آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > شناسائی > محمد سلیم سے شناسائی

محمد سلیم سے شناسائی

سلسلہ شناسائی میں آج منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب محمد سلیم صاحب ۔
ان کی بدولت ہم تک نہایت ہی سبق آموز واقعات اردو زبان میں پہنچتے ہیں ۔ ان کا بلاگ اور تحاریر پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں ۔

خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟

@ الحمد للہ ، اللہ  پاک کا بہت کرم ہے مجھ پر۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@میں ملتان میں پیدا ہوا ، آجکل روزگار کے سلسلہ میں کبھی جدہ اور کبھی چین میں رہنا پڑتا ہے۔

اپنی تعلیم  اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ  بتائیں ؟

@میرا تعلق متوسط طبقہ کے ایک تجارت پیشہ  خاندان سے ہے ۔ باقاعدہ تعلیم تو بی اے تک حاصل کی ہوئی ہے مگر وقت  اور ضرورت کے مطابق  کچھ پیشہ ورانہ تعلیم بھی حاصل کرتا رہا ہوں۔ 

لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@سچ تو یہ ہے کہ مجھے لفظ  بلاگ  کے بارے میں تین سال پہلے  پہلی بار علم ہوا۔ تاہم مصطفیٰ خاور صاحب کو  تب سے ہی پڑھ رہا ہوں جب سے وہ لکھ رہے ہیں۔ ان کا بلاگ میرے لیئے ایک ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو  ویب سائٹ ہوا کرتا تھا۔

اردو بلاگنگ کی جانب کیسے آنا ہوا ؟ اور بلاگنگ کا آغاز کب کیا ؟

@آج سے لگ بھگ پانچ سال قبل،  میں اپنے  لکھے ہوئے مضامین  مراسلات کی صورت میں، ادھر ادھر دوستوں کو اُن کے ای میل پتوں پر بھیجتا تھا۔ اس مرحلے سے ترقی کی تو اپنے مراسلات   ای میلنگ  کے ساتھ ساتھ کچھ (یاہو)  گروپس کو بھیجنا شروع کیئے۔ جب اپنے ہی مضامین  کو دوسرے لوگوں  کی ویب سائٹس پر دیکھا تو میرا بھی دل کیا کہ کیوں ناں میں بھی اپنی ویب سائٹ (بلاگ)  بناؤں اور یہ سب کچھ ادھر ہو۔  سن 2011 کے شروع میں ورڈ پریس کے مفت ڈومین پر بلاگ بنا کر لکھنا شروع کیا تو جناب افتخار اجمل صاحب کی نظر میرے بلاگ پر پڑ گئی۔ انہوں نے بہت ہی حوصلہ افزائی فرمائی، مجھے  نا صرف اردو سیارہ پر رجسٹر ہونے کو کہا بلکہ میرے مضامین میرے نام سے،   میرے مختصر تعارف کے ساتھ یا  میرے بلاگ کا  لنک دیکر اپنے بلاگ پر ڈالنا شروع کیئے۔ اس طرح  میرا  اردو قارئین کی نظر میں تعارف بہتر ہوا۔  ان  دنوں یاسر (خواہمخواہ جاپانی)، برادرم عمران اقبال، ڈاکٹر جواد احمد خانصاحب  اور کچھ دوسرے احباب اپنے ذاتی  ڈومین پر منتقل ہوتے جارے تھے تو میں نے بھی اپنا ذاتی ڈومین لینے کا فیصلہ کیا جسے  مکمل تعاون، مہربانی اور راہنمائی کے ساتھ پایہ تکمیل تک م بلال م بھائی نے پہنچایا۔  

کیا آپ کو بلاگنگ کے آغاز میں مشکلات کا سامنا رہا ؟

@جب باقاعدہ بلاگنگ تک پہنچا تو اس وقت تو مشکلات پر کافی حد تک قابو پا ہی چکا تھا۔ مشکلات تو بلاگنگ سے پہلے ہوا کرتی تھیں جب میں اپنے مضامین مراسلات کی صورت میں بنایا اور بھیجا کرتا تھا۔ احباب میری صورتحال پر ہنسیں گے تاہم میں ان کی تفریح طبع کیلئے بتانا چاہتا ہوں کہ  کمپیوٹر پر اردو لکھنے سے عدم واقفیت مگر لکھنے کے شوق کی وجہ سے میں کچھ یوں کیا کرتا تھا کہ ؛ کسی اردو ویب سائٹ سے کچھ مواد کاپی کر کے ایم ایس ورڈ میں پیسٹ کر لیتا۔ پھر ان میں منتخب  حروف کو ایک ایک کر کے  کاپی کرتے ہوئے لفظ اور فقرے بنایا کرتا تھا۔ یہ بہت محنت طلب اور ایک مشکل   کام ہوا کرتا تھا مگر میرے شوق کے سامنے ہیچ تھا۔ پھر میں نے ایم ایس ورڈ کے یونی کوڈز ڈھونڈھے اور یاد کیئے۔  ایک ایک حرف کا کوڈ لکھ کر اسے اردو حرف کی شکل دینا شاید ایک لطیفہ ہو مگر یہ کرتا تھا۔ اس کے بعد (urdu.ca) کا پتہ چلا،   پھر آخر کار  اردو انسٹالر سے آگاہی ہوئی تو دنیا آسان ہو گئی۔

کیا بلاگ بنانے سے پہلے اردو بلاگر ز کے بلاگ پڑھتے تھے ؟ کس سے متاثر ہوئے ؟

@نہیں، بلاگ بنانے سے پہلے میری دنیا ای میلز تک محدود تھی یا  اردو اور پاکستانیت سے وابستہ یاہو گروپس ہی میری کل کائنات تھے۔  محترمی جناب افتخاراجمل صاحب نے مجھے اردو سیارہ کا  بتایا تو میں حقیقی معنوں  میں بلاگرز سے آشنا ہوا۔ اب کچھ بلاگ تو ہر حال میں پڑھتا ہوں  مگر اردو سیارہ پر ہونے والی ہر سرگرمی سے آگاہ ضرور رہتا ہوں۔ 

عام طور پر آپ مختلف تحاریر کو اردو میں ترجمہ کرکے شائع کرتے ہیں ، یہ خیال ذہن میں کیسے آیا ؟

@جی، یہ سچ ہے کہ میرے اکثر مضامین  کا لب لباب عربی زبان سے ہی لیا ہوتا ہے تاہم ان مضامین  میں میرے ذاتی  اخذ کیئے ہوئے نتائج  (Conclusions) و تاثرات بھی مضامین کا حصہ ہوتے ہیں۔  عربی زبان کا حقیقی ترجمہ شاید اتنا عام فہم یا لطف  اندوز نا ہو  جتنا سلیس اور  لطیف انداز میں لکھ کر  میں اسے پڑھنے کے قابل بناتا ہوں  (میری ذاتی رائے)۔ 

آپ تحاریر کی تعدادبڑھانے پر یقین رکھتے ہیں یا پھر صرف  معیاری تحاریر کو شائع کرنے پر یقین رکھتے ہیں ؟

@میں اب مسلسل لکھنے پر یقین کرنے لگ گیا ہوں۔ معیاری لکھنے  کے چکروں میں پڑ کر بلاگر خود لکھتا، خود پڑھتا اور خود ہی مٹا دیتا ہے  کیونکہ اپنی لکھی باتیں  پڑھ کر اسے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وہ تحریر نہیں ہے جس قسم کی تحریر کا قارئین   پر   اس کے متعلق تاثر ہے۔  بلاگ اگر ذاتی محسوسات، تجزیوں اور آراء کا نام ہے تو بلاگر جو کچھ مثبت و مفید  دیکھے، سنے اور محسوس کرے اسے لفظوں میں ڈھال کر  مجتمع اور معاشرے کی آگاہی اور اصلاح کیلئے پیش کر دے۔  

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@یہ بات اگر لفظ (معیاری  بلاگ) کی تشریح کیلئے پوچھی گئی ہے تو  میں ابھی تک ایسا نو وارد ہوں  جو بلاگنگ  کو صحیح معنوں میں سمجھ ہی  نہیں پایااور اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

 ہاں اگر مجھے معیاری بلاگوں کے نام گنوانے کیلئے کہا جائے تو میں کئی ایک نام لے سکتا ہوں جو  انتہائی اصلاحی، با مقصد، لگی لپٹی رکھے بغیر بے ڈھڑک   و بے لاگ سچ لکھنے والے ، موجودہ نسل کو آگاہی اور  آئندہ نسل کو پیغام دینے والے،  ادب کے ارتقاء میں پیش پیش، غلطیوں کی اصلاح میں ڈٹے رہنے والے، طنز و مزاح  میں لپیٹ کر سچ اور سادگی و معصومیت کے ساتھ مشاہدات ، حالات و واقعات  لکھنے اور بیان کرنے والے  ہیں۔ 

کیاآپ سمجھتےہیں کہ بلاگنگ سےآپکوکوئی فائدہ ہواہے؟یاکیافائدہ ہوسکتاہے؟

@جی،  میرا خیال ہے بلاگنگ نے مجھے  احساس ذمہ داری سکھائی ہے۔ مزید، مجھے بلاگنگ سے جڑ کر ایسے لوگوں سے آشنائی ہوئی جن کے بارے میں جاننے  کا بس گمان ہی کیا جا سکتا تھا۔ حلقہ احباب بڑھا۔ علم دوست لوگوں سے راہ و رسم  بڑھی۔

آپکے خیال میں کیا اردوکووہ مقام ملاہے،جس کی وہ مستحق تھی؟

@میں  سمجھتا ہوں اردو صحیح مقام پر ہے۔ اکثر غیر اردو خاندان اپنے بچوں سے توقع کرتے ہیں کہ ان کے بچے گھر یا باہر اردو بولیں۔  زبان کے فرق کے باوجود اس اردو نے ہی تو سارے ملک کو آپس میں گانٹھ رکھاہے۔  تاہم کتابوں سے نکل کر کمپیوٹر پر آنے کے بعد اس زبان کے  ارتقاء، بقا اور ترویج کیلئے جو احباب کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو استقامت دے۔

اگرآپکواردوکےساتھ تعلق بیان کرنےکوکہاجائے،تواسکوکیسےبیان کریں گے؟

@کوئی خاص نہیں،   اگر لہو لگا کر شہیدوں میں نام لکھوایا جا سکتا تو کہتا کہ بلاگ پر تھوڑی سی اردو لکھ کر اپنے حصے کا دیا جلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔  

کبھی ایسا خیال ذہن میں آیا کہ ، میں بلاگنگ کیوں کررہا ہوں ؟ مجھے چھوڑ دینی چاہیئے  وغیرہ ؟

@نہیں جی، ایسا خیال کبھی نہیں آیا۔ بلاگنگ شاید ایک جذبے کا نام ہے جو ٹھنڈا   تو پڑ سکتا ہے مگر ختم نہیں ہو سکتا۔

آنےوالےپانچ سالوںمیں اپنےآپکواوراردوبلاگنگ کوکہاں دیکھتے ہیں؟

@بلاگنگ میں اردو    خوب لکھی یا اس   کے بر عکس اردو میں بلاگنگ خوب کی جا رہی ہے۔مثبت سوچا جائے تو  اردو بہت ہی بلندی پر  ہوگی۔

کسی بھی سطح پراردوکی خدمت انجام دینے والوں اوراردوبلاگرزکےلیےکوئی پیغام؟

@دور حاضر میں اردو کی خدمت تو مشینوں (کمپیوٹر) پر ہی ممکن تھی۔ اس لیئے،  اردو کو کمپیوٹر پر لکھنے پڑھنے کے قابل بنانے والے احباب،  یا  انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کیلئے اردو ادب تخلیق کرنے والے بے لوث لوگوں کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔

بلاگ کےعلاوہ  انٹرنیٹ پر  دیگرکیامصروفیات ہیں؟

@انٹرنیٹ پردیس میں رہنے والوں کیلئے اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے۔ گھر سے رابطہ ہو  یا   علم و ادب سے آگاہی ، سب کچھ انٹرنیٹ سے ہی ممکن ہے۔ اور تو اور، میں  نے  تو چپاتی بنانا بھی انٹرنیٹ سے ہی سیکھا۔

آپکی زندگی کا مقصدکیاہے،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتےہوں؟

@اب تک  کی زندگی بغیر کسی پلاننگ اور بغیر کسی  مقصد کو تعیین کیئے گزار دی ہے۔ ہر متوسط طبقہ کے فرد کی طرح معاشی الجھنوں کو کچھ اس طور سے اپنے آپ پر مسلط کیا  کہ سارے مقاصد  اس کے نیچے  دب کر رہ گئے۔  اب ہر باپ کی طرح توجہ بچوں کے بڑے ہونےاور ان کے فرائض سے دستبردار ہونے پر ہے۔


اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

@انگریزی کتاب (Who moved my cheese)، اردو کتاب الرحیق المختوم

2۔ شعر ؟

@مستقل طور پر کوئی بھی نہیں۔

3۔ رنگ ؟

@سفید

4۔ کھانا ؟

@کچھ بھی  دیسی ہو اور سادہ سا ہو، تاہم مینیو میں بھنڈی نظر آ گئی تو پھر صرف وہی

5۔ موسم ؟

@ گرمی

6۔ ملک ؟

@اپنے ملک پاکستان کے بعد سعودی عرب


غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہوگئی ہے ؟

@کچھ کچھ

2۔ مجھےاکثراپنےکئےہوئےپرافسوس ہوتاہے؟

@ہمیشہ

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے ؟

@یہ  شوق یا عادت  اب الیکٹرونک کتب آنے کے بعد پڑی ہے۔

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@جی، یہ سچ ہے۔

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@کم ازکم میں خود  تو یہی سمجھتا ہوں۔ 

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@بالکل نہیں۔

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویزدینا چاہیں گے؟

@سلسلہ دوبارہ چل ہی نکلا ہے تو چلتا رہے۔ آپ لوگوں کے عزم اور ہمت کی داد دیتا  ہوں۔


محمد سلیم بھائی  اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@آپ لوگوں کا شکریہ کہ مجھے انٹرویو لیئے جانے کے قابل جانا۔

محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

18 تبصرے:

    1. علی بھائی، چلو لفظی ملاقات تو ہو گئی، بالمشافہ بھی کبھی ہو ہی جائے گی۔ ذہنی طور پر تیار رہیں کہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حمزہ کو دیکھنے کے بعد کسی نے کہا تھا امیر حمزہ سننے کی چیز ہے دیکھنے کی ہرگز نہیں۔

  1. سلیم بھائی جتنے اچھے لکھاری ہیں۔۔۔ اس سے کہیں اچھے انسان ہیں۔۔۔ اور “کہیں اچھے انسان” والا تاثر ان کی تحاریر اور موضاعات پڑھ کر ملتا ہے۔۔۔

    اللہ تبارک تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ آمین۔۔۔

    1. اللہ اللہ اللہ
      بھائی عمران اقبال، اپنے تاثرات میرے ساتھ ملاقات تک سنبھال کر رکھیں۔ ورنہ بعد میں آپ کو تردیدی بیانات دینا پڑیں گے۔ اللہ تبارک تعالیٰ آپ کو بھی ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ آمین۔۔۔

    1. برادر ابو عبداللہ، شکریہ۔
      میں نے اپنی گوگل پروفائل کی ٹیگ لائن آپ کی وضاحت کیلئے ادھر کاپی کی ہے؛ (اپنى دانست ميں ايك سيدها سادا سا بنده, مگر ميرى بيوى اور ميرے كچه دوست اس سے مختلف رائے ركهتے ہيں)
      غصے پر قابو نا پا سکنے والے کسی کن ٹٹے کو سعودی عرب کا ویزہ لیکر دیدیں سیدھا ہو کر لوٹے گا اور کچھ ایسی ہی میری کہانی ہے۔

    1. برادرم عمران اسلم صاحب، آپ سے ملنا باعث فخر اور خوشی تھا۔ ملاقات ناکافی اور تشنہ تھی۔ آپ جو کچھ لکھتے ہیں وہ کافی چہروں پر مسکراہٹ لاتا ہے۔ ایسے ہی مسکراہٹیں بانٹتے رہیئے۔ زندہ رہے تو ضرور ملاقات ہوگی مگر جو دل میں ہے ابھی کہہ ڈالیئے، ادھار چکتا کیجیئے کہ کل کس نے دیکھی۔ آپ کی زبانی سننے کو دل بیتاب ہے۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر