آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > خرم ابن شبیر > خرم ابنِ شبیر سے شناسائی

خرم ابنِ شبیر سے شناسائی

منظر نامہ کے قارئین کو خوش آمدید۔
سلسلہ شناسائی میں آج ہم ایک ایسے اردو بلاگر کے ساتھ حاضر ہیں جنہیں آپ شاعر بلاگر بھی کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شاعری سے بہت لگاؤ ہے اور خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ شاعری سے لگاؤ کا اندازہ آپ کو ان کے بلاگ سے خوب ہو جائے گا اور خاص طور مُسدّسِ حالی جیسے کام سے تو یقینا واضح ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے بلاگ سےصاف اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اردو نثر سے بھی خاص لگاؤ ہے اور اساتذہ کا احترام آپ کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں تو آپ ایک دو بار اپنا نام تبدیل کر چکے ہیں جیسے خرم شہزاد خرم سے اب خرم ابن شبیر بن چکے ہیں۔لیکن بلاگ کا عنوان تبدیل کرنے میں شاید کچھ زیادہ ہی جلدی دیکھاتے ہیں۔ کئی تبدیلیوں کے بعد آج کل ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان اپنائے ہوئے ہیں۔ آپ نئےبلاگر ہیں نہ بہت پرانے۔ تقریبا تین چار سال سے بلاگنگ کر رہے ہیں۔ اردو بلاگنگ ویب سائیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے آپ کے پرانے بلاگز سے شروع کی تحاریر کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ آج کل آپ نے اپنی ذاتی ڈومین پر بلاگ بنا رکھا ہے۔ ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کے پرچم تلے آج کل آپ کے ہی بلاگ پر شاہدہ اکرام اور محمد رضوان بھی آپ کے ساتھ مل کر لکھ رہے ہیں۔
یہ تو تھا خرم ابن شبیر کا ایک مختصر تعارف اب مزید جاننے کے لئے ان سے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔


منظر نامہ کے سلسلہ شناسائی میں خوش آمدید خرم ابن شبیر۔
السلام علیکم عزت افزائی کا بہت شکریہ
سب سے پہلے ہم آپ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیں گے۔
– آپ کی جائے پیدائش اور حالیہ مقام کون سا ہے؟
@ راولپنڈی کے علاقہ ڈھوک حسو میں ایک محلہ کشمیرہیاں عالم آباد میری جائے پیدائش ہے اور اس وقت روزگار کے سلسلے میں ابوظہبی میں ہوں
– کچھ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتائیں؟
@ تعلیم کے بارے میں تو آپ کو اندازہ ہوہی گیا ہو گا سکول پاس کیا ہوا ہے اور کالج کا منہ دیکھا ہے بس تعلیم اتنی ہی ہے۔ یوں تو خاندانی پس منظر کے بارے میں تو بہت کچھ جانتا ہوں لیکن یہاں صرف دادا جی سے ہی شروع کرتا ہوں دادا جی فوج میں ملازمت کرتے تھے انتہائی شریف اور نیک سیرت انسان تھے علاقے کی مسجد میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے اللہ تعالیٰ دادی جی کو جنت الفردوس اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔ والد صاحب راولپنڈی تعلیمی بورڈ میں انکوائری برانچ آفیسر ہیں ان کا کام کیا ہے وہ آپ یہاں جا کر دیکھ سکتے ہیں سب سے اوپر والد صاحب کا ہی نام ہے۔ خاندانی اعتبار سے ہم راجپوت ہیں لیکن میرے علاوہ سب اپنے نام کے ساتھ راجہ لگاتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا
– آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@ زندگی کا مقصد تو ابھی تک سمجھ ہی نہیں آیا بس جو کام سامنے آتا ہے وہ کرنا شروع کر دیتے ہیں بچپن سے ایک ہی خواہش تھی وہ یہ کہ میں اس قابل ہو جاؤں کے سب کی مدد کروں اور ابھی تک اس قابل نہیں ہوا شاید زندگی کا مقصد بھی یہی ہے جس کی تکمیل میں لگا رہتا ہوں ۔کبھی سمجھتا ہوں کے مقصد پورا ہو رہا ہے اور کبھی لگتا ہے میں اپنے مقصد سے بہت دور ہوں
– آپ کو لکھنے کا شوق کب سے ہے؟
@ شوق ہممم اصل میں مختلف ادوار میں مختلف شوق رہے مجھے مصوری کا شوق بھی رہا جو ایک ہی دفعہ والدہ محترمہ کی مہربانی سے ختم ہو گیا پُرانے کاغذ کے نام سے ایک تحریر میں ذکر بھی کیا تھا اور لکھنے کا شوق تو شاید بچپن سے ہی تھا سکول میں سکول کا ہوم ورک ، چاندنی چوک میں دوکان کا حساب کتاب، نسٹ یونیورسٹی میں فوٹو کاپیز کا ریکارڈ اور اب کمپیوٹر کی دوکان میں روز کی سیل کا ریکارڈ 😀 ۔ شاید 2000 سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا
– شاعری کرنے کی شروعات کسی خاص بات کے نتیجہ میں تھی یا بس ویسے ہی دل کیا اور شروع کر دی؟
@ کچھ خاص بات تو نہیں تھی سکول دور میں بیت بازی میں اکثر میں جیت جاتا تھا مجھے بہت سے شعر یاد ہوتے تھے جب میں آٹھوی کلاس میں تھا تب میں نے ایک نعت لکھی تھی نعت تو سب نے پڑھ کر تعریف کی تھی لیکن اس کے بعد میں نے ایک شعر لکھا تھا جس پر میری بہت کلاس ہوئی تھی اور ہر پڑھنے والے نے مذاق اڑایا تھا پھر میں نے شاعری سے توبہ کر لی شعر کچھ یوں تھا
نا تم روتے نا ہم روتے نا ہمارا بلبل روتا
ہم سب مل جل کر رہتے تو ہمارا یار نا کھوتا

دوستوں نے لفظ “کھوتے” پر بہت مذاق بنایا کہ کھوتا تم ہوگے ہمیں کیوں کہتے ہو ۔ 2002 میں فارغ تھا اور بس اسی دور میں شاعری کی شروعات کی جو کے بے وزن تھی اور باوزن شاعری میرے خیال سے 2005 سے شروع کی جس میں میرے اساتذہ کا بہت ہاتھ ہے جن میں سب سے پہلے پرفیسر عثمان خاور صاحب، ذوالفقار علی زلفی صاحب، محمد وارث صاحب اور اعجاز عبید صاحب سب سے اہم ہیں۔

– سنا ہے کہ دل ٹوٹے تو انسان شاعری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے یا پھر افواہ ہی سمجھیں؟
@ ہا ہاہا کہا تو یہی جاتا ہے کہ ناکام عاشق ہی شاعری کرتا ہے۔ لیکن یہ بات کسی حد تک غلط ہے اور کسی حد تک درست دل ٹوٹنے سے مراد کسی بھی کام میں دل ٹوٹ سکتا ہے لازمی نہیں محبت میں ناکامی سے ہی دل ٹوٹتا ہے۔ شاعر تو حساس ہوتے ہیں اس لیے ان کے دل جلدی ٹوٹ جاتے ہیں تو کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ دل ٹوٹنے کی وجہ سے شاعری کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے انسان لیکن اس کے اندر قدرتی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔
– ایک بات جس کا جواب ہمیں ٹھیک نہیں مل سکا وہ آپ ہی بتا دیں کہ آپ نے بلاگنگ کا آغاز کب کیا؟
@ اس بارے میں تو میں بھی کچھ کنفرم نہیں بتا سکتا کیونکہ پہلے میں نے wordpress.pk پر بلاگ بنایا جو کہ کسی خرابی کی وجہ سے وفات پا گیا پھر میں نے اردو ٹیک پر بلاگ بنایا وہ بھی اسی طرح کے حادثے کا شکار ہو گیا پھر اس کے بعد ایک دفعہ دوبارہ بلاگ بنایا وڈپریس میں اور آخر کار بلال بھائی کی مدد سے اپنی ڈومین پر منتقل ہو گیا شاید چار سال پہلے بنایا تھا بلاگ تاریخ یاد نہیں
– بلاگ بناتے ہوئے آپ نے کیا سوچا تھا کہ آپ کو بلاگنگ کیوں کرنی چاہیے یا بلاگ کے آغاز کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
@ بلاگ بنانے کا شروع میں تو اپنی ادبی تنظیم نوائے ادب کے بارے میں لکھنا تھا لیکن نوائے ادب ایک مہینے کے بعد ہی کوئی پروگرام منعقد کرتی تھی جس کی وجہ سے میں نے آگے پیچھے کی مارنی شروع کر دیں اصل مقصد تنظم کو سامنے لانا تھا جو کہ ٹھیک سے پورا نہیں ہو سکا لیکن اب تو اللہ کے فصل سے بہت سے مقصد لے کر چل رہا ہوں
– بلاگنگ کے آغاز میں کن کن مشکلات کا سامنا رہا؟
@ آغاز میں تو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ایک تو مجھے نیٹ کے بارے میں کچھ زیادہ جانکاری نہیں تھی اور دوسرا بلاگ کی الف ب سے بھی واقف نہیں تھا بس یہی سمجھ لیں کے ایک بچے کو سکول جانے میں جتنی مشکلات ہوتی ہیں اتنی بلاگنگ کے آغاز میں ہوئی تھیں
– آپ بلاگ کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے؟
@ پہلے تو میں کچھ خاص اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن بعد میں اچانک تھوڑی تھوڑی اہمیت دینی شروع کر دی اور پچھلے ایک سال سے تو بہت ہی اہمت دے رہا ہوں اب تو شاہدہ آپی اور رضی (محمد رضوان )میں ساتھ دیتے ہیں
– یہ بتائیے کہ اپنے بلاگ پر ”دیا جلائے رکھنا ہے“ کا عنوان آپ نے کیوں منتخب کیا؟ کیا یہ کوئی خاص پروجیکٹ ہے؟
@ یہ سوال کم از کم میرے لیے رضوان کے لیے اور “دیا جلائے رکھنا ہے ” کے لیے بہت اہم ہے۔ اصل میں یہ سب رضی کی وجہ سے ہے رضی ایک مخلص دوست اور دوسروں کے لیے دل میں درد رکھنے والا بچہ ہے (بچہ اس لیے کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے چھوٹا ہے اور پیار سے بچہ کہتا ہوں) وہ اکثر مجھے اپنی خواہشات بتاتا رہتا تھا پھر ہم دونوں نے مل کر سوچا اگر ہم دونوں کچھ کر سکتے ہیں تو پھر کچھ کر لیا جائے “دیا جلائے رکھنا ہے” یہ ایک تنظیم سی بنائی ہے جس میں مرکزی کردار تو میں اور رضی ہی ادا کرتے ہیں لیکن کچھ کردار پسِ پردہ ہیں جو ہمیں تحریک دیتے ہیں ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم باقیوں کی مدد کر سکیں “دیا جلائے رکھنا ہے” یہ ایک نا ختم ہونے والا پروجیکٹ ہے اور انشاءاللہ اس پر ہم محبت اور محنت کے ساتھ کام کرتے رہیں گے جب تک اللہ نے ہمت دی اور ویسے بھی میرے والد صاحب کہتے ہیں ایسے کام ہم نہیں کر سکتے ایسے کام اللہ تعالیٰ خود چلاتا ہے ہم تو بس اس کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ ابھی تو ہم نے “دیا جلائے رکھنا ہے” کے پروجیکٹ میں ایک سلسلہ “ایک بچہ ایک بستہ” کا سلسلہ شروع کیا ہے جو ہماری سوچ سے بھی بہت زیادہ کامیاب ہو رہا ہے بہت سے احباب اور دوست مدد کر رہے ہیں اور ہم آگے بچوں کو بستے پہنچا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ جن جن بچوں کو ہم نے بستے دیے ہیں ان ن کی تعلیم کی ذمہ داری ہم اٹھا لیں جو کہ ایک مشکل کام ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے۔ اس کام میں محمد رضوان بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے آپ سب سے درخواست ہے آپ ہمارے لیے دعا کریں کے ہم کامیاب ہو جائیں جلد ہی انشاءاللہ اس مقصد کے لیے الگ سے بلاگ بنا لیں گے اور پھر سارا کام اسی پر کیا کریں گے
– اکثر بلاگر اپنا خود کا بلاگ بناتے ہیں لیکن آپ کے بلاگ پر آپ دو تین لوگ مل کر لکھتے ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟
@ شاہدہ آپی جی کے بلاگ کے ساتھ کیا ہوا یہ تو آپ سب کو پتہ ہے وہ اپنا بلاگ بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں اور امید ہے انشاءاللہ ایک ہفتے تک ان کا بلاگ تیار ہو جائے گا اس دوران وہ فارغ تھیں تو میں نے ان کو دعوت دے دی اپنے بلاگ پر جو انھوں نے خوشی سے قبول کر لیں جو کہ میرے لیے ایک فخر کی بات ہے اور جہاں تک رضی کی بات ہے تو میرا اور رضی کا مقصد ہی ایک تھا تو پھر ہم نے الگ بلاگ بنانے کا سوچا ہی نہیں اس لیے رضی کو بھی اسی بلاگ پر لکھنے پر مجبور کیا بڑی جان چھوڑانے کی کوشش کی اس نے لیکن میں نے کان سے پکڑ کر ذبردستی لکھنے پر مجبور کر دیا ۔ بس یہی وجہ ہے
– آپ بلاگرز کی تعداد زیادہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، یا پھر معیاری بلاگرز پر؟
@ معیار کی طرف تو سب توجہ دیتے ہیں لیکن میں بلاگرز کی تعداد کی طرف توجہ دیتا ہوں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی معیاری چیز معیاری ہی پیدا نہیں ہوتی نا کوئی پیدائشی شاعر یا ادیب ہوتا ہے نا کوئی ڈاکٹر یا سائنسدان جب تعداد زیادہ ہوگی تو معیار بھی آ ہی جائے گا جب ایک دوسرے سے بہتر لکھنے کی یا بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو خود بخود معیار سامنے آ جائے گا اب تو اللہ کے کرم سے ہمارے پاس بہت معیاری لکھنے والے ہیں اگر میں صرف معیاری لکھنے والوں کا نام لوں تو بہت وقت لگ جائے ۔ معیار تب بنتا ہے جب کچھ کیا جاتا ہے اس لیے پہلے تعداد اور پھر معیار (یہ میری ذاتی رائے ہیں اختلاف تو ہو سکتا ہے )

– آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟
@ پہلے تو یہ سوچنا چاہے کہ اصل میں معیار ہے کیا اب میں شاعری پسند کرتا ہوں تو میری نظر میں سب سے معیاری بلاگ محمد وارث صاحب کا ہی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوگا کہ باقی معیاری نہیں اس لیے پہلے معیار سمجھنا چاہے۔ میرا تو خیال ہے جس فن میں آپ ماہر ہیں جو آپ بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں جس پر آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے اسی کام میں اسی فن کے مطابق اگر اپنے بلاگ کو تیار کریں گے تو میرے خیال میں وہ معیاری بلاگ ہو گا میری طرح ہر چیز میں ٹانگ لٹکانے سے معیار قائم نہیں رہتا
– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نئے بلاگرز کو کس طرف توجہ دینی چاہے۔ بلاگ کی ترتیب پر یا پھر اچھی تحریروں پر؟
@ میرے خیال میں نئے بلاگرز کو بس بلاگ لکھنے کی طرف توجہ دینی چاہے وقت کے ساتھ ساتھ ترتیب اور تحریر میں نکھار آ ہی جائے گا ۔ نئے بلاگر بسم للہ تو کریں
– نئے اردو بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے ایسا کیا کیا جائے، جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں؟
@ میں نے جب بلاگ لکھنا شروع کیا تو مجھے یہ شکایت رہتی تھی کہ سینئیر بلاگر میرا بلاگ نہیں پڑھتے اور نا ہی تبصرہ کرتے ہیں ۔ اس دوران ایک بلاگر نے مجھے کہا تھا “خرم صاحب تحریر اچھی ہوگی تو تبصرہ خود بخود ہو جائے گا اس لیے آپ یہ شکایت نا کریں کے کوئی آپ کا بلاگ نہیں پڑھتا پڑھتے سب ہیں ” اس کے بعد میں نے شکایت نہیں کی تھی لیکن میں چاہتا ہوں نئے لکھنے والوں کو ان کی غلطیوں سے اور خوبیوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں اس سلسہ میں میں اردو سیارہ سے بھی درخواست کروں گا کہ انھوں نے جو دو ماہ کی قید رکھی ہوئی ہے رجسٹریشن کے لیے اس کو بھی ختم کر دیں جب نئے لکھنے والوں کا بلاگ اردو سیارہ پر ظاہر نہیں ہوتا تو نئے بلاگ کی طرف نظر بھی بہت کم پڑتی ہے اگر جسٹریشن کا وقت ختم کر دیا جائے اور جب مرضی اپنا بلاگ رجسٹر کروا لیا جائے تو میرے خیال سے اچھے اچھے بلاگر سامنے آ سکتے ہیں
– آپ اردو بلاگرز کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں۔ اور کیسے؟
@ اردو بلاگرز میں جس طرح معیاری لکھنے والوں کا اضافہ ہو رہا ہے اس سے تو اردو بلاگرز کا مستقبل روشن ہی نظر آ رہا ہے اور انشاءاللہ روشن ہی ہو گا
– کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@ جی ہاں مجھے بلاگنگ سے بہت فائدہ ہوا ہے میں نے بلاگنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے اس سے مجھے پہلے تو نہیں لیکن اب “دیا جلائے رکھنا ہے” مہم کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے بلاگنگ کی ذریعہ ہم اپنی بات آپ سب تک پہنچا سکتے ہیں
– اگر آپ کو اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنے کو کہا جائے ، تو اس کو کیسے بیان کریں گے ؟
@ اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
– آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی؟
@ میں تو یونی کوڈ کو سلام کرتا ہوں جس نے اس اردو کی لاج رکھ لی ورنہ بڑے بڑے خود کو شاعر کہنے والوں نے بھی یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کر کے رومن رکھ دیا جائے۔ وہ جو مقام اردو کا تھا یا جو ہونا چاہے تھا یا جس کی وہ مستحق ہے وہ تو نا مل سکا لیکن انشاءاللہ امید پر دنیا قائم ہے مل جائےگا
– آنے والے دس سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ جس طرح اردو بلاگرز کی تعداد اور معیار سامنے آ رہا ہے انشاءاللہ اردو بلاگنگ جلد اپنا ایک ایسا مقام بنا لے گی جس کا ذکر ہر جگہ ہوا کرے گا دس سال تو بہت دور ہیں انشاءاللہ جلد ہی ایسا ہو گا
– بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ یا آجکل کن پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں؟
@ بلاگ کے علاوہ روزگار سے جان چھوٹے تو کچھ سوچیں۔ پراجیکٹس تو بہت سے چل رہے ہیں لیکن سب سے اہم “دیا جلائے رکھنا ہی ہے جس میں رضی بہت محنت کر رہا ہے اس کے علاوہ ایک دو چھوٹے چھوٹے کام ہے جن کا ذکرنا بھی کیا جائے تو چلے گا
– کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ پیغام تو نہیں البتہ دعا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو ان دلوں کو ان ارادوں کو کامیاب کرے جو اردو کی خدمت کے لیے ایک ذرہ برابر بھی کوشش کر رہے ہیں آمین

کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
کوئی ایک نہیں
2۔ شعر ؟
کوئی ایک شعر منتخب کرنا بہت مشکل ہے لیکن اعتبار ساجد صاحب کا ایک شعر جس کی مجھے جلد ہی سمجھ آ گی تھی اور اس پر ہی عمل کرتا ہوں
ہم اتنے شور میں سب سے مخاطب بھی نہیں ساجد
جو سن سکتے ہیں بس ان کو سنائی دے رہے ہیں ہم

3۔ رنگ ؟
کالا اور سفید
4۔ کھانا (کوئی خاص ڈش) ؟
یوں تو کریلوں (کریلے کڑوے ہوتے ہیں) کے علاوہ سب کچھ کھا لیتا ہوں لیکن سرخ لوبیا اور سفید چاول بہت پسند ہیں
5۔ موسم
دل کا موسم

غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
جی ہاں
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
جی ہاں
3۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
جی ہاں
4۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
جی ہاں
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟
جی نہیں
6۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
جی ہاں

خرم ابن شبیر اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیےانٹرویو دینے کا بہت بہت شکریہ۔

29 تبصرے:

  1. ابن سعید بھائی شکریہ

    دوست بھائی میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے کیا :d

    شکریہ جعفر بھائی اور بیبا کا مطلب بھی بتا دیں کیا جو میں سمجھا ہوں وہی مطلب ہے یا کوئی اور

    محمد وارث صاحب سر بہت شکریہ آپ ہی تو ہمارے لیے سایہ دار شجر ہیں

    رضوان شکریہ میں حقیقی زندگی میں کیسا ہوں‌یہ بھی بتا دیتے تو اچھا تھا سب کو پتہ چل جاتا

    احمد بھائی بہت شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے آمین

    بلال بھائی بہت شکریہ اصل میں سب یہی کہتے ہیں کہ خرم کو بہت غصہ آتا ہے

  2. مجھے تقريبا ساری باتيں پہلے ہی پتہ تھيں دل کر رہا ہے انٹرويو کی ايک کاپی کروا کر تمہارے گھر بھيج دوں لڑکی والوں کو دکھائيں منڈا مشہور ہو گيا ہے انٹرويو شائع ہوا ہے مشہور ہونے کے بعد شعيب ملک والا رويہ نہ اپنا لينا کہ پہچاننے سے ہت انکار کر بيٹھو
    .-= پھپھے کٹنی کے بلاگ سے آخری تحریر ..بات سے بات =-.

  3. بہت خوب۔ منظرنامہ کا یہ سلسلہ ابھی زندہ ہے 😀
    خرم کا انٹرویو اس کی شخصیت کی طرح بہت سادہ ہے۔ ایسے سادہ دل لوگ اب دنیا میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ اللہ انہیں طویل عمر اور کامیاب زندگی عطا فرمائے۔ آمین
    .-= ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر ..پہلے میں، پھر تم اور پھر ہماری اولادیں =-.

  4. اسماء آپی ذرا اپنا ان بکس دیکھیں کب سے میل کی ہوئی ہے آپ کو اور اس میں میں نے بھی مشہور ہونا کا ذکر ہی کیا ہے ذرا دیکھیں کون رویہ بدل کر بیٹھا ہوا ہے 😀

    عین لام میم بہت شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے آمین
    راشد کامران بھائی بہت شکریہ امید تو انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا :k:

    ابوشامل بھائی شکریہ دعاؤں کا بھی بہت شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول فرمائے آمین اور جو ہمارے حق میں بہتر ہے ایسا ہی ہو
    .-= خرم ابن شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر ..اردو =-.

  5. ہیں یہ انٹرویو کس کا ہے :hunh: . پورے انٹرویو میں خرم ۸ مرتبہ جب کہ رضی + رضوان کوئی ۱۱ مرتبہ آگیا ہے ۔ہیں جی۔

    میں بس اتنا کہوں گا کہ کچھ لوگوں کو جاننے کے لیے انٹرویوز کی ضرورت نہیں ھوتی ان سے تعلق ہی کافی ہوتا ہے۔

    جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
    چاند لے کر چلے آۓ ہیں ،تری گلیوں میں۔

  6. بالاخر میں یہاں پہنچنے اور تبصرہ کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو ہی گیا…… 🙁
    خرم جی بہت اچھا لگا آپ کے بارے جان کر، لیکن میرے خیال میں خرم اپنی نوعیت کے واحد اردو بلاگر ہیں جو دن میں کم از کم دو پوسٹیں ضرور کرتے ہیں، اپنی زندگی کے مثال یہاں پیش کرتے ہیں اور تجربات سے آگاہ کرتے ہیں تو کافی لوگ بشمول میرے اس لحاظ سے پہلے بھی کافی کچھ جانتے ہیں ان کے بارے۔۔۔۔۔۔ انٹرویو پڑھ کر اور خوشی ہوئی جہاں انھوں نے اپنے مقصد بارے زیادہ بات کی ہے۔۔۔۔۔ تو دعا ہے کہ اللہ ان کو اور رضوان صاحب کو نیک مقصد میں کامیاب فرمائے اور وہ یونہی جگمگاتے رہیں

  7. یوں تو خرم کے بارے مین جانتی ہوں ۔ زیادہ جان کر اچھا لگا ۔ ہماری دعایں ساتھ ہیں جو نیک کام آپلوگ کرنے لگے ہو ۔ اچھا انسان ہونے کے ساتھ خرم بہت اچھا شاعر بھی ہے ۔ مجھے نہیں پتا کہ اپ لوگوں کو پتا ہے ۔خوش رہو

  8. ایگریگیٹرز نے سیارہ کی طرح جو دو ماہ یا کچھ مدت کی شرط رکھی ہوتی ہے نئے بلاگ کی رجسٹریشن کے لیئے وہ نہ صرف مناسب ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ ایک نئے بلاگر کا ابتدائی ولولہ اکثر اتنے ہی عرصے میں ماند پڑ جاتا ہے اور پھر بلاگ کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس شرط سے بہت حد تک یہ ممکن بنایا جاتا ہے کہ زیادہ تر فعال بلاگ ہی ایگریگیٹر میں شامل کرنے کے مرحلے سے گزرا جاے۔ عارضی بلاگز پہ وقت نہ ضائع کرنا پڑے۔
    .-= احمد عرفان شفقت کے بلاگ سے آخری تحریر ..دوست،دوستی،دوستیاں،دوستانے =-.

  9. آج گھومتے پھرتے م بلال بھائی کے ایک بلاگ کے لنک سے یہاں پہنچا ہوں اور اپنے پیارے خرم بھائی بقول م بلال مسٹر پوئٹ کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ اللہ عزوجل آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے

  10. انٹرویو سے آپ کی شخضیت کا خوب اندازا لگایا جاتا ہے .اورمیں جانگئی اوران بهی لیا کہ آپ بہت ہی مخلض بندے ہو .خوش قسمت ہوتے ہیں ایسوں کے دوست اور عزیز …اللہ پاک خوش و خرم رکهے ہمارے خرم بهائی کو سدا.

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر