آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > انٹرویو، اسد اللہ، اردو بلاگر > اسد اللہ سے شناسائی

اسد اللہ سے شناسائی

السلام علیکم۔

منظر نامہ کے قارئین کے لیے آج ہم  سلسلہ شناسائی میں ایک اور مہمان بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں۔ ہمارے آج کے مہمان  ایک خاص شخصیت ہیں، جن کا اردو سے تعلق کافی پرانا ہے۔ آپ  ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ   سات کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آپ کافی عرصے سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔  آپ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بلاگنگ کرتے ہیں۔  ہمارے آج کے مہمان کا نام  ڈاکٹر محمد اسد اللہ ہے، آپ بزم اردو کے نا م سے بلاگ لکھتے ہیں۔ تو آئیے اسد اللہ صاحب کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ان سے بات چیت کا آغاز کرتے ہیں۔


خوش آمدید اسد اللہ صاحب،

– اسد اللہ صاحب، سب سے پہلے ہم آپ کے خاندانی پس منظر، تعلیم اور آپ کے پیشے کے بارے جاننا چاہیں گے؟

ج۔ میرے والد جو الحمد للہ اب بھی بقیدِ حیات ہیں ،ابتداً ایک کسان تھے ،ان کا خاندانی پیشہ کپڑوں کی تجارت تھی جو ان تک آ تے آ تے ناپید ہوگئی تھی ، البتّہ اس اعتبار سے ہم بزاز کہلاتے تھے۔میرے نانا بھی اپنے قصبے کے سب سے بڑے تاجر تھے اورسوداگر کہلاتے تھے ۔والدہ کے انتقال کے بعد ننھیال میں میری پرورش ہو ئی اور مقامی کالج میں جہاں ذریعۂ تعلیم مراٹھی زبان تھی ،گریجویشن کے بعد میں نے اپنا کریر ایک سینیٹری ویر کی دکان سے شروع کیا ۔ ساری زندگی تجارت کے ماحول میں بِتانے کے باوجود اس میدان کے ہنر مجھے نہ آنے تھے نہ آ ئے ۔اورنگ  آباد سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا اور پیشۂ تدریس سے وابستہ ہو گیا ۔ اس دوران میں نے اردو ،انگریزی اور عربی میں ایم اے کیا ۔ اردو انشائیوں کا تاریخی و تنقیدی جائزہ ‘اس عنوان کے تحت تحقیقی مقالہ لکھ کر امراؤتی یو نی ور سٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔اب میں وسط ہند کے شہر ناگپور میں مولانا ابوالکلام آزاد جو نیئر کالج میں اردو اور عربی کا مدرّس ہوں۔

– آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟

میری پیدائش مہاراشٹر کے ایک قصبہ وروڈ میں ہوئی جو امراؤتی ضلع میں واقع ہے اور سنگتروں کے لئے مشہور ہے ۔یوں تو سنگتروں کے لئے شہر ناگپور معروف ہے جو یہاں سے تقریباً سو کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔وروڈ اور اس کے آ س پاس کے علاقوں میں ہو نے والی سنگتروں کی پیداوار ناگپور کے کھاتے میں لکھی جاتی ہے۔بہر حال، میری جائے پیدائش اور سکونتِ حال میں وہی فر ق ہے جو حا ل اورقال میں ہو تا۔

– اپنی تصانیف کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیے اور یہ بھی بتائیے کہ آپ نے کن کن موضوعات پر لکھا ہے ؟

ج: بنیادی طور پر میری دلچسپی کا مر کز انشائیہ اور طنز و مزاح ہے ۔انشائیہ نگاری کی جس تحریک کو ڈاکٹر وزیر آ غا نے شروع کی تھا میں اس سے وابستہ رہا ۔اوراق ،لاہور ،ادبِ لطیف ،اردو پنچ ،تخلیق ،لاہور کے علاوہ میرے انشائیے اور مزاحیہ مضامین خاص طور پر ماہنامہ شگوفہ ،حیدر آ باد میں شائع ہوئے ۔ میرے انشائیوں کے مجموعے بوڑھے کے رول میں کے پیش لفظ میں ڈاکٹر وزیر آ غا صاحب نے ہندوستان میں تین انشائیوں کی نشاندہی کی تھی جو ان کی تحریک کے تحت طبع آ زمائی کر تے رہے ایک احمد جمال پا شا ،دوسرے رام لعل نابھوی اور تیسرا یہ خاکسار محمّد اسد اللہ ۔

اب تک میری آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے بوڑھے کے رول میں،ہوائیاں اور پر پرزے ان ہی اصناف سے متعلق ہیں ۔مراٹھی کے ظریفانہ ادب کو میں نے اردو میں ترجمہ کر کے جمالِ ہم نشیں اور دانت ہمار ے ہونٹ تمہارے ان دو کتابوں میں پیش کیا۔ قلم سنبھالا تو شاعری کی، مگر اس کی اشاعت سے پر ہیزکیا البتّہ گذشتہ برس بچوں اور طلباء کے لئے لکھی گئی میری نظموں کا مجموعہ خواب نگر منظرِ عام پر آ یا ہے۔یک بابی ڈراموں کے مجموعے صبحِ زر نگار اور کوئز کے مجموعے پروازکو مرتّب کر کے شائع کیا۔

بزمِ اردو پر کب سے لکھنا شروع کیا اور بلاگ بناتے ہوئے آپ نے کیا سوچا تھا کہ آپ کو بلاگنگ کیوں کرنی چاہیے یا بلاگ کے آغاز کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

اکتوبر 2006 سے بلاگ شروع کی اس وقت کو ئی خاص مقصد ذہن میں نہیں تھا اور شاید اب بھی واضح نہیں ہے سوائے اس کے کہ میرے پاس اظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم ہے جہاں میں اپنی تحریریں پیش کر سکتا ہوں جنھیں رسائل اور کتابوں کے ذریعے لو گوں تک پہنچا نے کی کوشش کرتا رہا ۔اب یہ چیزیں پوری دنیا میں ان لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں جو انٹر نیٹ کے ذریعے اردو ادب کا مطالعہ کر تے ہیں ۔ بزمِ اردو کی تشکیل کے وقت ایک مقصد یہ بھی ذہن تھا کہ میں اسے ایک ایسے ویب سائٹ کی شکل دوں جہاں اسکول اور کالج میں زیرِ تعلیم طلبا ء کو انکے مطلب کا مواد ، اطّلاعات اور تدریسی سرمائے میں معاون معلومات کا ذخیرہ مہیّا کیا جا ئے۔ اچّھا ،معیاری تخلیقی ادب ان کے مطالعے کے لئے پیش کیا جا ئے اور مختلف مواقع ،موضوعات اور شخصیات سے متعلق مضامین کی تلاش میں نکلے ادب دوست احباب کے کام کی کو ئی چیز میرے بلاگ پر دستیاب ہو سکے ۔

آپ بلاگ پر کن کن موضوعات پر لکھتے ہیں ؟

ج۔ مختلف شخصیات ،تعلیمی اداروں میں منائے جانے والے اہم دن ،تہوار ،تدریس میں شامل مو ضوعات ،ادب، سماجی مسائل اور ماحولیات کے علاوہ میں اپنے شہر ناگپور کی ادبی و سماجی سر گرمیوں اور اہم شخصیات کو بھی اپنے بلاگ کے ذریعے اردو دنیا میں متعارف کر وانا چاہتا ہوں ۔

– بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟

ج: مضامین پوسٹ کرنا ،لوگوں کے کامینٹ کے جوابات دینا ،اِ ن پیج میں لکھے ہو ئے مواد کو یونی کوڈ میں منتقل کرنا یہ سب چیزیں میرے لئے نئی تھیں ۔اب بھی میں تمام کاموں کو پوری طرح انجام نہیں دے پا تا ہوں ، اسی لئے کسی نو سِکھئے کی طرح بلاگ کی گاڑی کو ذرا سست رفتار کے ساتھ چلا رہا ہوں ۔یہ سچ ہے کہ میں اس عرصے میں میں نے اپنی توقّع سے زیادہ سیکھا ہے ۔

– یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں پہلی بار آپ کو کب اور کیسے پتا چلا تھا؟

ج۔ میں بھی اپنے بیشتر ہمعصروں کی طرح انکل کہلاتا ہوں اور نئی ایجادات کو بچّوں کی سی مستعدی کی طرح برتنے میں ناکام ہوں۔ آج بھی موبائیل کا نیا ہینڈ سیٹ استعما ل کرتے ہوئے مجھے اپنے بچّوں سے بار بار رابطہ کر نا پڑتا ہے ، لیکن طرزِ کہن پہ اَڑنا آئینِ نو سے ڈرنا ،اس کٹھن منزل پر میں نہیں پہنچ پایا ۔اسی وسعتِ قلبی کا نتیجہ تھا کہ جب میرے بیٹے توصیف احمد اور بھتیجووں وقاص اور وسیم نے یہ کہا کہ آپ رسائل میں لکھتے ہیں بلاگ پر بھی لکھئے تو میں اس نئی وادی میں سر گرمِ سفر ہو گیا۔

– آپ انگریزی میں بھی بلاگنگ کرتے ہیں اور اردو میں بھی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کس زبان میں آپ کو بلاگ لکھنے میں لطف آتا ہے؟

ج۔ جس طرح میں ا ردو میں لکھ سکتا ہوں، انگریزی زبان میں لکھنا میرے لئے دشوار ہے ۔انگریزی میں ایسے مضامین میں نے پو سٹ کئے جو پہلے ہی لکھ چکا تھا ۔وقت کے تقاضوں کے تحت اکثر اردو میں براہِ راست بھی لکھنا پڑا اوراسی لئے اردو میں لکھنا میرے لئے ایک پرلطف مشغلہ ہے ۔

– کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

ج: میرے خیالات ایک بڑے طبقے تک پہنچے ،پڑھنے والوں کی جانب سے پذیرائی ہو ئی اور انٹر نیٹ پر میری تحریریں محفوظ ہیں ، یہ احساس بڑا مسرّت بخش ہے ۔ مستقبل میں قارئین کے وسیع حلقے تک رسائی کی امّیدہے ۔

– اگر آپ کو اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے مزید یہ کہ آپ کی مادری زبان کونسی ہے؟

ج: اردو میری مادری زبان ہے ۔ میری ملازمت کا تعلق اردو سے ہے او ر میں ذاتی طور پردین و اسلام کے ساتھ اردو زبان کی ترویج و بقا کو اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد مانتاہوں اور اسی مشن کے تحت اپنے اسکول و کالج میں جو میری جو لان گاہ ہے ،مصروف ہوں ۔اس سلسلے میں لکھی گئی میری بیشتر تخلیقات اور مضامین بزمِ اردو بلاگ پر بھی میں پیش کر دیا کرتا ہوں ۔ میں نے نہ صرف بچّوں کے لئے زبان و ادب سے متعلق مضامین ،نظمیں اور کتابیں لکھیں ہیں بلکہ طلبا ء میں اردو زبان و ادب کا ذوق پیدا کرنے کی مختلف سطحوں پرکو شش بھی کیں۔سالانہ میگزین تہذیب الکلام ،ناگپور، گذشتہ چند برسوں سے ایڈٹ کر رہا ہوں ۔یہ سب اس لئے لکھ ر ہاہوں کہ میر ی خواہش ہے کہ ہر اردو والااردو کا سپاہی بن کر اپنی مادری زبان کا حق ادا کرے ۔

– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟

ج : کوئی شخص اگر اپنی ماں کو اپنے گھر سے باہرنکال دے تو یہ سوال بے معنی ہو جا تا ہے کہ پڑوسیوں نے اس خاتون کو اپنے گھروں میں جگہ دی یا نہیں ۔ہندوستان میں اہلِ اردو اور اردو اداروں نے آج اردو کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے، اگر صحیح معنوں میں آ پ ان حالات کو جان لیں گے تو یہی کہیں گے ۔اس گھر کو آ گ لگ گئی گھر کے چراغ سے ۔

– آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

ج: اردو بلاگنگ کے مستقبل میں امکانات روشن ہیں۔

– بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

ج۔ گھر اور اسکول کی مصروفیات نے کہیں کا نہیں رکھا ۔ ورنہ ہم بھی آ دمی تھے کام کے ۔

– کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

ج۔اردو کے مستقبل سے میں قطعی مایوس نہیں ہوں تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس گرتی ہو ئی دیوار کو سہارا دینے والوں ہی دم قدم سے ہی اردو زندہ رہے گی ۔یہ لوگ ایک زبان ہی نہیں ایک تہذیب کے محافظ ہیں جو اس اندھیرے میں اردو کا چراغ روشن کئے ہوئے ہیں ۔

اندھیرے کبھی کم نہ ہوں گےچراغ

کسی ذاویئے سے اجالا کرے

– ایک استاد کی حیثیت سے آپ آج کے طالب علم کو کیسا دیکھتے ہیں؟

ج: طلباء سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں مگر اساتذہ ان کی صحیح رہنمائی نہیں کر پا رہے ہیں ۔ہم اپنے آ س پاس تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو تعلیم کے معاملے میں جس قدر محنت کر تے ہو ئے دیکھتے ہیں لڑکے اسی قدر مایوسی ،غفلت اور بے راہ روی کا شکار ہیں یہ عدم توازن ہمارے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔ اس کا ایک بھیانک پہلو یہ بھی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کو جب ہماری قوم میں مناسب تعلیم یافتہ لڑکے نہیں ملتے تو وہ دوسری قوم کے نو جوانوں کی طرف راغب ہو کر اپنا مذہب تک چھوڑ دیتی ہیں ۔ اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

– آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

ج: اللہ کو راضی کر نا ۔کو ئی ایسا کام کر جاؤں کہ اس زندگی پرتضیعِ اوقات کا الزام نہ آ ئے ۔

کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ آپ کی پسندیدہ کتاب؟ یا کن موضوعات پر کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟

ج: قرآن مجید۔

طنز و مزاح ۔ کسی بھی مو ضوع پر معلومات سے بھرپور کتاب جو زندگی اوراس کی حقیقت سے متعلق کو ئی نیا پہلو منکشف کرے میرے لئے دلچسپ ہے ۔

2۔کیا آپ کوشعر و شاعری سے لگاؤ ہے؟ اگر ہے، تو ہم آپ کے پسندیدہ شاعر اور پسندیدہ شعر کے بارے میں جاننا چاہیں گے؟

ج: شاعری سے لگاؤ اس حد تک ہے کہ خود بھی شعر کہہ لیتا ہوں۔ پسندیدہ شاعر غالب ۔پسندیدہ اشعاربے شمار ہیں مثلاً

ہر چند سبک دست ہو ئے ہم بت شکنی میں

ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

3۔ کہتے ہیں کہ رنگوں کے انتخاب سے کسی حد تک انسان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تو ہم آپ کے پسندیدہ رنگ کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے؟

ج: پسندیدہ رنگ زعفرانی

4۔ کونسا کھانا آپ بہت شوق سے کھاتے ہیں؟

ج: بریانی

5۔ آپ کا پسندیدہ موسم کون سا ہے؟

ج: سردی

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟

@درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@درست

3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟

@درست

4۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟

@درست

5۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟

درست

اسد اللہ صاحب، اپنے قیمتی وقت میں سے منظر نامہ کے لیے وقت نکالنے کا بہت شکریہ۔


9 تبصرے:

  1. بہت ہی خوشی ہوئی اسداللہ صاحب کے بارے میں جان کر. اور اس بات کی بھی بڑی خوشی ہے کہ ایک انتہائی قابل اور اردو کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والی شخصیت بھی اردو بلاگستان سے تعلق رکھتی ہے.. منظر نامہ کا بھی اسداللہ صاحب سے تفصیلی تعارف کرانے پر بہت بہت شکریہ.

  2. ڈاکٹر اسد اللہ کے بارے میں بھر پور جان کر بہت خوشی ہوئی، آپ کے بلاگ کا میں قاری تو ہوں ہی لیکن آج اس انٹرویو سے بہت سی مفید معلومات ملیں ڈاکٹر صاحب کے متعلق۔ اور جیسا کہ راشد صاحب نے لکھا کہ اردو کے ایک بے لوث خادم کا بلاگ لکھنا بہت اہم بات ہے۔ منظر نامہ کا بھی شکریہ ڈاکٹر صاحب سے صحیح معنوں میں شناسائی کروانے کیلیے۔

  3. اسد صاحب. خوشی ہوئی کہ آپ بلاگنگ کی دنیا میں اس حد تک آ چکے ہیں کہ منظر نامہ پر آپ سے شناسائی کی جا رہی ہے. عزیزہ ماورا کے ربط دینے پر یہاں آیا.
    اب بھی کیا مسائل در پیش ہیں، مجھ کو بتائیں، شاید کچھ مدد کر سکوں. آپ نے میری ای میلس کا بھی جواب نہیں دیا. شارق کا کنورٹر جو بوریٹ داٹ کام پر تھا، جو آپ استعمال کر رہے تھے، اب بوریت مرحوم ہو چکی.وہ اب یہاں مل سکتا ہے، میرے ای سنپس فولڈر میں، جس میں اور ڈاکیومینٹس بھی ہیں
    http://www.esnips.com/web/Miscellany2
    شاکر.. یہ میں محفل میں بھی لکھ چکا ہوں کہ نہ جانے کیوں میرا مشاہدہ ہے کہ ہندوستانی ویب سائٹس اور بلاگس محض زبان کے انتخاب کو کافی سمجھتے ہیں، فانٹ کے انتخاب کو نہیں، جب کہ پاکستان میں فانٹ کو بیت اہمیت دی جاتی ہے. پہلے پاکستانی بلاگس اردو نسخ ایشیا ٹائپ میں تھے، اور اب جمیل یا علوی میں.

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر