردیا ہے ۔ لائٹ کے ستائے ہوئے ہم ( میں اور امّی ) آج صبح جب ناشتہ کر رہے تھے تو امّی نے کہا میں صحن میں جا رہی ہوں چائے وہیں لے آؤ ، میں نے ایک ہاتھ میں پانی کی خالی بوتل بھی پکڑی ہوئی تھی کہ بھر کر رکھ دوں گی ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔

مکمل قصے کے لیے ان کے بلاگ پر جانے کی زحمت فرمائیں۔

شعیب صفدر نے ملک کے دفاعی اخراجات کے حوالے سے ایک واقعہ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’یہ حفاظت کو بنایا ہے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔

جعفر کو لکھتے ہوئے چند ہی ماہ گزرے ہیں۔ دل چسپ لکھتے ہیں۔ ’’ویل پلیسڈ بلاگر‘‘ ایک اچھی تحریر ہے:

فرض کیجئے آپ ایک بلاگر ہیں۔ آپ نے دیکھادیکھی بلاگ شروع کیا۔ آپ کا مقصد شہرت اور اگر ہوسکے تو پیسہ تھا۔ آپ نے مشہور ہونے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے، ریپ گانے پوسٹ کئے، مذہبی بحثوں‌ پر پوسٹیں لکھیں، لطیفے لکھے، دوسروں کی شاعری اپنے نام سے شائع کی، دوسرے بلاگروں کی مٹی پلید کی۔ الغرض آپ نے ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن آپ کے بلاگ پر ٹریفک نہ ہونے کی برابر رہی۔ آپ پریشان اور مایوس ہوگئے۔ آپ کو اپنی زندگی کی تمام ناکامیاں اور حسرتیں‌ یاد آگئیں۔ آپ کا دل غصے، رنج اور شکووں سے بھر گیا۔ آپ اس دنیا، اس نظام، اس نا انصافی پر لعنت بھیج کر جنگلوں میں نکل جانے کی سوچنے لگے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک۔۔۔۔

ایک دن اچانک کیا ہوا، اس کے لیے آپ جعفر کے بلاگ پر مکمل تحریر پڑھ سکتے ہیں۔

ابوشامل اردو بلاگرز میں معروف نام ہے۔ گذشتہ دنوں ابوشامل نے اپنا ڈومین خریدا اور ویب ہوسٹنگ لے کر اپنا بلاگ ابوشامل ڈاٹ کام پر منتقل کیا۔ اس پر منظرنامہ کی جانب سے انہیں مبارک باد۔ ابوشامل کی اپنی تحاریر تو بلاشبہ لاجواب ہوتی ہی ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر مہمان بلاگر زبیر انجم صدیقی کی تحریر ’’قائل نہیں کرسکتے تو کنفیوژ کردو‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ لکھتے ہیں:

’’جب سے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کو امن معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرا کر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ہر جانب سے یہ غلغلہ بلند ہو رہا ہے کہ عوام کی اکثریت اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہے یا کم از کم اب مخالف نہیں رہی ہے ۔۔حالانکہ حالات پر ذرا سا غور کرنے پر یہ سمجھنا ذرا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کو اتفاق رائے کا نام دیا جارہا ہے وہ کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔ ملاکنڈ میں فوج کشی پر اتفاق رائے کا دعوی بالکل ایسا ہی ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف اپنی نو سالہ آمریت کے دوران ملک کی ‘‘ خاموش اکثریت کی حمایت ’’ حاصل ہونے کا دعوی کرتے رہےتھے ۔سیاسی قائدین سے لے کر عام شہریوں تک آپ کسی سے بھی بات کر لیں ۔ کسی کی گفتگو میں وہ یکسوئی نظرنہیں آرہی ہے جو قومی معاملات میں اتفاق رائے کی صورت میں نظر آنی چاہیے ۔زیادہ دور نہیں جائیےچند ماہ قبل تک معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہی جو قومی اتفاق رائے موجود تھا ۔۔ اس کا بھی یہ عالم تھا کہ جب صدر زرداری پر ہر سمت سے طعن و تشنیع کی بوچھاڑ تھی اس وقت ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ وزراء بھی میڈیا پر آکر ان کا دفاع کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘

سعدیہ سحر اردو بلاگنگ کی دنیا میں نسبتاً نئی لکھاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی لکھنا شروع کیا۔ آپ کی تحاریر عموماً مختصر لیکن پُر فکر ہوتی ہیں۔’’کیا مسلم عورت کمزور ہوتی ہے‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتی ہیں:

مغربی ممالک مسلم خواتین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے مسلم عورت پردے میں لپٹی ہوئی ڈری سہمی جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی جو شادی سے پہلے باپ اور بھائی کی مرضی سے زندگی بسر کرتی ہے شادی کے بعد شوہر کے اشاروں پہ چلتی ہے مسلم عورت جس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔
کیا مسلم عورت حقیقت میں کمزور ہوتی ہے؟

تو کیا مسلم عورت واقعی کمزور ہوتی ہے؟ اس کا جواب سعدیہ سحر نے اپنی تحریر میں خوب دیا ہے۔

ان تحاریر کے ساتھ ساتھ مزید کچھ تحاریر کے روابط:
کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟ (فرحت کیانی)
عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام (افتخار اجمل بھوپال)
یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں دیتے (م۔م۔مغل)
نیکی یا۔۔۔؟ (مسٹر کنفیوژ)
جب مجھے بور کیا گیا (فہیم اسلم)

بلاگنگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک اہم ترین خوش خبری کے اردو زبان میں، نستعلیق رسم الخط میں پہلا کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ’’اردو سلیکس‘‘ جاری ہوگیا ہے۔ اس کارنامے پر ہم محمد علی مکی کو بے حد مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اردو سلیکس دراصل لینکس بیسڈ آپریٹنگ سسٹم ہے، مختصر حجم کا ہے، استعمال میں آسان ہے۔ ونڈوز صارفین اسے اپنے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی بہ آسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ امید ہے، مستقبل میں اس حوالہ سے ارتقائی سفر جاری رہے گا۔

بلاگرز کے لیے گُر کی بات:

چلتے چلتے نئے بلاگرز کے لیے ہم ایک گُر کی بات پیش کرنامناسب سمجھتے ہیں۔ جب آپ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھتے ہیں تو پوسٹ ٹائٹل کے ٹیکسٹ ایڈیٹر کے عین نیچے تحریر کا ربط ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ
slug
پھر ہوتا یوں ہے کہ تحریر آپ کے بلاگ پر شائع ہو تو جاتی ہے لیکن جب ہم اس کا ربط کاپی کرکے کہیں پیسٹ کرتے ہیں تو وہ بہت عجیب و غریب انداز میں سامنے آتا ہے جیسا کہ کافی بلاگرز کی تحاریر کے ربط اس تجزیے کے دوران ہمارے سامنے آئے:
slug2
کئی بار تو اس طرح کے روابط شیطان کی آنت کی طرح اتنے لمبے ہوجاتے ہیں کہ دو، تین سطور تک پہنچ جاتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ اس ربط کو ایڈیٹ کرکے انگریزی یا رومن میں کرلیا کریں تاکہ آپ کی تحریر کا ربط بالکل واضح رہے جیسے:
slug3
یہاں تک کہ ربط کے درمیان خالی اسپیس بھی نہ دیں۔ امید ہے آپ سب بلاگر حضرات آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ کسی مشکل کی صورت میں سوال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔

اس کے ساتھ ہی اپنے میزبانوں کو دیجئے اجازت۔ ان شاء اللہ بہت جلد کسی نئی تحریر کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اپنا اور اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا بہت بہت بہت خیال رکھیے گا۔ فی امان اللہ۔ والسلام

14 تبصرے:

  1. بہت زبردست تجزیہ کیا ہے ماہ گزشتہ کی اردو بلاگنگ کا۔ لگتا ہے واقعی فراغت نصیب ہو گئی ہے ;P بہرحال ایک گزارش ہے کہ اردو بلاگز کی دوبارہ تلاش شروع کریں، کچھ ایسے بلاگرز بھی سامنے آ رہے ہیں جو ذاتی حیثیت میں لوگوں نے شروع کر رکھے ہیں لیکن ان کی تشہیر نہیں کی۔ دو معروف صحافیوں کے اردو بلاگز کا علم ہوا ہے ایک معروف صحافی، نقاد، تجزیہ نگار عزیز عزمی نے بھی اردو بلاگنگ کا آغاز کیا تھا لیکن زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ ان کا بلاگ دیکھیے اپنی انفرادیت خود ظاہر کرتا ہے۔ بلاگنگ کے آغاز پر تکنیکی طور پر ہر شخص کمزور ہوتا ہے لیکن موضوعات اور انداز تحریر ان کے بلاگ کو مختلف بناتے ہیں۔
    دوسرا بلاگ معروف صحافی ابراہیم ساجد ملک کا ہے جس کا ربط مجھ سے کھو گیا ہے۔ ملتا ہے تو دے دوں گا۔ اس طرح کئی اردو بلاگرز ہو سکتے ہیں جو خاموشی سے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں، انہیں تلاش کیجیے، اس کام میں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ والسلام
    [rq=2101,0,blog][/rq]سقوط کریمیا: مسلم ہولوکاسٹ – قسط 1

  2. تمہی نے درد دیا ہے، تمہی دوا دینا
    گر کی بات پر بہت مغز ماری کی۔۔۔
    لیکن جب بھی ڈیفالٹ کیٹگری کی بجائے دوسری کیٹگری منتخب کرتا ہوں
    وہی شیطان کی آنت آ جاتی ہے۔۔۔ اسے ایڈٹ کرنے کی کوشش کرتاہوں تو صرف آخری حصہ ہی ایڈٹ ایبل نظر آتا ہے۔۔۔
    کیا کروں۔۔۔
    :hayn:

  3. اس دفعہ کچھ جلدی نہیں آ گیا یہ ریویو؟ :hunh:
    شکریہ میری بھی تحریر کا حووالہ دینے کا :grins:
    جعفر صاحب آخری حصہ ہی ایڈٹ کرنے کی اجازت ملے گی، وہی تو مسئلہ کرتا ہے مطلب شیطان کی آنت ہوتا ہے

  4. ماشا اللہ۔۔۔ آپ دونوں (خاتون اور حضرت ) کی تحریر پڑھ کر خواشگوار اور شدید ترین حیرت ہوئی۔۔ کیونکہ اتنی پختگی اور روانی تو برسوں تک ریڈیو پروگرام کرنے والے میزبان کے اسکرپٹ میں بھی نہیں ہوتی۔

    اور اس ’’پروگرام‘‘ کو پیش کرنے کے لیے محنت بھی کافی کی گئی ہے۔

    :wel:
    [rq=2796,0,blog][/rq]سوات ویڈیوکے بعد خانہ جنگی کتنی دور؟

  5. واہ جی واہ۔۔ آپ لوگ تو مکمل گھن گرج کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ ماشاءاللہ خوبصورتی سے تجزیہ پیش کیا ہے اور اس میں‌کتنی محنت درکار ہے اس کا اندازہ تو ہم سب کو ہی ہے۔ امید ہے اسی طرح‌ سلسہ چلتا رہے گا۔

  6. میری تحریر کو اس ریویو میں شامل کرنے کا شکریہ ، اب زمانہ بدل گیا ہے ، بوتل میں چائے کیا بندہ ڈالا جا سکتا ہے 😛 عمار تم سوچو کہ کیسے ، طریقہ میں ماوراء کو بتاؤں گی 😛

  7. حجاب!
    طریقہ ماوراء کو کیوں بتاؤ گی؟ اُس نے بندوں کو بوتل میں بند کرنا ہے کیا؟ اسے بتادو تو کہہ دینا. میں اُسی سے پوچھ لوں گا… اتنا سوچنے کے لیے دماغ ہوتا تو کرسیِ صدارت حاصل کرنے کا طریقہ نہ سوچ لیتا؟ 😛 اتنے آرام سے زرداری کے ہاتھ میں تو جانے نہیں دیتا. :haha:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر