آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو بلاگنگ، ترغیب، معیار > اردو بلاگنگ – ترغیب بذریعہ معیار

اردو بلاگنگ – ترغیب بذریعہ معیار

اردو بلاگران کی ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا خلاصہ سننے اور پڑھنے کو ملا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ اردو بلاگنگ پر کچھ رائے میں بھی دوں۔

کمپیوٹر پر اردو لکھنے یا پڑھنے میں اب کوئی عظیم ٹیکنالوجیکل رکاوٹیں حائل نہیں ہیں۔ اردو لکھنا اور پڑھنا آسان ہے۔ جو بھی چاہے وہ ذرا سی تلاش سے ایسے دسیوں مضامین اردو اور انگریزی زبانوں میں ڈھونڈ سکتا ہے جس میں کمپیوٹر پر اردو لکھنے پڑھنے، فونٹ انسٹال کرنے اور کی بورڈ لے آؤٹ تبدیل کرنے تک کے طریقے موجود ہیں۔یہ بحث کہ اردو لکھنے کو آسان تر بنایا جانا چاہئے محض کمیونٹی کا وقت ضائع کرتی ہے۔ جو اردو لکھنا چاہے وہ اب باآسانی اردو لکھ، پڑھ اور شائٰع کرسکتا ہے۔ تاہم جو لوگ اردو لکھنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں ترغیب، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو اس کے لئے ایک مناسب فورم پہلے سے موجود ہے جہاں سوالات کے جوابات، موضوعات کا ڈھیر، ڈاؤنلوڈز کا ذخیرہ اور اردو کمپیوٹر اپلیکشن پروگرامنگ کے ماہرین موجود ہیں اور اگر آپ محفل کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ کافی سارے لوگوں نے وہاں سے اپنے کمپیوٹر اور ویب پر اردو لکھنے کی رہنمائی اور ترغیب پائی ہے۔ ٹیکنالوجیکل رہنمائی کے حوالے سے اردو کمیونٹی کی سمت درست ہے اور رفتار سبک۔ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔

اردو بلاگنگ کی غیر مقبولیت کی اصل وجہ اس کا غیر معیاری ہونا ہے۔

جب میں کوئی اچھی تحریر پڑھتا ہوں، کوئی اچھی بات سنتا ہوں، کوئی اچھا گیت یا کوئی اچھا جملہ سنتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسے یاد کرلوں، اسے دوسروں کے ساتھ بانٹوں، یا اس جیسی اچھی چیزیں کہنے کی کوشش کروں۔ اکثر لکھنے والوں کو ترغیب پڑھنے سے ہی ملتی ہے۔ اگر ہمارے لکھے ہوئے مضامین قاری کے دل میں کسی قسم کی تحریک بیدار نہیں کرتے، انہیں کچھ کہنے پر اکساتے نہیں ہیں یا انہیں ترغیب نہیں دیتے تو ہماری تحریر اچھی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اردو بلاگنگ کی ترغیب دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اچھا لکھنا ہوگا اور اپنے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ ہر اردو بلاگر کو یہ اپنی انفرادی ذمہ داری سمجھنا چاہئے اور خود ہی اپنی تحریر کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔

میں اس قسم کی کوئی اہلیت نہیں رکھتا کہ معیار طے کروں۔ تاہم کامن سینس اور لکھنے کے فن پر تھوڑا بہت پڑھ لینے کے بعد چند سادہ سی تجاویز گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اس امید پر کہ وہ پڑھنے والوں کو اور مجھے خود کو بہتر لکھنے میں مدد دیں گی۔ ان تجاویز کے علاوہ میں یہ مشورہ دونگا کہ انٹرنیٹ پر بہتر لکھنا سکھانے کے کئی ویب سائٹ موجود ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔

اچھا لکھنے سے مراد یہ نہیں کہ آپ اردو ادب کے اساتذہ کی نقالی کریں۔ اگر آپ مزاح لکھ رہے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کا انداز مشتاق یوسفی، کرنل شفیق الرحمن، پطرس بخاری جیسا ہو۔ اگر آپ سیاسی اور معاشرتی مضامین پر لکھ رہے ہیں تو یاد رکھیں آپ کا بلاگ روزنامہ ایکسپریس نہیں ہے۔ جدت اپنائیں اور اپنے خود کے انداز میں لکھیں۔ اپنی تحریر کو اپنے تشخص کا لبادہ پہنائیں اور اسی کو سنوارنے اور سدھارنے کی کوشش کیا کریں۔

بے تکے پن کو بھی خوبصورتی اور مہارت سے پیش کریں۔ بے مقصدیت کو کبھی بھی رقم بند نہیں کیا جاسکتا اس لئے یاد رکھیں کہ چاہے آپ کچھ بھی لکھ رہے ہوں، وہ بے مقصد ہو ہی نہیں سکتا ہاں بھونڈے پن سے وہ ناقابل فہم ضرور ہوسکتا ہے اور لوگ اسے پڑھنا پسند نہیں کریں گے اور اگر کوئی چیز پڑھے جانے کے قابل نہیں تو اسے لکھا بھی نہیں جانا چاہئے۔ اپنے الفاظ کی قدر سمجھیں اور انہیں سمجھداری سے استعمال کریں۔

نئے خیالات لائیں اور اردو کو دقیانوسیت کے بوسیدہ غلاف سے باہر نکالیں۔

دلچسپ اور رنگارنگ خیالات پر طبع آزمائی کریں۔

دل سے لکھیں مگر دماغ سے اسے درست کریں۔ لکھتے ہی پوسٹ شائع نہ کردیا کریں۔ اسے پہلے خود پڑھا کریں اس کی نوک پلک درست کیا کریں۔ جملوں کو چست، خیال کو دلچسپ اور بیان کو آسان بنانے کی کوشش کیا کریں۔

ویب ایک مختلف میڈیم ہے۔ یہاں لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ ایک طرف انہوں نے آپ کو مضمون کھولا ہوتا ہے تو دوسری طرف فیس بک پر کسی پری چہرہ کی پروفائل، دوسرے ٹیب میں جی میل اور تیسرے ٹیب پر یوٹیوب پر کوئی مزیدار ویڈیو۔ آپ ان کے قیمتی وقت کو ضائع نہ کریں اور اپنی تحریر کو بلاوجہ طول نہ دیں۔ لوگ طویل تحاریر میں دلچسپی کھودیتے ہیں اور مکمل مضمون پڑھے بغیر ہی کہیں اور متوجہ ہوجاتے ہیں۔

اگر طویل مضمون ہی لکھنا ہے تو زیادہ سے زیادہ پیرا گراف بنائیں۔ چند بلاگر ایک ہی پیراگراف میں لمبی لمبی پوسٹس لکھ دیتے ہیں جنہیں پڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

بہتر لکھنے کی چند تجاویز کے بعد اب کچھ اور باتیں۔

خوبصورتی سے زیادہ اہم بات قابلیت استعمال ہے۔ اکثر اردو بلاگ اس بات کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ یوں ان کے قاری کو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ غیر سنجیدہ لوگوں کا ٹولہ ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کا بلاگ تمام جدید ویب براؤسروں پر درست دکھنا چاہئے۔ آپ کے بلاگ کو جلدی کھلنا چاہئے۔ اور اس کی نیوی گیشن سادہ اور قابل فہم ہونا چاہئے۔ اگر کسی کے کمپیوٹر میں کوئی بھی اردو فونٹ نہیں ہے تب بھی اسے آپ کا سائٹ پڑھے جانے کی حالت میں نظر آنا چاہئے۔

تھیم اردوانے والے حضرات سے گذارش ہے کہ وہ معیاری تھیم ترجمہ کریں۔ اردوائے گئے اکثر تھیم غیر معیاری ہوتے ہیں۔ اردو بلاگنگ بار بار تھیم بدلنے کا نام نہیں ہے۔ دس بارہ معیاری اردو تھیم کافی ہیں۔ اور یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ کمیونٹی بلاگر کے اردو ٹیمپلیٹس پر توجہ دیں، صرف ورڈ پریس ہی ایک بلاگنگ ٹول نہیں ہے۔

ویب پیڈ، گوگل ٹرانسلٹریشن اور اس قسم کے دیگر ٹولز کی افادیت اپنی جگہ مگر کمپیوٹر کی اپنی سپورٹ کے ذریعے اردو لکھنے کو فروغ دیا جائے ۔ کیونکہ یہ درست طریقہ ہے، اس کی سہولت تمام آپریٹنگ سسٹمز میں موجود ہے، اور اس کے بغیر اردو کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

اردو کے فری ویب ہوسٹس کے ناقابل اعتبار ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بلاگر یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر بلاگنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے۔ بلاگر کو اکثر اردو کمیونٹی نظر انداز کردیتی ہے حالانکہ اس میں زبردست اردو سپورٹ موجود ہے۔ یہ مفت ہے اور کافی قابل اعتبار ہے۔ بعد ازاں جب لکھنے والے کو بلاگنگ کا تھوڑا تجربہ ہوجائے تو وہ خود کہیں ہوسٹنگ کا انتظام کرسکتا ہے۔

ہر اردو بلاگر کے بلاگ پر ایک صفحہ رابطے کا ہونا چاہئے جس کے ذریعے لوگ انہیں ای میل کرسکیں۔ اور جب کوئی آپ سے پوچھے کہ وہ اپنا اردو بلاگ کیسے شروع کریں تو انہیں اردو محفل کا پتہ دیا کریں۔

اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے میرے اس مضمون شامل تجاویز کا خلاصہ یہ ہے کہ۔

ا۔ بہتر لکھیں، نیا لکھیں، ذمہ داری کے ساتھ لکھیں اور جو بھی لکھیں اس کا پڑھا جانا آسان بنائیں۔
2۔ ورڈ پریس کے علاوہ بلاگر پر بھی نظر کرم کریں۔ یہ مفت بھی ہے اور قابل اعتبار بھی۔
3۔ ترغیب دیں، رہنمائی کریں۔ مگر لوگوں کو مفت خدمات فراہم نہ کریں۔

29 تبصرے:

  1. تجاویز اچھی ہیں اور ہم بھی ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے. ایک تجویز ذہن میں آئی ہے. اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خود کی تخلیق میں نقص نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے تو کیوں ناں ہر ماہ ایک بلاگ چن کر اس کی بہتری کیلیے صاحب بلاگ کو سب لوگ نہ صرف مشورے دیں بلکہ اسے بہتر بنانے میں اس کی مدد بھی کریں. ہم کھلی تنقید کیلیے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں. آپ ہمارے بلاگ سے شروعات کر سکتے ہیں.

  2. یہ بات غلط ہے کہ اردو بلاگرز معیاری نہیں ہیں۔ بعض بلاگز جیسے ڈفرستان، منظرنامہ وغیرہ کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ ہاں البتہ معیاری موضوعات پر لکھنے والے کم ہیں۔ میں نے چند دن قبل ہی اردو بلاگز فیڈز کو حاصل کرنا شروع کیا ہے۔ اور یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ سنجیدہ موضوعات کی طرف رجحان بہت کم ہے۔ نیز جس تعداد میں اردو بلاگرز موجود ہیں۔ اسی رفتار سے نئی پوسٹس بھی ہونا چاہئے اور انکے کمنٹس بھی۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ گھنٹوں بعد کوئی نئی تحریر پوسٹ ہوتی ہے، یوں دن بھر میں پانچ دس سے زیادہ تحریرات پوسٹ نہیں کی جاتیں۔ اس طرف توجہ کریں۔
    دوسرا یہ عرض کروں گا کہ اب اکثر بلاگرز نے علوی نستعلیق اور جمیل نوری نستعلیق کو بلاگ کا ڈیفالٹ فانٹ بنا لیا ہے۔ البتہ جسکے پاس یہ دونوں فانٹس ابھی تک موجود نہیں ہیں، انکو ڈائرکٹ لنک کے ذریعے یہ فراہم کرنے چاہیے۔ حال ہی میں علوی نستعلیق کا ڈیفالٹ لنک ایکسپائیر ہو گیا تھا۔ 🙁
    لنک وہ دینا چاہئے جسکے ایکسپائیر ہونے کے چانسز بہت کم ہوں۔ کسی فارم یا کسی اور سائٹ کا ربط دینے سے صارف ڈھونڈنے کی مشقت برداشت کرنا نہیں چاہتا اور آپکے بلاگ سے رخصت ہو جاتا ہے!

  3. ایسا نہیں ہے کہ معیار نہیں ہے،کم ہے مگر ضرور ہے، ورنہ بی بی سی والے اور اخبارات والے متوجہ ہی نہ ہوتے، اصل مسئلہ وہی پرانا اور گھسا پٹا ہے، اکثریت ویب پر اردو نہیں پڑھنا چاہتی، یا انہوں نے کمپیوٹر کا دوسرا نام انگریزی رکھ لیا ہے، میری آئے دن ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے جن پر یہ گویا انکشاف ہوتا ہے کہ کمپیوٹر پر اردو لکھی جاسکتی ہے..!!

    ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں سب کچھ بتانے سمجھانے کے با وجود وہ اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد میں مقید رہنا ہی پسند کرتے ہیں..

    جہاں تک بلاگر کی بات ہے تو میرے خیال سے اس سے گھٹیا بلاگنگ پلیٹ فارم کبھی نہیں بن سکے گا.. اس کے بے ہودہ تھیم دیکھ دیکھ کر اب متلی ہونے لگی ہے، تبصروں کا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ مضمون پر تبصرہ کرنے کی بجائے صاحبِ مضمون کو کھری کھری سنانے کا دل کرتا ہے.. اگر ٹیکسٹ بکس میں لکھیں تو تحریر کے الفاظ ٹوٹتے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا لکھ رہے ہیں، اگر کسی دوسرے ایڈیٹر میں لکھ کر پیسٹ کرنے کی کوشش کریں تو پیسٹ نہیں ہوتا، اور نا ہی اس کے ٹیکسٹ باکس میں اپنا لکھا ہوا ہی کاپی ہوتا ہے..!!

    بلاگر کی بجائے لوگوں کو ورڈ پریس ڈاٹ کام کی ترغیب دینی چاہئے.

    باقی سب خیریت ہے.

  4. میں نعمان کی اس بات سے متفق ہوں کہ اردو میں اب تک کوئی ایسا معیاری بلاگ سامنے نہیں آیا جو اپنی انفرادیت کے اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتا ہو۔ البتہ انداز تحریر کے حوالے سے چند بلاگز بہت اچھے ہیں۔
    یہ تحریر اردو میں بلاگنگ کرنے والے اور ارادہ رکھنے والوں کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتی ہے اور بلاگنگ کے حوالے سے سوچ کے کئی دروازے وا کرتی ہے لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر صلاحیت کی طرح لکھنے کی صلاحیت بھی خداداد ہوتی ہے، کسی بھی اچھا لکھنے کے لیے کچھ ‘ٹپس’ بتائی جا سکتی ہیں لیکن کسی طرح اس کے لکھنے کے فطری انداز کو تبدیل نہیں کروایا جا سکتا، ہاں اسے بہتر ضرور بنایا جا سکتا ہے۔
    سب سے پہلے تو بلاگرز کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس موضوع پر اچھا لکھ سکتے ہیں، اگر کوئی گانے فلمیں پسند کرتا ہے تو میرے خیال میں اسے سیاست کے بجائے انہی کو اپنا موضوع بنانا چاہیے۔ یعنی بنیادی نقطہ یہی کہ جس میں آپ کو دلچسپی ہے وہی موضوع اپنائیے۔
    دوسری بات لکھنے کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے، جتنا زیادہ پڑھیں گے تحریر اتنی زیادہ نکھرے گی اور معلومات سے بھرپور ہوگی۔
    تکنیکی اعتبار سے اردو بلاگز میں بہت زیادہ خامیاں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سب لوگ تکنیکی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اس لیے خامیاں ہو سکتی ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خرابیوں کی نشاندہی کروائی جائے تاکہ بلاگر صاحب کو اپنے بلاگ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
    آخر میں سب سے اہم بات کروں گا کہ یہ سینئر بلاگران کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے آنے والوں کی درست رہنمائی کریں۔ تحریر کے حوالے سے یا تکنیکی معاملات میں ان کی کمزوریوں کو ظاہر کریں۔ اگر سمجھتے ہیں کہ تبصرہ جات میں انہیں براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے تو بذریعہ ای میل انہیں آگاہ کریں۔ اس سے انہیں اپنی اصلاح کا بھرپور موقع ملے گا۔
    آخر میں نعمان کا بہت شکریہ۔ آئندہ میں بلاگنگ کرتے ہوئے ان مشوروں کو ذہن میں رکھوں گا۔
    ویسے منظرنامہ پر “گھاگ بلاگرز” کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔

  5. غیرمعیاری :dxx: میں تو ایسا نہیں سمجھتا ….. اردو بلاگرز نے اردو کو اس وقت انٹرنیٹ پر سہارا دیا جب ہر کوئی انگریزی کے پیچھے دوڑ رھا ہے کم از کم میرا تو یہ نہیں خیال کہ اس میں کچھ بھی بے معنی یا بکواس ہے

  6. میرا پاکستان جیسے میں نے عرض کیا کہ خود اپنی تحریر کو نکھارنا ہر لکھنے والے کی ذمے داری ہے.

    عارف: سنجیدہ یا غیر سنجیدہ موضوعات کی بات نہیں. بات یہ ہے کہ جو بھی لکھا جائے وہ اچھے سے لکھا جائے. فونٹ کی جو شکایت آپ نے کی ہے اسی کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے. صورتحال یہ ہے کہ اردو بلاگز پڑھنے کے لئے صارف کو اپنے کمپیوٹر پر چھ اردو فونٹ نصب کرنا ہوتے ہیں جن میں سے جمیل اور علوی کے لنک بھی کم از کم مجھے تو معلوم نہیں ہیں. اسلئے یہ بلاگر کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے بلاگ پر فونٹ کی ترتیب ایسی رکھیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کا بلاگ صحیح طرح دیکھ سکیں.

    مکی: بی بی سی اور اخبار والے اردو بلاگز کو مسلسل فالو نہیں کرتے بلکہ کبھی ایک آدھ سال میں کوئی اکا دکا اسٹوری چلادیتے ہیں. یہ کوئی اہم بات نہیں ہے. آپ کہتے ہیں کہ اکثریت ویب پر اردو پڑھنا ہی نہیں چاہتی. یہی میں کہتا ہوں کہ گویا ہم اتنا اچھا نہیں لکھتے کہ نہ پڑھنے والوں کو پڑھوادیں اور ایک نئی ریڈرشپ ڈیویلپ کرسکیں.

    بلاگر سے میں نے بلاگنگ کا آغاز کیا تھا میری ذاتی رائے ہے کہ وہ ایک مناسب ٹول ہے. اور مفت ہے. ورڈپریس ڈاٹ کام بھی اچھا ہے. اور ہاں شکر ہے منظرنامہ کے روابط سے وہ جھولتے بکسے غائب ہوگئے.

    عبدالقدوس: میں متفق ہوں کہ بلاگز اور اردو فورمز نے ویب پر اردو کی شمع جلائے رکھی ہے. مگر کیا آگے نہیں بڑھنا؟ اور میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ جو بھی کچھ لکھا جاتا ہے وہ بے معنی اور بکواس ہو ہی نہیں سکتا. ہاں بھونڈے پن سے ناقابل فہم ضرور ہوسکتا ہے.

  7. آپ ن ے بہت اہم موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور بلاگ لکھنے والوں کو سنجیدگی سے آپ کی باتوں پر غور کرنا چاہیے ایک بہت عمدہ موضوع اور اچھے طریقے سے لکھے گئے بلاگ چاہے کسی بھی پلیٹ فارم پر بنا ہو لوگ پڑھتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں چاہے کسی طریقے سے بھی کرنا پڑے لیکن ایک بہت ہی اچھے اور خوبصورت بلاگ پر اگر بے جان تحریریں شائع کی جائیں تو کوئی در خور اعتنا نہیں جانتا اور اردو بلاگنگ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں.

    سوشل نیٹ ورکنگ ایک بہت اچھا ٹول ہے اور کئی بلاگرز فیس بک کے ذریعے نئے قاری پیدا کررہے ہیں؛ ان ذیلی ٹولز کے استعمال پر بھی بلاگرز کو توجہ دینی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی اردو بلاگنگ تک رسائی کو ممکن بنایا جائے

  8. نعمان اچھا لکھ کر ہم لوگوں کو کیا پڑھنے پر مجبور کریں گے.. لوگ اچھی کتابیں نہیں پڑھتے اچھے بلاگ کیا پڑھیں گے ؟! یہ بات کوئی ڈھکی چھپی تو نہیں کہ ہمارے ہاں پڑھنے کی روایت آخری سانسیں لے رہی ہے..

  9. نعمان نے بلاگر کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ مکی بھائی نے بلاگر کے بارے میں اچھی رائے ظاہر نہیں کی ہے لیکن ابھی بھی بلاگر ڈاٹ کام کو اردو بلاگنگ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہوں۔ میں اس بارے میں جلد ایک مضمون لکھنے کا ارادہ رکھا ہوں۔ جہاں تک معیار کا تعلق ہے تو چند ایک بلاگز پر اچھی تحاریر ضرور نظر آتی ہیں۔ باقی بلاگز پر وہی گھسی پٹی مذہبی اور سیاسی بحث ہی نظر آتی ہے۔ ایک مشترکہ موضوعاتی بلاگ سیٹ اپ کرنے کے سلسلے میں بات چل رہی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو اس سے بھی اردو بلاگنگ کو کریڈیبیلیٹی مل سکتی ہے۔

  10. سای باتیں اچھی ہین لیکن ابو شامل صاحب کی مندرجہ ذیل باتوں پر اگر عمل کیا جائے تو بہت بہتری آ سکتی ہے ۔ آخر مجھ جیسا دو جماعت بلاگر بھی ہے اور تقی کی تمنا بھی رکھتا ہے

    تکنیکی اعتبار سے اردو بلاگز میں بہت زیادہ خامیاں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سب لوگ تکنیکی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اس لیے خامیاں ہو سکتی ہیں، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خرابیوں کی نشاندہی کروائی جائے تاکہ بلاگر صاحب کو اپنے بلاگ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
    آخر میں سب سے اہم بات کروں گا کہ یہ سینئر بلاگران کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے آنے والوں کی درست رہنمائی کریں۔ تحریر کے حوالے سے یا تکنیکی معاملات میں ان کی کمزوریوں کو ظاہر کریں۔ اگر سمجھتے ہیں کہ تبصرہ جات میں انہیں براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے تو بذریعہ ای میل انہیں آگاہ کریں

  11. میں نے گزشتہ ایک تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اردو بلاگڑز کی رہنمائی کے لئے ایک فارم ہونا چاہئے۔ ماوراء بہن نے اردو ٹیک کا تذکرہ کیا جو سستی اور کاہلی کا شکار ہوگیا۔ بہر کیف میں اپنی سی کوشش کرنا چاہی کہ اور فارم کا تصویری خاکہ بھی پیش کیا یہاں دیکھ سکتے ہیں http://www.alqlm.org/forum/showthread.php?t=6445 لیکن مجھے نہیں لگتا کہ لوگ سیریس ہوکر یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ بلاگنگ کو وقت گزاری نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر کیا جائے تو ہم معاشرے میں زیادہ نہیں تو تھوڑی بہت تو تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اس موضوع میں دی گئی تجاویز بہت خوب ہیں۔ ان پر عمل کیا جائے تو بہتری کی امید رکھی جاسکتی ہے۔ابو شامل نے بھی اچھے باتیں کی ہیں۔ تھیم کے حوالے سے مکی کی بات درست ہے۔ تھےک بہترین ہونا چاہئے۔ میرا پاکستان کی تجویز بھی خوب ہے۔

  12. بہت اچھی تحریر ہے . تجاویز بھی اچھی ہیں.

    بھائی ابو شامل کی بات کہ ہر شخص اپنے فطری میلان کے اعتبار سے مضامین کا انتخاب کرے واقعی ٹھیک ہے. تکنیکی اعتبار سے تو مجھ سمیت بہت سے لوگ ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں سینئر احباب اگر ایسی ہی تحاریر لکھتے رہیں تو بہتری کی کافی اُمید ہے.

  13. ابوشامل .. بالکل بہت شکریہ اس طرف اشارہ کرنے کا یہ بات میری پوسٹ میں موجود ہونا چاہئے تھی. کہ اپنے فطری میلان اور اپنی شخصیت اور اپنے مزاج کے مطابق لکھیں. کیونکہ ہر انسان کی انفرادیت اسے دوسروں سے ممتاز اور دلچسپ بناتی ہے.

    راشد : بالکل سوشل نیٹ ورکنگ اور مائکرو بلاگنگ جیسے ٹولز کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے. اس پر مزید بات ہونی چاہئے.

    عبدالقدوس: آپ کی فورم والی تجویز کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے. مگر اردو محفل ہے، فیس بک ہے، منظر نامہ اور کتنے کمیونٹی ویب سائٹ ہونے چاہئے؟ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ ہم نت نئی چیزیں بناتے اور انہیں ادھورا چھوڑتے رہنے کے بجائے جو چیزیں موجود ہیں ان کے بہتر استعمال پر غور کریں. اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بہتر مواد تخلیق کرنے کی کوشش کریں تاکہ لوگوں کو اردو میں معیاری ویب کنٹینٹ میسر ہو.

    مکی بھیا اگلی پوسٹ میں ورڈپریس اور بلاگر کا تقابل کریں گے. خاص طور پر نئے لکھنے والوں کے لئے کہ ان کے لئے کونسا پلیٹ فارم بہتر ہے.

    پاکسستان میں روزانہ ہزاروں لوگ اردو اخبارات کے کالم پڑھتے ہیں. دنیا بھر سے لوگ بی بی سی اردو پڑھتے ہیں. ہر روز اردو کے کی ورڈ سے گوگل پر ہزارہا تلاشیں ہوتی ہیں. میرا نہیں خیال کہ لوگ اچھا پڑھنا نہیں چاہتے بلکہ دراصل لوگ اب اچھا لکھنے نہیں چاہتے کیونکہ اس میں خون جگر جو سیاہی بنتا ہے. اچھا مواد نہ ہونے کہ سبب لوگ انگریزی پڑھنے لگے ہیں.

    اچھا اس لئے لکھیں کیونکہ اگر آپ لکھتے ہیں اور اسے اچھا بنانے کی کوشش نہیں کرتے تو دراصل یہ ایک قسم کی ناانصافی ہے. آپ کے قاری کے ساتھ کیونکہ وہ یہ سمجھ کر آپ کی بات پڑھ رہا ہے کہ آپ کچھ دلچسپ کہیں گے. ناانصافی ہے خود آپ کے اپنے ساتھ کہ آپ کے پاس بہت سارے عمدہ خیالات ہیں مگر آپ انہیں محنت سے خوبصورت اور اثرانگیز نہیں بنانا چاہتے.

  14. مکی بھائی، ورڈ پریس ڈاٹ کام پر بلاگ لکھنے کا میرا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ لیکن میرے خیال میں ورڈپریس کی اپنی ہوسٹنگ پر انسٹالیشن پر ہی بلاگ لکھنے کا فائدہ ہے۔ فری ہوسٹنگ میں آپ نہ تو تھیم میں تبدیلی لا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی مرضی کا پلگ ان انسٹال کر سکتے ہیں۔ بلاگر میں کم از کم آپ کے پاس تھیم پر تو کسی حد تک کنٹرول ہوتا ہے۔
    یہ ٹھیک ہے کہ ورڈپریس کی فیچرز کا کوئی مقابلہ نہیں ہے لیکن اپنی ہوسٹنگ ہر ایک کے پاس نہیں ہے اور جو فری اردو بلاگ ہوسٹ موجود ہیں، ان کی سروس ڈانواں ڈول ہی رہتی ہے۔ اس لیے بلاگر کوئی اتنی بری آپشن بھی نہیں ہے۔ کم از کم جو لوگ اردو بلاگنگ کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، یہ ان کے لیے آسان رستہ مہیا کرتا ہے۔ اور میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ بلاگ کی اصل اہمیت اس پر موجود مواد کے معیار ہوتی ہے۔ خوبصورت تھیم یا پلگ انز کا استعمال اس سلسلے میں ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔

  15. مکی بھیا ویب پر لوگوں کے اردو میں انٹرسٹ کی ایک مثال اس لنک کے ذریعے دیکھی جاسکتی ہے. یہاں آپ دیکھیں گے کس طرح سن دو ہزار چار سے اب تک ایک تسلسل کے ساتھ ویب پر اردو مواد تلاش کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے. دو ہزار آٹھ سے اب تک اردو کی تلاش نے کافی بڑی چھلانگ بھی ماری ہے. یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ لوگ اردو پڑھنا چاہتے ہیں اور اچھے مواد کی تلاش میں ہیں.

  16. میرا خیال ہے تمام تبصرہ جات پڑھنے کے بعد فرض بنتا ہے کہ ان تمام تبصرہ جات کا تنقیدی جائزہ میں اپنے مخصوص انداز میں لے کر اس سلسلے کو جاری و ساری رکھوں.

    ویسے ہتھ ہولا رکھنے کی پیشگی درخواست دائر کر رہا ہوں :ops:

  17. مکی بھائی کی بات درست ہے کہ ورڈ پریس بہتر ہے مگر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نئے بلاگرز ورڈ پریس میں یک دم بلاگنگ شروع کر پائیں گے، جب تک ٹھوس ٹیوٹوریلز موجود نہ ہوں! :hmm:

  18. نعمان آپ نے ربط دے کر چھلانگ کی طرف اشارہ تو کردیاہے مگر یہ بھی دیکھئے کہ تلاش ہونے والے زیادہ تر الفاظ کیا ہیں :haha:

    اور تلاش بھی رومن اردو میں، اس سے لوگوں کی ذہنی سطح کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے..

    نبیل بھائی ورڈ پریس ڈاٹ کام پر تھیمز بھی بدلی جاسکتی ہیں اور پلگ ان بھی نصب کئےجاسکتے ہیں اور تبصرے بھی بڑی آسانی سے کئے جاسکتے ہیں اس کے مقابلے میں بلاگر پر یہ چیزیں مفقود ہیں پھر بلاگر پر اتنا اصرار کیوں؟ یہ درست ہے کہ بلاگ کی اہمیت اس کے مواد سے ہوتی ہے مگر ایک چٹا کورا صفحہ یقیناً کسی کو پسند نہیں آئے گا..

  19. میں نے یہ تحریر تھوڑی جلدی میں پڑھی ہے اس لیے اگر سمجھنے میں کچھ غلطی کرجاؤں تو م سے معذرت :dxx: مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں کہ صاحب مضمون کون ہیں۔۔۔شاید عمار نے لکھا ہے یہ سب۔۔ہیں نا۔۔؟؟
    آپ نے سب بہت اچھا لگا لیکن مجھے اس بات پر اعتراض ہے۔۔۔۔
    “اردو بلاگنگ کی غیر مقبولیت کی اصل وجہ اس کا غیر معیاری ہونا ہے“
    اللہ توبہ جب میں نے اپنا بلاگ بنایا تھا تب شاید چند ایک اردو بلاگ تھے ور ااب اس قدر اردو بلاگ بن چکے ہیں کہ سب کو ایک ساتھ دیکھنے پڑھنے کا وقت بھی نہیں ملتا۔۔۔اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اردو بلاگنگ غیر مقبول ہے۔۔۔مقبولیت کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے۔۔۔مجھے پلیزز اس بارے میں بھی ضرور بتایے گا :ops: اور ہاں یہ بار بار تھیم بدلنے والی بات آپ نے میرا بلاگ دیکھتے ہوئے تو نہیں کی نا۔۔۔؟؟؟؟ :0

  20. مکی یہ صرف اشارہ ہے کہ لوگ اردو میں لکھے ہوئے مواد کو تلاش کررہے ہیں چاہے جیسے بھی کررہے ہیں۔ تلاشوں میں کوئی خرابی نہیں لوگ اردو میں ویب پر ایس ایم ایس، مزاحیہ ایس ایم ایس، شاعری، فکشن، خبریں پڑھنا چاہتے ہیں۔ لوگ شاید اردو ویکیپیڈیا بھی لکھ کر سرچ کرتے مگر آپ کو معلوم ہے ویکیپیڈیا نے اردو پڑھنے والوں کو کس قدر مایوس کیا ہے۔ تلاش میں ایک کی ورڈ بی بی سی اردو ہے اس پر غور کریں۔ دوسرا کیورڈ جیو اردو ہے۔

    امن: اردو بلاگ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے درست مگر اتنا نہیں جتنا دوسری زبانوں کے بلاگوں میں ہوا ہے۔

  21. میں خوش فہم نہیں آپ کو سادہ اعداد و شمار پیش کرہا ہوں جو گوگل سرچ انجن نے خود کار طریقے سے جنریٹ کرے ہیں۔ اور صاف صاف یہ بتا رہے ہیں کہ لوگ اردو میں چیزیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر وہ ہماری لکھی ہوئی چیزیں پر ردعمل کا اظہار نہیں کررہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بہت ہی برا لکھتے ہیں۔

  22. راشد کامران: میرے پاس یہ تھیم زیادہ ٹھیک نظر نہیں آرہی۔۔۔عنوان کے نیچے اب نام دیکھا ہے۔۔فانٹ بہت ہی چھوٹا ہے۔۔میرا خیال تھا یہاں صرف ماوراء اور عمار ہی لکھتے ہیں۔۔۔آپ کی تصیح کا شکریہ۔

    نعمان بھائی : آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔۔نعمان بھائی میرے لیے میرا بلاگ ایک طرح سے ہائیڈ پارک ہے۔۔جہاں لکھتے ہوئے میں کسی کی پسند ناپسند کا خیال نہیں رکھتی۔۔جہاں جو لکھوں اس کے لیے کسی کو وضاحت نہیں دینی ہوتی۔۔بس جو دل چاہا جب دل چاہا لکھ دیا۔۔۔۔میں نے یہ چیز اور بہت سارے بلاگز میں بھی نوٹ کی ہے۔۔جہاں تک میرا خیال ہے کہ میری طرح کچھ اور بلاگرز بھی اپنے بلاگ کو پرسنل ڈائری ہی سمجھتے ہیں۔۔اب کسی کو ہماری باتوں میں کیونکر اور کتنی دلچسپی ہوسکتی ہے۔۔شاید اس لیے آپ اردو بلاگز کی غیر مقبولیت کی بات کررہے ہیں۔
    نعمان بھائی پلیزز اس بات کی وضاحت کردیں۔۔“اردو کے فری ویب ہوسٹس کے ناقابل اعتبار ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بلاگر یا ورڈپریس ڈاٹ کام پر بلاگنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا جانا چاہئے۔ “ یہ ناقابل اعتبار کس sense میں ہے۔۔؟

  23. امن: پہلی بات. لوگوں کو پرسنل ڈائریز میں بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے. جب میں کہتا ہوں کہ ہمیں اچھا لکھنا چاہئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں لوگوں کی پسند کے موضوعات پر لکھنا چاہئے. بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس طرح لکھنا چاہئے کہ ہمارا لکھا ہوا مواد دلچسپ ہو، پڑھنے میں مزیدار ہو، آسان ہو، منفرد ہو. اچھا لکھنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی بات کو آسان الفاظ میں سادگی اور خوبصورتی سے بیان کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور اس سے لطف اندوز ہوسکیں.

    انگریزی بلاگز میں ایک صاحب ہیں جو کسی ریستوران میں ویٹر تھے آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ان کی پرسنل ڈائری روزانہ ہزاروں لوگ پڑھتے تھے اور انہیں اس کے ذریعے ایک کتاب کا معاہدہ بھی حاصل ہوا. اس کے علاوہ کئی پرنسل ڈائریز بہت مقبول ہیں.

    لہذا طے ہوا کہ پرسنل ڈائریز بھی دلچسپ ہوتی ہیں اور لوگ انہیں شوق سے پڑھتے ہیں. لیکن اگر وہ بے تکے پن سے لکھی جائیں تو شاید اتنے لوگ انہیں نہ پڑھیں.

    اردو کے فری ویب ہوسٹس اکثر ڈاؤن رہتے ہیں، ان کے منتظمین بدمزاج اور مغرور ہوتے ہیں.ان کے پاس کمیونٹی سپورٹ کے اچھے آپشن نہیں ہوتے. ایسے ویب ہوسٹس پر آپ کا ڈیٹا ضائع بھی ہوسکتا ہے. اور منتظمین آپ کو بتائے بغیر سائٹ بند کرسکتے ہیں، اس میں تبدیلی کرسکتے ہیں. جب کہ بلاگر یا ورڈپریس ڈاٹ کام جیسے سائٹس کے پیچھے کارپوریشنز اور پروفیشنل ماہرین کام کرتے ہیں اس لئے وہاں آپ کا ڈیٹا ضائع ہونے کا امکان کم ہوتا ہے، آپ کو کمیونٹی سپورٹ دستیاب ہوتی ہے اور ایک لمیٹڈ سیٹ کے ساتھ آپ اپنے بلاگ کو طویل عرصے تک اپنی مرضی کے مطابق چلاسکتے ہیں.

  24. نعمان شائد ایسا چشمہ استعمال کرتےہیں جس میں گھوڑے کی طرح دائیں بائیں دیکھنے کی رکاوٹ ہوتی ہے نتیجتا وہ ناک کی سیدھ میں لکھتے چلے جاتے ہیں اور بالاخر ہنسی پر بات ختم ہوتی ہے۔
    ہمیشہ کی طرح سکہ بند ادیبوں کی طرز پر چنے ہوئے الفاظ کے زور پر لکھی گئی اس تحریر میں سے کام کی بات بہت ڈھونڈ کر نکالنی پڑتی ہے۔

    مکی جس طرف اشارہ کر رہا ہے اس کو ہم صدیوں سے پیٹ رہے ہیں کہ لوگوں کو علم ہی نہیں کہ اردو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ وہ ابھی تک تصویری اردو میں پھنسے ہوئے ہیں کسی بھی نئے بلاگر سے پوچھ لیں کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچا اور بخوبی علم ہو جائے گا۔ بلاگنگ کے معیاری یا غیر معیاری ہونے کا سوال نہیں بلکہ لوگوں تک اس کی رسائی پر توجہ کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر