آپ یہاں ہیں
صفحہ اول > راجہ افتخار خان سے شناسائی > راجہ افتخار خان سے شناسائی

راجہ افتخار خان سے شناسائی

آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب راجہ افتخار خان صاحب ۔آپ ڈاکٹر ہونےکے ساتھ ساتھ اردو بلاگر بھی ہیں اور ” ہم اور ہماری دنیا “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔
خوش آمدید !
وعلیکم خوش آمدید کہ جیسے میں آن لائن آیا ایسے ہی آپ بھی۔
کیسے مزاج ہیں ؟
@چنگے بھلےہیں جی، اللہ کا شکرہے، وہ اپنے بندوں کا بڑا خیال رکھتا ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@یہ اس انٹرویو کا سب سے اوکھا سوال ہے۔  کہ اپنے بارے میں اب اپنے منہ کیا بتاؤں ، اپنی اچھائی بیان کروں گا تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کہا جاوے گا اور اپنے بارے برا بولنا تو مجھے پسند ہے بھی نہیں، تو اس مناسب ہے کہ اس بارے  ہمارے احباب سے دریافت کیا جاوئے، مگر جو کچھ وہ بتلائیں گے اس پر اپنے مولانا اکبر الٰہ آبادی پہلے ہی روشنی ڈال گئے،
کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے
 بی  اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے
پیشے کےلحاظ سے ہومیوپیتھیک معالجات میں ڈاکٹر ہوں،  پاکستان میں کالج میں پڑھتا تھا، عرصہ سے ادھر اٹلی میں مقیم ہوں جانے کیوں، یہاں پرپہلے تو سیاحت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، مگر اب پھر سے اسی پیشے کے ساتھ منسلک ہوں، ہومیوپیتھک میڈیسن اور ڈاکٹرز کے اسپیشلائزیشن اسکول میں پڑھاتا بھی ہوں،  اطالوی زبان کی تعلیم بھی بہت عرصے سے غیر ملکیوں کو دے رہا ہوں۔ مزید کچھ نہیں کہوں گا۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@میری جائے پیدائش ضلع جہلم میں میں جہلم اور منگلا کے بیچ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک چھوٹا ساگاؤں ہے، اب وہاں بندے جینز پہنے پھرتے ہیں، بلکہ کوئی کوئی بی بی بھی آپ کو نظر آجاوے گی، پس اسے گاؤں کہنا ظلم الکبیر ہے مگر ہے گاؤں ہی۔
اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@اپنی تعلیم کی کیفیت بہت پیچیدہ ہے، اگر کوئی سمجھ لے تو، ہومیوپیتھیک میڈیسن میں ڈاکٹر بنےاور پھر ایک جاپانی انسٹیوٹ سے کمرکی  ریہبیلیٹیشن  میں ڈپلومہ کیا، فیر اٹلی آگئے، ادھر ایک ماسٹر کیا بزنس ایڈمنسٹریشن اور ٹورزم منجمینٹ میں،  پھر ہسٹری اور مونومنٹنس کا ایک کلچرل کورس جسکادورانیہ ایک برس تھا کیا۔ ہیں جی مجھے تاریخ بہت پسند ہے، ثابت ہوا۔ بس اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں رہتی۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@میں اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آیا بلکہ اردو بلاگنگ میری طرف آئی تھی۔ لکھنا پڑھنا اپنی پرانی لت ہے، تو اردو لائیف کے اردو پیڈ میں لکھ کر اور ادھر سے کاپی پیسٹ کرکے پہلا اردو بلاگ شروع کیا تھا ، تین مگرمچھ اور آنسو دوہزار چار کے شروع میں، بس تب کوئی دس کے قریب بلاگرز تھے، اور یہ  کہ یونیکوڈ  کوئی بھی نہیں لکھتا تھا۔ سوائے چند ایک سائیٹس کے اور بیس کے قریب بندوں کے۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@کچھ بھی تو نہیں صرف پڑھنے والے نہیں تھے، شروع میں نستعلیق نیٹ پر تھا نہیں تو جنتا چیں چیں کرتی تھی۔ بس لکھنے کا مسئلہ، کہیں لکھو فیر کاپی پیسٹ کرو، پھر کوئی نہ کوئی کٹا کھل جانا کہ لائنیں مکس ہورہی ہیں، لفظ پھنس رہے، بہت برس تو ہجے ہی سہی نہیں ہورہے تھے، ہیں جی اور اب تو جنتا گرافکس کے مسائل میں الجھی ہوئی ہوی ہے، خوبصورتی پسند ہے ہیں جی، تب صرف لکھنا ہی بڑی بات تھی  یونی کوڈ میں، نہیں تو جنگ جیسی سائیٹس تصویری اردو سے کام چلاتیں تھیں اور لوگ پوچھتے تھےکہ آپ کرکیسے لیتے ہو  اب سانوں کی پتا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@جی شروع میں تو بہت کام ہوا، میں آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہوں مگر کتنے بندوں کو ترغیب دی، کسی کو فونٹ اور کسی کو اردو سپورٹ انسٹال کرکے دینا، یہ بھی ایک پور ی سائنس تھی تب، اب اللہ بھلا کرے م  بلال م  میاں کا، جو کام کسی ادارےنے کرنا تھا وہ اس بندے نے اردو کےلئے کردیا۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@میں متاثرین میں سے نہیں ہوں، بلکہ محبین میں سے ہوں، بہت سے بلاگرز سےمحبت کا رشتہ ہے، جن میں، یاسر خوامخواہ جاپانی، خاور کھوکھر، م بلال م ، علی حسان، عمیر ملک،  افتخار اجمل بھوپال، محمد قدیر،  نجیب صاحب،  مولوی محمد سعد،  جاوید گوندل، شعیب صفدر، محمد یاسر علی اور دیگر بہت سے  قدیم و جدید احباب شامل ہیں سب کے نام گنوانا  طوالت کے باعث مناسب نہیں،   البتہ ان حضرات سے براہ راست یا بلواسطہ میری  ملاقات یا بات چیت ہوئی۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@اچھے سے تو یاد نہیں مگر شاید دوہزار دو یا تین کی بات ہے، تب پہلے بلاگ اٹالین زبان میں لکھنا شروع کیا تھا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@نہ جی یہ کوئی ڈاکٹری کا مقالہ تو ہے نہیں، بس بیٹھے  اور ہو گئے شروع، میں تو غلطیاں بھی  نہیں نکالتا، نو ایڈیٹنگ، نہیں تو فیر فرق کیا رہا بلاگ میں اور رسالے میں،  بلاگ ایک فطری روانی کی  جبکہ رسالہ ایک مرحلہ وار عمل  کی پیداوار ہوتا ہے ، موضوع ہوسکتا ہے دونوں کا ایک ہی ہو۔ اسی لئے تو آپ کو میرے بلاگ پر اسپیلنگ کی غلطیاں، ٹائپنگ مسٹیکس، اور دیگر کھچ خانیاں ملیں گی۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@معاشی فائدے کا تو سوچا کبھی نہیں البتہ یہ جو اوپر مذکور بندے ہیں یہ  بلاگ سے ہی کمائے ہیں۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@معیاری بلاگ  وہ ہوتا ہے جو بے لاگ ہو، بغیر لگی لپٹی کے اور بغیر ایڈیٹنگ کے، بس دل کی بات کرے بھلے اپنے دل کی کرے اور دوسروں کے دل ساڑے۔    بھلے اگلے کہہ  اٹھیں   ع   چمن  سے آرہی ہے بوئے کباب ،                    پر کرے دل  کی بات۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@ہاں  تو اور کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ساٹھ سو برس کسی زبان کےلئے بہت تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، الحمدللہ اردو نے آج جتنے دل جیتے ہیں،  وہ کہنے کو کافی ہیں کہ اردو ہی یہ کام کرسکتی تھی،  آج پوری دنیا میں اردو بولی جاتی ہے اور میرا نہیں خیال دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جہاں پر یہ باقاعدہ پڑھی نہ جاتی ہو۔ پھر اردو اور اردو دانوں کی آپس میں محبت کیا کہنے۔  میں تو گھومنے پھرنے والا بندہ ہوں، کہہ سکتا ہوں بقول شاعر
اور جس شہر میں اردو کا چلن ہوگا
وہاں کا ہر باشندہ شریفانہ ملے گا
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@کچھ یوں کہ میری مادری زبان پنجابی ہے،  اب بھی ساری گالیاں اور لطیفے پنجابی میں ہی چلتے ہیں، بنیادی  تعلیم اردو میں اور ہومیوپیتھک میڈیسن  انگریزی میں پڑھی،  پھر اسپرانتو سیکھی، اور یونانی  و جرمن  و عربی سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اطالوی سیکھ بیٹھے، پر اب بھی پڑھنے اور لکھنے کی زبان اردو ہی ہے، پہلے اردو میں لکھ کر پھر کسی زبان میں  ،    اب البتہ  یہ ہے کہ  کچھ وقت سے نوٹس وغیرہ اٹالین میں لکھنے لکھوانے  ہوتے ہیں تو بس اردو میں لکھنے پڑھنے کا  کام کچھ کم ہویا ہوا ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@چونکہ پاکستان سے باہر ہوں عرصہ تو مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ پاکستان میں ان پندرہ برس میں کیا ہوا اردو کےلئے میری، اردو ابھی تک وہی انی سو پچانوے والی ہے، بغیر انگریزی کے،  جیسے برطانیہ والوں کی پنجابی انیسو ستر  والی۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@اپنے آپ کو ہنوز زمین پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں، اللہ نے چاہا تو،   اور اٹلی میں ہی ہوں گا،  اور اردو بلاگنگ کو پروفیشنل میڈیا کی مت مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔   اردو کا مستقبل روشن اور اردو بلاگز کا روشن تر، اب چونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ عام بندے کی دسترس میں آیا ہے تو آپ دیکھئے گا کہ آنے والے برسوں میں اردو بلاگنگ کو بہت سے م بلال م ملیں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@پیغام  ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے،   اردو خود ہی محبت ہے اور اس سے محبت کرنے والوں کو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی میں ایک عام سا بندہ ہوں کسی کو بھلا کیا مشورہ دے سکتا ہوں  ہاں اردو کی خدمت کرنے والے اور اردو بلاگز اگر کوئی صلاح مجھے دینا چاہئے تو میری  خوش نصیبی ہوگی۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@بلاگ میری مصروفیات میں آخری کام ہے، جب تپا ہوا ہوں تو لکھتا ہوں، ملازمت ہے،  وہ کرتا ہوں،  اس کےلئے چونکہ پڑھنا پڑھتا تو پڑھنا بھی بہت پڑتا ہے۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@درد دل کے واسطے پیدا کیا تھا انساں کو     والی بات نہیں ہے، آج تک خود سمجھ نہیں آئی کہ کیا چاہتاہوں، اور زندگی کا مقصد کیا ہے، کماؤ، کھاؤ، گھر والوں کو کھلاؤ، دنگے فساد  سہو اور کرو، یہ غیبتیں اور چغل خوریاں جہان بھر کی، جانے زندگی کا مقصد کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش اپلائیڈالٹرنیٹیو میڈیسن میں ، دیکھو فیر پوری ہوتی ہےکہ نہیں۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
@ الکیمسٹ پاؤلو کوئلہو کی
2۔ شعر ؟
@چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہئے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نوا کہئے
اسیر بند زمانہ ہوں اے صاحبان چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے
3۔ رنگ ؟
@نیلا اور سفید ،   ایک وقت میں میرے سارے کپڑے نیلے یا سفید ہوا کرتے تھے یابھی سفید اور نیلے اور یاپھر نیلے اور سفید ہیں جی
4۔ کھانا ؟
@اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہوں شدید، کنفوشس سے بھی بڑھ کر، صرف کھانے کو کھالیتا ہوں جو بھی مل جاوے بس اس میں مرچیں نہ ہوں اور سمندری مخلوق نہ ہو۔
5۔ موسم ؟
@گرما، اٹلی میں جب آپ کاچھا اور بنیان پہن کا پورا شہر گھوم سکتے ہیں اور پورا اٹلی دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں بہار کا جب پھول میرے گھر میں کھلے ہوتے ہیں تو۔
6۔ ملک ؟
@اگر پسندیدہ ملک پوچھو گے تو پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان نہیں کہہ سکتا کہ ادھر پاکستانی ہوتے ہیں، اٹلی میں رہنے کے باوجو ادھر اٹالین کی وجہ سے دل نہیں لگتا، برازیل میرا پسندیدہ ملک ہے،   کیوں چونکہ آپ نے پوچھا نہیں تو میں نے بتایا نہیں۔
7۔ مصنف ؟
@اردو میں پطرس بخاری، مستنصر حسین تارڑ ، برگیڈئر شفیق الرحمان ، ابن انشاء ، نسیم حجازی اور بہت سے،  انٹرنیشنل لٹریچر میں  پاؤلو کوئلہو کی ساری کلیکشن اٹالین اور انگریزی کی میرے پاس ہے،   انگریزی میں ادب میں نے پڑھا ہی نہیں اور صرف میڈیسن کی ریسرچ دیکھتا ہوں اور میڈیکل انگلش ہی مجھےآتی ہے۔
8۔ گیت؟
@منی بیگم کی غزل بوتل کھلی ہے رقص میں جام شراب ہے۔   ویسے میں موسقی سنتا نہیں ہوں۔
9۔ فلم ؟
@گو میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا مگر دو فلمیں تاریخ موضوعات کی جب بھی ملیں دیکھ لوں گا پھر سے، ایک ہے گلیڈی ایٹر اور دوسری کنگڈم آف ہیون، جو کروسیڈز کے نام سے بھی ریلیز ہوئی۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@غلط
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@بہت درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@درست
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@درست
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@غلط
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@اگلے بندے پر منحصر ہے۔
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@چونکہ مجھے اردو بلاگنگ کا چچاجان کہا جاسکتا ہے بابا جی چھڈ دو تو، لہذا اگلی بار میرا انٹرویو پہلی فرصت میں کیا جاوے۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@پیغام ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے، بس محبت کیجئے اپنے آپ سے، اپنے عزیزواقارب سے، آپ اردگرد سے،  اپنے ماحول سے، اپنی گلی  اپنےمحلے سے۔ (محلے والیوں کا آپ کے دماغ میں خود ہی آرہا، میں نئیں کہہ ریا) اپنے یاردودستوں سے اور اپنے شہدے و سڑیل رشتہ داروں سے بھی، ملک زبان  دنیا  سے، مطلب اپنی ہرچیز سے پیار کرو اور اسکا خیال رکھو جسے آپ میری یا ہماری کہہ سکو۔  ہیں جی
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا وی شکریہ، ہیں جی
محمد بلال خان
محمد بلال خان کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں۔پیشے کے لحاظ سے ویب ڈویلپر ہیں۔ عام موضوعات کے علاوہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق سافٹ ویئر کے بارے میں بلاگ نامہ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا حصہ ہیں۔
http://www.mbilalkhan.pk/blog

23 تبصرے:

  1. پڑھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک بار پھر اٹلی میں “لاگو دی سالو” کے کنارے بیٹھے گپ لگ رہی ہے۔ کمال کے بندے ہیں راجہ صاحب، اور اس سے بھی کمال کی باتیں ہیں ان کی۔ بہت اچھا لگا راجہ صاحب کا انٹرویو پڑھ کر، گو کہ یہ سب پہلے سے معلوم ہے۔ ہاں، یہ پاؤلو کوئلہو والی بات مجھے یاد نہیں رہی تھی، اور میں نے بھی حال ہی میں الکیمسٹ پڑھا اور میں بھی گرویدہ ہو گیا ہوں اسکا۔ منظرنامہ ٹیم اس کاوش کیلئے پذیرائی کی مستحق ہے۔
    پی ایس: آپ کے خلوص کے تو ہم ویسے ہی قائل ہیں، یاد رکھنے کا ایک بار پھر شکریہ! 🙂

    1. مجھے پتا تھا کہ آپ غلطی کرو گے، پہاء جی وہ لاگو دی گاردہ تھی اور سالو اس مقام کا نام تھا، خیر، آپ کے ساتھ پاؤل کوئلو کا ذکر نہیں ہوا تھا، اس وجہ سے آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا، رہی بات پسندیدگی کی تو اس کا مجھے پہلے ہی آپ پر شک تھا۔ ہیں جی

  2. ڈاکٹر صاحب میرے پسندیدہ بلاگروں میں سے ہیں لہذا ان کا انٹرویو پڑھ کر بہت اچھا لگا
    باقی ہم بلاگروں کی کمائی ڈاکٹر صاحب جیسے بھلے بندوں سے جان پہچان ہی ہے

    1. اس بات کا مجھے علم نہ تھا جی، باقی آپ کا اچھا لگا یہ جان کر مجھے بھی بہت اچھا لگا، اور یہ بھی جیسے پہلے کہہ چکا کہ ہم نے اس بلاگ سے صرف محبتیں ہی کمائی ہیں اور کیا، باقی سب کچھ تو چلتا ہی چلتا ہے

  3. اور مذید کہ منظر نامہ کا اور بالخصوص محمد بلال خان کا بہت شکریہ، حالانکہ میں اس بندہ کو کتنی بات ڈانٹ چکا ہوں پر اس کی ہمت ہے اور چاہت ہے جو ابھی تک میرے جیسے بندے سے رابطے میں ہے، اور نہ صرف بلکہ انٹرویو کرنے اور اسکو شائع کرنے کا بھی حوسلہ کرگیا، شکریہ پہا جی، ابھی کم ازکم دو ہفتے اپ کے کی کچھ اسٹیٹس پر تنقید کم ہوگی۔

اپنا تبصرہ تحریر کریں

اوپر