آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > Blogs Review > جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ

جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ

اس سے پہلے کہ احباب کی طرف سے ماہ جون ۲۰۰۹ء کے بلاگز کے تجزیے کی فرمائش ہو، ہم نے سوچا کہ پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا جائے۔ اب جو ہم نے ماہ جون میں سامنے آنے والے اردو بلاگز پر نظر ڈالی تو طویل فہرست نظر آئی لیکن سچ بتائیں تو وہ بلاگز چننا کچھ مشکل لگا، جن کو منتخب کرکے ان کا ذکر کیا جائے۔ کچھ تحاریر، تحاریر کم سوال نامہ زیادہ محسوس ہوئیں اور کچھ تحاریر ایسی کہ پڑھتے چلے جاؤ اور طویل تحریر ختم ہونے پر سوچنا پڑے کہ پڑھا کیا ہے؟ (ہوسکتا ہے یہ ہماری ہی نالائقی ہو) کچھ تحاریر ایسی کہ کسی اخبار یا نیوز سائٹ سے خبر کاپی کی اور کچھ ایسی کہ ایک تصویر یا ویڈیو لگاکر ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ گئے، لو جی، بلاگ پوسٹ ہوگئی۔ ایسا لگا جیسے اس مہینے اردو بلاگنگ کو زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔

مہنگائی، دہشت گردی، ہزارہا مسائل میں مبتلا پاکستانی قوم کی حالت اس وقت افسوس ناک ہے۔ ان سب مسائل کے سبب عوام نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہیں بلکہ اخلاقی اقدار بھی تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ ’تیرا ککھ نہ رہوے‘ کے عنوان سے شاکر عزیز لکھتے ہیں:

بددعائیں دینا آج کل پاکستانیوں کا شیوہ ہے۔ بدعائیں چلتے پھرے، بددعائیں اٹھتے بیٹھتے اور بددعائیں نماز کے بعد۔ مولا یہ کردے مولا وہ کردے مولا ان کا ککھ نہ رہے۔ اتنی ساری بدعاؤں کے بعد مجھے لگنے لگا ہے کہ ہم مرد نہیں زنخے ہوچلے ہیں یا ہوگئے ہیں۔

پاکستانی معاشرہ اس وقت بہت بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے. ایک طرف عوام میں شعور بیدار ہورہا ہے تو دوسری طرف دیوار سے لگانے والے بھی اپنی کوششوں میں پیہم مصروفِ عمل ہیں. عنیقہ ناز اپنی تحریر ’فتراک کے نخمچیر‘ میں ایسے ہی متضاد رویوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے دعوتِ فکر دیتی ہیں:

کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ ایف سکسٹین ان سے لیکر اڑانا سیکھ لیں۔ البتہ بناتے وہ اسے رہیں اور اپنی ضرورت کے حساب سے اس میں نئ تبدیلیاں وہ لاتے رہیں۔ پھر ان نئ تبدیلیوں کو آپ ان سے پیسہ دیکر سیکھیں۔ کیا ہوتا ہے ضرورت کا علم، آپ اپنی فوجوں کی صحت کے لئے، جان بچانے والی اشیاءاور دوائیں ان سے خریدیں اور ان کا طریقہ ء استعمال بھی۔ البتہ وہ اس چیز پہ تحقیق کرتے رہیں کہ اسے مزید بہتر اور سستا کیسے بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔

چلیں اتنی بڑی باتوں پہ جی کیا جلانا ۔ یہ مجھے کسی نے باہر سے سلائ کی مشین تحفے میں لا کر دی ہے۔ اسکی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت ہلکی اور چھوٹی سی ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لیکر کہیں بھی پھر سکتی ہوں۔ اس کا وزن کسی گنتی میں نہیں۔ لیکن لانے والا اس کا مینوئل وہیں بھول آیا ۔ باہر سے کوئ سوراخ نظر نہیں آتا اندر سے یہ بالکل بند لگتی ہے۔ اب میں نیٹ پر بیٹھی سرچ کر رہی ہوں کہ اس میں تیل ڈالنےکا کیا طریقہ ہوگا۔ یہ مشین یہاں کسی نے استعمال نہیں کی اور کوئ مجھے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ کیونکہ ہم سب نے صرف ضرورت کا علم حاصل کیا ہے۔

جب دو مخالف باتوں یا اصولوں کے بیچ انتہائی حد تک ٹھن جائے تو معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں طرف سے اِنتہا کا زور لگتا ہے اور یہ انتہا پسندی اُس ماحول میں بسنے والے انسانوں کی زندگی پر بُری طرح اثرات مرتب کرتی ہے۔ نت نئی ایجادات نے ایک طرف دنیا کو گلوبل ولیج بنادیا ہے تو دوسری طرف دِلوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا کردی ہیں۔ اِس بھری دنیا، بھری محفل میں ’تنہا انسان‘ کا ذکر کررہے ہیں فرخ انور کہ

انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں۔

اُردو بلاگنگ کے دائرے میں نئے اضافے یقیناً خوش آئند ہیں۔ کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جن کا بلاگ لکھنا اردو بلاگنگ پر اُن کا احسان ہے (اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا نہ لکھنا احسان ہوگا)۔ محمد وارث کا تعلق اوّل الذکر صاحبان سے ہے۔ اُن کی تحریر ’مہربان‘ سے اقتباس ملاحظہ ہو:

اس ‘دشتِ بلاگران’ میں ہمیں بھی ایک سال ہو گیا ہے، مئی 2008ء میں یہ بلاگ بنایا تھا اور اب الحمدللہ ایک سال مکمل ہوا۔ کیا کھویا کیا پایا کا سوال میرے لیے اہم نہیں ہوتا کہ سفر کرنا ہی اصل شرط ہے لیکن نشیب و فراز تو انسانی زندگی کا حصہ ہیں سو اس بلاگ کے ساتھ بھی شامل رہے۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ، یہاں پر یہ بھی ‘اعتراف’ کرنا چاہوں گا کہ بلاگ کی دنیا میں وارد ہونے کے بعد بہت اچھے احباب اور دوستوں سے واسطہ پڑا۔ گو ہمارے بلاگ پر تشریف لانے والے زائرین کی تعداد اس ایک سال میں 10 فی یومیہ کے حساب سے تقریباً چار ہزار ہے اور ظاہر ہے اس میں بھی بہت سے اتفاقیہ یا بھولے بھٹکے تشریف لانے والے ہیں اور مستقل قارئین کی تعداد دونوں ہاتھوں کی پوروں پر بآسانی گنی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی میرے لیے مسرت کی بات ہے کہ کم از کم کوئی تو ہے جو جنگل میں اس مور کے ناچ کو دیکھ رہا ہے۔

اِس تحریر میں وارث نے بلاگنگ کی طرف آنے، مختلف مسائل کے درپیش ہونے اور اُن سے نمٹنے کا ذکر بھی کیا ہے اور اُس نامعلوم مہربان کا بھی جس نے اُن کے بلاگ کو انتہائی بُرا قرار دے کر اپنے اعلیٰ ذوق کا اظہار کیا۔ محمد وارث کو مستقل مزاجی سے ایک سال اردو بلاگنگ کرنے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ باذوق معیاری تحاریر پیش کرنے پر منظرنامہ کی جانب سے مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اِظہار کہ وہ باقاعدگی سے اِسی طرح لکھ کر ہمارے علم میں اضافہ کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ ماہِ جون میں علمِ شاعری پر وارث کی تحریر ’بحرِ مُتَقارِب – ایک تعارف‘ اُن کے علمی ذوق پر دال ہے۔ اگر آپ کے ذہن کے کسی کونے میں کبھی بھی شاعری کرنے کی خواہش نے سر اُبھارا ہو اور آپ نے استاد شعرا کی ڈانٹ کے ڈر سے اپنی خواہش کو تھپک کر سلادیا ہو تو آپ کے لیے وارث کے بلاگ کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا۔ فنِ شاعری پر لکھے گئے بے حد آسان اور عام فہم مضامین سے صرف وارث کی قابلیت سے آگاہی نہیں ملے گی بلکہ یہ مضامین آپ کو باقاعدہ شاعر بننے میں مدد بھی دیں گے۔

نکاح سنتِ رسولﷺ ہے۔ گھر بسنے کے بعد انسان کی حیات کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ نئی ترجیحات، نئی مصروفیات، نئی زندگی۔۔۔ اِس زندگی میں عموماً بہت سی عادتیں اور معمولات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کی زندگی میں ایک نئے مہمان کی آمد ہوجائے (اور آپ شرماتے ہوئے، زیرِ لب مسکراتے ہوئے دو سے تین ہونے کی خوش خبری سنیں) تو جیسے بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود خاتون اردو بلاگر امن ایمان طویل طویل وقفہ کے ساتھ ہی سہی، لیکن اردو بلاگنگ سے ناتا جوڑے ہوئے ہیں (ہمیں امید ہے کہ انہیں خود کو خاتون لکھے جانے پر اعتراض نہ ہوگا)۔ غیر متوقع طور پر اُن کی تحریر ’خیر مبارک‘ پڑھنے کو ملی۔ لکھتی ہیں:

خیر مبارک۔۔۔!
یہ کہنے میں میں نے کافی دن لگا دیے۔۔اس کے لیے بہت بہت معذرت خواہ ہوں۔۔پہلے بتا دوں کہ خیرمبارک کس بارے تھی۔۔آپ سب نے مجھے میری بیٹی کے پیدا ہونے پر جو ڈھیروں ڈھیر مبارک باد اور دعائیں دی ہیں یہ اس کے لیے ہے۔

پھر ایک عرصہ غائب رہنے کی وجوہات بیان کرتی ہیں:

ایک تو میں تین چار ماہ کے بعد لاہور ماما کے گھر آئی۔۔سسرال میں نیٹ کی سہولت نہیں۔۔پھر یہاں لاہور میں لائٹ جانے کے بدترین اوقات تھے۔۔اس لیے میرے اور نیٹ کے تعلقات جلدی بحال نہ ہوسکے۔۔۔خیر کسی طرح یہ سب مینیج کیا تو خیر سے سارے پاسورڈز بھول گئے اور پھر پاسورڈز ہاتھ چڑھے تو بلاگ پر پرانی تھیم دیکھ کر لکھنے کا دل نہ چاہا۔۔۔پورا ایک ہفتہ اچھی تھیم ڈھونڈنے میں لگا دیا۔۔۔۔جب اچھی تھیمز ہاتھ لگیں تو کوئی تھیم بھی اردو لباس پہننے کو تیار نہ ہوئی۔

یہ تو ان کی عادت ہی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ چند دن ہی کے لیے بلاگ پر حاضری دی لیکن بلاگ کا سانچہ تبدیل کیا، اُس کو اردو میں ڈھالا، جہاں مشکلات پیش آئیں، انہیں بلاگ کی ایک تحریر ’کوئی تھوڑی سی نقل کروادے پلیز‘ میں بیان کیا اور اُن کا حل کھوجا۔ اُن کی پیاری سی بچی حبہ کے لیے منظرنامہ کی طرف سے نیک خواہشات اور ڈھیر ساری دعائیں۔

کھانے پینے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟ کوئی روایتی دیسی کھانوں کا شوقین ہوتا ہے تو کسی کو فاسٹ فوڈ یا غیر ملکی کھانے کا جنون ہوتا ہے۔ اردو بلاگز میں کہنی سننی، حجاب، ماوراء وغیرہ کے بلاگ پر کھانے پینے کی مختلف تراکیب پڑھنے کو مِلتی رہی ہیں لیکن ماہ رُخ نے تو اردو بلاگنگ میں باورچی خانہ ہی قائم کرڈالا ہے۔ ’ایرانی پیاز سوپ‘، ’لکھنوی قورمہ‘ وغیرہ سمیت ایسی کئی مزے مزے کی تراکیب ہیں جنہیں پڑھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ماہ رُخ کے کچن کی کیا ہی بات ہے!

اپنی تاریخ سے دوری اور ماضی ناآشنائی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اِسی لیے دوست، دشمن کی پہچان میں اب تک ٹھوکر کھاتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ کے ایسے ہی ایک اہم باب سے پردہ اُٹھایا ہے ابوشامل نے۔ یہ داستان ہے ’سقوطِ کریمیا‘ کی جب مسلمانوں کا بڑی تعداد میں خون بہایا گیا۔ ابوشامل رقم طراز ہیں:

وسط ایشیا، قفقاز، وولگا-یورال و کریمیا کی وادیوں کے مسلم اکثریتی علاقوں کا روسی غلامی میں جانا “تاریخ ملت اسلامیہ” کا ایک المناک باب ہے۔ یہ علاقے مسلم اکثریت کے حامل تھے اور کئی علاقوں میں تو اب بھی مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن اسلامی علوم کی ترویج میں ان علاقوں نے قرون وسطیٰ میں جو کردار ادا کیا اس کے باعث ان علاقوں خصوصاً وسط ایشیا کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ جہاں بخارا و سمرقند جیسے عظیم تہذیبی و ثقافتی مراکز تھے جو اسلامی علوم کا منبع تھے۔

ملوکیت کے جابرانہ عہد کے خاتمے کے بعد گو کہ سوویت عہد میں مسلم اکثریتی علاقوں میں علاقوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی ہوئی اور مسلمانوں کا معاشی استحصال اس پیمانے پر نہیں ہوا جتنا نوآبادیاتی دور میں دیگر مسلم مقبوضہ علاقوں میں برطانیہ، اٹلی، فرانس و دیگر قوتوں نے کیا لیکن یہ معاشی ترقی مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بدلے میں ملی۔ اس کے علاوہ سوویت اشتراکی عہد کا ایک کریہہ باب جوزف اسٹالن کا دورِ حکومت تھا جس میں دیگر اقوام کی طرح مسلمان بھی ظلم کی چکی میں بری طرح پسے۔

ابوشامل نے اِسے مسلم ہولوکاسٹ سے تعبیر دی ہے۔ بلاشبہ یہ مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کی داستان ہے لیکن ایسی ہی کئی داستانیں آج ہمارے گرد افغانستان و عراق میں بکھری پڑی ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اِن سے سبق حاصل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

کہتے ہیں، فارغ نہ بیٹھو کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ لیکن دیکھئے، سعدیہ سحر کے دماغ میں کیا بات آئی ہے۔ ’آپ بھی سوچیں ذرا‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:

پاکستان میں اتنے عامل پیر فقیر ہیں جن کے قابو میں بڑے بڑے جن ہیں جو بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے ان سے کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے کہیں چلہ کاٹیں۔ جادو کے زور سے ڈرون طیاروں کے رخ دشمنوں کی طرف موڑ دیں اپنے شاگرد جنوں سے کہیں وہ سب ملک دشمن عناصر کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک آئیں۔ جو عامل محبوب کو قدموں میں ڈال سکتا ہے، وہ دہشت گرد کو حکومت کے قدموں میں کیوں نہیں ڈال سکتا؟ جو عامل پتھر دل محبوب کے دل کو موم کر سکتا ہے، وہ راکٹوں کو موم کیوں نہیں کر سکتا؟

سعدیہ! آپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا اچھا خیال پیش کیا ہے۔ عامل باباؤں اور نجومیوں سے ڈفر کو بھی کچھ جلن ہے۔ ’پھر کیڑے‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

نام نہاد پیروں سے دشمنی بلکہ جیلسی (لفظ جلاپا سے زیادہ کھندک ٹپکتی ہے) تو کافی پرانی ہے لیکن اب لگتا ہے نجومیوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔ مسئلہ میرا یہ ہے کہ دہائیوں کی تعلیم کے بعد بھی مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ میں عالم کیوں نا بن سکا۔ بن نا سکا یہ میری نالائقی لیکن یہ نا اہلی مجھ سے ہضم نہیں ہوتی کہ اپنے آپ کو عالم کہلوا بھی نا سکا۔ اتنا تو بزدل نا تھا کہ اندھوں میں کانا راجہ بننے کی ناکام کوشش بھی نا کرتا۔ ویسے بھی جاہلین کا جو اعلٰی و ارفع درجہ اور تعداد ہمارے ہاں موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے مجھے اپنی اس شکست کو تسلیم کرنا چاہئے اور جلد از جلد کسی دو آتشی پیر کے آستانہء عالیہ بلالیہ جلالیہ اور بعد میں ملالیہ پر حاضری دے کر اپنی ناکامیوں کو بخشوانا چاہئے کہ کیا پتا میں دنیا کہ ساتھ ساتھ اپنی آخرت میں بھی تاریکیاں بھرتا رہا ہوں؟

ڈالر۔۔۔ اگرچہ بے جان شے ہے لیکن ہے ایسی کہ نام سنتے ہی لوگوں میں جان آجاتی ہے۔ ڈالرز کے عوض لوگوں کی جان ہی نہیں، ایمان بھی خرید لیے جاتے ہیں۔ نعیم صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے مال و دولت کی طلب میں تھرکتے جسموں اور پھڑکتے ضمیروں کا اندازہ کرتے ہوئے ایک نظم ’ڈالر! مِرے اِس دیس کو ناپاک نہ کرنا‘ لکھی تھی جسے شعیب صفدر نے پیش کیا ہے۔ کچھ سطور ملاحظہ ہوں:

ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو ظلم کا حاصل
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص
سرمائے کی اولاد
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل
تو سود کا فرزند!
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے
بیواوں کی فریاد!
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش
توضعیف کی اک چیخ
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر

کراچی میں حکومتِ سندھ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے قومی بلاگرز کانفرنس کیا منعقد ہوئی، دائرۂ بلاگنگ میں کئی اضافے دیکھنے میں آنے لگے۔ پھر کچھ ایسا رنگ نکلا کہ تحریر ایک ہونے لگی، تبصرے پچاس۔ بدتمیز کی تحریر ’مہاجر‘ اس کی روشن مثال ہے۔ لکھتے ہیں:

جب پاکستان بنا تو صرف مہاجرین ’’اردو سپیکنگ‘‘ نہیں تھے۔ آج بین ڈالنے کو صرف اردو سپیکنگ کیوں ہیں؟ بالخصوص ایسے میں جب ان کی تیسری اور چوتھی نسل یہاں پیدا ہوئی ہے یہ لوگ پاکستانی کیوں نہیں بن سکے اور ان کے والدین نے انکے دماغوں میں ’’مہاجر‘‘ زہر کیوں بھر دیا اور یہ آگے اپنی اولادوں میں یہ زہر کیوں منتقل کر رہے ہیں؟

ان کی ٹرمز بھی دیکھ لیں۔ حق پرست پنجابی۔ اگر ان کی بات من و عن تسلیم کر لی جائے تو اپ کو خطاب دیں گے حق پرست پنجابی۔ تائب کارکنان کو نہ جانے کیا خطاب دیتے ہیں جو اصلیت فاش کرتے رہتے ہیں۔

اس تحریر پر ہونے والا مباحثہ ہمارے ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے سیاسی پروگرام سے کسی طور کم نہیں ہے کیوں کہ اس میں ایک دوسرے کے نظریات کے پرخچے بھی اُڑائے گئے ہیں اور ایک دوسرے کی ذات کے بھی۔ یعنی ایک مکمل ٹی وی پروگرام ہے۔

حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے کہ بہت سے لوگ اِس کی آرزو لیے دنیا سے گزر جاتے ہیں اور بہت سے لوگ استطاعت رکھنے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ اردو ادب میں سفرنامے لکھے جانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ بہت سے ادیبوں نے مقدس سفر حج/ عمرہ کی داستان بھی رقم کی۔ چوں کہ یہ سفر مقدس ہے اِس لیے حج کے اکثر سفرنامے محبت و عقیدت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں لیکن مشہور ادیب ممتاز مفتی کا سفرنامۂ حج ’’لبیک‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد ترین سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے آپ شک اور یقین، دونوں کی منزل سے بیک وقت خود کو گزرتا محسوس کرتے ہیں۔ وہاب اعجاز خان نے ’ممتاز مفتی (لبیک)‘ پر ایک تجزیہ پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

لبیک ایک متنازعہ کتاب ہے ۔ یہ تصنع بناوٹ اور ریاکاری کے درمیان ، سچ اور خلوص اور جذبے کی ایک مثال ہے ۔ جس نے اپنی حیثیت و اہمیت کو منوالیا ہے۔ لبیک ایک ایسے فنکار کا شاہکار ہے جو تجزیہ کرتا ہے سوچتا ہے محض جذبے میں لتھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ سوچ سمجھ کر اس راستے پر روانہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا مزاج دیگر حج ناموں سے ہٹ کر ہے۔ ممتاز مفتی اس رپورتاژ میں عقیدت نہیں پالتے بلکہ عقیدے کو سینچتے نظرآتے ہیں ۔ وہ ایسی کئی باتوں کو منظر عام پر لانے سے نہیں چونکتے ۔ جو دیگر دنیا دار قسم کے لوگ چھپاتے ہیں۔ وہ اپنی داخلی کیفیات کا بیان کھل کر کرتے ہیں۔

وہاب اعجاز خان کے اس تجزیے کے علاوہ پچھلی تحاریر بھی دیکھتے ہوئے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اُمید ہے ان کے ذریعے ہمیں کئی اچھی کتب سے آگاہی ہوگی۔

دنیا میں دن منانے کا رواج چل نکلا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن اِس بار ایک تجویز ہے ہفتہ منانے کی۔ شگفتہ ’ہفتۂ بلاگستان‘ کی تجویز دیتے ہوئے لکھتی ہیں:

میرا دل ہے کہ ہم سب بلاگرز مل کےایک ہفتہ منائیں یعنی کہ ایک ہفتہ منایا جائے بنام ۔ ۔ ۔ ہفتہ بلاگستان ۔ ۔ ۔ ہلکے پھلکے انداز میں اور کچھ سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہوسکے اس تجویز سے پہلے ایک خیال یہاں پیش کیا تھا۔ ۔ ۔ حالیہ تجویز گذشتہ سے پیوستہ ۔ دراصل کچھ اس طرح سوچا کہ یعنی ایسا سلسلہ ہو کہ تمام اردو بلاگرز دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں سب کی ایک ساتھ شرکت ممکن ہو سکے اور اس طرح سب کی ذاتی مصروفیات بھی متاثر نہیں ہوں گی۔

مختصر مختصر:
محمد علی مکی اس بار جو پاکستان آئے ہیں، ہر کچھ دن بعد ایک خوش خبری سناتے ہیں۔ پہلے اردو سلیکس کا اجراء کیا اور اب اردو اوبنٹو جاری کرکے نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔

ہمارے بہت پرانے بلاگر نعمان یعقوب کی والدہ محترمہ گذشتہ دنوں انتقال فرماگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون. منظرنامہ اُن سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی والدہ محترمہ کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہے۔

ماہ جون ۲۰۰۹ء میں پاکستانی قوم کو جو ایک بڑی خوشی ملی، وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۰۹ء میں فتح تھی۔ اس موضوع پر کافی سارے بلاگز دیکھنے کو ملے۔
اور ہم جیت گئے۔ کہنی سننی
فائنل جیت لیا۔ یاسر عمران مرزا
جیو تو ایسے۔ میرا پاکستان
ہم کسی سے کم نہیں۔ دریچہ
عالمی چیمپئن۔ فرحان دانش
وہ ایک چھکا، یہ ایک فتح۔ ابوشامل
مبارک باد۔ آوازِ دوست

اس بار ہمارا تبصرہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے لہٰذا باقی باتوں کو اگلی نشست کے لیے مؤخر کرتے ہوئے آپ سے اجازت چاہیں گے۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ اپنا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کا خیال رکھیں، خوش رہیں۔ اللہ حافظ

12 تبصرے:

  1. آپ کا فورم اور آپ کی صوابدید ہے کہ آپ کن بلاگرز کو تجزیے میں جگہ دیتے ہیں۔
    لیکن میری رائے میں تو تین چار تحاریر ایسی ہیں کہ ان کے بغیر یہ تجزیہ کسی بھی صورت مکمل نہیں کہلا سکتا۔
    نئے بلاگرز میں عنیقہ ناز خاص طور پر ایسا نام ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔
    [rq=118985,0,blog][/rq]بمباسٹک زردہ

  2. جعفر!
    بہت ممکن ہے کہ تحاریر ہم سے رہ جائیں. ہمارے پاس محدود ذرائع ہیں اور محدود وقت میں تحاریر اکٹھا کرکے تجزیہ کیا جاتا ہے. اس چیز کو 100 فیصد یقینی بنانا کہ ہر مہینے میں لکھے جانے والے تمام بلاگز ہمارے سامنے ہوں، کافی مشکل ہے.
    عنیقہ ناز اردو بلاگنگ میں واقعی اچھا اضافہ ہیں. اس سے انکار نہیں. فیڈ میں ان کے بلاگ کا ربط نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تحریر رہ گئی تھی. بعد ازاں شامل کرلی ہے.

  3. لو جی! اس تحریر کے بعد عنیقہ صاحبہ کے بلاگ پر اتنا رش ہو گیا ہے کہ وہ error دے رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کب یہ رش ختم ہو اور ہم ان کی نئی تحریر سے “فیضیاب” ہو سکیں۔
    میرے خیال میں تبصرہ انتہائی جامع ہے۔ نئے بلاگرز کے اضافے کے بعد اب درجنوں بلاگرز کی تحاریر پڑھ کر ان پر تبصرے کرنا واقعی بہت مشکل کام ہے لیکن اس کے باوجود منظر نامہ کی ٹیم اس فرض کو بخوبی نبھا رہی ہے۔ اللہ انہیں مزید ہمت دے۔
    [rq=128082,0,blog][/rq]یہ کون سا فونٹ ہے؟

  4. بلّو!
    یار آپ بھی ایسا کروگے تو کیسے چلے گا؟ 🙂 اس بار تجزیہ مکمل کرتے ہوئے میں اسے خاصا طویل سمجھ رہا تھا اور آپ اسے نامکمل کہہ رہے ہیں؟ :roll:

    محمد وارث!
    بہت شکریہ سرکار۔

    ابوشامل!
    اب عنیقہ ناز کا بلاگ کام کررہا ہے۔
    واقعی، اس قدر اردو بلاگز میں سے کچھ تحاریر منتخب کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ پھر ہر ایک کی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے۔ ممکن ہے، ہمیں جو تحریر پسند نہ آئے، وہ کسی دوسرے کے لیے اہمیت رکھتی ہو۔ لیکن بہرحال، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ غیر جانبداری سے تحاریر منتخب کرکے تبصرہ کرسکیں۔ اعتراض کرنے والے احباب ہمارا ہاتھ بٹانا چاہیں تو خوش آمدید۔ 😛
    ۔۔۔۔
    عمار

  5. ایک بار پھر انتہائی بہترین جائزہ۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ بلاگرز کی تعداد میں خوش آئند اضافہ کے بعد تمام بلاگز پڑھنے کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے تو اس صورتحال میں آپ لوگوں کی کاوش لائق تحسین ہے۔

    شاکر عزیر صاحب کا مضمون واقعی شاندار تھا۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر