آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > منتخب بلاگز > مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

nاپریل 2008ء میں جب منظرنامہ کا افتتاح کیا گیا تو ہمارے (عمار اور ماوراء کے) پیشِ نظر صرف یہ تھا کہ ہم اردو بلاگرز سے جان پہچان بڑھانے کے لیے ان کے انٹرویوز لیں گے اور اس سے بڑھ کر کچھ ہوا تو تحاریر کے لیے اردو بلاگرز کو مشترکہ موضوعات دیے جائیں گے۔ بعد ازاں ایک اور سلسلے کا اضافہ ہوا جس کے تحت پہلے ہر ہفتے اور پھر ہر مہینے منتخب بلاگز پر تبصرے شائع کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ توقع سے زیادہ پسند کیا گیا لیکن ہم دونوں میزبانوں کی بڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اسے قارئین کے اصرار اور ہماری ہر ممکن کوشش کے باوجود جاری نہ رکھا جاسکا۔

تاہم ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسے بھلادیا ہے۔۔۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ منظرنامہ کو بیدار رکھا جائے۔ مزید باتوں میں الجھے بغیر آئیے ماہِ مارچ 2010ء کے اردو بلاگز میں سے کچھ منتخب تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں۔

کیوں نہ جعفر سے شروع کریں۔ یہ اُن اردو بلاگرز میں سے ہیں جو باقاعدگی سے بلاگ کرتے ہیں اور ان کی تحاریر پسند کی جاتی ہیں، اُن پر ہونے والے تبصروں کا تو پوچھئے ہی نہیں۔ جعفر کی ایک تحریر ’’میرا پسندیدہ شاعر‘‘ اس وقت پیشِ نظر ہے۔ علامہ اقبال کی ہمہ جہتی شاعری کی منفرد خصوصیت اجاگر کرتے ہوئے جعفر رقم طراز ہیں:

۔۔۔علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے “اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو” گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے “نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر” کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے “ذرا نم ہو تویہ مٹی” کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے “بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے” کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے “سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ” گاتے رہے۔ فوج والے “شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن” کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔۔۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

محبت کا کھوتا جعفر ۔۔۔ مطلب جعفر کی لکھی تحریر ’’محبت کا کھوتا‘‘ معروف کالم نگار جاوید چوہدری کے طرزِ نگارش کی خوب صورت اور پُرمزاح نقل ہے۔ آغاز یوں کرتے ہیں کہ

اس نے کرسی کی پشت سے کمر ٹکائی، چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور آنکھوں کے گوشے انگلیوں سے صاف کرتے ہوئے یوں گویا ہوا: اس محبت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔ سکول میں پڑھتا تھا تو ہمسایوں کی لڑکی سے محبت ہوئی۔ پر وہ کٹھور ہمیشہ بھائی جان ہی کہتی رہی۔ کالج گیا تو شاعری کا شوق ہوگیا۔ فراز سے فیض تک سب کو گھول کے پی لیا۔ لیکن محبت ہونی تھی نہ ہوئی۔ جس لڑکی کی طرف بھی محبت کی نظر ڈالی، اس نے یا تو دھتکار دیا یا پھر ’’بھائی جان‘‘ کہہ کے کاری وار کیا۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

اردو بلاگستان کے منظرنامے کا ذکر ہو اور ڈفرستان کی ڈفریاں رہ جائیں، ایسا کیسے ممکن ہے۔ ’’ڈیل کرلیتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں پردیس میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کی ایمان افروز گفتگو کا دلچسپ ذکر کرنے کے بعد فکر انگیز اختتام یوں ہوتا ہے کہ

محمد بشیر سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود میں نے اسے ایک موڑ پہلے ہی روک دیا اور پیدل روانہ ہو گیا۔ میں اس کی باتوں سے اتنا متاثر اور مگن تھا کہ استقبالیے سے بغیر کارڈ لئے کمرے کے سامنے غائب دماغی کی حالت میں جا کھڑا ہوا ۔ اور اسی رات میں پارکنگ بوائے سے اس بات پر جھگڑ رہا تھا کہ اگر گاڑی ٹکٹ سے پانچ منٹ زیادہ کھڑی ہو گئی ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ ”ہم ڈیل کر سکتے ہیں۔“

(مکمل تحریر پڑھیں)

ابوشامل اردو بلاگنگ میں ایک سنجیدہ اور علمی لکھاری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخ کے موضوعات پر اکثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی ایک شخصیت ابنِ فرناس ثانی کے حوالے سے اپنی تحقیقی تحریر میں بیان کرتے ہیں کہ

مسلم تاریخ کے روشن ابواب میں سے ایک عباس ابن فرناس بھی ہے جو اندلس کی اُن سینکڑوں نابغہ روزگار ہستیوں میں سے تھا جنہوں نے ’’دورِ ظلمت‘‘ (Dark Age) میں یورپ میں علم کی شمعیں روشن کیں اور ایسے محیر العقول کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے ان کا نام آج بھی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

اس کے علاوہ ہندوستان کی ایک معروف تجارتی کمپنی کی چائے کی تشہیری مہم کے ذریعے عوام میں فکر و شعور بیدار کرنے کی کوشش پر بھی ایک تحریر میں ابوشامل نے اُن تمام اشتہارات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو: اُٹھو نہیں، جاگو!

کزن میرج ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں ایک خاص سوچ گھر کرتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بدتمیز کی تحریر ’’ابنِ صفی کے دیوانے‘‘ میں برسبیلِ تذکرہ ایک بات یوں آگئی کہ

امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔ کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔

اس پر افتخار جمل بھوپال کی دو تحاریر ’’کزن میرج‘‘ اور ’’کزن میرج۔ایک ڈاکٹر کا تبصرہ‘‘ معلوماتی ثابت ہوسکتی ہیں۔

گذشتہ عرصے میں امریکہ اور چند دیگر یورپی ممالک میں حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اسکریننگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے بے شمار خدشات کا اظہار کیا گیا اور یہ نظام اعتراض کا نشانہ بنا۔ سینئر بلاگرز میں سے ایک، شعیب صفدر ایڈووکیٹ نے اپنی تحریر ’’تحفظ و برہنگی‘‘ میں اس موضوع پر کچھ گفتگو کی ہے۔ روابط سے مزین ہونے کے باعث یہ تحریر خاصی معلوماتی ہے۔ لکھتے ہیں:

دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے۔ لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں!

(مکمل تحریر پڑھیں)

اب اپنا رُخ کرتے ہیں شعر و سخن کی طرف۔ محمد وارث اپنے بلاگ کے ذریعے سخن شناسوں کی تشنگی بجھانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ دیگر شاعرانہ کلام کے ساتھ ساتھ ممتاز شاعر جگر مراد آبادی کی ایک فارسی غزل مع ترجمہ پیش کی۔ رقم طراز ہیں:

جگر مُرادآبادی کا شمار غزل کے آئمہ میں سے ہوتا ہے، فقر و فاقہ و مستی میں زندگی بسر کی اور یہی کچھ شاعری میں بھی ہے۔ کسی زمانے میں ان کا ہندوستان میں طوطی بولتا تھا اور ہر طرف جگر کی غزل کی دھوم تھی۔ انکے کلیات میں انکا کچھ فارسی کلام بھی موجود ہے۔ انکے مجموعے ’’شعلۂ طور‘‘ سے ایک فارسی غزل کے کچھ اشعار ترجمے کے ساتھ “’’تبرک‘‘ کے طور پر لکھ رہا ہوں۔

(مکمل تحریر پڑھیں)

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر جب سے سننے میں آئی ہے، ہر محفل میں یہ موضوع ضرور زیرِ بحث آتا ہے۔ بلاگرز نے بھی اس پر دلچسپ تحاریر کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا۔ مختصراً اس پر بھی ایک نظر:
جعفر: ثانیہ کے نام آخری خط (فی الحال)
شعیب صفدر: بڑا کھلاڑی کون؟
عنیقہ ناز: واہ شعیب ملک، آہ ثانیہ مرزا

گذشتہ کچھ عرصے میں اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع بھی ہوا۔ نئے آنے والے بلاگز میں سے ایک ’’پھپھے کٹنی‘‘ کافی منفرد رہا اور اردو بلاگنگ میں پہلی بار ان موضوعات پر کھل کر لکھا گیا جن سے اب تک چند وجوہات کی بِنا پر گریز کیا جاتا رہا۔

فی الوقت اس مختصر جائزے کے ساتھ اجازت۔ امید ہے کہ اگلی بار کچھ تفصیل سے لکھا جاسکے گا ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

33 تبصرے:

  1. اگرچہ کہ آپکو میری بات بری لگے گی۔ اور اکثر لوگوں کو بری لگ جاتی ہے۔ مگر میں بلاگنگ اس لئے نہیں کرتی کہ ہر ایک کی غلط اور صحیح بات میں ہاں میں ہاں اس لئے ملاءووں کہ میری پی آر اور شہرت اچھی رہے۔تجزیہ کرنا اسی کو زیب دیتا ہے جو اس میں سنجیدگی سے دلچسپی رکھتا ہو اور اچھی تجزیاتی قوت۔ ورنہ لوگ جو کر رہے ہیں انہیں وہ کرنے دیں وہ اپنی شناخت خود بنا ہی لیں گے۔

    ریاض شاہد صاحب نے مارچ کے مہینے میں سترہ تحریریں دیں۔ جن میں سے ہر تحریر اردو بلاگ میں ایک عالی قدر اضافہ ہے۔ جو نہ صرف سنجیدگی اور متانت رکھتی ہیں بلکہ سوچ کو پختگی بھی دیتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئ تحریر آپکو سمجھ میں نہ آئ۔ حتی کہ انہوں نے فرناس کا تذکرہ کر کے ابوشال کو تحریک دی۔ لیکن پھر بھی وہ آپکو یاد نہ رہے۔ اسی طرح شعیب پہ تو راشد کامران نے بھی لکھا اور خرم بھٹی نے بھی وہ آپکو معلوم نہیں۔ عمر بنگش نے مارچ کے مہینے میں پانچ تحریریں دیں ۔ ان میں سے کچھ تو مجھے یاد بھی رہ گئیں لیکن آپکی نظروں میں نہیں سمائیں۔ میں نے شعیب ملک سے زیادہ بہتر چیزیں بھی، کیں لیکن وہ خیر جانے دیں۔
    خرم شہزاد آپکو نہیں سمجھ میں آئے۔ اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ جنہیں بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شخص واحد کی پسند نا پسند پہ تجزیہ بنا دیا گیا۔ اگرچہ کہ یہ آپکا منظر نامہ ہے اپ جو دل چاہے کریں۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس میں فراہم کی گئ اطلاع پہ لوگوں کا اعتبار ہو تو آپکو اس قسم کے تجزئیے کا معیار بڑھانا پڑھےگا۔
    دوسری بات تبصرے کے سلسلے میں۔ صرف تبصروں کی تعداد نہیں انکا معیار بھی دیکھنا چاہئیے۔
    ہم جتنا بھی تفریحی کام کر رہے ہوں۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اسکی حالت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ان چیزوں کو سراہنے سے کبھی نہیں چوکنا چاہئیے جو معاشرے میں بہتری کا سبب بن سکتی ہیں۔ وہ تمام لوگ جو فکری مواد مہیا کرتے ہیں چاہے عوام اپنے مزاج کے سبب انہیں پذیرائ نہ دیں انہیں ضرور شامل گفتگو رکھنا چاہئے۔ معاشرے کی ذہنی سطح کو بلند کرنا اور اسے کھلے مزاج کا بنانا اور برداشت پیدا کرنا یہ ہم سب پہ فرض ہے۔
    .-= عنیقہ ناز کے بلاگ سے آخری تحریر .. =-.

  2. شکریہ آپی کہنا میں بھی کچھی ہی چاہتا تھا لیکن خاموش اس لیے رہا کہ شاہد میری بات کو غلط سمجھ لیا جائے خاموش رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے مارچ میں سب سے زیادہ ریکارڈ پوسٹیں کی تھیں جن میں مسدس حالی شامل تھی اور میں اسی وجہ سے نہیں بولا کہ پڑھنے والے یہ نا سمجھے کہ میرا ذکر نہیں ہوا اس لیے میں بول پڑا حالانکہ بہت اچھے اچھے بلاگروں کو نظر انداز کیا گیا ہے

    ہاں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام بہت مشکل ہے اور جتنے بلاگر ہیں اس سے زیادہ تحریریں ہوتی ہیں اور سب کی تحریریں پڑھنا اتنا آسان کام نہیں لیکن اگر یہ ممکن نہیں تو پھر یہ کہنا “مارچ 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ“ یہ غلط ہو گا اس کی جگہ اگر یہ لکھ دیا جائے “ مارچ کے چند بلاگرز کا تجزیہ“ تو بات بہتر ہوگی نا کوئی اعتراض کرے گا اور نا بات بنے گی

  3. اختلافِ رائے اور تنقید کا بے حد شکریہ۔
    تحریر کے شروع میں دونوں میزبانوں کی مصروفیات کا ذکر، سلسلے کا منقطع ہوجانا اور آخر میں تجزیے کے مختصر ہونے کا اعتراف اسی لیے تھا کہ اسے سب کچھ نہ سمجھ لیا جائے۔ یہ تحریر صرف اس لیے کی گئی تاکہ عرصے سے منقطع اس سلسلے کو رفتہ رفتہ دوبارہ شروع کرنے کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ ریاض شاہد صاحب کے علاوہ خرم بھٹی کے بلاگ پر بھی ایسی تاریخی تحاریر سامنے آئیں جو ذہن پر واضح نقوش چھوڑگئیں۔ دوسرے کئی بلاگز پر بھی بہت کچھ اچھا، معیاری اور دلچسپ لکھا گیا۔ اس تبصرے میں ان کا ذکر نہ ہونا فکری اختلاف یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر ہرگز نہیں تھا اور نہ ہی پہلے کبھی دانستہ ایسا کیا گیا۔ یہ تحریر صرف ایک امید ہے کہ اس سلسلے کو حیاتِ نو بخشی جائے جس کا بیڑا اُٹھانے والے کئی لوگ جلد ہی توبہ کرچکے ہیں۔

  4. ميں ماوراء اور عمار کے ساتھ ٹيم ميں شامل ہو سکتي ہوں تبصروں کا معياری پن چيک کرنے کے ليے ، مگر ميں صرف جعفر اور ڈفر کے بلاگ کے تبصرے چيک کروں گی کيونکہ يہ دونوں اکثر بڑی غير معياری باتيں کرتے ہيں مگر اس معيار کو چيک کرنے کے ليے کس کس طرح سے جانچ پڑتال کرنا ہو گی ويسے تو ميرے معيار پر صرف ميری ہی تحرير پوری اترتی ہے

  5. سلسلہ تو اچھا ہے اور عنیقہ صاحبہ کی تنقید بھی جائز ہے، لیکن اکثرو بیشتر ایسا ہی ہو گا کہ آپ جس بندے کی تحریر کو تجزیہ کا حصہ نہیں بنائیں گے وہ ناراض ہی ہو گا۔اور اتنے سارے بلاگز صفحات کے پلندے کو مکمل طور پر چھانٹنا بھی کسی ایک کے بس کی بات نہیں۔ ایک تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ ہر بلاگر بذات خود اپنے بلاگ کی ایک مہینے کی تحاریر کا جائزہ اپنے بلاگ پر مہینے کے آخر میں شائع کر دے، یوں آپ کا کام کچھ آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کام کو سبھی بلاگرز سے کروانا بھی کوئی آسان بات نہیں۔ پر سانوں کی
    اگر مستقبل میں بھی آپکا ارادہ تجزیات کرنے کا ہو تو اس ماہ شروع کیے جانے والے بلاگ ایگریگیٹر کو بھی اس میں شامل کر لیجیے گا۔
    شکریہ
    .-= یاسر عمران مرزا کے بلاگ سے آخری تحریر ..do nai urdu blog =-.

  6. بات یہ نہیں ہے کہ آپ کس کس بلاگر کی تحریر پہ تجزیہ فرما رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ نے معیار کی سطح کیا رکھی ہے، آپ اردو بلاگنگ کو کس سطح پہ لیجانے کے لئے کام کرنا چاہ رہے ہیں، آیا صرف تفریح پہ ہی زور ہے یا اپنے طور پہ کوشش کر کے اسے پڑھنے والے کو سوچنے پہ بھی مجبور کرنا ہے، اور صرف سوچ ہی نہیں بلکہ اسے تبدیلی کی طرف قدم اٹھانے کی تحریک بھی دینی ہے۔
    مجھے اپنا کوئ شکوہ نہیں آپ ازراہ مہربانی اسے نہ بھی ڈالتے تو مجھے چنداں فکر نہ ہوتی ، مجھے معلوم ہے مجھے کیا کام کرنا ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ اس سارے تجزئیے میں آپکے پیش نظر کوئ مقصد نہ تھا۔ سوائے اسکے ایک اور سرگرمی یا ایک اور تحریر۔ اگر کوئ یہ ذمہ داری اٹھا رہا ہے کہ وہ ایسی کوئ تحریر لکھے گا تو اسے سارے پلندے چھاننے ہونگے یا اپنا حافظہ بہتر رکھنا ہوگا لیکن سب سے پہلے اسے اپنے آپکو غیر جانبداری سے دیکھنا ہوگا کہ وہ خود بغیر کسی جانبداری کے کسی معیار کو قائم کرنے کے لائق ہے یا نہیں۔ یا پھر اسے مختلف الخیال بلاگرز جو مختلف ذہنی سطحوں سے تعلق رکھتے ہوں انکی مدد لینی چاہئیے۔
    .-= عنیقہ ناز کے بلاگ سے آخری تحریر .. =-.

  7. بہت اچھا تعریف اور تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ میں تو بس یہی کہوں گی سب بہت اچھا لکھتے ہیں ۔ ہاں کچھ بلاگز پر بہت ہی کھل کر لکھا جاتا ہے جس پر تبصرہ کرنا اچھا نہیں لگتا ۔ بلاگ کا مقصد معلومات ہے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مرد حضرات کے علاوہ خواتین بھی موجود ہیں ۔

  8. میں اسی لیے کچھ معاملےمیں بولتا نہیں ہوں یاسر بھائی لازمی نہیں ہے کہ تنقید کرنے والا ناراض ہو کر ہی تنقید کر رہا ہو
    منظر نامہ ہمارا اپنا بلاگ ہے اگر ہم اس پر بات نہیں کریں گے تو باہر سے آ کر کوئی بات کرے گا مجھے تجزے میں شامل ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے اگر ہوتا تو تین سال پہلے ہی شکوہ کر لیتا مجھے پتہ ہے جب میں اس قابل ہو گیا تو خود بخود تجزے میں شامل ہو جاؤں گا لیکن میں تو ان کی بات کر رہا ہوں جو اس قابل ہیں وہ تو شکر ہے مجھ سے پہلے عنیقہ آپی نے بات کر لی آپ میرا پہلا تبصرہ دیکھیں میں پہلے ہی خاموش ہو گیا تھا کام بے شک مشکل ہے لیکن خیر
    اگر میری وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو میں معافی چاہتا ہوں خاص طور پر یاسر بھائی اور منظر نامہ سے معافی چاہتا ہوں کہ میں کچھ زیادہ ہی بول گیا ہوں آئندہ خیال رکھوں گا
    .-= خرم ابنِ شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر ..سلام کا مطلب =-.

  9. میرے خیال میں منظر نامہ کی تجزیہ ٹیم ایک یا دو بندو پر مشتمل ہے
    سیدھی سی بات ہے
    اول تو اتنے سے بندے ہر تحریر پڑھ نہیں سکتے
    پڑھیں تو سمجھ نہیں سکتے
    تو لازمی سی بات ہے کہ وہ اسی تحریر کو شامل کریں گے جو ان کو پسند آئے گی
    منظرنامہ نے ہمیشہ بلاگرز سے مدد مانگی ہے کہ وہ اس کام کو جاری رکھنے میں ان کی مدد کریں
    اگر تجزیہ نگاروں کی تعداد زیادہ ہو گی تو یقینی طور پر چند لوگوں کو برا نہیں لگے گا
    تنقید کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن کچھ لوگوں کو ذمہ داری اٹھانے کا حوصلہ بھی کرنا چاہیے

  10. ڈفر، مجھے جب بلاگنگ شروع کئے ہوئے تقریباً دو مہینے ہو چکے تھے تو منظر نامہ سے اسی قسم کی تحریر شائع ہوئ جس میں میرا نام نہیں تھا۔ جناب جعفر انکل کو اس وقت نجانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے انکی توجہ اس طرف مبذول کرائ اورمنظر نامہ نے یہ بیان دیا کہ چونکہ انکا لنک نہیں ہے اس لئے انکا تذکرہ نہیں آیا۔ اب میں اس ساری گفتگو کو تلاش کرنے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی۔ آپکے پاس وقت ہو تو دیکھ لیں۔
    اب انہوں نے کہہ دیا کہ چونکہ سب تحریریں پڑھنے کا وقت نہیں ملا اس لئے ایسا ہوا۔ منظر نامہ نے اپنے بل بوتے پہ یہ ذمہ داری اٹھائ ہے۔ کسی نے ان سے یہ فرمائش کی ہو تو معلوم نہیں۔ بلاگرز کی اکثریت اپنے ہی بلاگ کو سنبھالنے کا وقت مشکل سے نکالتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر بلاگر اس چکر میں پڑنا بھی نہیں چاہتا۔ جیسے مجھے بلاگنگ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس قسم کی اجتماع گاہیں ہیں۔ اب میرا نظریہ تو یہ نہیں ہو سکتا کہ میں ضرور ان اجتماع گاہوں کا حصہ بنوں۔ کیونکہ میں تو ان سب سے متائثر ہو کر اس طرف نہیں آئی تھی۔ زیادہ تر لوگ اس لئے لکھتے ہیں کہ وہ لکھنا چاہتے ہیں۔
    تو اب یا تو منظر نامہ اپنے تجزءیے کو بہتر کرے یا پھر اپنے آپکو جن بلاگز تک محدود کرنا چاہتا ہے انکی ایک فہرست بنادے۔ اس طرح سے یہاں پھر وہی لوگ آئیں گے جو اس میں دلچسپی رکھتے ہونگے۔
    یہ تو بہت عجیب سی بات ہے کہ ایک شخص سترہ تحاریر دے جو خاصی معیاری ہوں وہ پڑھنے کا وقت نہ ہو جبکہ اسکا بلاگ اردو سیارہ پہ بھی آرہا ہو اور دوسری طرف کسی بلاگ کو آئے ابھی پندرہ دن بھی نہ ہوئے ہوں وہ اردو سیارہ پہ بھی نہیں نمودار ہوا، مگر آپ انکا نام دیں۔ خرم نے جو مسدس کا کام کیا ہے وہ خاصہ محنت طلب کام ہے لیکن آپ کہیں کہ وہ تحریر ہمارے علم میں نہیں آ سکی۔ معاف کیجئے گا میں اسے بہانوں کے ضمن میں ہی رکھونگی۔
    اب اگر کوئ بچکانہ ذہن سے سوچنا چاہے تو ضرور سوچے کہ میں کسی سے جل گئ جیسے میری روزی روٹی اس سے چل رہی ہے۔ لیکن منظر نامہ کے اس تجزئیے کے معیار نے مایوس کیا۔ جو کسی سلسلے کو شروع کرتا ہے اور اسکے ذریعے لوگوں میں اپنے نام کی معتبری چاہتا ہے اصل ذمہ داری اسکی ہوتی ہے۔ منظر نامہ یہ بھی کر سکتا ہے کہ ہر مہینے مختلف لوگوں سے رابطہ کرے کہ کیا وہ اسکے لئے یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے مسلسل چند لوگوں پہ دباءوو اور ذمہ داری نہیں رہے گی۔ اور دوسری آسان سی بات ہے کہ اس چکر میں نہ پڑیں۔ اس طرح کر کے آپ لوگوں کو اردو بلاگنگ سے دور کرتے ہیں۔
    اگر میں کسی چیز کو کرنے کی ذمہ داری اس لئے نہیں اٹھانا چاہتی کہ میں اسکا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکونگی تو اسکا یہ مطلب بالکل نہیں کہ میں اپنے اس حق سے محروم کر دی جاءووں کہ جس چیز کو میں غلط سمجھتی ہوں اسے غلط نہ کہوں۔ جبکہ اسکے تذکرے میں میرا نام بھی ہو۔
    میں تو سمجھ رہی تھی کہ باقی لوگ جنکے نام اس تجزئیے میں جلی حروف سے لکھے گئے ہیں وہ بھی اس چیز پہ اظہار کریں گے۔ لیکن ان سب لوگوں نے بھی مایوس کیا۔ صرف نام حاصل کرنا ہی تو

    سب کچھ نہیں ہوتا اگر غلط کو غلط نہ کہا تو آپکے سارے بھاشن تو پھر زبانی باتیں ہیں، آپ میں اور باقی لوگوں میں جنکےخلاف آپ لکھتے ہیں صرف ایک فرق ہوگا کہ آپ بہتر طریقے سے بیان کرنا جانتے ہیں۔
    والسلام
    .-= عنیقہ ناز کے بلاگ سے آخری تحریر .. =-.

  11. پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ منظرنامہ عمار، ماوراء یا کسی اور فردِ واحد کی ملکیت ہرگز نہیں ہے جیساکہ ایک تبصرے میں لکھا گیا: ’’اگرچہ کہ یہ آپکا منظر نامہ ہے آپ جو دل چاہے کریں۔‘‘
    منظرنامہ کے آغاز ہی سے اس کے ساتھ ایک جملہ ہمیشہ لکھا جاتا رہا ہے: ’’اردو کا ایک منفرد مشترکہ بلاگ‘‘۔ تو منظرنامہ میرا، آپ کا، ہمارا، ہم سب کا بلاگ ہے۔
    دوسری بات یہ کہ تحاریر کو تجزیے میں شامل کرتے ہوئے کبھی بھی تبصروں کو پیشِ نظر نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ اکثر اوقات تبصروں میں ہونے والے بحث مباحثے پر نظر ہی نہیں ڈالی جاتی لہٰذا تبصروں کی تعداد، تبصروں کا معیار، یہ سب ابحاث لایعنی ہیں۔
    تیسری بات رہی تفریح پر زور کی۔۔۔ ابنِ فرناس ثانی، کزن میرج، تحفظ و برہنگی اور جوش کی فارسی غزل مع ترجمہ جیسی تحاریر کا شمار یقیناً تفریحی تحاریر میں نہیں ہوگا۔
    چوتھی بات ہے جانبداری اور غیر جانبداری کی۔۔۔ یہ کسی کو ایوارڈز دیے جانے کا مرحلہ نہیں ہے کہ اس میں کوئی جانبداری دکھائی جائے۔ اعتراض کرنے والے تو جمہوری اصولوں کے مطابق دیے جانے والے ایوارڈز پر بھی اعتراض وارد کردیتے ہیں۔ جب صرف اور صرف ایک شخص مختصر سے وقت میں مہینے بھر کے اردو بلاگز کا جائزہ لینے بیٹھے گا تو آپ اس سے کسی ماہر نقاد یا سینئر تجزیہ نگار جیسے تجزیے کی توقع کس طرح کرسکتے ہیں جب کہ ہم میں سے اکثر کی عمر ابھی سیکھنے کی ہے، نہ کہ تنقید کے فن پر مہارت رکھنے والے لوگوں کو منظرنامہ نے بھرتی کیا ہوا ہے۔ جب ایک فرد ان سب بلاگز پر تبصرہ کرے گا تو یقیناً کہیں نہ کہیں پسند ناپسند کا عمل دخل ضرور شامل ہوگا۔ تجزیہ کرنے والے کی نظر میں جو بلاگ اچھا ہے، وہ اسے شامل کرے گا اور باقیوں کو چھوڑ دے گا۔ ہر ایک کی اپنی پسند ہوتی ہے۔ بڑے بڑے ادیبوں کی نگارشات کچھ نقاد پسند کرتے ہیں اور کچھ اُن کے پرخچے اُڑا دیتے ہیں۔
    ان سب کے باوجود منظرنامہ کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا کہ اس مختصر تجزیے میں قلتِ وقت کی وجہ سے تمام تحاریر پر نظر نہیں ڈالی گئی ہے اور ان شاء اللہ اس سلسلے کو رفتہ رفتہ بہتری کی طرف گامزن کیا جائے گا۔ خرم، ریاض شاہد، عنیقہ ناز، یا کسی بھی اردو بلاگر سے منظرنامہ کو قطعاً کوئی خار نہیں ہے، نہ تو منظرنامہ کے کسی عمل کے پسِ پردہ کسی صورت بھی جانبداری اور غیر جانبداری جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی دل آزاری مقصود۔ منظرنامہ کا مقصد صرف اور صرف اردو بلاگنگ کے دائرے کو فروغ دینا ہے جس میں تمام اردو بلاگرز کا حصہ صرف قاری یا تبصرہ نگار کی حد تک کافی نہیں ہے۔

  12. ارے مجھے پتا ہی نہیں اپنے بارے میں بھی کہنا ہوتا ہے ۔ آپ سب کے بلاگ میرے بلاگ کے سامنے کچھ نہیں ہیں میرا بلاگ جو ایک مہنیے میں ایک ہی پوسٹ لگاتاہے ۔ تاکہ پڑھنے والے بوریت محسوس نا کریں ۔ میری طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا بس میں اب سے ہر ہفتے ایک نئی پوسٹ لگایا کروں گئی ۔ پھر ہم سا ہو تو سامنے آئے

  13. “منظر نامہ نے اپنے بل بوتے پہ یہ ذمہ داری اٹھائ ہے۔ کسی نے ان سے یہ فرمائش کی ہو تو معلوم نہیں۔ بلاگرز کی اکثریت اپنے ہی بلاگ کو سنبھالنے کا وقت مشکل سے نکالتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر بلاگر اس چکر میں پڑنا بھی نہیں چاہتا۔”
    بس آپ کی اسی بات میں آپ کے سارے اعتراضات کا جواب ہے
    لیکن میں نا مانوں کو کبھی کوئی نہیں منوا سکا تو میری کیا مجال ہے؟ :dxx:

  14. بلاشبی منظرنامہ اردو بلاگز کی بے لوث خدمت کررہا ہے ۔۔۔۔ لیکن میں یہاں عتیقہ ناز سے بھی متفق ہوں کیونکہ میری رائے میں ریاض شاہد صاحب کے بلاگ کا منظرنامہ کے تجزیے میں شامل نہ ہونا اردوبلاگ پر ظلم۔
    .-= خورشیدآزاد کے بلاگ سے آخری تحریر ..یوٹیوب اور پاکستان =-.

  15. الحمد اللہ!

    یہ تحریر، اس پر تبصرے اور تبصروں پر صاحب تحریر کا جواب سب کچھ دلچسپ، خوش کن اور خوش آئیندہ لگا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ الحمد للہ اب اردو بلاگرز کی نہ تو تعداد انگلیوں پر گنی جانے والی ہے اور نہ ہی مہینے بھر میں وارد ہونے والی معیاری تحریروں کی جھلک ایک عام مراسلے کی ضخامت و طوالت میں سمانے والی ہے۔ ایک بہت ہی فطری بات یہ ہے کہ ہر شخص ہر موضوع پر انصاف نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس مسئلہ کے دو ممکنہ حل پیش کرتا ہوں۔

    – ماہانہ تجزیہ کے بجائے ہفتہ وار تجزیہ پیش کیا جائے تو تسلسل بھی بہتر رہے گا اور کوریج بھی اچھی ہوگی۔
    – بلاگروں کی تحریروں پر زمرہ وار علیحدہ تجزیے پیش کیئے جائیں۔ مثلاً ادب، سیاست، تفریح اور ٹیکنولوجی وغیرہ سے متعلق تحریروں پر ایلگ الگ مراسلوں میں الگ الگ تجزیہ نگاروں کی تحریریں پیش کی جائیں۔
    – تجزیہ نگاران کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نئی قابل تجزیہ تحریر پہلی بار نظر سے گزرے اسی وقت اس کے کوٹ اور اپنے نوٹ کہیں لکھ کر ایک ٹیکسٹ فائل میں محفوظ کر لیں اس طرح شایع کرنے کا کام سہل ہو جائے گا۔

    میں منظرنامہ کو مزید مفید اور معیاری بنانے کے لئے تعاون اور مشورے تو پیش کر سکتا ہوں لیکن تنقید، شکوہ یا طنز کا انداز ہرگز اختیار نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ ان کی خدمات میں مجھے کسی کا ذاتی مفاد یا دانستہ جانبداری جیسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ جو اعتراضات سامنے آئے وہ افرادی قوت کی قلت کے باعث فطری ہیں۔ منظرنامہ کی بے لوث خدمات کو سلام۔

  16. ابن سعید :
    الحمد اللہ!
    یہ تحریر، اس پر تبصرے اور تبصروں پر صاحب تحریر کا جواب سب کچھ دلچسپ، خوش کن اور خوش آئیندہ لگا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ الحمد للہ اب اردو بلاگرز کی نہ تو تعداد انگلیوں پر گنی جانے والی ہے اور نہ ہی مہینے بھر میں وارد ہونے والی معیاری تحریروں کی جھلک ایک عام مراسلے کی ضخامت و طوالت میں سمانے والی ہے۔ ایک بہت ہی فطری بات یہ ہے کہ ہر شخص ہر موضوع پر انصاف نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس مسئلہ کے دو ممکنہ حل پیش کرتا ہوں۔
    – ماہانہ تجزیہ کے بجائے ہفتہ وار تجزیہ پیش کیا جائے تو تسلسل بھی بہتر رہے گا اور کوریج بھی اچھی ہوگی۔
    – بلاگروں کی تحریروں پر زمرہ وار علیحدہ تجزیے پیش کیئے جائیں۔ مثلاً ادب، سیاست، تفریح اور ٹیکنولوجی وغیرہ سے متعلق تحریروں پر ایلگ الگ مراسلوں میں الگ الگ تجزیہ نگاروں کی تحریریں پیش کی جائیں۔
    – تجزیہ نگاران کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نئی قابل تجزیہ تحریر پہلی بار نظر سے گزرے اسی وقت اس کے کوٹ اور اپنے نوٹ کہیں لکھ کر ایک ٹیکسٹ فائل میں محفوظ کر لیں اس طرح شایع کرنے کا کام سہل ہو جائے گا۔
    میں منظرنامہ کو مزید مفید اور معیاری بنانے کے لئے تعاون اور مشورے تو پیش کر سکتا ہوں لیکن تنقید، شکوہ یا طنز کا انداز ہرگز اختیار نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ ان کی خدمات میں مجھے کسی کا ذاتی مفاد یا دانستہ جانبداری جیسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ جو اعتراضات سامنے آئے وہ افرادی قوت کی قلت کے باعث فطری ہیں۔ منظرنامہ کی بے لوث خدمات کو سلام۔

    میں بھی یہی کہنا چاہ رہا تھا
    .-= ڈفر – DuFFeR کے بلاگ سے آخری تحریر ..بوجھو تو جانیں =-.

  17. منظرنامہ کی کوششیں ہمیشہ قابل قدر رہی ہیں اور اس نے نئے آنے والے بلاگرز کی حوصلہ افزائی کی ہے اور یہ سب کام بہت سخت وقت میں اور مختصر وسائل کے ساتھ کیا ہے، اس لیے منظرنامہ کے لیے عمار اور ماوراء کی خدمات کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی۔ بہت عرصے بعد ماہانہ جائزہ پیش کیا گیا جو تنازع کا نشانہ بن گیا۔ عنیقہ صاحبہ کا گلہ بھی بجا ہے اور منظرنامہ کی بھی اپنی وجوہات ہیں۔ ابن سعید نے ایک اچھی رائے دی ہے کہ اسے ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جائے اور زمرہ وار کر دیا جائے تاکہ پیش کرنے میں آسانی رہے۔ موجودہ صورتحال میں منظرنامہ ٹیم سے تو یہ توقع کرنا مشکل لگتا ہے کہ وہ وقت نکال پائے گی، لیکن بلاگرز میں سے چند لوگ سامنے آ سکتے ہیں جو اس کام کا بیڑہ اٹھائیں اور مہینے کے چار تجزیے آپس میں تقسیم کر لیں۔ اگر کم لوگ یہ ذمہ داری سنبھالتے ہیں تو وہ چار ہفتوں کو برابر تقسیم کر لیں یا پھر زیادہ سنبھالتے ہیں تو وہ مختلف زمرہ جات کو سنبھال لیں۔ اس سلسلے میں میں اپنے تعاون کا یقین دلاتا ہے اگر کوئی اور فرد بھی اس سلسلے میں میرے ساتھ ملنا چاہتا ہے تو ست بسم اللہ۔ پھر مل بیٹھ کر کچھ طے کرتے ہیں۔ مجھ سے میرے ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جائے جو میرے خیال میں ہر بلاگر کے پاس ہوگا۔ اگر نہیں ہے تو اپنے بلاگ پر میرے کیے گئے کسی تبصرے میں سے حاصل کر لیں۔
    منتظر
    .-= ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر ..پہلے میں، پھر تم اور پھر ہماری اولادیں =-.

  18. یہاں میں عنیقہ آپی سے متفق ہوں
    خدا گواہ ہے کہ میں نے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کہا میرا پہلا تبصرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں نے خاموشی اختیار کی اور وہ اس لیے کے مارچ میں سب سے زیادہ تحریریں میری ہی تھیں میں نے یہی سوچا اگر میں بولا تو سارا نزلہ مجھ پر ہی گرے گا کہ اس کا نام نہیں آیا اس لیے یہ بول رہا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں بہت سے اچھے اچھے بلاگرز کا نام نہیں آیا اگر میری بات ہوتی تو میں تین چار سال پہلے ہی بول پڑتا مجھے بلاگ لکھتے ہوئے تقریبا تین سے چار سال ہوگے ہیں اور منظرنامہ کو بنے ہوئے جتنا عرصہ بھی ہوا ہے اس عرصے میں منظرنامہ پر میرا نام صرف ایک دفعہ آیا ہے اور وہ بھی جب میں نے بلاگ کا لنک تبدیل کیا تھا۔ مجھ پتہ ہے میں کتنے پانی میں ہوں اس لیے میں خاموش ہی رہتا ہوں لیکن اس دفعہ مایوسی ہوئی میں نے پہلے بھی کہا اگر منتخب بلاگرز کا تجزیہ عنوان رکھ دیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا لیکن صرف بلاگرز کا تجزیہ نام رکھیں گے تو پھر اچھا نہیں میرا خیال ہے بحث کرنے کا فائدہ نہیں میں تو اپنی غلطی مان لیتا ہوں کہ میں نے یہ بات کر کے غلطی کی ہے مجھے یہ بات نہیں کرنی چاہے تھی اس کے لیے میں صرف منظرنامہ سے ہی معافی چاہتا ہوں دوبارہ کبھی کوئی تنقید نہیں کروں گا یہ کیا کہ منظرنامہ ہمارا بھی ہے اور ہم اس پر تنقید بھی نہیں کر سکتے
    .-= خرم ابنِ شبیر کے بلاگ سے آخری تحریر ..گدھوں پرايک نئ تحقيق =-.

  19. خرم آپ بھی کمال کرتے ہو میری طرح دل پر مت لیا کرو ، بس تھوڑا سوچو اور بھول جاو ، منظرنامہ تو ہے ہی تنقید کرنے کے لیے ۔ ماورا عمار تھوڑی خفا ہوتے ہیں۔ وہ سب کو جانتے ہیں اس لیے ، ویسے میرا نام بھی بہت جلدی منظر نامہ میںشامل ہو گا ۔ اس دن میں مٹھائی منگوا کر کھاوں گی

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر