آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > اردو > میرے اور آپ کے بیچ ہم آہنگی کی ضرورت

میرے اور آپ کے بیچ ہم آہنگی کی ضرورت

میں ایک لکھاری ہوں۔ آپ میرے قاری ہیں۔ بعید نہیں کہ آپ قاری ہونے کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی ہوں۔ جس طرح لکھاری اور قاری کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی جامع مگر سکڑی ہوئی دنیا میں ہم تمام لکھاریوں کا بھی آپس میں ایک قریبی تعلق بہرحال قائم ہوتا ہے، چاہے مجھے اور آپ کو محسوس ہو یا نہیں، چاہے میں اور آپ چاہیں یا نہیں۔

ذرا ٹھہریں، انٹرنیٹ کی دنیا سے ہٹ کر اپنے اردگرد کی دنیا کا جائزہ لیں۔ آپ کے آس پاس لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو آپ سے مماثلت رکھتے ہوں گے، کچھ بہت زیادہ اور کچھ بے حد معمولی سی۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آپ کی شخصیت کے بالکل برعکس ہوں گے۔ اور کیوں نہ ہوں کہ ہر ایک کی شخصیت، ہر ایک کا خاندان، ہر ایک کا گھریلو ماحول، ہر ایک کا پس منظر، سبھی کچھ مختلف ہے۔ تو کیا آپ اپنے مخالفوں کو جینے کا بھی حق نہیں دیتے؟ کیا اُن کی جائز بات بھی نہیں سنتے؟ کیا ہر وقت اُن سے جھگڑتے رہتے ہیں؟

اچھا، یہ تو ابھی کی بات ہے جب آپ گھر سے باہر کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں اور جہاں مختلف پس منظر کے حامل لوگوں سے آپ کا سامنا ہوتا ہے۔ ذرا ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں جب آپ کی زندگی کا دائرہ صرف گھر اور خاندان والوں کے گرد گھومتا تھا۔ مشترکہ روایات، مشترکہ پس منظر، مشترکہ ماحول، لیکن کیا اس کے باوجود کہیں آپ کا اپنے خاندان یا اپنے ہی گھر میں کسی بات پر اختلاف نہیں ہوا؟ کسی نکتے پر عدم اتفاق نہیں پایا گیا؟ تو کیا آپ نے قطع تعلق کرلیا؟ ناطے توڑ لیے؟ یقیناً نہیں۔

ہم جس ماحول میں بھی رہیں، جیسے حالات میں بھی گزر بسر کریں، بحیثیت انسان ہم میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو سمجھ سکتے ہیں، بدلتے ماحول میں خود کو ڈھال سکتے ہیں، مختلف الخیال لوگوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کرسکتے ہیں۔ اور جس طرح یہ اصول آپ کی حقیقی زندگی پر منطبق ہوتا ہے، اسی طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت اور ضرورت ہے۔

منظرنامہ کی جانب سے ایک سلسلہ ’’نقطۂ نظر‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت کسی ایک موضوع پر بلاگرز اظہارِ خیال کرتے تھے۔ یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ہمارے بیچ ہم آہنگی سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور اس کو کتنا اہم سمجھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کیا ہم آہنگی کسی قدر پائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ ہمیں کہاں اور کیا تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس پر آپ کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔

تحریر کی اشاعت کا طریقہ:
فی الحال منظرنامہ پر مصنفین کو رجسٹر نہیں کیا جارہا لہٰذا آپ اس موضوع پر اپنی تحریر اپنے ہی بلاگ پر شائع کریں۔ آپ کے بلاگ پر پوسٹ ایڈیٹر کے نیچے ایک ٹیکسٹ فیلڈ Send Trackbacks کے نام سے ہوگی، وہاں آپ منظرنامہ کی اس تحریر کا ربط ڈال دیں گے تاکہ اس موضوع پر آنے والی تمام تحاریر کا ربط اس تحریر کے تبصروں میں ظاہر ہوتا رہے اور قاری اس سلسلے کی ہر کڑی سے باخبر رہے۔ شکریہ۔

ازراہِ کرم ذاتیات سے گریز کریں۔

14 تبصرے:

  1. اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کوئی بھی بلاگر اس سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم اس سلسلے میں آپسی تعصب کا خاتمہ شرط اول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    .-= حکیم خالد کے بلاگ سے آخری تحریر ..مصر ی علماء نے فیس بک کے خلاف فتویٰ جاری کردیا =-.

  2. بہُت زبردست بات ہے اور اچھی سوچ ہے کیُونکہ اِس وقت اِس بات کی اشد ضرُورت تھی کہ اچھے پڑھے لِکھے بلاگر میرے بہن بھائ نا جانے کیُوں دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور اِس وقت اِس ہم آہنگی کے لِئے ایسی کوشِش بہترین بات ہے
    .-= شاہدہ اکرم کے بلاگ سے آخری تحریر ..میرے پیار کی عُمر ہو اِتنی صنم،،،، =-.

  3. او جی فکر والی بات نہیں ہے
    لڑائی شڑائی کوئی نہیں
    بس اختلاف رائے ہے
    جسے ہم اپنی جذباتیت کی وجہ سے ذرا کھینچ کر لمبا کردیتے ہیں
    فکر والی کوئی بات نہیں
    ہم سب دوست ہیں اور ساتھی ہیں
    اور ساتھ ساتھ ہیں۔۔۔

  4. چوبیس گھنٹے سے اوپر ہونے کو آئے لیکن ٹریک بیک یہاں نمودار ہو کے ہی نہیں دے رہا۔ نہ میرا نہ یاسرعمران کا۔ شاید ٹریک بیکس آف ہیں اس پوسٹ پر۔سو سوچا بقلم خود ہی یہاں اپنی پوسٹ کا لنک دے دوں۔۔۔

    http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/urdu-on-internet

    شکریہ
    .-= احمد عرفان شفقت کے بلاگ سے آخری تحریر ..انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں ہم آہنگی =-.

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر