آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > Blogs Review > اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

اپریل 2010ء کے بلاگز کا تجزیہ

تمام قارئین کی خدمت میں تسلیمات و آداب عرض۔
الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور امید ہے کہ آپ بھی بخیر ہوں گے۔ اپریل 2010ء کے مہینے کو اس بار کئی حوالوں سے پہلے کی نسبت خاصی اہمیت حاصل رہی۔ اس مہینے میں طویل گفت و شنید اور زار و قطار اجلاسوں کے بعد پاکستانی آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی، اس مہینے اختلافات اور احتجاج (جمع احتجاجات؟) کے باوجود پاکستان کے صوبۂ سرحد کا نام بدل کر صوبۂ خیبر پختونخواہ رکھ دیا گیا اور اسی مہینے ایک سنسنی خیز داستان کا انجام شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی میں صورت میں ہوا۔ تاہم اس مہینے اردو بلاگنگ کے دائرے میں کیا ہلچل رہی، اس کا کچھ ذکر ہے فی الوقت ہمارا موضوعِ سخن۔
اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ ایک بار پھر غائب ہوچکا ہے۔ بے چارے پریشان حال بلاگرز ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ اُن کی دادرسی کون فرمائے گا۔ اکثر احباب شکایت کرتے پائے گئے کہ یہ عالی جناب ہمارے پیغامات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کرتے۔ بہرحال، ایسے بلاگرز کے دکھ کا کچھ حد تک مداوا کرنے کی قابلِ صد تحسین کوشش خرم ابنِ شبیر نے نوائے ادب پر کی کہ بلاگ سے محروم ہونے والے بلاگرز کو اپنے بلاگ پر لکھنے کی سہولت دے دی یوں شاہدہ اکرم کا بلاگ کچھ عرصہ نوائے ادب پر پڑھا گیا۔ اس کے علاوہ محمد رضوان بھی نوائے ادب پر ہی بلاگ کرتے نظر آئے۔تاہم اب شاہدہ اکرم کا بلاگ اردو نامہ پر پڑھا جاسکتا ہے۔
اس بار بلاگز کا تجزیہ خرم ہی سے شروع کرتے ہیں۔ ’’انسانیت ری انسٹال پر ایک تبصرہ‘‘ کے نام سے خرم کی تحریر نے اُن کی ایک پُرانی تحریر ’’انسانیت ری انسٹال‘‘ کی یاد دلادی جو واقعی خوب لکھی گئی تھی۔ لکھا تھا:
۔۔۔میں نے کہا انسان نے بہت کچھ بنا تو لیا ہے لیکن خود انسان نہیں بن سکا۔ سردار جی کو میری یہ بات بہت پسند آئی۔ میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور کہنے لگے یار کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان کو فارمیٹ کر کے اس میں انسانیت ری انسٹال کی جائے، پھر شاید وہ انسان بن سکے۔ میں نے کہا ان کے ساتھ سی ڈی نہیں آتی نا۔ رات ان کا کام ختم ہوا تو وہ چلے گئے لیکن بعد میں جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میری ذہن میں پھر وہی بات آگئی۔ کاش انسانیت ری انسٹال ہو سکتی۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
اس پر بدرالزمان کا تبصرہ بھی فکر انگیز ہے جسے خرم نے الگ تحریر کی صورت میں بھی شائع کیا ہے:
۔۔۔خوش قسمتی سے انسانیت کی سی ڈی اور User’s Manual نہ صرف موجود بلکہ Scratch & Errors Free ہے۔ یہ 2 in 1 پیکج قرآن کہلاتا ہے۔ جب آپ اس کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کے اندر کی ونڈو ریپئر ہونے لگ پڑتی ہے۔اسکے ا یررز ختم ہو جاتے ہیں۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی پچھلے مہینے کا گرما گرم موضوع رہا۔ جس کو دیکھیں، اسی کی گفتگو کرتا دکھائی دے۔ جس محفل میں بیٹھیں، یہی موضوع زیرِ بحث رہے۔ خرم نے اس موضوع پر ایک ہندوستانی ساتھی سے دلچسپ مکالمے کا حال بیان کیا۔ ’’ملک، مرزا اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
میں نے کہا: ’’اچھا یار آئی پی ایل کو چھوڑو، بتاؤ! شادی کب ہو رہی ہے؟‘‘
وہ سمجھا، اس کی شادی۔ کہتا ہے: ’’جب انڈیا جاؤں گا تو شادی ہو جائے گی۔‘‘
میں نے کہا: ’’نہیں یار تمہاری نہیں، ثانیہ مرزا کی۔‘‘
اس پر اس کا منہ سرخ ہو گیا اور میں ہنسنے لگا۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
سعدیہ سحر بھی اسی موضوع پر خامہ فرسائی کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’بہوِ پاکستانی‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:
۔۔۔میری ایک دوست کہہ رہی تھی ثانیہ مرزا پاکستان کی بہو بننے جا رہی ہے۔ پتا نہیں‌کیوں سب اتنے خوش ہو رہے ہیں ایک ایسی لڑکی کے لیے جیسے کپڑے پہننے کا ڈھنگ بھی نہیں‌ آتا۔ میں نے کہا، اسی بے ڈھنگے پن کی تو عوام دیوانی ہے، یہی کوئی پھوپھی اماں ٹائپ کی کوئی باپردہ خاتون ٹائپ لڑکی ہوتی تو کیا پاکستان کے منچلوں نے ایسے مچل مچل کر بھنگڑے ڈالنے تھے۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
عمیر ملک کی تحریر ’’شعیب اور ثانیہ: دامادِ ہندوستان اور بہوِ پاکستان‘‘ اس حوالے سے میڈیا کے کردار پر بحث کرتی ہے۔ جیساکہ لکھتے ہیں:
خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ ’’ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں‘‘۔۔۔ ’’جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں‘‘۔۔۔ ’’ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔‘‘ (مکمل تحریر پڑھیں)
عمیر ملک کی ایک اور تحریر ’’اصل وجہ؛ مولوی یا جہالت‘‘ کو نظر انداز کرنا قطعاً مناسب نہ ہوگا جو ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے پر کچھ حد تک روشنی ڈالتی ہے۔ لکھا ہے:
آج نوجوانوں کی اکثریت اگر دینی حلقوں کے مکمل خلاف نہیں تو کم از کم بیزار ضرور ہے اور اس کی بڑی وجہ جہالت ہے۔ مولوی اصل مسئلہ نہیں ہیں اصل مسئلہ جہالت ہے، خواہ وہ کسی بھی طبقے میں ہو.۔مولوی طبقہ زیادہ بدنام اسلئےہے کہ وہ اپنے جائز و نا جائز تبصروں، ذاتی چپقلشوں اور دشمنیوں ، سیاست یا باقی تمام معاملات میں دین کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے؟ ہمارے چاروں طرف یہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس جو بھی علم ہے اس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرو،تو پھر ہم میں سے ہی نکلنے والے مولوی ہم سے مختلف کیونکر ہوں گے؟ میں علما کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
سفرناموں کو ہر زبان کے ادب میں خاص مقام حاصل ہے لیکن اردو بلاگرز میں ابھی اس صنفِ ادب پر کم ہی طبع آزمائی کی گئی ہے۔ قدیر احمد کی تحریر Seven Days in the Capital کو سات دنوں کا ایک مختصر ترین سفرنامہ کہا جاسکتا ہے جس کے ایک دن کی کہانی باقی چھ دنوں کی کہانی پر بھاری ہے۔ یعنی چھ پیرا میں اسلام آباد آمد اور پہلی رات اور دن گزارنے کا قصہ ہے جبکہ آخری پیرا باقی چھ دنوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس سفر کی غرض بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
۔۔۔3 اپریل بروز ہفتہ میرے mid exam ختم ہوئے۔ پیپرز کے دوران سو سو کے تھک گیا تھا چنانچہ سوچا کہ اب کچھ تفریح ہو جائے۔ حارث نے مجھے دعوت دی لاہور آنے کی تو میں نے لگے ہاتھوں اسلام آباد کا چکر بھی لگا لیا؛ واضح رہے کہ یہ چکر سات دِنوں پر محیط تھا۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
اس سفرنامے میں خاصی تشنگی پائی جاتی ہے۔ گمان ہے کہ قدیر کے ساتھ یا تو وقت نے ساتھ نہیں دیا یا مزاج نے یاری نہیں کی ورنہ وہ اس حوالے سے خاصا تفصیل سے بھی لکھ سکتے تھے۔
عمر احمد بنگش کا شمار ایسے اردو بلاگرز میں کیا جاسکتا ہے جو اپنی منفرد پہچان حاصل کرنے کی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ صوبۂ سرحد کا نام کیے جانے کے حوالے سے ان کی تحریر کا عنوان ’’لپے کا نیا نام، خیبر پختونخوا‘‘ ہے تاہم اس کی تمہید سے نام بگاڑنے کی عادت اور اس کے اثرات کے حوالے سے فکر کا پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں:
۔۔۔یہ نام بگاڑنے کا قضیہ بھی دلچسپ ہوتا تھا۔ دلچسپ ایسے کہ کسی سے آپ کی خار ہے، آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں یا پھر کسی بھی شکل میں اگلے کو تھلے لگانا چاہتے ہیں، اس کا نام بگاڑ دیجیے۔ متعلقہ شخص کی جسمانی یا پھر ذہنی کمزوری اس میں نہایت مددگار ہوسکتے ہیں۔ کسی کو اس حوالے سے مجروح کرنے کا یہ سب سے آسان ذریعہ ہیں ورنہ اگر آپ کچھ ’’زیادہ ہوشیار‘‘ ہیں تو اس کی زات، مذہب، عادت یا پھر والدین میں سے کسی کے حوالے سے نفسیاتی مات دے دیں۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
تانیہ رحمان اپنا بلاگ عین الیقین کے نام سے لکھتی ہیں اور انہیں اردو بلاگنگ کے دائرے میں شامل ہوئے سال سے زیادہ ہوچکا ہے۔ تحاریر کی سادگی، دلچسپ اور متنوع موضوعات ہونا تانیہ کے بلاگ کی ایسی خوبیاں ہیں جو قاری کو اپنے پن کا احساس دلاتی ہیں۔ اکثر موضوعات ہمارے ارد گرد سے ربط رکھتے ہیں۔ ’’اچھی اور بری یادیں‘‘ کے عنوان سے اپنی زندگی میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے ماضی کی کچھ یادیں اور تجربات قسط وار بیان کیے ہیں۔ پہلی قسط میں لکھتی ہیں:
۔۔۔کمپیوٹر نام کے اس ڈبے سے مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بس کچھ گیمز کھیلنے کی حد تک پسند تھا، کئی دفعہ میاں جی نے کہا کہ نیٹ استعمال کرو اور کچھ نہیں توا پنے دوستوں اور گھر والوں سے چیٹ ہی کر لیا کرو۔ لیکن مجھے فون کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا بجائے اس کے میں اپنے دماغ کو استعمال میں لاؤں۔یہ سوچ سوچ کے کون سی کی کہاں ہے۔انگلیاں بچاری مفت میں تنگ ہوں کہ اس بی بی کو دیکھو، آتا جاتا کچھ ہے نہیں لگی ہے انگریزی سیکھنے۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
اس کے علاوہ بزرگ ساتھی عبدالرحمٰن سیّد کی تحریر کردہ ایک سچی کہانی ’’دیوانہ فقیر اور حسین دوشیزہ‘‘ بھی دو اقساط میں تانیہ کے بلاگ کی زینت بنی۔ کہانی اچھی ہے لیکن اسے شائع کرتے وقت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ تحریر کا ایک حصہ پہلی قسط میں موجود ہے تو کچھ حصہ پہلی قسط کے تبصروں میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کرکے لکھا گیا ہے اور بقیہ کہانی دوسری قسط میں موجود ہے۔ بہرحال محبت کی یہ داستان ہے خاصی متاثر کن۔
اگلے بلاگر کی طرف بڑھنے سے پہلے تانیہ کی ایک تحریر ’’آؤ کہانی لکھتے ہیں‘‘ کا ذکر نہ کرنا قطعاً مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ تانیہ کی تجویز تھی کہ ایک مشترکہ کہانی لکھی جائے اور انہوں نے اس کہانی کا آغاز بھی فراہم کیا لیکن اس کے بعد تبصرہ نگاروں نے اس کہانی کی جو درگت بنائی، وہ بے حد دلچسپ اور ہر ایک کے زاویۂ نگاہ، تصورات و خیالات اور اندازِ فکر کی بہت حد تک عکاس ہے۔
تانیہ رحمان کا ذکر ہوا ہے تو ایک اور خاتون بلاگر کا ذکر کرتے چلیں جن کی ایک تحریر اوپر پیش کی جاچکی (امید ہے کہ انہیں اپنے لیے ’’خاتون‘‘ کا لفظ استعمال کیا جانا گراں نہ گزرے گا)۔ سعدیہ سحر بڑی سادگی سے اپنی بات کہنا جانتی ہیں۔ اِن کی تحاریر مثلاً ’’میرے نانا جان‘‘، ’’محبت کا دن بھی گزر گیا‘‘، ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں‘‘ ہمیں ایک عام خاتون کے اندازِ فکر، گہرائی اور اظہارِ خیال کے انداز کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اپنی زندگی میں موسیقی کے عمل دخل کے حوالے سے مختصر سی تحریر ’’میوزک اور میں‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:
۔۔۔میری عادت ہے میں جب پڑھتی ہوں یا لکھتی ہوں ساتھ ساتھ میوزک سنتی ہوں۔ یہ اس وقت کے موڈ پہ منحصر ہے، کبھی غزلیں، کبھی قوالی، کبھی نئے کبھی پرانے اور کبھی صوفیانہ کلام اور کبھی فاسٹ اور ری مکس۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
موسیقی کی بات ہے تو ریاض شاہد کی تحریر کا بھی تذکرہ ہوچلے۔ قوالی اور عزیز میاں کے حوالے سے ایک تحریر ’’خدا سے مکالمہ‘‘ میں کچھ بچپن کی یادیں، شریعت اور طریقت کے متبعین کا انداز اور پھر قوالی، سبھی کچھ مختصر مختصر مگر دلچسپ انداز میں سمودیا ہے۔ لکھتے ہیں:
۔۔۔میں جہاں والد صاحب کی اور کرم فرمائیوں کا شکر گذار ہوں وہاں اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے موسیقی سے متعارف کروایا یہ وہ جادوئی منتر ہے جو آج بھی زندگی کے بعض نازک مقامات پر پلک جھپکتے میں جادوئی قالین پر بٹھا کر مجھے تصورخیال کی رنگین اور خوبصورت وادیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔آج بھی پتہ نہیں دل کا کیا عالم ہے کہ یہ قوالی کوئی تیس دفعہ سن چکا ہوں مگر پھر بھی سنے جا رہا ہوں۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
ریاض شاہد نے اپنی جامع تحاریر کے باعث اردو بلاگنگ کے دائرے میں بہت جلد اپنا مقام حاصل کیا ہے۔ قدرے طویل تحریر ’’ترقی کے گھوڑے‘‘ قاری کو غور و فکر پر راغب کرتی ہے کہ معاشرے میں کس قدر تیز ی سے تبدیلیاں رونما ہوتی جارہی ہیں اور ہم کس طرف جارہے ہیں۔ آخر میں رقم طراز ہیں:
۔۔۔میں اس ماچے پر لیٹا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا اپنی مٹی سے ناطہ دوبارہ استوار کروں یا پھر اس سے دامن چھڑا کر اجنبی سرزمینوں اور ترقی کی شاداب چراگاہوں کی طرف نکل جاؤں جہاں مزید ترقی میرا انتظار کر رہی ہے۔ رہی بات روح اور فلاح کی تو اسے کون پوچھتا ہے۔ ویسے بھی ترقی فلاح کی دشمن ہے۔۔۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
ویسٹ انڈیز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2010ء کا آغاز ہوچکا ہے۔ اپنے تبصرے کا اختتام اسی حوالے سے محمد اسد کی ایک تحریر پر کرتے ہیں۔ ’’تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ‘‘ کے عنوان سے اپنے خیال کا اظہار یوں کرتے ہیں:
۔۔۔سابقہ خراب کارکردگی اور موجودہ مشکلات کے باوجود پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کے دفع کے لیے مکمل تیار ہونے کا دعوی کررہے ہیں. اس کے علاوہ بھارتی ٹیم بھی IPL کے اختتام کے بعد نئے اور پرانے تجربیکار کھلاڑیوں کے ساتھ میدان مارنے کے لیے پرعزم ہے. اکثر مبصرین کی رائے میں اس بار آسٹریلیا اور سری لنکا کی ٹیم بھی مقابلہ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دی جاسکتی ہیں. جبکہ کچھ لوگوں کا ووٹ ساوتھ افریقہ کی ٹیم کے حق میں ہے۔ (مکمل تحریر پڑھیں)
ویسے محمد اسد کے بلاگ کی ترتیب اور تزئین و آرائش خاصی دلکش ہے۔ اچھا کام کیا ہے۔
بہرحال، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ آپ سے اجازت چاہیں گے۔ والسلام۔

22 تبصرے:

  1. ہم خوش ہو ئے کہ ہمارا زکر موجود ہے ، بہت شکریہ منظر نامہ ۔ آپ نے جس محنت سے یہ تجزیہ پیش کیا یہ کوئی سان کام نہیں ہے ۔ ہم ایک تبصرہ کرتے ہوئے کئی بار سوچتے ہیں ۔ یہاں تو پورے مہینے کی روپوٹ تیار کی گئی ۔ سید صاحب کے افسانے کے بارے میں یہی کہوںگی کہ افسانہ چونکہ کافی لمبا تھا ۔ اور میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کو کیسے پوسٹ کروں پڑھنے والا بوریت بھی محسوس نا کرئے ۔ اور سید صاحب کو یہ نا لگے کہ میں اپنے سر سے بوجھ اترا رہی ہوں ۔جہاں کہیں غلطی لگی اسکے لیے میں معذرت چاہوں گی ۔ اور کوشش کروں گی کہ اگلی دفعہ ایسا کچھ نا ہو سب خوش رہو

  2. ڈفر!
    ہاہاہاہا۔۔۔۔ میں نے جیسے ہی دیکھا کہ پہلا تبصرہ تمہارا ہے، فوراً ماتھا ٹھنکا کہ ارےےےے۔۔۔ جناب کی کوئی تحریر تو تجزیے میں شامل ہوئی ہی نہیں۔۔۔ اور صرف جناب کا کیا ذکر، جعفر کا بلاگ بھی رہ گیا۔ :uff: خیر، پچھلے مہینے کا تجزیہ پڑھ کر کام چلالو۔ 😛
    .-= عمار ابنِ ضیاء کے بلاگ سے آخری تحریر ..Platelets کا عطیہ اور ہم =-.

  3. بڑی ہمت ہے منظرنامے کی۔ پچھلی مرتبہ کے دنگل کے بعد تو میں سمجھا تھا کہ اب تو بلاگز کے تجزیے کا سلسلہ بند ہوا ہی ہوا۔
    اور ہاں! کیونکہ میرے بلاگ کا بھی احوال درج نہیں ہے اس لیے مزا نہیں آیا 😀
    .-= ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر ..اوبنٹو انسٹالیشن کے بعد 10 ضروری کام =-.

  4. چونکہ اس میں میرا ذکر نہیں ہے
    لہذا یہ دھاندلی ہے
    پس ثابت ہوا کہ میں بھی کسی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔ سے کم نہیں ہوں
    خالی جگہ خود پر کریں
    :grins:
    عمار اور منظرنامہ کی ساری ٹیم کو اتنی بے لوث محنت پر دھنے واد، شاباش اور جی او شیرا وغیرہ (ماوراء جی او شیرا کو جی او شیرنی پڑھیں)
    .-= جعفر کے بلاگ سے آخری تحریر ..ہونا تھوڑا تھوڑا مشہور اس فدوی کا =-.

  5. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب بہت اچھا تجزیہ کیاہے اورمختصرا ہمیں پتہ چل گیاکہ کون کتنےپانی میں ہے۔ ہم توابھی نابلدہیں بلاکنگ میں یہاں توبہت بڑے بڑے بندے لکھنےکےلیےاورڈفربھائي کےساتھـ ۔۔۔۔۔۔۔ ہوئی۔ جعفربھائي بھی رہ گئے۔ چلوانشاء اللہ اگلی دفعہ سہی۔

    والسلام
    جاویداقبال
    .-= جاودیداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ..Alex será comercializado en España por Grammata =-.

  6. السلام علیکم
    کون کہتا ہے کہ اس دفعہ دھاندلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ اس دفعہ ہی تو اصل نتائج سامنے آئے ہیں۔۔۔۔! 😀
    منظر نامہ کا بہت شکریہ میرے بلاگ کو بھی شامل کرنے کا اور اس محنت کا بھی جو وہ کرتے ہیں اس طرح جامع تجزیہ پیش کرنے کیلئے۔ :wel:
    ایک درخواست ہے کہ میرا نام عمیر ملک ہے، اوپر ’عمر‘ آ گیا ہے غلطی سے۔۔۔۔ درست کر دیجئے گا۔
    ایک بار پھر شکریہ
    .-= عین لام میم کے بلاگ سے آخری تحریر ..نو ٹنکی؛ ایک نیا بلاگ =-.

  7. میرے تجزیہ کو اپنے تجزیہ میں شامل کرنا کا شکریہ۔ میرے خیال سے تو پچھلی بار کی جانے والی شکایتوں کا کسی حد تک ازالہ ہوگیا ہوگا، دعا ہے کہ وقت کے ساتھ آپ کے تجزیہ میں مزید بہتری اور نکھار پیدا ہو، تاکہ پھڈوں کی نوبت نہ آسکے 🙂 ۔

    تھیم کی پسندیدگی کا بھی شکریہ۔ اگلے ماہ تھیم کی ریلیز پر اپنا تجزیہ کرنا مت بھولیے گا 😛 ۔
    .-= محمداسد کے بلاگ سے آخری تحریر ..تیسرا ٹی20 عالمی کرکٹ مقابلہ =-.

  8. شکر ہے سب کو خوشی ہوئی سب کو خوش کرنا بہت بڑی زمیداری کا کام ہے ۔ ورنہ تو ہم بہانے تلاش کرتے ہیں ناراضگی کے ۔ اور بہت حد تک اگلے کو خوش کر بھی دیں لیکن دل سے بات نکلتی نہیں ہے ۔ یہی ایک غم ہے ۔

  9. سلام سب کو
    سب اپنی اپنی خوشی کا اظہار کر رھے ھیں میں نے سوچا میں بھی اپنی خوشی کا اظہار کر دوں ۔ بلاگ کا تجزیہ کرنا سب بلاگز دیکھنا کافی مشکل کام ھے کسی نہ کسی کا نام رہ جاتا ھے
    میری کسی نہ کسی تحریر کا زکر ھوتا ھے مگر اس بار ایک ساتھ 5
    تحاریر کا زکر ھے بہت خوشی ھوئ آج کل لکھنا کافی کم کیا ھوا ھے ۔۔ اپنے نام کے ساتھ خاتون لکھا دیکھ کر اپنا نام کافی معتبر معتبر لگا
    ۔۔۔۔ مجھے سب کے بلاگ اچھے لگتے ھیں سب کا اپنا اپنا انداز ھے لکھنے کا ۔ بہت سے بلاگرز سادی سی تحریر سے سوچنے پہ مجبور کر دیتے ھیں جس پہلو کو ھم نظر انداز کر دیتے ھیں
    —–شکریہ منظر نامہ کی ٹیم کا

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر