آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > عمر احمد بنگش سے شناسائی

عمر احمد بنگش سے شناسائی

سلسلہ شناسائی میں ہمارے آج کے مہمان بھی ہمیشہ کی طرح ایک اردو بلاگر ہیں۔ آپ نے اردو بلاگنگ کا آغاز 2008 میں کیا۔ بلاگ کا نام ہے ” صِلہ عُمر “ ۔ 2008 سے باقاعدہ بلاگنگ کر رہے ہیں اور ان کے بلاگ پر مختلف موضوعات پر پڑھنے کو ملتا رہتا ہے۔ اپنے مخصوص انداز اور بہترین تحاریر کی وجہ سے آپ کا شمار نئے بلاگرز میں نہیں کیا جا سکتا۔ تو آئیے عمر احمد بنگش ان کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں

خوش آمدید عمر۔
شکریہ مارواء اور منظرنامہ ۔
سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔
جی ضرور!۔

– آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟
@ میرا آبائی قصبہ بالاکوٹ ہے، جبکہ ابھی میں مانسہر ہ میں رہائش پذیر ہوں۔
– کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟
@ دسویں، بارہویں اور پھر پانچ سالہ ” ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن” ڈگری کاحامل ہوں، چٹا ان پڑھ!!!۔
میرے والد ڈاکٹر تھے، ۱۹۹۶ میں وفات پائی، جبکہ ہم پانچ بھائی اور ایک ہی بہن ہے ہماری۔ بی بی جی بارے کچھ نہ کہوں گا، صرف یہ سمجھ لیجیے کہ محبت ہی محبت ہے۔
عام سا شخص ہوں، پہچان کے لیے بنگش قوم سے تعلق رکھتاہوں، اور یہاں ہمیں پہچاننے کے لیے سواتی بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ ہمارے آباؤاجداد کوہاٹ سے سوات اور پھر بالاکوٹ جا بسے۔
– یہ بتائیے کہ بلاگنگ کے بارے میں کب اور کیسے پتا چلا تھا؟
@ حال ہی میں منائے گئے “ہفتہ بلاگستان” میں بھی کچھ اس بارے بات ہوئی تھی۔ بلاگنگ سے آشنائی یونیورسٹی کے زمانے سے ہے۔ غالباً ۲۰۰۴ میں پہلی بار بلاگ نام سے آشنائی ہوئی تھی، اپنے شعبے میں تب سے صرف نصابی بلاگ یا اپنے شعبے سے متعلق ہی بلاگز کا مطالعہ کیا کرتا تھا، جو کافی سودمند بھی تھا اور ہے۔ سیکھنے کے لیے میرے خیال میں استاد، کتاب، تجربہ اور جب سے اس کی اہمیت سے واقف ہوں، بلاگ بھی، یہ وہ زرائع ہیں جن کا کوئی متبادل مجھے نہ مل سکے۔
جہاں تک اردو بلاگنگ کی بات ہے، تو وہ ۲۰۰۸ میں اس وقت شروع کی جب میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو چکا تھا، وقت بھی دستیاب تھا ، تب ہی مجھے خیال آیا کہ کیوں ناں اپنے خیالات کا اظہار اردو میں کیا جائے، بلاگ کی اہمیت سے واقف تو تھا ہی، ساتھ میں یہ بھی سوچا کہ یہ بلاگ خالصتاً میری شخصیت کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔

۔ کب سوچا کہ خود بھی بلاگنگ شروع کرنی چاہیے؟ اور کیوں؟
@ جیسا کہ میں نے عرض کیا، یہ سوچ وقت کے ساتھ ساتھ چلتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ میں صرف اپنے شعبے تک محدود تھا، لیکن جب موقع ملا تو اردو میں بھی بلاگنگ شروع کر دی۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی سہولت موجود تھی اور ساتھ میں اردو ٹائپنگ کا تجربہ ان پیج اور کاتب جیسے سافٹ وئیرز نے سکھا رکھا تھا تو جب سب کچھ موجود تھا تو سوچا کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے، اور اگر ایسا نہ کرتا تو شاید یہ زیادتی ہوتی۔
اب ایک بات جو میرے خیال میں بڑی اہم ہے بلاگنگ بارے، وہ یہ کہ وسائل (کمپیوٹر، انٹرنیٹ)، وقت اور تجربہ تین بنیادی عوامل ہیں، ان میں سے اگر ایک بھی کم ہے تو یہ ممکن نہیں ہو گا۔ جہاں تک “کیوں؟” کی بات ہے تو یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی پوچھے ، “کوئی پیاسا پانی کیوں پیے گا؟”
– بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟
@ یہ بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ انگریزی میں بلاگ بنانا بھدی آواز میں گنگنانے سے بھی آسان ہے۔ آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا ہوتا، صرف اپنا راگ الاپنا ہوتا ہے۔
جہاں تک بات اردو بلاگنگ کی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو صفر سے شروع کرنا ہوتا ہے۔ ان پیج میں فونیٹک کی بورڈ کافی پہلے سے استعمال کرتا آیا ہوں، لیکن بلاگ بنانے میں کافی مشکلات اس لیے بھی درپیش تھیں کہ ایک تو میں نے بلاگ سپاٹ پر ہی اردو بلاگ بنایا اور پھر دوسرا یہ اردو سیارہ اور محفل سے آشنائی کافی بعد میں ہوئی، دوستوں کا شکر گذار ہوں کہ انھوں نے رہنمائی کی۔ بلاگ کو اردو سانچے میں ڈھالنا کافی مشکل مرحلہ تھا، لیکن دلچسپ ہونے کی وجہ سے موجود ہوں۔ ابھی بھی کمی ضرور ہو گی لیکن خوشی یہ ہے کہ سب اپنے ہاتھ سے سرانجام دیا۔
– آپ بلاگ کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے؟
@ چونکہ یہ بلاگ اپنے ہاتھ سے سنوارا ہے تو اس کی اہمیت بڑھ کر ہے۔ اس سے بھی زیادہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ اگر آپ کو دو چار پڑھنے والے دستیاب ہیں تو یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے بلاگ کو اہمیت دیں۔ اب جعفر کی ہی مثال لے لیں، میں اگر ازلی سستی کی وجہ سے کچھ نہ لکھوں تو بندہ خدا لٹھ اٹھائے پہنچ جاتا ہے اور مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں اگلے دن ہی کچھ نہ کچھ لکھ ڈالوں۔ یہ اس کی محبت ہے، اگر آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں تو بلاشبہ یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ کس حد تک اہمیت دینی چاہیے۔
بے شک ایک بلاگ اس کے لکھاری کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ وہ جو محسوس کرتا ہے ، لکھتا ہے۔
– بلاگ کا نام ”صلہ عمر” ہی کیوں رکھا ؟
@ جب میں نے اردو بلاگنگ شروع کرنے کی سوچی تو ذہن میں یہی تھا کہ اپنے تجربات کو قلمبند کرنا ہے، یہ وہ حالات اور واقعات ہیں جن کا میں اپنی زندگی میں سامنا کر رہا ہوں۔ یہ بلاگ ان ہی مشاہدات پر مبنی ایک بیاض ہے، سو جو پہلا ہی “ٹائٹل” ذہن میں آیا، وہ صلہ عمر تھا، یعنی وہ تجربہ جو ہم نے اب تک بیتائی عمر سے پایا ہے۔
– آپ بلاگ پر زیادہ تر کن موضوعات پر لکھتے ہیں ؟
@ یہ کبھی بھی میں طے کر پایا ہوں اور شاید نہ کر پاؤں گا۔ سوچ کر لکھنا ایسے ہی ہے کہ آپ کمرہ امتحان میں بیٹھے ہیں۔ تو میں کبھی بھی سوچتا نہیں ہوں اردو بلاگ کی پوسٹ لکھتے، جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ ہاں یہ ضرور ہے لکھنے کے بعد پڑتال ضرور کرتا ہوں تاکہ اگر مواد میں کچھ ایسا موجود ہے جو کسی کی دل آزاری کا سبب بن سکتا ہے، اسے حذف کر دیتا ہوں۔ کاش آپ میری پوسٹ کے ڈرافٹ پڑھ پاتے!!!۔
– آپ بلاگرز کی تعداد زیادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر معیاری بلاگرز پر؟
@ جب بلدیاتی نظام متعارف ہوا تو میرے ایک چچا (خدا ان کی مغفرت کرے) نے تبصرہ کیا کہ “مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ جو لشکر جمع ہو گا، کونسلروں اور ناظموں کا، ان کو کہاں کھپایا جائے گا” لیکن ہوا یوں کہ جب ہمارے گاؤں میں پہلی گلی کی مرمت شروع ہوئی تو وہ سارا لشکر ٹھیکیدار کے سر اوپر کھڑا نگرانی کر رہا تھا۔
تو بات یہ ہے کہ میرا خیال میں اگر بلاگر زیادہ ہوں گے تو معیار بنتا جائے گا کہ آپ کو سیکھنے اور اپنی اصلاح کرنے کے کئی مواقع میسر آئیں گے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جہاں تعداد میں اضافہ ہو رہا ہو، یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایک بلاگر اپنا کردار ادا کرے، ورنہ یہ ہجوم سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔
– آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟
@ دو چیزیں بڑی اہم ہیں، ایک تو وہ مواد جو آپ اپنے پڑھنے والوں کو پیش کر رہے ہیں، تحریر کا معیار اور انداز بیاں سب سے بنیادی جز ہے ایک بلاگ کا معیار بنانے میں۔ دوسری جانب پیش کرنے کا انداز کافی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بلاگ کا تھیم، قاری کے لیے سہولیات جیسے فانٹ، فانٹ سائز، تبصرہ کرنے میں آسانی وغیرہ ایسے اجزاء ہیں جو مل کر ایک بلاگ کو “معیاری” کا درجہ دلاتے ہیں۔

– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نئے بلاگرز کو کس طرف توجہ دینی چاہے۔ بلاگ کی ترتیب پر یا پھر اچھی تحریروں پر؟
@ اب کی اگر بات کروں تو نئے بلاگروں کے لیے کافی آسانیاں موجود ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ہمارے سامنے اردو بلاگنگ نے کئی اہم سنگ میل طے کیے، جن میں تھیمز، پلیٹ فارمز ، فانٹس اور ہمہ وقت دستیاب رہنمائی شامل ہے۔
اچھی تحریریں ہی دراصل نئے بلاگروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، بلاگ کی ترتیب واسطے اللہ خوش رکھے اچھے اچھے لوگ ہر وقت موجود ہیں۔ ہاں، نئے بلاگر جب “پرانے” ہو جائیں تو میرے خیال میں ان پر قرض باقی رہتا ہے کہ وہ اردو بلاگنگ کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
– نئے اردو بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے ایسا کیا کیا جائے، جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں؟
@ اس بابت سب سے اہم کردار ان لوگوں کا ہے جو اس گنگا میں نہارہے ہیں۔ نئے بلاگز کا باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ، نوک پلک سنوارنے میں مدد اور دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے نت نئے تجربات بہت ضروری ہیں۔ ہفتہ بلاگستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، نئی روح پھونک دی تھی اس نے اردو بلاگنگ میں۔
– آپ اردو بلاگرز کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔ اور کیسے؟
@ اب یہ کچھ علم نجوم میں مہارت والی بات ہو گی کہ میں پیشن گوئی کروں کہ مستقبل کا حال کیسا ہو گا۔
اتنا ضرور جانتا ہوں کہ محنت بنیادی شے ہے پھل پانے کے لیے، ابھی تک تو اردو بلاگر صبر کا پھل کھا رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ اس محنت اور صبر کا پھل ضرور میٹھا ہو گا۔
– کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@ اگر کوئی پانچ یا دس منٹ لگا کر میری یہ باتیں پڑھ رہا ہے، تو میرے خیال میں مجھے اس دنیا کی سب سے قیمتی شے، یعنی لوگوں کا وقت مل رہا ہے۔ اب اس فائدے کے آگے کچھ اور کیا معنی رکھتا ہے؟
وہ بلاگنگ جو میں اپنے شعبے میں کرتا ہوں شاید کسی اور وجہ سے اہم ہے، لیکن اردو بلاگنگ میں اگر کوئی میری تحاریر، جو صرف میرے خیالات ہیں ان کو نہ صرف پڑھ رہا ہے، بلکہ ساتھ حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو یہ بڑی بات ہے۔
– اگر آپ کو اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے ؟
@ میں نے ہندکو اور پشتو اس لیے سیکھی کہ یہ میرے گھر اور علاقے کی زبان تھی، لیکن اردو مجھے پورے پاکستان سے روشناس کرواتی ہے۔ ہنزہ سے لے کر گوادر تک اگر کوئی زبان میرا سہارا بنی ہے تو وہ اردو ہے۔
– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟
@ ہمارے ہاں کچھ عرصہ سے یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے، لیکن ہم ایک پہلو یہ بھی تو ہے ہر دور کی اپنی خصوصیت ہے، ماضی میں کچھ اور ترجیحات وحالات تھے، اب کچھ اور ہے۔
– آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ میں تو ادھر ہی ہوں اگر مر نہ گیا تو، اردو بلاگنگ انشاءاللہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے اور کرے گی۔
– بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ یا آجکل کن پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں؟
@ یہ کچھ پھانسنے والے سوال ہے، نجی اور پروفیشنل زندگی میں اتنا مصروف ہو گیا کہ کچھ پراجیکٹس بشمول منظرنامہ کی “ایک بلاگر، ایک کتاب” مہم سے کافی عرصہ ہوا روپوش ہوں۔ ابوشامل بھائی دیکھیں گے تو یقیناً ویکیپیڈیا کا گلہ کریں گے کہ میں ان کو کہہ کر ابھی تک فعال نہیں ہو پایا۔ خدا غارت کرے فیس بک کو، سارے کا سارا آوا بگاڑ رکھا ہے۔
ویسے میری نوکری کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ہر آئے دن پہاڑ سر کرتا ہوں، لوگوں سے ملتا رہتا ہوں اور نت نئے تجربات کافی دلچسپ کام ہے۔
– کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو، نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم

کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟
ایک لمبی لسٹ
2۔ شعر ؟
تمام عمر اسی احتیاط میں گذرے
یہ آشیاں کسی شاخ چمن پہ بار نہ ہو
3۔ رنگ ؟
زردے کا رنگ (قہقہہ)
4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟
دال چاول
5۔ موسم
سرد

غلط/درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
درست، اگر غلط کر بیٹھوں تو
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
درست
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟
یہ دوست بہتر بتائیں گے۔
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
اب نہیں آتا!!۔

اس انٹرویو یا منظر نامہ کے لیے اگر آپ کوئی رائے یا تجویز دینا چاہیں تو آپ دے سکتے ہیں۔
اردو بلاگنگ کے فروغ میں منظرنامہ کا کردار کافی اہم ہے، لیکن میرے خیال میں اس میں کافی بہتری کی گنجائش ہے۔ موجودہ منظرنامہ ٹیم اپنے تئیں تو کافی کوشش کر رہی ہے لیکن دوسرے اردو بلاگرز اور پڑھنے والوں پر بھی یہ ذمہ داری نبھانا لازم بنتا ہے۔

عمر، اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیےانٹرویو دینے کا بہت بہت شکریہ۔
منظرنامہ کا بہت شکریہ، پڑھنے والوں کا بہت شکریہ اور یہ محبتیں اللہ کرے سدا بکھرتی رہیں۔

25 تبصرے:

  1. مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ لالہ عمر بہت بڑا دانشور ہے… ایسے ہی قلندری کا ڈھونگ رچا کے بیٹھا ہے …. ہے اصل میں سکندر…
    بہت ہی اعلی …
    میرا ذکر کرنے کا بہت شکریہ…
    🙂

  2. بہُت اچھا لگا عُمر کا انٹرویو پڑھ کر اور جان کر
    ویسے بھی ماوراء اور عمّار نے جو یہ سِلسِلہ شُرُوع کیا ہے مُجھے بہُت پسند ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کو کافی کُچھ جان لیتے ہیں عُمر کا پسندیدہ شعر بہُت اچھا لگا

    لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
    اے اہل زمانہ قدر کرو، نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم
    زبردست
    خُوش رہو اور منظر نامہ کا بھی شُکریہ کہ ایک اور اچھے بلاگر سے مُلاقات کروائ

  3. ابن سعید: شکریہ جناب، امید ہےاب بلاگ پر بھی تشریف لائیں گے.
    یاسر عمران مرزا: 🙂
    جعفر؛ اے بھائی تجھے ہر بار کیوں لگتا ہے ایسا، 😛
    افضل صاحب: 🙂
    کامران اصغر: حد ہے یار 😀
    شاہدہ آپی: بہت شکریہ آپی، جی بالکل منظرنامہ کا اس بارے بہت احسان ہے. 🙂

  4. یہ تو جی بہت عرصے سے ادھار انٹرویو تھا بہت ہی اچھا لگا پڑھ کر. عمر صاحب ان اردو بلاگرز میں سے ہیں جن کی ہر تحریر کہیں نا کہیں سوچ کی ایک نئی کھڑکی کھول دیتی ہے اور الفاظ کی جادوگری میں تو جناب کا جواب نہیں.. آپ لوگوں کو شاید وہ فقرہ یاد ہو..
    میں بڑا معصوم تھا، سبھی ہوتے ہیں لیکن کچھ نہیں بھی ہوتے، جیسے نومی نہیں تھا.
    اسی طرح کے نہایت سادہ لیکن پر اثر فقروں میں اپنی بات اتنی عمدگی سے کرتے ہیں کہ اہل زبان کے لیے بھی بہت مشکل ہے.
    عمر صاحب ایسے ہی لکھتے رہیں اور جس رزق سے ہوتا ہے بلاگنگ میں وقفہ .. اس کا کچھ کیجیے. 🙂

  5. یار سچ بتاؤن تو پہلا انٹرویو ہے جس کو لفظ بلفظ پڑھا ہے
    اور یہ جو راشد کامران صاحب نے نومی کی تعریف کے فقرے کا تذکرہ کیاہے وہ ایک جملہ ایک طرف اور سارے کا سارا ہفتہ بلاگستان ایک طرف، اور یہ جملہ پھر بھی ان پر بھاری
    تجربات توکوئی بھی بیان کر لیتا ہے لیکن عمر کی خاص بات یہ ہے کہ اپنے محسوسات کو قلمبند کر سکنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے
    عمر کو تو میں کہتا ہوں ایویں کتوں بلیوں کو ٹیکو لگانے میں پھنسا ہوا ہے یہ تو خود چنگا بھلا سنگ میل پبلیکیشنز کا مرغا ہے

  6. بہت اعلی انٹرویو ہے بلکہ میرے خیال میں منظرنامہ کے بہترین انٹرویوز میں سے ایک ہے۔ میرا ذکر خیر بھی برادر عمر نے کیا ہے، اس سلسلے میں بس اتنا کہوں گا کہ گلہ شکوہ کسی سے نہیں کرتے بس کام کرتے جاتے ہیں۔ آج کل بلاگ سے اسی لیے غائب ہوں کیونکہ وکیپیڈیا پر ایک بھرپور رفتار کے ساتھ کام چل رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ جیسے ساتھی میسر آئے تو کام مزید آگے بڑھے گا۔ منظرنامہ کا بہت شکریہ۔

  7. @ڈفر – DuFFeR
    اصل میں منظر نامہ کی ذمہ داری مجھے دی گئی تھی. میں نے دس نومبر سے یہ ذمہ داری سنبھالنی تھی لیکن میں یہاں پہنچنے میں تھوڑا لیٹ ہو گیا ہوں. آج دیکھا تو آپ کے تبصرے پینڈنگ میں پڑے تھے. ویسے تو منظرنامہ کے تبصرے خود بخود آ جاتے ہیں لیکن کئی بار ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض تبصرے پینڈنگ میں چلے جاتے ہیں. میں نے آپ کے سارے تبصرے اپروو کر دیئے ہیں.
    تکلیف کے لئے معذرت چاہتا ہوں.

  8. جب سے چین والوں بلاگ سپاٹ بند کیا ہے، صلہ عمر پر کبھی کبھار ہی جانا ہوتا ہے، بلکہ بلاگ سپاٹ پر اردو، انگریزی کے کیی اور بھی اچھے لوگوں کے بلاگ ہیں جو اب پڑھنا میرے لیے مشکل ہے۔ اگرچہ خود اپنے بلاگ پر پروکسی لگا کر پہنچ تو جاتا ہوں مگر اس میں اتنے بکھیڑے ہوتے ہیں کہ دل بجھ سا جاتا ہے۔

    بہرحال’ دعا ہے، اللہ ان کو اور ان کے بلاگ کو ہنستا بستا رکھے۔

  9. عبداللہ:: شکریہ جناب، دیکھیے کب فرصت ملتی ہے تو لکھتا ہوں 🙂
    ڈفر:: شکریہ پاء، یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ پہلی اصلاح آپ صاحب نے ہی کی تھی. مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ پہلے تبصرہ نگار آپ ہی تھے. بس ساتھ دیتے رہیے 😀
    عبدالقدوس:: اے بھائی تو مذید ججباتی نہ ہو، تیرا سرور جذباتی ہو جاتا ہے اکثر کیا کافی نہیں ہے؟ 😛
    ابوشامل:: شکریہ جناب :ops: بس آپ کی یہی بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ آپ کسی کو شرمندہ نہیں ہونے دیتے، ویکیپیڈیا پر نہایت مزہ آ رہا ہے، لیکن ابھی کافی کچھ سیکھنا باقی ہے 😛
    ایم بلال:: دیر ہی سے سہی لیکن آئے تو ضرور 😛
    غفران:: اے بھائی خدا کا واسطہ ہے جلدی سے یہ ڈاکٹری ڈاکٹری ختم کر اور پاکستان پہنچ، میری تحریروں سے محروم کب تک رہے گا 😀 ، ابن سعید صاحب کے مشورے پر عمل کرو اور فلاح پاؤ :grins:
    محمد احمد:: شکریہ جناب، اور یہ سادگی نہیں ہے جناب زبان سے ناواقفیت ہے. :chup:

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر