آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > بلاگنگ > داستانِ عید ملن 2009ء

داستانِ عید ملن 2009ء

اردو بلاگرز میں جس قدر کراچی کے لکھنے والے متحرک ہیں، دوسرے علاقوں کے اب تک نہیں۔ کچھ کارہاے نمایاں انجام دیں یا نہ دیں، ہر کچھ دن بعد مل بیٹھ کر گپ شپ ضرور لگالیتے ہیں۔ 🙂 تاہم اس بار اجتماع کا عنوان اردو بلاگرز کانفرنس نہیں تھا۔ اردو بلاگرز کو مِل بیٹھے کئی ماہ ہوچکے تھے سو ابوشامل کو خیال سوجھا کہ کیوں نہ اردو بلاگرز کی عید ملن رکھی جاے تاکہ اکٹھا ہونے کا موقع ملے۔ :wel: ان سے یہ خیال پہنچا عمار ابنِ ضیا تک اور پھر شعیب صفدر کے پاس۔ جمعرات، یکم اکتوبر 2009ء کو تینوں صاحبان سر جوڑ کر بیٹھے (محاورتاً) اور اس بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔ خدا کا شکر کہ خیالات کے اظہار میں اتنا وقت نہیں لگا جتنا ہمارے سربراہِ مملکت غیرملکی سیاسی راہ نماؤں سے تبادلۂ خیال میں لگاتے ہیں۔ 😀 وہیں بیٹھے بیٹھے فوراً ہی کراچی میں موجود تمام احباب سے فون پر رابطہ کیا جانے لگا۔ کچھ اس طرح کے مکالمات سنائی دیے:
السلام علیکم۔
وعلیکم السلام۔
کیا حال ہیں؟
اب تک خیریت ہے۔ (یہ شعیب صفدر ایڈووکیٹ کا مخصوص جواب ہے) آپ سنایئے!
الحمدللہ۔
اتوار کو کیا مصروفیات ہیں؟
کچھ خاص نہیں۔
ہمارا ارادہ آنے والی اتوار، کراچی میں موجود تمام اردو بلاگرز کی عید ملن رکھنے کا ہے۔ آپ آسکیں گے؟

یہ مکالمات کئی بار دہراے گئے۔ اب مختلف لوگوں کے مختلف جواب۔۔۔ کسی نے اُسی وقت اپنی آمد کا وعدہ کیا، کسی نے ٹال دیا۔ محمد علی مکی، فہیم، ابوکاشان، امانت علی گوہر، نعمان یعقوب، م۔م۔مغل، عدنان زاہد وغیرہا سے بات ہوئی۔ بعدازاں علمدار حسین اور فاتح الدین بشیر سے بھی رابطہ ہوا لیکن فاتح اسلام آباد میں ہونے کے باعث شرکت نہیں کرسکتے تھے اور علمدار حسین کے ہاں گذشتہ دنوں بیٹے کی ولادت کی وجہ سے وہ آنے کا وعدہ نہیں کرسکے (علمدار حسین کو منظرنامہ کی جانب سے پہلی اولاد کی بے حد مبارک باد۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اپنے ماں باپ کے لیے مبارک کرے۔ آمین)۔

اگلے دن کتاب چہرہ (فیس بک) اور منظرنامہ پر عیدملن کی تشہیر کی گئی تاکہ دیگر احباب سے بھی رابطہ کیا جاسکے۔ یہ دعوت صرف اردو بلاگرز تک محدود نہیں تھی بل کہ انٹرنیٹ پر تمام اردو کمیونٹی کو جس تک اتنے محدود وقت میں دعوت پہنچنا ممکن ہوسکا، آمد کی دعوت دی۔ فرحان دانش حیدرآباد میں موجودگی کے باعث شرکت کے حوالے سے مشکوک رہے، عنیقہ ناز کسی ضروری کام کے باعث شرکت کرنے سے معذرت کرگئیں۔ کچھ لوگوں کو اُن کے ناز نخروں نے تقریب میں شرکت سے روکے رکھا. 😛

سنیچر کی شام عید ملن کے لیے یہ نام حتمی تھے:
1۔ فہیم اسلم
2۔ محمد علی مکی
3۔ م م مغل
4۔ عدنان زاہد
5۔ نعمان یعقوب
6۔ ہارون ادریس

اور تین میزبان اردو بلاگر:
7۔ شعیب صفدر
8۔ ابوشامل
9۔ عمار ابنِ ضیا

جب کہ تین مزید حضرات کی شرکت متوقع تھی:
10۔ ابوکاشان
11۔ طارق راحیل
12۔ فرحان دانش

عید ملن کا وقت سہ پہر 3بجے رکھا گیا۔ مہمانوں کی آمد کے لیے میزبانوں کو کچھ انتظار کرنا پڑا۔ سب سے پہلے ابوشامل کے ماموں زاد بھائی اسید اللہ کیہر پہنچے۔ اسید عمر میں کم ہیں لیکن معلومات کافی رکھتے ہیں اور اردو بلاگنگ کا ارادہ ہے۔ ان کے بعد فہیم اپنی موٹرسائیکل پر محمد علی مکی کو لیے پہنچے۔ باقی مہمانوں کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا۔چار بجے عدنان زاہد سے رابطہ کیا گیا تو پتا چلا کہ موصوف راستے میں ہیں۔ نعمان یعقوب جو اپنے ساتھ ایک ساتھی ہارون ادریس اور براہِ راست کوریج کے لیے لیپ ٹاپ لانے والے تھے، اُن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ذرائعِ آمد و رفت نہ ملنے کا کہہ کر آنے سے معذرت کرلی جس سے کافی مایوسی ہوئی۔ م م مغل سے بات کی گئی تو پتا چلا کہ اُن کی بھاوج کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے وہ نہیں آسکیں گے۔ (اِناللہ وانا الیہ راجعون) 🙁

یہ صورتِ حال میزبانوں کے لیے کافی مایوس کُن تھی لیکن بہرحال جو قدرت کو منظور۔ مہمانوں کے انتظار اور گپ شپ کے سبب دوپہر کے کھانے کے لیے شام ساڑھے پانچ بجے تیاری کی گئی۔ کھانے کا انتظام تینوں میزبانوں کے تعاون سے کیا گیا تھا جب کہ ابوشامل نے کھانا بنوانے کی اضافی ذمہ داری قبول کرتے ہوے اپنی زوجہ محترمہ سے کھانا تیار کروایا تھا جو واقعی بہت ذائقے دار تھا (جزاک اللہ)۔

چوں کہ یہ عید ملن تھی اس لیے اس میں گفت گو کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں تھا اس کے باوجود گپ شپ میں زیادہ تر زیرِ بحث اردو سے منسلک کوئی نہ کوئی موضوع رہا۔ ابوشامل نے کہا کہ انگریزی بلاگرز کے اس لحاظ سے مزے ہیں کہ اُن کو اپنی جیب سے کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا بل کہ ان کو تو ہر چیز پر اسپانسرز مل جاتے ہیں، بلاگ پر گوگل ایڈسینس ان کو رقم دیتا ہے جب کہ اردو بلاگرز کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کسی لالچ کے بغیر لکھتے ہیں اور اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں۔ عمار ابنِ ضیا نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ انگریزی بلاگرز پہلے سے تخلیق شدہ ایک دنیا سے فائدہ اُٹھارہے ہیں اور اُردو بلاگرز اپنی دنیا خود تخلیق کررہے ہیں۔ ابوشامل نے اس موقع پر سر علامہ ڈاکٹر محمداقباؔل کا مصرع دہرایا کہ
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

اُردو وکی پیڈیا کا تذکرہ نکلا تو محمد علی مکی کافی جذباتی نظر آے اور انہوں نے غصے میں اردو وکی پیڈیا کو ٹھیک ٹھاک سنائیں لیکن دلائل کے ساتھ۔ اس کی ایک مثال انہوں نے وکی پیڈیا پر وکالت کو محاماہ لکھنا بھی پیش کی۔ اس موضوع پر بھی خاصی بات چیت رہی۔ اردو لائبریری کے حوالے سے فہیم نے اردو محفل کے قیصرانی کی تعریف کی جنہوں نے بے حد خلوص کے ساتھ کام کیا تھا لیکن ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔

ملاقات میں مشترکہ اردو بلاگ پر بھی کچھ گفتگو ہوئی جس پر جلد پیش رفت کا امکان ہے۔ آخرکار رات ساڑھے آٹھ بجے یہ نشست تمام ہوئی. (امید ہے کہ جلد ہی تصاویر بھی جاری کی جاسکیں گی).

35 تبصرے:

  1. تصدیق کے باوجود کئی ساتھیوں کا نہ آنا واقعی بہت مایوس کن تھا۔ ان ساتھیوں کی تصدیق کی بنیاد پر کھانے کا اہتمام بھی اسی حساب سے کیا گیا تھا۔ بہرحال ۔۔۔۔ ملاقات بہت اچھی اور یادگار رہی۔ یہ کراچی کے اردو بلاگرز کی سب سے طویل ملاقات ثابت ہوئی۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہر ملاقات کے ایک خاص پیشرفت نظر آئے جیسا کہ اس مرتبہ مشترکہ بلاگ کے منصوبے پر کچھ پیشرفت کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ اس پر ٹھوس بنیادوں پر کچھ ضرور سامنے آئے گا۔
    ویسے اس عید ملن کو ہم نے مکمل تفریح کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا اس لیے اس کا کوئی ایجنڈہ نہیں تھا۔
    منظرنامہ کے لیے توجہ درکار ہے کہ انہیں شریک بلاگرز کے نام بھی لکھنے چاہیے تھے کیونکہ اس تحریر سے یہ لگ رہا ہے کہ دو یا تین لوگ ہی آئے۔ اس ملاقات میں شریک بلاگرز میں تین میزبانوں
    1۔ شعیب صفدر
    2۔ عمار ضیاء
    3۔ ابوشامل
    کے علاوہ یہ بلاگرز شریک تھے
    4- محمد علی مکی
    5- فہیم
    6- عدنان زاہد
    7- اسید اللہ

  2. مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ لوگ بلاگنگ کے توسط سے فعال رابطے میں ہیں، اور ان ملاقاتوں کا انتظام کرنا بھی بہت اچھا کام ہے۔ لوگوں کو اکٹھا کرنا کچھ مشکل کام ہے لیکن اس کام کو جاری رکھیں۔ اگر یہ سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہا تو یہ ایک اچھا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

  3. فہد بھائی آپ ایک شخصیت کو بھول گئے.
    اپنے شعیب بھائی کے دوست.
    کافی زبردست شخصیت تھے وہ بھی 🙂

    ویسے میرا یہ خیال تھا کہ کچھ نئے چہروں سے سے بھی شناسائی ہوسکے گی.
    لیکن وہی پرانا ٹولہ ہی جمع ہوسکا.

    ملاقات کا تو عمار نے لکھ ہی دیا ہے کافی زبردست رہی.
    مکی بھائی کا انداز
    واہ واہ 😀

  4. جاری کردہ ایک عدد ویڈیو دیکھنے کا ارمان … ارمان ہی رہ گیا .. کوئی بات نہیں .. ہم کو غیر متحرک بلاگرز میں شاکل کرنے کا شکریہ

    🙁 🙁 🙁 🙁 🙁

  5. سر جی کھانا بچ گیا تھا تو پارسل ہی کر دینا تھا :grins: ہم بھی کسی طرح اس عید ملن پارٹی میں شامل ہو جاتے. اور عید ملن پارٹی تھی تو فیر سویاں تو ضرور ہوں گی نا
    سب سے اہم بات یہ کہ مل بیٹھے بات چیت کی یہ سب تو ٹھیک ہے
    لیکن ایجنڈا کیا تھا بحث کیا ہوئی نتائج کیا نکلے اور اسید واقعی ہنستا ہے یا دھوکے کے لئے ہی ہنستی تصویریں بنا کر فیس پک پر پوسٹتا ہے کچھ بھی تو نہیں لکھا آپ نے
    یارا جی میرا بڑا دل کرتا ہے کہ اردو بلاگروں کی ایک گرینڈ گیدرنگ ہو
    میرے خیال میں اگر اردو بلاگران ایک دفعہ مل بیٹھے تو اردو بلاگنگ کی دنیا ہی بدل جانی ہے :wel:
    اور اگر معروف بلاگران وعدہ کریں تو کسی بھی شہر میں میں یہ گیدرنگ ارینج کرنے کےلئے تیار ہوں

  6. بہت اچھی بات ہے.
    کیا اس پروگرام کسی اخبار یا ٹی وی میں بھی خبر جاری کی گئی ہے تشہیر کے واسطے؟

    آئندہ ایسا پروگرام رکھا جائے تو شروع میں خوب تشہیر کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کر سکیں کیونکہ عمومی رجحان یہ ہے کہ جب تک کسی بات کا خوب ڈھنڈورا نہ پیٹا جائے تب تک لوگ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے.

  7. ڈفر بھائی آپ یقین کریں کہ وہاں اتنی مزاحیہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ گئے تھے،
    سنجیدہ گفتگو بھی رہی اور زیر بحث موضوعات سے مجھ جیسے نا تجربہ کار کی معلومات میں بہت اضافہ ہوا…

  8. خوشی ہوئی یہ سب جان کر، اس رپورٹ کا تبھی سے انتظار تھا جب سے اسکے متعلق پڑھا تھا، اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر دیں بالخصوص میزبانوں کو۔ اسطرح دوستوں کا مل بیٹھنا بھی فی زمانہ کارِ جہاد سے کم تو نہیں 🙂 ہاں جن دوستوں نے شرکت کا وعدہ کیا تھا ان کو آنا چاہیئے تھا، خیر کوئی نہ کوئی مجبوری تو رہی ہوگی۔ ابوشامل فہد صاحب تمام اردو بلاگرز بھائی بہنوں کی طرف سے اپنی زوجہ محترمہ کا شکریہ ادا کر دیں کہ میں جانتا ہوں آپ نے کتنی محنت کی ہوگی۔

  9. خوشی کی بات ہے کہ آپ لوگ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں ورنہ ہم ٹھہرے مہا سست، ہم سے بلاگ کےلیے لکھنا بھی مصیبت لگتاہے.
    پوچھنا یہ تھا کہ کیا کوئی بلاگرز کی تنظیم بھی ہے
    اگر ہے تو کچھ بتلانا پسند کریں گے،
    اگر نہیں ہے تو اس بارے میں سوچئے.

  10. بہت اعلیٰ. شاید اردو بلاگرز کی واحد نشست کراچی میں ہی ممکن ہوپاتی ہے یا پھر نیویارک میں لیکن وہ آف دی ریکارڈ رہتی ہے. :k: . بہت عمدہ منظر نگاری عمار کی بھی اسی طرح ہماری شرکت بھی ہوہی گئی. دیکھیں شاید چند سالوں میں سائنس ترقی کرجائے تو شاید ریموٹلی کھانا بھی کھا لیا جائے گا.

  11. ميرے خيال ميں تو سب کو جانا چائيے تھا پارٹی ميں سوائے جس کی کوئی سيريز مجبوری ہو اور عنيقہ ناز کو ديکھنے کا تو مجھے بڑا ہی شوق تھا جو پورا نہ ہوا باقی انکلوں سے گزارش ہے کہ تصوير فيس بک پر نہيں بلکہ منظر نامہ پر لگائی جائے اور ڈفر صاحب اگلی گيدرنگ پيرس ميں ارينج کر ديں تو ہميں بھی معروف بلاگران سے ملنے کا موقع مل جائے کھانا ميں بنا دوں گی مگر اگر کوئی کھانے نہ آيا تو ابو شامل کی زوجہ جيسا جگرا نہيں ہے ميرا ميں نے حامی بھرنے کے بعد نہ آنے والوں کی ايسی خبر لينی ہے کہ کيا ياد کريں گے

  12. اس کاروائی کا سارا کریڈٹ تینوں میزبانوں کو جاتا ہے جو کسی نہ کسی طرح اپنی جیب سے خرچہ کرکے ایسی محفل جماتے رہتے ہیں. :no: تو ایسی صورت میں جن لوگوں نے آنے کا وعدہ کیا تھا انھیں ضرور آنا چاہیے تھا، اسی طرح ہی وہ اپنا حصہ ڈال دیتے. خیر
    میں نے تو اس محفل کو بہت انجوائے کیا محفل کے اختتام پر بھی میرا اُٹھنے کو جی نہیں کررہا تھا، سب سے بڑھ کر معلومات میں اچھا اضافہ ہوا.
    مکی بھائی کو تھوڑا غصہ تو آیا تھا لیکن حاضرین کے لیے وہ بھی کسی انجوائے سے کم نہیں تھا 😛
    اب پکچرز کا انتظار ہے.

  13. میں بہت شرمندہ ہوں کہ وعدے کے باوجود نہ پہنچ سکا. دراصل مجھے اپنے کزن کے ساتھ آنا تھا مگر ان کی گاڑی میں کچھ مسسئلہ تھا اور ہمیں کوئی دوسری سواری مل نہ سکی اور یونہی چار بج گئے. منتظمین سے اپنی اس بدتمیزی کی معافی چاہتا ہوں.

  14. ماشاء اللہ بہت خوشی ہوئی روداد پڑھ کر۔ ہم بھی ایک چھوٹی سی عید ملن رکھنا چاہتے تھے عید والے ہفتے لیکن اہلیہ کی علالت کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں سے گھر میں ہی موجود رہے۔ اب الحمد للہ کام پر آئے ہیں تو کوئی سبیل نکالتے ہیں اس کی انشاء اللہ۔ chxmx

  15. @ نبیل:
    نبیل بھائی! ہماری کوشش یہی ہے کہ اردو بلاگنگ کو حقیقی بنیادوں پر فعال بنایا جائے، کم از کم اس حد تک جہاں تک ہم کر سکتے ہیں۔ ذاتی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو سے مسائل اور ان کے حل، نئے خیالات سامنے آتے ہیں اور بلاگنگ کے لیے نئی تحریک ملتی ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اس سلسلے کو جاری رکھیں۔
    @ڈفر:
    آپ آتے تو ایک پارسل آپ کو بھی دے دیتے 🙂 میرے خیال میں میں بتا چکا ہوں کہ کیونکہ یہ عید ملن پارٹی تھی اس لیے اس کا کوئی ایجنڈہ نہ تھا۔ البتہ ہم نے کچھ “نیا” طے کیا ہے، انشا اللہ نتائج آپ کو جلد ملیں گے۔ آپ یہ بتائیے آپ کراچی کب آ رہے ہیں، ہم نے آپ کے اعزاز میں استقبالیہ کی تیاریاں کرنی ہیں۔
    @الف نظامی:
    کیونکہ یہ پروگرام بہت عجلت میں طے کیا گیا تھا اس لیے پہلے سے طے نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کا کہنا بالکل درست ہے، یہ تشہیر کا زمانہ ہے۔ یہ موضوع بھی ملاقات میں زیر گفتگو آیا تھا۔ اگلی مرتبہ ضرور خیال رکھیں گے۔

    @محمد وارث:
    بہت شکریہ جناب۔ میں سب کی جانب سے آپ کا شکریہ بیگم تک پہنچا دوں گا 🙂

    @شازل:
    نہیں، باقاعدہ کوئی تنظيم نہیں ہے۔ اس حوالے سے رائے رکھ دیتے ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

    @ماوراء:
    محترمہ، تمام انتظامات ہم ہی نے کرنے تھے، انگریزی بلاگرز کی طرح اسپانسرز پر تو چلنا نہیں تھا اس لیے کوشش کی کہ میزبانوں کی جیب پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ اس لیے “نظر کرم” گھر پر پڑی اور میرا گھر ہی سب سے قریب تھا۔

    @راشد کامران:
    محترم! آپ سے تو اردو بلاگرز کافی ناراض ہیں۔ کراچی میں موجودگی کی اطلاع نہيں دیتے، ورنہ ہمارا پکا پروگرام تھا ایک عدد استقبالیہ دینے کا۔ اگلی مرتبہ کے لیے ہم نے کافی کچھ سوچ رکھا ہے۔ عید الاضحی کے بعد بھی ایک پروگرام رکھنے کا ارادہ ہے اس میں ہم ٹیکنالوجیکلی ایڈوانس نظر آئیں گے 🙂 وڈیو کانفرنسنگ ضرور کیجیے، اگر ممکن ہوا تو ہم بھی شریک ہو جائیں گے۔

    @اسماء پيرس:
    محترمہ عنیقہ آنے میں واقعی سنجیدہ تھیں لیکن انہیں کوئی ہنگامی صورتحال درپیش تھی۔ ویسے آپ کو یہ کس نے کہہ دیا کہ کھانا کھانے کوئی نہیں آیا؟ ارے 8-9 بندے بلاگرز کی میٹنگ میں ہی تھے۔

    @شکاری:
    بہت شکریہ عدنان۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کو ملاقات اچھی لگي۔

    @نعمان:
    ویسے اس دن گرمی بہت تھی، ہم نے کافی انتظار کے بعد شام ساڑھے پانچ بجے کھانا شروع کیا۔ باقی معافی کی کوئی بات نہيں، یہ صورتحال اچانک کسی کو بھی پیش آ سکتی ہے۔

    @خرم
    اللہ آپ کی اہلیہ کو صحت دے۔ آمین

    @جہانزیب:
    جناب، اگر نیویارک والے بھی لائیو اسٹریم نہ دیں گے تو ہم سے تو شکوہ ہی بے جا ہے۔ ویسے ہم نے کچھ انتظامات کر رکھے تھے ویب کاسٹ وغیرہ کے لیے لیکن ذمہ دار افراد کی غیر حاضری کے باعث معاملہ تلپٹ ہو گیا۔ ویسے آپ کی کرسمس ملن کا انتظار رہے گا۔ 🙂

    @محب علوی:
    متفقہ عید ملن کے بارے میں ضرور آگہی دیجیے گا بلکہ “گراؤنڈ زیرو” سے براہ راست پیش کیجیے گا۔ بین البراعظمی روپ دینے کے ارادے تو اچھے ہیں دیکھتے ہیں کب آپ لوگوں کی عید ملن کا دیدار ہوتا ہے۔

  16. میرا تو خیال ہے کہ اس مرتبہ یو ایس والی میں اگر ویڈیو کانفرنسنگ بھی ر کھ لی جائے تو دور دراز کے اردو بلاگرز بھی شرکت کرکے ثواب دارین حاصل کرلیں گے کچھ نہ کہیں کم از کم تمام لوگوں سے واقفیت ہوجائے گی.

  17. دھڑکتے دلوں کے ساتھ تمام اردو بلاگران کو نوید سنائی جاتی ہے کہ چوٹی کے بلاگران نے ایک اور ملن پارٹی اگلے ایک دو دن میں رکھنے پر اصول طور پر اتفاق کر لیا ہے ضرورت ہے اب چند جزئیات طے کرنی کی جو کہ دو چوٹی کے بلاگران جو کہ وسط نیویارک المعروف مین ہیٹن میں پائے جاتے ہیں اور اکثر فون بند رکھنے پر قابل دشنام طرازی ٹھہرتے ہیں۔ چونکہ ملن پارٹی نیویارک کے کے دل مین ہیٹن میں ہو رہی ہے جو کہ ٹیکنالوجی کا بھی گھڑ ہے اس لیے سوچا گیا ہے کہ یہ پارٹی سادہ پارٹی نہ ہو بلکہ جدید ہتھیاروں میرا مطلب ٹیکنالوجی سے لیس ہو اور اسے شہر نیویارک ہی نہیں بلکہ امریکہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بین البراعظمی عید ملن پارٹی کا روپ دے دیا جائے۔

    تو انتظار کیجیے چوٹی کے بلاگران کی اس عید ملن پارٹی کا جس کی گواہی انٹر نیٹ کے صفحات ویسے ہی دے رہے ہیں جیسے پاکستان بھارت کے میچ سے پہلے بھارت کی بادشاہت کی گواہی بھارتی ٹیم کے کھلاڑی دے رہے تھے

  18. @محمد احمد:
    ایک میزبان کی حیثیت سے مجھے ایک ایک شخص کی غیر حاضری کا بہت زیادہ افسوس ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ شروع میں کافی دیر تک محفل سوگوار رہی۔ تاہم بعد میں جب موضوعات چھڑ گئے تو پھر ان پر گفتگو میں غم بھول گئے 🙂 شعر بہت اعلیٰ ہے۔ ارادہ ہے کہ عید الاضحی کے بعد ایک اور پروگرام رکھا جائے۔ انشاء اللہ اس میں آپ سے ضرور ملاقات ہوگی۔
    @دوست:
    کراچی وڈا شہر ہے اسی لیے تو لوگ طویل مسافت کے باعث نہ آ سکے۔ اگلی مرتبہ ہماری کوشش ہوگی کہ اسے بہت زیادہ منظم انداز میں پیش کریں اور کچھ اس طرح کا انتظام کریں کہ دیگر شہروں کے بلاگرز بھی وہاں حاضری دے سکیں۔
    @طارق راحیل:
    آپ نے بروقت مطلع کر دیا تھا کہ آنا ناممکن ہوگا۔ آپ کی داستان غم پڑھ کر بہت افسوس ہوا 🙁

  19. ماشاءاللہ! عید ملن پارٹی کا احوال اور تبصرے اتنے دلچسپ ہیں تو پارٹی کتنی اچھی رہی ہوگی. میں نے باقائدہ وعدہ تو نہیں کیا تھا پھر بھی نہ پہنچ پانے کا افسوس رہا کہ اس محفل کے طفیل کچھ ایسے دوستوں سے ملاقات کی اُمید بہرحال تھی جن سے ملنے کا اشتیاق کافی دنوں سے ہے. عمار ضیاء سے تو ایک سرسری سی ملاقات پھر بھی ہوئی ہے پر فہد بھائی اور باقی احباب سے ملنا ابھی باقی ہے. دیکھیے ہماری گوشہ نشینی اور معاملاتِ زندگی کب ہمیں یہ رخصت دیتے ہیں.

    بہر کیف اگلی متوقع ملاقات تک کے لئے یہ شعر حاضر ہے

    ایک ہی شہر میں رہ کر جن کو اذنِ دید نہ ہو
    یہی بہت ہے ہے ایک فضا میں سانس تو لیتے ہیں

  20. اسلام علیکم… :hmm:
    کافی اچھی رہی عید ملن پارٹی :ops:
    وہاں تو نا سہی یہیں سب کو عید مبارک کہہ دےرہےہیں 😛

    اور رہی بات کہ آنہ سکے وجہ میں بتا ہی چکا تھا بھائی شعیب صفدر جی کو :fon:
    پورے خاندان نے مل کر ٹھٹھ جانے کا پروگرام بنا چکے تھے :dxx:
    والدہ سے شعیب بھائی کے فون کے بعد رخصت طلب کی توبیوی کی عدم موجودگی میں ایک جانپڑ رسید کیا :chup: جو ہمیشہ کی طرح ٹھیک نشانے پر لگا اور ہماری عینک نے اپنی جگہ چھوڑدی :0
    پھر ہمت کر کے بیوی کو صورت حال بتائی تو موصوفہ نے جویریہ کو گود میں تھما کر کہا اس کو بھی لے جائیے گا میں کہاں سنبھالوں گی اس کو 🙁
    ساتھ اس کا فیڈر اور پیمپرز بھی لے جائیے گا
    اور سیریلیک تو سیکھ لیا ہے بنانا وہ بھی یاد سے رکھ لیجئے گا
    اور ہاں رونے لگے تو گھبرایئے گا نہیں اس کو لوری دے کر سلا دیجئے گا
    اور پھر آپ تو ایک ہی جگہ پر بیٹھیں گے پر یہ نہیں تو اس کی واکر بھی لے جائیے گا
    آرام سے دن گزرے گا میرا بھی اور آپ کا بھی کام ہو جائے گا
    ورنں دوسروں کی تو آپ کی بچی گود میں جاتی نہیں ہے
    سو
    کافی سوچ بچار کے نا ہی آنے کا فیصلہ کر ہی لیا
    اب کیا کہیں آپ سب ہی فیصلہ کر لیں :uff:

  21. دوست آپ کے پاس میرا ای میل ہو تو مجھے ای میل ضرور کیجیے گا پھر انشاءاللہ عیدالاضحی پر فیصل آباد میں بھی دو افراد پر مشتمل بلاگر کانفرس ہوگی. 😛
    میں عید فیصل آباد میں کروں گا.

  22. ایک کروڑ کے شہر میں 10 بلاگر بھی نہیں اکٹھے ہوئے۔۔۔
    موگمبو ناراض ہوا۔۔۔ 😀
    عید الاضحی پر تو اس دفعہ میں بھی پاکستان میں ہی ہوں گا اللہ نے چاہا تو۔۔۔
    دوست سے گزارش ہے کہ ”ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے“
    :k:
    ڈفر نے اسید کے متعلق کچھ معلومات مانگی ہیں، وہ ضرور مہیا کی جائیں۔ 🙂
    دبئی میں کوئی سپانسر ڈھونڈ کے وہاں اردو بلاگرز کا ایک سیمینار ہونا چاہئے۔
    اس کا ایجنڈا رکھیں گے ”کیری لوگر بل اور اردو بلاگرز“ یا ”یہود و ہنود کی سازشیں اور اردو بلاگرز کا کردار“ انشاءاللہ بہت سے سپانسر مل جائیں گے۔۔۔ مارکیٹنگ والے اصحاب متوجہ ہوں۔۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر